11/03/2019
دیوسائی - جہاں وقت تھم جاتا ہے.
سکردو اور استور کے درمیان ایک بہت بڑے میدان کو دیوسائی کہتے ہیں۔ دیوسائی کا مطلب ہے "دیو کی سرزمین"
دیوسائی کا رقبہ 3,000 مربع کلومیٹر ہے اور یہ دنیا کا دوسرا بلند ترین میدان ہے جسکی اونچائی 13,500 فٹ ہے۔ یہ سال کے آٹھ مہینے برف سے ڈھکا رہتا ہے اور یہاں تقریبًا 30 فٹ تک برف پڑتی ہے۔ دنیا کا پہلا بلند ترین مقام *تبت* (چائنہ) ہے۔
دیوسائی کو 1993 میں نیشنل پارک کا درجہ دے دیا گیا۔
ہمارا دیوسائی کا سفر بہت ہی سنسی خیز رہا۔ ہم جب سکردو سے نکلے تو تب تک کافی لوگ ہمیں منع کر چکے تھے کہ ہنڈا سوک کو دیوسائی نا لے کرجانا لیکن ہم ٹھہرے دیوانے کے دیوانے۔ کہتے ہیں کہ وہ سیاح ہی نہیں ہوتا جو لوگوں کی باتوں پر کان دھرے۔ "بہرحال" ہم جیسے سیاحت کو عبادت سمجھنے والوں نے لوگوں کی بات نا مانی۔ ہم چار دوست تھے اور ہم نے "طے" کر لیا تھا کہ ہم بھی دیوسائی جائیں گی اور ہماری ہنڈا سِوک بھی دیوسائی دیکھے گی۔ (بفضل خدا)
"بہرحال" 26 جولائی کی صبح جانبِ منزل گامزن ہوئے تو راستے میں جو بھی جیپ یا پجارو والا ملتا تو ہمیں منع کرتا بلکہ ہمارا مذاق اڑاتا لیکن ہم ایک کامل یقین سے بھری مسکراہٹ سے انکی باتوں کا جواب دیتے۔ گو کہ ہمیں راستے میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن ہم بخیر و عافیت دیوسائی کے خوبصورت میدانوں تک ہنڈا سوک لے کر پہنچ گئے اور وہاں پہنچتے ہی نظارہ بدل گیا ایسے لگا جیسے قدرت نے آپکو آپکی محنت کا انعام دے دیا ہو۔
سخت سنگلاخ پہاڑوں کی دوسری طرف سرسبز گھاس والے میدان دور دور تک پھیلے ہوئے تھے جہاں زیادہ اونچائی ہونے کی وجہ سے ایک بھی درخت نہیں تھا جہاں تک نظر جاتی میدان ہی میدان تھے۔ اس وسیع میدان پر ایک نظر ڈالیں تو رنگ برنگے پھول اندھیری رات میں ستاروں کی طرح آسمان پر روشنیاں بکھیرتے نظر آتے ہیں۔
سکردو کی طرف سے دیوسائی جائیں تو پہلا مقام شتونگ نالہ آتا ہے اور دیوسائی کی بلند ترین چوٹی نام بھی شتونگ ہے جسکی بلندی 16,000 فٹ ہے۔
دیوسائی میں دو تین چھوٹے چھوٹے دریا ہیں۔ بڑا پانی ، کالا پانی ، چھوٹا پانی اور شتونگ نالہ۔ جن میں سب سے نمایاں *بڑا پانی* ہے جس کے کنارے پہنچ کر ہم نے رات گزارنے کے لیے خیمہ لیا۔ Glamp Pakistan والوں نے بہت ہی شاندار خیمہ بستی بسائی ہوئی تھی وہاں۔۔۔جس میں چار ہزار سے لے کر سولہ ہزار تک خیمہ ایک رات کے لیے مل جاتا ہے جس میں آپ کو ضروریات زندگی کی تقریبًا ہر طرح کی سہولت میسر ہوگی۔
دیوسائی کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہاں "خاموشی گنگناتی ہے"
سکوت ایسا کہ انسان کو خود کے اندر سے آوازیں سنائی دینے لگ جاتی ہیں۔ سکون اتنا کہ خود سے ملاقات کا موقع مل جاتا ہے۔
