Gujrat ky Rang گجرات کے رنگ

Gujrat ky Rang گجرات کے رنگ Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Gujrat ky Rang گجرات کے رنگ, Rehman Shaheed Road, Gujrat.

الحمدللہ 🩷 ہماری قوم ٹرک کی بتی کے پیچھے بھاگ رہی ہے ، فیس بک نے ایک  چیلنج دیا ہے اگر آپ 28 دن میں تین لاکھ ویووز حاصل ...
20/06/2026

الحمدللہ 🩷
ہماری قوم ٹرک کی بتی کے پیچھے بھاگ رہی ہے ، فیس بک نے ایک چیلنج دیا ہے اگر آپ 28 دن میں تین لاکھ ویووز حاصل کر لیتے ہیں تو آپ کی پروفائل/ پیج Monitize کر دیا جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔
بس کل سے فیس بک پر پوسٹوں کا طوفان آگیا ہے ہر بندہ اندھا دھند پوسٹیں لگا رہا ہے تاکہ ڈالرز کما کر اچھا سا گھر بنا سکے ۔۔۔۔
میری بات سنیں ؛
1۔ تین لاکھ ویووز کے پیچھے مت بھاگیں اپنا کنٹنیٹ اچھا رکھیں۔ لازمی نہیں اس ماہ آپ کے تین لاکھ ویووز آجائیں گے اگر نہیں آتے تو فیس بک یہ آفر اب بار بار دے گا ۔۔۔۔ مطلب صرف یہی مہینہ آپکی زندگی موت کا فیصلہ نہیں کرے گا ۔
2۔ سب سے اہم چیز آپکو بتا رہا ہوں فیس بک پر Montization کا پیسہ بالکل نہ ہونے کے برابر ہے ۔ آپ تین چیزوں پر کام کریں :
1۔ پرسنل برینڈنگ
2۔ کاروبار کی مشہوری
3۔ اچھے تعلقات یعنی اپنی PR بنائیں ۔
یہ تین چیزیں میرے مطابق کروڑ سے بھی زیادہ کی ہیں ۔۔۔ مجھے فیس بک سے ایسے قیمتی انسان ملے جنھیں ہیروں کے بدلے بھی نہیں دوں گا کیونکہ انھوں نے میری زندگی میں آکر بہت کچھ سیکھایا۔
3۔ آپ فیس بک کو بطور انجوائمنٹ استعمال کریں ، آج سے پہلے کیا آپ ڈالر پر زندہ تھے ؟ اگر نہیں ملیں گے تو کیا ہو جائے گا ؟ ..
کل سے دعائیں کروائی جارہی ہیں جناب میرے ویووز آجائیں ۔ بھائی Logarithm بڑی عجیب چیز ہے کوئی پتہ نہیں ہوتا آپ کی سب سے پیاری پوسٹ پر سب سے کم ریچ آئیں اور سب سے فضول پر ملین ویووز ۔۔۔۔۔۔ اور یہی ہورہا ہے ۔
4۔ دماغ کو ٹھوڑا سا سکون دیں ، اندھا دھند مت بھاگیں ۔ بس ہمیشہ Original رہیں لوگ خود جڑ جائیں گے ۔ میں اکثر لنڈے بازار سے خریداری کی ، سستی چیزیں خریدنے کی ، اپنے چھوٹے سے فارم کی پوسٹیں لگا دیتا ہوں کیونکہ یہی میری حقیقت ہے ۔ اب سوچیں جب میں ڈیوٹی پر بڑی گاڑی میں ہوتا ہوں پوسٹ لگا دوں My Life , My Rules کیسا عجیب لگوں گا ، اس لیے آپ بس Original رہیں جو زندگی ہے وہی پوسٹ کریں ۔ اگر آپ کو ڈالر نہ بھی ملے لوگوں سے عزت بہت ملے گی اور یہی زندگی کی کمائی ہے ۔
5۔ ڈالر نہیں اپنے اچھے تعلقات بنائیں یہ بڑا اثاثہ ہیں ❤️🫰
آپ دیکھیں گے بڑے بڑے انفلیسرز ایک دوسرے کے ساتھ اچھے تعلقات بناتے ہیں پھر ایک دوسرے کے ساتھ Collaboration کرتے ہیں اکیلا انسان کچھ نہیں ہے آپ اپنے ساتھ مثبت، تخلیقی اور سپورٹ کرنے والے لوگ جوڑیں ۔

بزرگ خاتون پر تشدد کے واقعہ پر گجرات پولیس کا فوری ایکشنتھانہ صدر جلالپور جٹاں کے علاقہ ٹھٹہ موسیٰ میں بزرگ خاتون پر تشد...
07/06/2026

