BOUNJi Editorial policy.

The page will focus on:
respected elders and notable personalities;
achievements of villagers;
history, culture and traditions;
education, professional achievements and public service;

06/09/2026

بونجی کو خود اپنی قدر نہیں دوسروں کو کیا قدر ہوگی۔ بونجی کو گلی سڑک مل جائے تو خوش ہو جانا بڑے پراجیکٹس سے بونجی کو نکالا جا رہا ہے۔ اپنی پگڑی اچھالنے والے نوجوانوں اور چند بزرگوں سے گزارش ہے جا کر اس پیٹی بند ٹھیکدار سے پوچھے کہ یہ عزت اور مقام بلا وجہ نہیں دیا۔ مجھے افسوس ہے ان جزباتی بزرگوں اور ان نوجوان ٹولوں پر جنھوں نے اس گھر کو بے وقعت کر دیا۔ اب ان پر لازم ہے کہ جا کر پنا حق بحال کروائیں

عوامِ بونجی کے نام — ایک اہم پیش رفت پر اظہارِ تشکرالحمدللہ! ھوس داس کی اراضی سے متعلق ایک اہم اور حساس مسئلے کو باہمی م...
03/09/2026

عوامِ بونجی کے نام
— ایک اہم پیش رفت پر اظہارِ تشکر
الحمدللہ! ھوس داس کی اراضی سے متعلق ایک اہم اور حساس مسئلے کو باہمی مشاورت، اتفاقِ رائے، امن اور بھائی چارے کے جذبے کے ساتھ ایک اہم مرحلے تک پہنچانے پر ہم عوامِ بونجی کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔
سب سے پہلے عوامِ بونجی کا خصوصی شکریہ، جنہوں نے اس اہم اجتماعی معاملے میں صبر، تعاون اور وسیع تر اجتماعی مفاد کا مظاہرہ کیا۔ اسی طرح کنزرویشن کمیٹی کی مسلسل کاوشوں، محنت اور مثبت کردار کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
ہم لینڈ ریفارم کمیٹی کے بھی خصوصی طور پر مشکور ہیں، جس نے اس اہم مسئلے کے حل کے لیے اپنا قیمتی وقت نکالا، باقاعدہ منصوبہ بندی کی اور دستیاب جدید آلات و ذرائع سے استفادہ کرتے ہوئے ھوس داس کی متنازعہ اراضیات کو مختلف پلاٹس کی صورت میں مرتب کرنے اور منظم انداز میں تقسیم کرنے کی ایک قابلِ عمل کوشش کی۔
مزید اہم بات یہ ہے کہ تمام متعلقہ نمائندوں کی موجودگی میں ان اراضیات کو 10 گروپس/پلاٹس میں باقاعدہ طور پر ٹاس (قرعہ/تقسیمی عمل) کے ذریعے طے کیا گیا، تاکہ تقسیم کا عمل زیادہ شفاف، منظم اور سب کے لیے قابلِ قبول ہو۔
اس موقع پر ان افراد اور خاندانوں کا خصوصی شکریہ ادا کرنا بھی ضروری ہے جنہوں نے عوام کے وسیع تر مفاد، امن و بھائی چارے اور اجتماعی بھلائی کو مقدم رکھتے ہوئے اپنے زیرِ قبضہ اراضیات عوام کے حوالے کرنے کے لیے کھلے دل، فراخ دلی اور امن پسند سوچ کا مظاہرہ کیا۔ ایسے اقدامات یقیناً آنے والی نسلوں کے لیے ایک مثبت مثال ہیں۔
ان شاء اللہ، اس تمام عمل کی تفصیلات عوامی آگاہی کے لیے کمیونٹی ہال میں باقاعدہ آویزاں کی جائیں گی، تاکہ ہر شخص کو اپنے متعلقہ پلاٹ اور گروپ کے بارے میں مکمل معلومات حاصل ہو سکیں۔ اس کے بعد امن، محبت، باہمی احترام اور بھائی چارے کی فضا کو مزید مضبوط بناتے ہوئے باقاعدہ حدبندی کے ایام کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔
ہم امید کرتے ہیں کہ یہ عمل کسی فرد یا خاندان کے مفاد کے بجائے پوری بونجی کمیونٹی کے اجتماعی مفاد، امن اور مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے آگے بڑھے گا۔
ان شاء اللہ، بونجی پیج جلد ہی اس مکمل پلان، پلاٹس A تا J، متعلقہ گروپس اور دیگر ضروری تفصیلات سے عوام کو مرحلہ وار آگاہ کرنے کی کوشش کرے گا۔
اتحاد، اعتماد اور باہمی احترام ہی ہماری اصل طاقت ہے۔
بونجی کی زمین، بونجی کی امانت — اور بونجی کا اجتماعی مفاد ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
(یہ تحریر اے آئی کی مدد سے تیار کی گئی ہے اس میں الفاظ کی غلطی یا اصلاح کی ضرورت ممکن ہے)

