05/11/2025
نیویارک کی سیٹ پر ہمارا جشن: خود فریبی کا آئینہ اور نظامِ میرٹ کا تلخ سبق
آج صبح جب فیس بک کی دنیا میں قدم رکھا تو ہر طرف زوہران ممدانی (Zohran Mamdani) کی کامیابی کا چرچا تھا۔ نیویارک سٹی کونسل کے انتخاب میں ان کی جیت پر خوشی کا ایسا طوفان تھا، جیسے یہ ہماری قوم کی کوئی عظیم فتح ہو۔ بعض پوسٹوں میں تو انہیں "امریکی نژاد پاکستانی" لکھ کر ہماری قومی ملکیت میں شامل کر لیا گیا تھا! حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ زوہران کا پاکستان سے دور دور کا بھی کوئی تعلق نہیں۔
یہ منظر مجھے ہمارے معاشرے کی ایک گہری نفسیاتی کمزوری کی یاد دلاتا ہے۔ یہ وہ کمزوری ہے جو ہمیں عالمی سطح پر پہچان کی شدید تلاش میں بے چین رکھتی ہے۔ ہم ایسے لوگوں کی کامیابیوں کو اپنا بنا لیتے ہیں جن کا نام ہمارے جیسا ہو، یا جن کی جڑیں جنوبی ایشیا سے جڑی ہوں، مگر یہ سوچنے کی زحمت نہیں کرتے کہ کیا یہ جیت واقعی ہماری ہے، یا یہ ایک ایسے مضبوط نظام کی ہے جو انصاف اور میرٹ کی بنیاد پر کھڑا ہے؟
آئیے آج اسی کمزوری اور اس کے حقیقی سبق کو زوہران ممدانی کی کامیابی کے آئینے میں بغور دیکھتے ہیں اور خود سے احتساب کا سوال کرتے ہیں۔
حقیقت کا آئینہ: زوہران کون ہیں؟
ہمارے لیے ضروری ہے کہ جذباتی رنگ اتار کر پہلے حقائق کی روشنی میں دیکھیں، کہ ہم کس پر فخر کر رہے ہیں:
عہدہ اور نظریہ: ممدانی نیویارک سٹی کونسل کے 26 ویں ڈسٹرکٹ سے منتخب ہوئے ہیں اور وہ ڈیموکریٹک سوشلسٹ نظریات کے حامل ہیں۔
خاندانی پس منظر: ان کی پیدائش یوگنڈا کے شہر کمپالا میں ہوئی، جہاں ان کی ابتدائی زندگی گزری۔ وہ جڑوں سے ایک Global Citizen ہیں؛ مختلف ثقافتوں کا ایک ایسا امتزاج جہاں سرحدیں معنی نہیں رکھتیں۔
والد: محمود ممدانی، یوگنڈا سے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت کے ماہر تعلیم اور سیاسی مفسر ہیں جو کولمبیا یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔
والدہ: میرا نائر، بھارتی نژاد مشہور بین الاقوامی فلم ساز ہیں۔
یہ ایک سادہ مگر تلخ حقیقت ہے:
زوہران ممدانی نہ تو پیدائشی پاکستانی ہیں اور نہ ہی ان کی براہ راست جڑیں پاکستان سے ملتی ہیں۔ اس کے باوجود ہم نے ان کی کامیابی کو اپنی قومی ملکیت سمجھ کر ایک جھوٹی تسکین حاصل کر لی۔
ہماری نفسیاتی کمزوری: عالمی توثیق کی بھوک
یہ غلط فہمی صرف ممدانی کی جیت تک محدود نہیں ہے۔ جب بھی کوئی جنوبی ایشیائی نژاد شخص—خواہ ہندوستانی ہو، بنگلہ دیشی ہو، یا خالص پاکستانی نہ ہو—مغربی دنیا میں بڑا عہدہ پاتا ہے، تو ہم سب میں یک دم خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ ہمارے اس رویے کے پیچھے ایک تلخ نفسیاتی حقیقت چھپی ہے:
ہم بحیثیت قوم، عالمی توثیق (Validation) کی شدید خواہش رکھتے ہیں۔ چونکہ ہمارا ملک اکثر منفی خبروں، سیاسی انتشار، معاشی چیلنجز اور ساختی ناانصافیوں کی وجہ سے خبروں میں گھرا رہتا ہے، اس لیے ہم بے چین رہتے ہیں کہ کوئی "اپنا" بیرونِ ملک جا کر چمکے۔
زوہران جیسے لوگوں کی جیت دیکھ کر ہمارا لاشعوری دماغ فوراً یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے: "اگر یہ کامیاب ہو گیا، تو ہم سب کامیاب ہیں!"