بزرگ خاتون پر تشدد کے واقعہ پر گجرات پولیس کا فوری ایکشن

تھانہ صدر جلالپور جٹاں کے علاقہ ٹھٹہ موسیٰ میں بزرگ خاتون پر تشدد کے واقعہ کا فوری نوٹس لیتے ہوئے گجرات پولیس نے متاثرہ خاتون اختر دختر فضل الٰہی کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا۔

پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے واقعہ میں ملوث دو ملزمان لیاقت علی اور علی حسن کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ دیگر نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

ڈی پی او گجرات نے کہا ہے کہ خواتین، بزرگ شہریوں اور کمزور طبقات کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ترجمان گجرات پولیس(Copied From gujrat police)

25/05/2026

راجستھانی لوگ صحرا میں کس طرح پانی صاف کر کے اور ٹھنڈا کر کے پیتے ہیں

اپ کے نزدیک اس بندے کی کیا سزا ہونی چاہیے جو رات کو اس طرح کی لائٹ استعمال کرتا ہے۔میرا تو خیال ہے ایسے ڈرائیور کو لائٹ ...
23/05/2026

اپ کے نزدیک اس بندے کی کیا سزا ہونی چاہیے جو رات کو اس طرح کی لائٹ استعمال کرتا ہے۔میرا تو خیال ہے ایسے ڈرائیور کو لائٹ کے سامنے بٹھا دینا چاہیے ادھے گھنٹے کے لیے

پشاور سے  11 سالہ حرم سعید اغوا کے بعد سندھ اور پھر کچے کے ڈاکووں کے ہتھے چڑھ گئی، پولیس حرم کو چھڑانے میں ناکام گذشتہ ک...
23/05/2026

پشاور سے 11 سالہ حرم سعید اغوا کے بعد سندھ اور پھر کچے کے ڈاکووں کے ہتھے چڑھ گئی، پولیس حرم کو چھڑانے میں ناکام

گذشتہ کئی روز سے لاپتا ہونے والی 11 سال کی حرم سعید نے جب اغوا کاروں کے فون کے ذریعے اپنی ماں سے کہا کہ ’امی، یہ کہہ رہے ہیں کہ مجھے مار کر دریا میں پھینک دیں گے‘ تو اس وقت خوف میں مبتلا والدہ کے ذہن میں پولیس سے مدد حاصل کرنے کا خیال تک نہیں آیا۔ انہوں نے یہ خیال بھی نہ کیا کہ وہ کس خطرے کی طرف جا رہی ہیں۔
وہ رات کے کسی پہر سندھ کے شہر شکارپور کے کچے کے علاقے کی طرف جاتی ایک ویگن میں سوار بار بار اپنے فون کی سکرین پر دیکھ رہی تھیں۔
دوسری طرف ان کی 11 سالہ بیٹی کی کانپتی ہوئی آواز ان کے کانوں میں گونج رہی تھی کہ ’امی جلدی آئیں… یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ مجھے مار کر دریا میں پھینک دیں گے۔‘

یہ کہانی صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے دلازاک روڈ پر رہنے والے ایک ایسے خاندان کی ہے جس کی زندگی 28 مارچ کی شام اچانک بدل گئی۔
کائنات سعید (فرضی نام) نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’ان کا بنیادی تعلق مردان سے ہے جبکہ اس وقت وہ پشاور میں رہائش پذیر ہیں۔‘
وہ بتاتی ہیں، ’میرے چار بچے ہیں، ایک بیٹا اور تین بیٹیاں۔ دو بیٹیوں کی شادی ہو چکی ہے جبکہ بیٹا 15 سال کا ہے۔‘
ان کے شوہر کراچی کے علاقے مومن آباد میں پرچون کی دکان چلاتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ’وہ 28 مارچ 2026 کو اپنی بڑی بیٹی کے ہاں گئی تھیں۔‘
انہوں نے اس حوالے سے کہا کہ ’میری بڑی بیٹی امید سے تھی۔ میں ان کے ساتھ ہسپتال میں تھی۔ بچے کی پیدائش کے بعد میں ان کے ساتھ ان کے گھر بھی گئی۔ میری چھوٹی بیٹی حرم گھر پر اکیلی تھی۔ بدقسمتی یہ ہوئی کہ میں ہمیشہ دروازہ باہر سے لاک کر کے جاتی ہوں لیکن اس دن بھول گئی۔‘
ان کے مطابق وہ جب شام کو گھر واپس آئیں تو دروازہ باہر سے بند تھا جبکہ گھر پر ان کی بیٹی موجود نہیں تھی۔
کائنات سعید کے مطابق انہوں نے آس پاس اپنی بیٹی کو ڈھونڈا اور پڑوسیوں سے بھی پوچھا لیکن کوئی معلومات نہیں ملیں جس پر انہوں نے اس بارے میں پڑوسیوں سے پوچھا۔
ان کا اس دن کے حوالے سے کہنا تھا کہ ’میں نے پڑوسیوں سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ حرم کہہ رہی تھی اسے بھوک لگی ہے وہ بریانی لینے جا رہی ہے۔‘
یوں ابتدا میں خاندان نے یہ سمجھا کہ وہ شاید کسی رشتہ دار کے ہاں گئی ہوگی لیکن کئی گھنٹے گزرنے کے بعد تشویش بڑھنے لگی۔
انہوں نے کراچی میں مقیم اپنے شوہر کو آگاہ کیا۔ اگلے روز وہ پشاور کے لیے نکلے۔ کائنات سعید دعویٰ کرتی ہیں کہ دو روز بعد انہیں ایک نامعلوم نمبر سے کال موصول ہوئی اور انہیں بتایا گیا کہ ان کی بیٹی مبینہ طور پر اغوا کر لی گئی ہے اور اس وقت سکھر میں ہے۔