03/09/2026

زیتو کمیٹی کو مضبوط کریں اس میں ہم سب فائدہ ہے۔ اس کے جرمانوں پر بحث نہ کریں یہ ہماری اپنی مضبوطی ہے۔ زیتو کمیٹی سے گزارش ہے آپنے اصولوں سے ہٹ کر کوئی جرمانہ یا حکم جاری نہ کریں نیا اصول طے ہونے سے پہلے عوامی رائے کو دو تین بار حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

02/09/2026

ھوس داس تقسیم دس پلاٹ کی بنیاد پر ہونی چاہیے ۔ بہتر ہوتا یہ تقسیم بھی 8 پانی کی باریاں ہیں اسی حساب سے ہوتا۔ دس پلاٹ کے حساب سے برابر تقسیم ہوتا اور اس کے علاؤہ کوئی فارمولہ قبول نہیں۔ اس میں رد و بدل کا مطلب اس تقسیم کو پھر مسائل کا شکار کرنا ہوگا۔

بونجی کا ایک نڈر، قابل اور اچھے اخلاق سے مزین فرزند کرنل لطیف الرحمن شہید۔ ۔ ان کا اخلاق اور ان کی قابلیت بچپن ہی سے ہر ...
30/08/2026

بونجی کا ایک نڈر، قابل اور اچھے اخلاق سے مزین فرزند کرنل لطیف الرحمن شہید۔ ۔ ان کا اخلاق اور ان کی قابلیت بچپن ہی سے ہر گاوں کے ہر دل میں نقش ہیں۔ انھیں سکول لائف میں جہاں بھی دیکھا ایک کتاب ہاتھ میں لیے نظر آتے تھے۔ ان کی محنت رنگ لائی اور پاک آرمی میں شامل ہوے۔کرنل صاحب ایک مدت جان لیوا بیماری میں مبتلا رہے مگر اپنی ڈیوٹی سے کبھی کمپرومائز نہیں کی۔ اللہ آپ کے درجات بلند فرمائے ، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے، آمین یا رب۔

زیتو کا بہترین قدم۔ درخت ہماری بنیادی ضرورت ہیں۔ ان کی بقاء کے لیے ایسے فیصلے بہترین نتائج کا باعث ہیں۔
29/08/2026

زیتو کا بہترین قدم۔
درخت ہماری بنیادی ضرورت ہیں۔ ان کی بقاء کے لیے ایسے فیصلے بہترین نتائج کا باعث ہیں۔

29/08/2026

إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

With deep sadness and sorrow, it is to inform that the mother of Dr. Rizwan Najam (wife of Lt. Gen. Najam Sheen) has passed away.

Her Namaz-e-Janaza will be held today(29th August)at 5:15 PM at Army Graveyard, Rawalpindi.

May Allah Almighty grant her the highest place in Jannat-ul-Firdous and give sabr to the bereaved family.

