01/05/2026
⛔ دنیا میں نظام معاشرہ ۔ ضابطہ زندگی۔ قانون حکومت آئین مملکت ۔ عدل وغیرہ کی مختلف اصطلاحات رائج ہیں لیکن قرآن کریم نے ان سب کی جگہ ایک جامع اصطلاح دی ہے۔ اور وہ ہے
✅ الدین۔
👈 یہی ہمارے معاشرہ کا نظام۔
👈 ہماری زندگی کا ضابطہ ۔
👈 ہماری حکومت کا قانون اور
👈 ہماری مملکت کا آئین ہے۔
اس آئین کی رو سے، انسانوں کی آزادی اور پابندی کی حدود مقرر کرنے کا پورا اقتدار اللہ کو حاصل ہوتا ہے۔ کسی اور کو نہیں ہوتا۔
👈 اس لیے الدین میں اقتدار اعلیٰ (Sovereignty) اللہ کی ہوتی ہے۔
👈 اس کا یہ اقتدار اعلیٰ اس کی کتاب (قرآن کریم) کے ذریعے بروئے کار آتا ہے
👈 اس لیے اسلامی مملکت میں عملاً اقتدار اعلیٰ کتاب الله کو حاصل ہوتا ہے۔
👈 اسلامی مملکت، قرآنی اصولوں کو دنیا میں نافذ کرنے کا ذریعہ (Agency)ہوتی ہے۔
✅ اسلامی مملکت کا کانسٹی ٹیوشن قرآن کریم کے غیر متبدل اصولوں کا دوسر ا نام ہے۔
اس مملکت کا تمام کاروبار انہی اصولوں کی حدود کے اندر سر انجام پاتا ہے۔
اور مقصود اس سے نظام عدل و توازن کا قائم رکھنا ہے۔
👈 اس کا نام الدین ہے۔
✅ اسلامی نظام کا اسٹرکچر صِبْغَةَ اللّٰهِ پر مشتمل ہوتا ہے۔
👈 اللہ کی مختلیف صفات مختلیف شعبوں سے مطابقت رکھتی ہیں۔ لہذا مختلیف صفات کے مطابق مختلیف شعبوں کے قیام سے اسلامی نظام کا ڈھانچہ وجود میں آتا ہے۔مثلا
🔳 رحیم ( شعبہ ڈویلپمنٹ )
🔳 خالق ( شعبہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی )
🔳 عدل ( شعبہ عدل و انصاف )
🔳 علیم ( شعبہ ایجوکیشن )
🔳 فضل ( شعبہ معاشیات )
🔳 قدیر ( شعبہ قانون سازی )
🔳 القھار ( شعبہ آرمڈ فورسز )
🔳 الْحفیْظ ( شعبہ ڈیفینس )
🔳 الخبیر ( شعبہ انفارمیشن )
🔳 الحسیب ( شعبہ احتساب ) وغیرہ وغیرہ.
⛔ جس نظامِ میں حمدیت ‘ ربوبیت اور رحمت پائی جائے اسی کو اقتدار کا حق حاصل ہوتا ہے۔ (1:1-3).
👈 بہ ہیئت مجموعی‘ مستقل اقدار وہ صفاتِ خداوندی ہیں جن کی نمود انسانی ذات میں (علیٰ حد بشریت) ہو سکتی ہے۔
🔳 اسلامی مملکت ان افراد کے ہاتھوں متشکل ہوتی ہے جو ان اقدارؔ و اللہ کی صفات کے پیکر ہوتے ہیں ‘ اور اس مملکت کا فریضہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ایسا ماحول پیدا کرے جس میں ان اقدار کی عام ترویج ہو اور اس طرح افرادِ معاشرہ کی ذات زیادہ سے زیادہ حد تک نشوونما پا سکے۔
👈 بحد بشریت ان صفات کے حامل لوگ اپنے اپنے شعبوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔
المختصر
✅ الاسلام، وہ ضابطہ حیات ہے جسے الله تعالیٰ نے انسانوں کے لیے تجویز کیا ہے۔ اس کے سوا کوئی ضابطہ حیات اللہ کے نزدیک قابل قبول نہیں۔
سورۃ آل عمران میں ہے
🔳 اَ فَغَیْرَ دِیْنِ اللهِ یَبْغُوْنَ۔
👈کیا یہ لوگ، الله کے (متعین فرمودہ) ضابطہ حیات کے سوا کوئی اور دین چاہتے ہیں۔
حالانکہ تمام اشیائے کائنات کی کیفیت یہ ہے کہ
🔳 وَلَهٗٓ اَسْلَمَ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْھًا وَّاِلَيْهِ يُرْجَعُوْنَ[3 :83]
