Engr. Muhammad Amin

Engr. Muhammad Amin Believe to achieve �

07/09/2022

سنڌ جو ماضي ۽ حال۔۔۔۔













29/08/2022

پاڻي نيڪالي لا ٽيم ـ ڳوٺاڻا پريشان نا ٿيو تمام جلد پاڻي نيڪال ٿيندو۔۔۔













سيپٽيمبر 2010 جي مھاٻوڏ دوران ھاليووڊ جي مشهور اداڪارہ انجلينا جولي  اقوام ِ مُتحدہ جي سفير جي حيثيت سان پاڪستان جو دؤرو...
27/08/2022

سيپٽيمبر 2010 جي مھاٻوڏ دوران ھاليووڊ جي مشهور اداڪارہ انجلينا جولي اقوام ِ مُتحدہ جي سفير جي حيثيت سان پاڪستان جو دؤرو ڪري واپس وڃي اقوام متحده کي رپورٽ پيش ڪئي، جنھن ۾ چند اِھي ڳالھيون به ڄاڻايل ھيون.
مون کي اهو ڏسي انتھائي ڏک ٿيو تہ حاڪم ۽ بااثر مون سان ملڻ جي لاءِ قطار ۾ بيٺل ٻوڏ متاثرن کي پوئتي ڌڪيندا رهيا.
مونکي اهو ڏسي ڏاڍي تڪلیف ٿي تہ وزیراعظم خواھش ڪئي ۽ زور ڀريو تہ سندس گهر وارن سان ملان جيڪي مون سان ملڻ لاء بيچین آھن مُنھنجي انڪار تي هن جي فیملي مون سان ملڻ ملتان مان خاص جھاز ذريعي اسلام آباد پھتي ۽ مونکي قیمتي تحفا ڏنا.
وزیراعظم ۽ هن جي فیملي قسمين قسمين طعامن سان منھنجي دعوت ڪئي . ميز تي لڳل لامحدود طعام ڏسي ڏک ٿيو تہ هي طعام انھن سوين ماڻھن لاءِ ڪافي هئا جيڪي رڳو اٽي جي هڪ ٿيلھيءَ ۽ پاڻيءَ جي ننڍي بوتل جي لاءِ هڪٻئي کي ڌڪا ڏئي اسان جي ٽيم کان حاصل ڪرڻ جا خواھشمند هئا.
»مونکي حیرت ٿي تہ هڪ پاسي بک، غربت ۽ بدحالي هئي ۽ ٻئي پاسي وزیر اعظم هاﺅس ۽ ڪيترن ئي سرڪاري عمارتن جو شان ، ٺٺ ۽ ٺاھ ٺوھ ۽ حڪمرانن جون عیاشیون اسان جي اولھ ملڪن کي بہ حیران ڪري ڇڏڻ لاءِ ڪافي آھن.
انجلینا جولي اقوامِ متحدہ کي مشورو ڏنو تہ پاڪستان تي زور ڀريو وڃي تہ امداد گهرڻ کان پھرين شاھي پروٽوڪول، عیاشیون ۽ فضول خرچيون ختم ڪري...
(دوري دوارن انجلینا جولي پاڪستان ۾ فوٽو سیشن ۽ میڊیا کان پري رهڻ پسند ڪيو هو).

(نوٽ:- اھا پوسٽ 12 سال پُراڻي آھي پر حالتون ساڳيون آهن)

کسی بادشاہ کا گزر اپنی سلطنت کے  ایک ایسے علاقے سے ہوا۔ جہاں کے لوگ سیدھا نہر سے  ہی پانی لیکر پیتے تھے۔بادشاہ نے حکم دی...
10/08/2022

کسی بادشاہ کا گزر اپنی سلطنت کے ایک ایسے علاقے سے ہوا۔ جہاں کے لوگ سیدھا نہر سے ہی پانی لیکر پیتے تھے۔
بادشاہ نے حکم دیا: عوام الناس کی سہولت کیلیئے یہاں ایک گھڑا بھر کر رکھ دیا جائے تو زیادہ بہتر رہے گا اور ہر چھوٹا بڑا سہولت کے ساتھ پانی پی سکے گا۔
بادشاہ یہ کہتے ہوئے اپنی باقی کے سفر پر آگے کی طرف بڑھ گیا۔

شاہی حکم پر ایک گھڑاخرید کر نہر کے کنارے رکھاجانے لگا تو ایک اہلکار نے مشورہ دیا:
"یہ گھڑا عوامی دولت سے خرید کر شاہی حکم پر یہاں نصب کیا جا رہا ہے۔ ضروری ہے کہ اس کی حفاظت کا بندوبست کیا جائے اور ایک سنتری کو چوکیداری کیلیئے مقرر کیا جائے۔"