مجھے فون پر یہی اطلاع دی گئی اور فون بند ہوگیا۔ پھر دوبارہ کال آئی تو اغوا کاروں نے بتایا کہ 30 لاکھ روپے دے کر اپنی بیٹی لے جائیں۔
یہ خاندان متوسط طبقے سے تعلق رکھتا ہے۔کائنات کہتی ہیں کہ ’ان کے لیے اس قدر رقم کا بندوبست کرنے کا تصور کرنا بھی ممکن نہیں تھا۔‘
انہوں نے اغواکاروں کے مبینہ مطالبے پر رقم جمع کرنے سے متعلق کہا کہ ’ہم نے 30 لاکھ کی بجائے 15 لاکھ روپے دینے کا کہا۔ میں نے زیورات بیچ دیے جبکہ اپنے والد سے بھی قرض لیا۔ میرے شوہر نے اپنے بھائی سے قرض لیا۔ اس طرح 14 لاکھ 70 ہزار روپے جمع ہوئے۔‘
ان کے مطابق اغوا کار 15 لاکھ روپے لینے پر راضی ہوگئے تھے۔ کائنات اپنے شوہر اور بیٹے کے ہمراہ سکھر پہنچیں تو مبینہ طور پر اغوا کاروں نے ان کو ہدایات دینا شروع کر دیں۔ پہلے انہیں بتایا گیا کہ وہ ایک بائی پاس پر اتر جائیں جس کے بعد انہیں شوہر اور بیٹے کے بغیر ویگن میں نواب شاہ آنے کے لیے کہا گیا۔
کائنات بتاتی ہیں کہ ’ان کے شوہر بار بار پولیس کو اطلاع دینے کا کہتے رہے لیکن وہ خوف زدہ تھیں۔‘
اس حوالے سے ان کا مؤقف ہے کہ ’میری بیٹی فون پر رو رہی تھی۔ کہہ رہی تھی امی یہ لوگ مجھے مار دیں گے۔ میں نے اپنے شوہر سے کہا میری بیٹی کو اگر کچھ ہوا تو ذمہ دار آپ ہوں گے۔‘
وہ سکھر سے ویگن میں سوار ہو کر کچھ فاصلے پر ایک پیٹرول پمپ پر اُتر گئیں۔ اغوا کاروں نے اس مقام کے بارے میں فون پر مبینہ طور پر خود خاتون کے ڈرائیور کو بتایا تھا۔
کائنات کی پیٹرول پمپ پر ایک موٹرسائیکل سوار شخص سے ملاقات ہوئی جنہوں نے بتایا کہ ان کی بیٹی ان کے پاس ہیں۔
کائنات کے مطابق، میں اس شخص کے ساتھ روانہ ہوئی اور اسی دوران اپنی لوکیشن شوہر کو بھیج دی۔
خاتون کے مطابق اس کے بعد انہیں ایک ویران مقام پر واقع گھر لے جایا گیا۔
ان کا اس گھر کے حوالے سے دعویٰ ہے کہ ’وہاں ایک بھینس کھڑی تھی اور ایک چارپائی پڑی تھی۔ انہوں نے مجھ سے پیسے لیے اور کہا آپ کی بیٹی لا رہے ہیں لیکن کچھ دیر بعد صورتِ حال بدل گئی۔ میں نے شور مچایا کہ میری بیٹی کہاں ہے؟ تو انہوں نے مجھے اندر بند کر دیا۔‘