آپ جب دیوسائی کے میدانوں پر نظر دوڑاتے ہو تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے وقت تھم گیا ہو اور ہر چیز ساکن ہو گئی ہو۔ آپ کسی پتھر پر بیٹھ کر گھنٹوں کسی بھی منظر کو دیکھ سکتے ہیں لیکن بور نہیں ہونگے۔
رات کے وقت دیوسائی کسی بڑے ہال کا منظر پیش کرتا ہے جس میں ایسا لگتا کہ جیسے ہال میں گھپ اندھیرا ہو اور ہال کی چھت پر روشنیاں جھگمگا رہی ہوں۔ دیوسائی میں ٹمٹماتے ستارے اتنے قریب نظر آتے ہیں کہ کچھ دیر کے لیے تو انسان مبہوت ہو جاتا ہے اور ٹکٹکی باندھ کر دیکھتا رہتا ہے۔ ان ستاروں میں مختلف رنگوں کی روشنیوں کی لہریں اور گلیکسیاں آسمان کو چار چاند لگا دیتی ہیں۔ جس رات ہم وہاں پر رُکے وہ اماوس کی رات تھی اور ہمیں ایسا لگ رہا تھا کہ ہم دیوسائی کی یخ بستہ ٹھنڈ میں آسمان پر کوئی تھری ڈی فلم دیکھ رہے ہیں۔
دیوسائی میں بہت نایاب جانور پائے جاتے ہیں جن میں بھورے ریچھ, گولڈن مارموٹ, بھیڑیئے, لومڑی اور مارخور نمایاں ہیں۔
دیوسائی کو اس وجہ سے بھی پوری دنیا میں نمایاں مقام حاصل ہے کہ بھورے ریچھ اس وقت دنیا میں صرف دیوسائی میں ہی پائے جاتے ہیں جنکی تعداد 78 ہے۔ باقی دنیا میں انکی نسل معدوم ہوچکی ہے۔
دیوسائی کی آخری جگہ المالک مارپاس ہے
جہاں سے ایک ٹریک بُرجی لا ٹاپ تک جاتا ہے۔ برجی لا ٹاپ سے قراقرم پہاڑی سلسلے کی چھے بلند ترین چوٹیاں نظر آتی ہیں
1- کےٹو 2- براڈ پیک 3- مشہ برم 4- گشیبرم ۱ 5- گشیبرم ۲ 6- گشیبرم ۴
دنیا کے کسی بھی ایک مقام سے ایک ساتھ اتنی بلند اور اتنی زیادہ چوٹیاں نہیں دیکھی جا سکتی۔ اس کے علاوہ نانگا پربت بھی دیوسائی کے مختلف مقامات سے دیکھی جا سکتی ہے۔
دیوسائی کے اختتام میں, گہرے نیلے رنگ کی "شیوسر" جھیل واقع ہے۔ 12677 فٹ بلند یہ جھیل دنیا کی بلند ترین جھیلوں میں ایک ہے۔ اس جھیل کی خاص بات یہ ہے کہ اس کی سطح ہمیشہ یکساں رہتی ہے اس میں پانی نا کہیں سے داخل ہوتا ہے نا خارج اس لئے مقامی لوگ اسے اندھی جھیل کہتے ہیں۔ اس جھیل میں ٹراؤٹ اور سنو کارپ مچھلی بڑی تعداد میں پائی جاتی ہے۔
ہم نے تقریبًا دو دن وہاں گزارے اور ایسی یادوں کے ساتھ واپس آئے جو ابھی بھی خواب لگتی ہیں۔ ہم خود تو استور کے راستے واپس شاہراہ قراقرم پر پہنچ گئے لیکن دل وہیں سر سبز گھاس ، رنگ برنگے پھولوں ، دلکش جھیلوں ، شفاف پانی کے چشموں اور حد نگاہ تک پھیلے ہوئے بھورے ریچھوں اور گولڈن مارموٹ سے بھرے دیومالائی میدانوں میں ہی چھوڑ آئے۔
میں نے کچھ سال پہلے سنا تھا کہ "دیوسائی ایسی جگہ ہے جہاں کوئی بھی سیاح ایک بار نہیں جاتا"
(بلکہ بار بار جاتا ہے)
اس بات کا احساس دیوسائی سے واپس آکر ہوا۔