یہ ایک خوبصورت خود فریبی ہے جو ہمیں وقتی خوشی تو دیتی ہے، مگر ہماری اندرونی اور ساختی کمزوریوں پر نہایت صفائی سے پردہ ڈال دیتی ہے۔ یہ ایک کھوکھلا شور ہے جو ہمیں حقیقت کا سامنا کرنے سے روکتا ہے۔
اصل سبق: ایک منصفانہ نظام کی دیانتداری
ہمیں خود فریبی سے نکل کر یہ سمجھنا ہو گا کہ اصل میں زوہران کی کامیابی ایک منصفانہ نظام کی جیت ہے۔ یہ ان کا ذاتی کارنامہ ہونے کے ساتھ ساتھ اس معصوم ماحول کا کمال ہے جس نے انہیں آگے بڑھنے کا موقع دیا۔
یہاں غور طلب نکتہ یہ ہے کہ وہ ایک ایسے سیاسی میدان میں لڑے جہاں مخالفین طاقتور تھے، اور خود امریکہ کے موجودہ صدر بھی ان کے نظریات سے اتفاق نہیں کرتے تھے۔ اس کے باوجود، انہیں عوام نے ان کی مقامی خدمات، وژن اور لگن کی بنیاد پر چنا۔
ممدانی جیسے لوگ ایک ایسے نظام کی جیت ہیں جو قائم ہے:
مساوات پر: جو ہر نسل، رنگ اور پس منظر کے لوگوں کو برابر کا موقع دیتا ہے—صرف نام دیکھ کر نہیں۔
انصاف پر: جہاں انتخابی عمل شفاف اور ووٹ کی گنتی غیر جانبدار ہوتی ہے۔
میرٹ پر:جہاں خاندانی نام یا سفارش کی بجائے، محنت، لگن اور عوامی خدمت کامیابی کی چابی ہے۔
ممدانی کی جیت ہمارے لیے ایک آئینہ:
ممدانی کی یہ کامیابی ہمارے لیے ایک آئینہ ہے جو ہمیں خود احتسابی پر مجبور کرتا ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ دوسروں کی جیت پر لُڈیاں ڈالنے کی بجائے، ہمیں پلٹ کر خود سے ایک مشکل اور گہرا سوال پوچھنا چاہیے:
کیا ہمارا سیاسی اور انتظامی نظام ایک عام، غریب مگر باصلاحیت نوجوان کو صرف اس کی محنت کے زور پر آگے بڑھنے دیتا ہے؟
کیا ہمارے گلی کوچوں میں موجود لاکھوں "زوہران" اپنے پسِ منظر کی زنجیروں سے آزاد ہو کر قیادت تک پہنچ سکتے ہیں وہ بھی بغیر سفارش، وڈیرے یا کرپشن کے سہارے؟
جب تک ہمارا ملک ہر شہری کو انصاف، مساوات اور میرٹ کا سچا موقع نہیں دیتا، تب تک یہ خوشیاں محض وقتی فریب رہیں گی۔ یہ لمحہ کسی کی کامیابی پر خوش ہونے کا نہیں بلکہ احتساب کا ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم دوسروں کی کامیابیوں کو اپنی جیت سمجھنے کے بجائے، اپنے اندر ایسا منصفانہ اور طاقتور نظام تعمیر کریں جہاں زوہران جیسے لاکھوں نوجوان پاکستان میں ہی کامیاب ہونے کا موقع پائیں۔
یاد رکھیں:
قومیں تبھی عظیم بنتی ہیں جب وہ باہر کی چمک نہیں، اپنے اندر کی روشنی پر یقین کرتی ہیں۔ حقیقی جیت تب ہو گی جب ہم اپنے نظام کو بدلیں گے، نہ کہ صرف دوسروں پر فخر کریں گے۔