وہ دعویٰ کرتی ہیں کہ ’اگلے 8 روز تک اُن پر تشدد ہوتا رہا۔ میرا جسم سگریٹوں سے جلاتے۔ گرم چھری جسم پر رکھتے تھے۔ 8 روز کے دوران گھر میں مختلف لوگ آتے رہے۔ 8 روز گزرنے کے بعد پہلی مرتبہ میری بات میری بیٹی سے کروائی گئی۔‘
خاتون کے مطابق انہیں بتایا گیا کہ اب انہیں ان کی بیٹی کے پاس لے جایا جا رہا ہے۔ مبینہ طور پر انہیں فون بھی واپس کر دیا گیا جس پر انہوں نے اپنے شوہر کو اطلاع دی اور بتایا کہ انہیں شاید بیٹی کے پاس لے جایا جا رہا ہے۔
خاتون کے مطابق تین گھنٹے کے سفر کے بعد وہ شکارپور کے کچے کے علاقے میں پہنچیں۔
’یہ جنگل جیسا علاقہ تھا۔ کانٹوں سے ایک عارضی جگہ بنائی گئی تھی۔ وہاں میں نے اپنی بیٹی کو دیکھا تو مجھے تسلی ہوئی۔ میں نے اسے گلے لگا لیا۔‘
خاتون کا کہنا ہے کہ ’ان کی بیٹی کا ان کے سامنے نکاح کروایا گیا اور ان کی ویڈیو بھی بنائی گئی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’میں نے شوہر کو بتایا تو انہوں نے کہا کسی طرح وہاں سے نکل آؤ۔ ایک ڈاکو نے کہا کہ تمہاری بیٹی کے بدلے میں نے 8 لاکھ روپے دیے ہیں اب اسے ایسے کیسے جانے دیں؟‘
وہ کہتی ہیں کہ ’میں یہ سن کر چیخی چلائی لیکن مجھ پر تشدد کیا جاتا رہا۔ میری بیٹی کہتی امی خاموش رہیں، یہ بہت مارتے ہیں۔‘
ان کے مطابق اغوا کاروں نے ایک مرتبہ پھر 15 لاکھ روپے مانگے اور اُنہیں واپس بھیج دیا، جس کے بعد وہ مبینہ طور پر سکھر تھانے پہنچ گئیں۔
یہ معاملہ اس دوران سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا۔ کچھ صارفین نے دعویٰ کیا کہ ماں نے مبینہ طور پر خود اپنی بیٹی کو فروخت کیا ہے تاہم خاتون ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتی ہیں۔
ان کا اس حوالے سے کہنا ہے ’میری بیٹی بازیاب ہونے کے بعد تفتیش کر لیجیے گا۔ کوئی ماں اپنی پھول جیسی بیٹی کو فروخت نہیں کر سکتی۔ لوگ کہانیاں بنا رہے ہیں۔‘
دوسری جانب شکارپور کے کچے کے علاقے رستم میں 11 سالہ مغوی بچی کی بازیابی کے لیے پولیس کا آپریشن جاری ہے جبکہ کارروائی کے دوران ایک ملزم زخمی ہوگیا اور اس کے ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

ایس ایس پی شکارپور کلیم ملک کے مطابق کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے دودانی، مصرانی اور جتوئی گروہوں کے خلاف آپریشن کیا جا رہا ہے، جس کے دوران ان کے متعدد ٹھکانے مسمار کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’زخمی ملزم کی تلاش اور فرار ملزموں کے تعاقب کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔‘
خاتون کے مطابق آج انہیں اطلاع دی گئی ہے کہ بچی بازیاب ہو گئی ہے اور بعض مشتبہ افراد کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔
حرم کی والدہ کائنات سعید نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’ہمیں ایس ایس پی شکارپور نے بلایا ہے۔ کہا گیا ہے کہ کل رات کچھ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔‘
یہ واقعہ سیاسی حلقوں میں بھی زیر بحث آیا۔ عوامی نیشنل پارٹی کے صدر ایمل ولی خان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے ’ایک بے بس ماں کی فریاد‘ سنی اور سندھ حکومت سے فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے بعد میں سوشل میڈیا پر لکھا کہ کچھ لوگ ’اس افسوس ناک واقعے کو غلط رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ توجہ بچی کی بازیابی پر ہونی چاہیے۔‘

22/05/2026

جلال پور جٹاں کی سرزمین کو سوگوار کرنے والا انتہائی خطرناک مجرم اخر کار اپنے انجام کو پہنچ گیا۔

22/05/2026

اخر کار ایک اور مجرم اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ جلال پور جٹاں کے بہت بڑے سانحے کا مجرم اپنے انجام کو پہنچ گیا
Hardworking of News Alert Team.
Copied from his wall

16/05/2026

تماشہ دیکھتے وقت احتیاط ضروری ہے۔

15/05/2026

Order of DC Gujrat

تاجر برادری کے لیے خوشخبری۔
15/05/2026

تاجر برادری کے لیے خوشخبری۔

Address

Rehman Shaheed Road
Gujrat
50700

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 12:30
14:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Gujrat ky Rang گجرات کے رنگ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share