03/06/2026
بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ سلپی میں ہمارے لگائے ہوئے بینرز اور فلیگز کو پھاڑ دیا گیا ہے، اور کچھ کو جلا بھی دیا گیا ہے۔
یہ صرف کپڑے کے ٹکڑے نہیں تھے یہ اس خادم کی نیت تھی جو دن رات آپ کی خدمت میں لگا ہے۔ یہ ان نوجوانوں کی محنت تھی جنہوں نے اپنی جیب سے پیسے لگا کر، دھوپ میں کھڑے ہو کر یہ بینرز لگائے تھے۔
میں پوچھتا ہوں: آخر ہم سے کیا دشمنی ہے؟
کیا عوام کی خدمت کرنا جرم ہے؟
کیا گھر گھر جا کر لوگوں کا حال پوچھنا گناہ ہے؟
سیاست اختلافِ رائے کا نام ہے، دشمنی کا نہیں۔
آپ ہم سے نظریاتی اختلاف رکھیں، ہمارا مقابلہ میدان میں کریں، عوام کے ووٹ سے کریں۔ لیکن خدارا سیاست کو اس نفرت کی آگ میں مت دھکیلیں۔
بینر پھاڑنے سے، جھنڈے جلانے سے نظریے نہیں مرتے۔
آپ ایک بینر پھاڑو گے، ہم دس لگائیں گے۔
آپ ایک جھنڈا جلاؤ گے، ہم سو دلوں میں اپنا پیغام پہنچائیں گے۔
مخالفین سے اتنا کہوں گا:
ہم آپ کے بینرز کو ہاتھ تک نہیں لگائیں گے۔ کیونکہ ہم نفرت کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے۔ ہمارا مقابلہ کردار سے ہے، کارکردگی سے ہے، خدمت سے ہے۔
ہم رکنے والے نہیں۔ ہم جھکنے والے نہیں۔
کیونکہ ہمارا رشتہ آپ سے اقتدار کا نہیں، خدمت کا ہے۔
*آپ کا خادم – قادر خان*
#سلپی #شُکریہ_تپشاکن