سنتری کی تعیناتی کا حکم ملنے پر یہ قباحت بھی سامنے آئی کہ گھڑا بھر نے کیلیئے کسی ماشکی کا ہونا بھی ضروری ہے۔ اور ہفتے کے ساتوں دن صرف ایک ماشکی یا ایک سنتری کو نہیں پابند کیا جا سکتا، بہتر ہوگا کہ سات سنتری اور سات ہی ماشکی ملازم رکھے جائیں تاکہ باری باری کے ساتھ بلا تعطل یہ کام چلتا رہے۔

ایک اور محنتی اہلکار نے رائے دی: نہر سے گھڑا بھرا ہوا اٹھا کر لانا نہ تو ماشکی کا کام بنتا ہے اور نہ ہی سنتری کا۔ اس محنت طلب کام کیلیئے سات باربردار بھی رکھے جانے چاہیئں جو باری باری روزانہ بھرے ہوئے گھڑے کو احتیاط سے اٹھا کر لائیں اور اچھے طریقے سے ڈھکنا لگا کر بند کر کے رکھیں۔

ایک اور دور اندیش مصاحب نے مشورہ دیا: اتنے لوگوں کو رکھ کر کام کو منظم طریقے سے چلانے کیلیئے ان سب اہلکاروں کا حساب کتاب اور تنخواہوں کا نظام چلانے کیلیئے محاسب رکھنے ضروری ہونگے، اکاؤنٹنگ کا ادارہ بنانا ہوگا، اکاؤنٹنٹ متعین کرنا ہونگے۔

ایک اور ذو فہم و فراست اہلکار نے مشورہ دیا: یہ اسی صورت میں ہی یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ ہر کام اچھے طریقے سے چل رہا ہے تو ان سارے ماشکیوں، سنتریوں اور باربرداروں سے بہتر طریقے سے کام لینے کیلیئے ایک ذاتی معاملات کا ایک شعبہ قائم کرنا پڑے گا۔

ایک اور مشورہ آیا کہ یہ سب کچھ ٹھیک ہو رہا ہے مگر ملازمین کے درمیان میں لڑائی جھگڑا یا کوئی زیادتی ہو جاتی ہے تو ان کا تصفیہ اور ان کے درمیان میں صلح صفائی کون کرائے گا؟
تاکہ کام بلاتعطل چلا رہے، اس لیئے میری رائے میں خلاف ورزی کرنے والوں اور اختلاف کرنے والوں کی تفتیش کے لیے ایک قانونی امور کا محکمہ قائم کیا جانا چاہیے۔

ان سارے محکموں کی انشاء کے بعد ایک صاحب کا یہ مشورہ آیا: اس سارے انتظام پر کوئی ہیڈ بھی مقرر ہونا چاہیئے۔ ایک ڈائریکٹر بھی تعیینات کر دیا گیا۔

سال کے بعد حسب روایت بادشاہ کا اپنی رعایا کے دورے کے دوران اس مقام سے گزر ہوا تو اس نے دیکھا کہ نہرکے کنارے کئی کنال رقبے پر ایک عظیم الشان عمارت کا وجود آ چکا ہے جس پر لگی ہوئی روشنیاں دور سے نظر آتی ہیں اور عمارت کا دبدبہ آنکھوں کو خیرہ کررہاھے۔ عمارت کی پیشانی پر نمایاں کر کے "وزارت انتظامی امور برائے گھڑا" کا بورڈ لگا ہوا ہے۔

بادشاہ اپنے مصاحبین کے ساتھ اندر داخل ہوا تو اندر ایک علیحدہ ہی جہان پایا۔ عمارت میں کئی کمرے، میٹنگ رومز اور دفاتر قائم تھے۔ ایک بڑے سے دفتر میں، آرام کرسی پر عظیم الشان چوبی میز کے پیچھے سرمئی بالوں والا ایک پر وقار معزز شخص بیٹھا ہوا تھا۔ جس کے سامنے تختی پر اس کے القابات "پروفیسر ڈاکٹر دو جنگوں کا فاتح فلان بن فلان ڈائریکٹر جنرل برائے معاملات سرکاری گھڑا" لکھا ہوا تھا۔

بادشاہ نے حیرت کے ساتھ اپنے وزیر سے اس عمارت کا سبب پوچھا؟
اور ساتھ ہی اس عجیب و غریب محکمہ کے بارے میں پوچھا جس کا اس نے اپنی زندگی میں کبھی نام بھی نہیں سنا تھا۔

بادشاہ کے وزیر نے جواب دیا: حضور والا! یہ سب کچھ آپ ہی کے حکم پر ہی تو ہوا ہے جو آپ نے پچھلے سال عوام الناس کی فلاح اور آسانی کیلیئے یہاں پر گھڑا نصب کرنے کا حکم دیا تھا۔