آمين يا رب العالمين

27/08/2026

خبر غم
إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ۔
ہمارے بھائی ظفرالحق ( ھوس داس) کی اہلیہ لاہور میں زیر علاج تھیں۔ اج قضاالہی سے وفات پا چکی ہیں۔ اللہ رب العزت مرحومہ کا سفر آخرت آسان فرمائے، ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام نصیب کرے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے۔ آمین

إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَانتہائی افسوس کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ *ہدایت اور کریم اللہ * کے والد * مح...
27/08/2026

إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

انتہائی افسوس کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ *ہدایت اور کریم اللہ * کے والد * محمد صبور چچا * رضائے الٰہی سے وفات پا گئے ہیں۔

اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے،اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل نصیب فرمائے۔ آمین 🤲*

* *نماز جنازہ عصر نماز کے بعد ہوگا*

26/08/2026

آئیں ہم بھی اس شادی کا اہتمام کریں
گلیشیئرز کی شادی! گلگت بلتستان کا وہ راز جس سے 500 گھر پانی پیتے ہیں

گلگت بلتستان میں لوگ گلیشیئرز کا انتظار نہیں کرتے۔
وہ ان کی شادی کروا دیتے ہیں۔

جی ہاں، آپ نے صحیح پڑھا۔ یہ کوئی افسانہ نہیں بلکہ سکردو کے قریب ایک علاقے "مناور" کی صدیوں پرانی روایت ہے۔ جہاں پانی کی قلت ہو، وہاں کے لوگ قدرت سے ہاتھ ملا کر خود اپنا گلیشیئر "پیدا" کرتے ہیں۔

عمل بہت سادہ لیکن حیران کن ہے۔
گاؤں والے 2 برف کے ٹکڑے لاتے ہیں، ہر ایک تقریباً 35 کلو۔
ایک کو "دلہا" کہا جاتا ہے - سرمئی رنگ کا، مٹی اور پتھروں سے بھرا ہوا۔
دوسرے کو "دلہن" - سفید، صاف اور شفاف۔

ان دونوں کو 2 دن تک کندھوں پر اٹھا کر پہاڑوں میں لے جایا جاتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ یہ زمین پر نہ لگیں۔ پھر ایک گڑھے میں رکھ کر ان کے اوپر مٹی، راکھ اور پتھر ڈال کر دبا دیا جاتا ہے۔ پورا گاؤں دعا کرتا ہے۔ بس، یہی ان کی شادی ہے۔

10 سال کا انتظار
شادی کے بعد 10 سال انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اگر وہ برف وہیں جمی رہی تو آہستہ آہستہ ایک نیا گلیشیئر جنم لیتا ہے۔ اور وہ گلیشیئر اگلے کئی سالوں تک پانی دیتا ہے۔

سکردو کے قریب ایک گاؤں آج بھی 150 سال پہلے ہوئی شادی سے بننے والے گلیشیئر کا پانی پی رہا ہے۔ اس ایک گلیشیئر سے 500 گھرانے زراعت کرتے ہیں اور پانی استعمال کرتے ہیں۔

ماہرین اسے "Artificial Glacier" یا "Ice Stupa" کی قدیم شکل کہتے ہیں۔ راکھ اور پتھر اس لیے ڈالے جاتے ہیں تاکہ دھوپ کی تپش کم ہو اور برف آہستہ آہستہ پگھلے۔ کم درجہ حرارت + سایہ + دباؤ = نئی برف کا ذخیرہ۔

یعنی یہ صرف عقیدہ نہیں، یہ صدیوں کا سائنسی تجربہ بھی ہے۔

مناور ہمیں سکھاتا ہے کہ جب قدرت ساتھ نہ دے تو انسان ہار نہیں مانتا۔ وہ قدرت سے دوستی کر لیتا ہے۔ وہ انتظار نہیں کرتا، وہ حل پیدا کرتا ہے۔

آج جب دنیا Climate Change کی بات کر رہی ہے، گلگت بلتستان کے یہ لوگ 100 سال سے عملی حل کر رہے ہیں۔

آپ کو اس روایت کے بارے میں کیا لگتا ہے؟
کیا آپ کے علاقے میں بھی ایسی کوئی روایت ہے؟ کمنٹس میں ضرور بتائیں۔

_نوید حسین________

Address

Gilgit-Baltistan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when BOUNJi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share