👈 کائنات کی پستیوں اور بلندیوں میں جو کچھ ہے سب اس کے قانون کے سامنے ، طوعاً و کرہاً سربسجود ہیں اور وہ ہر ہر قدم پر اس قانون کی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔
اس کے بعد ہے
🔳 وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ[3: 85]
👈 جو کوئی اسلام کے سوا کوئی اور ضابطہ حیات اختیار کرے گا اس سے وہ کبھی قبول نہیں کیا جائے گا۔
🔳 وَھُوَ فِي الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ[3: 85]۔
👈اور اس کا جی چاہے تو تجربہ کر کے دیکھ لے کہ وہ آخر کار ضرور نقصان اٹھائے گا۔
یہی وہ ضابطہ حیات ہے جو انبیائے سابقہ کو ملتا رہا اور جو آخر الامر قرآن کریم میں آکر مکمل ہوا۔
👈 اسی کو اللہ نے تمام نوع انسان کے لیے منتخب کیا ہے[5 :3]۔
✅ لہٰذا اب، اس آسمان کے نیچے، اللہ کا تجویز کردہ ضابطہ حیات جسے اس نے
👈اسلام کہہ کر پکارا ہے، قرآن کریم سے باہر کہیں نہیں۔ اسی دین کے ماننے والوں کو مسلمین کہتے ہیں۔
🔳 نظامِ مملکت کے لئے کتاب اللہ کافی ہے۔ (29:51)
🔳 اسلامی نظام میں حق حکومت صرف اللہ کو حاصل ہے۔ یعنی حکومت ‘ کتاب اللہ پر عمل کرانے کے لئے قائم کی جائے گی۔ (6:57) ۔ (6:62)
🔳 حکومت میں اللہ کا کوئی شریک نہیں ہوسکتا۔
👈 لہٰذا‘ اسلامی نظام خالص قرآن کے مطابق قائم ہو گا۔ (25:2) ۔ (28:70)
🔳 اسلامی نظام‘ انسانوں کی خود ساختہ پابندیوں کو توڑتا ہے اور اس طرح انسانوں کو صحیح آزادی عطا کرتا ہے۔ (7:157)
🔳 اسلامی نظام کے دروازے ہر ایک کے لئے کھلے ہوں گے۔ لیکن ظلم کرنے والا عذاب کا مستحق ہو گا۔ (22:25)
🔳 اسلامی نظام کا فریضہ‘ تمام مذاہب کی آزادی‘ ان کے معبدوں کی حفاظت‘ امر بالمعروف۔ نہی عن المنکر۔ نظامِ صلوٰۃ کا قیام‘ نوعِ انسان کے لئے سامان نشوونما کی فراہمی۔ (22:39-41)
🔳 اسلامی نظام میں مدارج کا تعین‘ اعمال اور جوہر ذاتی کے مطابق ہوتا ہے۔ (46:19) ۔ (49:13)
🔳 اس نظام میں ذمہ داری کے امور ان کے سپرد ہوں گے جو ان کے اہل ہوں۔ (4:58)
🔳 تقسیم عمل یوں ہونی چاہئے کہ کچھ لوگ مرکز میں آکر ٹریننگ حاصل کریں اور واپس جا کر دوسروں کو اس سے آگاہ کریں۔ (9:122)
🔳 رب ( اسلامی نظام کا مرکز )
⛔ دین (نظامِ زندگی) کے قیام کے لئے ضروری ہے کہ امت کا ایک مرکز ہو اور اس کے تابع باقی صاحبانِ اختیار۔ ان کی اطاعت سے یہ نظام قائم رہ سکتا ہے۔ (4:59 ; 60:61 ; 64-65)
⛔ اسلامی فلاحی مملکت نظام ربوبیت کی صورت وجود میں آتا ہے۔
👈 رب اللہ کی مرکزی صفت ہے۔
👈 اسلامی نظام کا مرکز بھی یہ ہی صفت قرار پاتی ہے۔
🔳 جو تمام شعبوں کے ہیڈز پر مشتمل ہوتا ہے۔ جسے قران مجلس شوری کہتا ہے باہمی مشوروں حکمت عملی طے کی جاتی ہے۔ کسی بھی قسم کے چیلنجز سے نمٹنے کیلیئے ہر شعبہ اپنی اپنی خدمات پیش کرتا ہے.
👈 امت مسلمہ کو جب حکومت ملے گی تو ان کا فریضہ ان امور کو نافذ کرنا ہو گا جنہیں قرآن پسندیدہ قرار دیتا ہے اور ان سے روکنا‘ جنہیں وہ ناپسندیدہ ٹھہراتا ہے۔ نیز اقامت صلوٰۃ اور ایتائے زکوٰۃ۔ (22:41)