بادشاہ عمارت سے باہر نکل کر مزید ورتہ حیرت میں کھو کر اس گھڑے کو دیکھنے لگا، جس کو لگانے کا اس نے حکم دیا تھا۔ بادشاہ نے دیکھا "گھڑا نہ صرف خالی اور ٹوٹا ہوا ہے بلکہ اس کے اندر ایک مرا ہوا پرندہ بھی پڑا ہوا ہے۔ گھڑے کے اطراف میں بیشمار لوگ آرام کرتے اور سوئے پڑے ہیں اور سامنے ایک بڑا بورڈ لگا ہوا ہے:

"گھڑے کی مرمت اور بحالی کیلیئے اپنے عطیات یہاں جمع کرائیں۔ منجانب وزارت انتظامی امور برائے گھڑا"

میرے مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حالیہ کہانی بھی بالکل ایسی ہی ھے۔
"وزارت عظمی، وفاقی وزراء، صوبائی وزراء، پرسنل سیکرٹریرز، مشیران، عہدے داران، پروٹوکول اور کام صفر"0" 0/0۔








01/08/2022
ھڪ پاسي نا اهل خان ۽ بى پاسى سڪيلڌا امير بار (pdm) جيڪي هڪ ارب رپيا خرڇ ڪندا آزادي واري ڏينهن لا۽ ۔۔۔۔۔۔۔۽ ٻئ طرف عوام ب...
01/08/2022

ھڪ پاسي نا اهل خان ۽ بى پاسى سڪيلڌا امير بار (pdm) جيڪي هڪ ارب رپيا خرڇ ڪندا آزادي واري ڏينهن لا۽ ۔۔۔۔۔۔۔
۽ ٻئ طرف عوام بک ۽ بدحالي واري دور۽ مان گزري پئ۔

🤓🤓
23/07/2022

🤓🤓

22/07/2022

دلیپ کمار کہتے ہیں "اپنے کیرئیر کے عروج پر ایک بار میں جہاز سے سفر کر رہا تھا. میرے ساتھ والی سیٹ پر ایک بڑی عمر کا بندہ بیٹھا تھا جس نے سادہ سی شرٹ اور پینٹ پہن رکھی تھی اور حلیے سے ہی مڈل کلاس پر اچھا پڑھا لکھا شخص لگ رہا تھا. دوسرے مسافر تو شاید مجھے پہچان رہے تھے پر اس بندے کو تو جیسے میری موجودگی سے کوئی سروکار ہی نہیں تھا. وہ اخبار پڑھ رہا تھا کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا اور جب چائے پیش کی گئی تو خاموشی سے اسکی چسکیاں لینے لگا. اس سے گفتگو کی کوشش میں میں نے اس کی طرف مسکرا کر دیکھا اس شخص نے بھی ازروئے مہربانی واپسی مسکراہٹ دکھائی اور مجھے ہیلو کہا. ہماری گفتگو شروع ہو گئی اور میں نے موضوع سینما اور فلم کی طرف موڑ دیا اور اس سے پوچھا 'آپ فلمیں دیکھتے ہیں؟ '
اس شخص نے جواب دیا 'اوہ بہت کم. کئی سال پہلے ایک فلم دیکھی تھی. '
میں نے بتایا کہ میں فلم انڈسٹری میں کام کرتا ہوں.
وہ شخص جواباً بولا 'اوہ بہت خوب. آپ کیا کرتے ہو؟ '
'میں اداکار ہوں ' میں نے جواب دیا.
اس شخص نے سر ہلایا 'واہ یہ تو زبردست ہے' اور بس گفتگو ختم ہو گئی.
جب ہم لینڈ کر گئے تو میں نے ہاتھ بڑھا کر اس سے مصافحہ کرتے ہوئے کہا 'آپ کے ساتھ سفر کرنا اچھا لگا. ویسے میرا نام دلیپ کمار ہے '
اس شخص نے مجھ سے مصافحہ کیا اور مسکرایا' آپکا شکریہ. آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی. میں جے آر ڈی ٹاٹا ہوں..... ٹاٹا گروپ آف کمپنیز کا چیرمین..... "
دلیپ کمار کہتے ہیں اس دن میں نے جانا
"No matter how big you think you are, there is always someone bigger."
"Be humble, it costs nothing."
( یہ بات کوئی معنی نہیں رکھتی کہ آپ خود کو کتنا بڑا سمجھتے ہیں، کوئی نہ کوئی ہمیشہ آپ سے بڑا ہی ہوگا۔لہٰذا عاجز رہیں جسمیں کوئی لاگت نہیں آتی)

دیدہ وروں کــے شہر مـیـں ہر ایک پستہ قد
پنجوں کے بل کھڑا ہے کہ اونچا دکھائی دے.

Address

Vilage Haji Soomar
Ghotki
65110

Opening Hours

Monday 09:00 - 15:00
Tuesday 09:00 - 15:00
Wednesday 09:00 - 15:00
Thursday 09:00 - 15:00
Saturday 09:00 - 15:00

Telephone

+923012890389

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Engr. Muhammad Amin posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category