Livestock & dairy Development Ghizer

Livestock & dairy Development Ghizer عوام الناس کیلئے وقتاً فوقتاً گورنمنٹ کی طرف سے کیئے جا

25/03/2026Vaccination is a simple low-cost tool that prevents major disease and improve overall livestock productivity. ...
27/03/2026

25/03/2026

Vaccination is a simple low-cost tool that prevents major disease and improve overall livestock productivity.

The livestock department Ghizer is actively conducting vaccination against black quarter in large animals and Newcastle disease in poultry in Yasin Valley Ghizer.

اظہار دلچسپی محکمہ لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ گلگت بلتستان مال مویشی کی بڑھوتری اور افزائش نسل کے لئے گلگت بلتستان کے...
11/02/2026

اظہار دلچسپی
محکمہ لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ گلگت بلتستان مال
مویشی کی بڑھوتری اور افزائش نسل کے لئے گلگت بلتستان کے دلچسپی رکھنے والے کسانوں کے لیے 50 فیصد سبسڈی کے تحت بچھڑیاں ، بکریاں، بھیڑ یں اور مرغیاں فراہم کی جائیں گی۔
دلچسپی رکھنے والے خواتین و حضرات قومی شناختی
کارڈ کی کاپی کے ساتھ درخواست پر فعال رابطہ نمبر لکھ کر 20فروری 2026 تک ڈپٹی ڈائریکٹر آفس، قریبی ویٹرنری ہسپتال یا ویٹرنری ڈسپنسری میں درخواست جمع کروا سکتے ہیں۔

Chatorkhand : Immunization of Goats against Enterotoxemia ET and PPR Peste des Petits Ruminants Disease in Chatorkhand v...
18/11/2025

Chatorkhand : Immunization of Goats against Enterotoxemia ET and PPR Peste des Petits Ruminants Disease in Chatorkhand valley Ishkoman.
17/11/2025

Tehsil Phander : Immunization of Goats against Enterotoxemia ET Disease in Phander valley.17/11/2025
18/11/2025

Tehsil Phander : Immunization of Goats against Enterotoxemia ET Disease in Phander valley.
17/11/2025

جشن آزادی گلگت بلتستان مبارک ۔
01/11/2025

جشن آزادی گلگت بلتستان مبارک ۔

28/10/2025The Livestock Department relaunched its door-to-door vaccination and treatment campaign in the flood-affected ...
30/10/2025

28/10/2025
The Livestock Department relaunched its door-to-door vaccination and treatment campaign in the flood-affected areas of Dian Ishkoman under the leadership of Mr. Mohiuddin In-charge of the Veterinary Dispensary Chatorkhand, and his dedicated team. Given the local community's reliance on livestock and agriculture for their livelihood, the department remains committed to protecting animals from deadly diseases through timely vaccination and treatment services.

Special acknowledgment is extended to GBRSP and the Pakistan Poverty Alleviation Fund (PPAF) for their invaluable support and collaboration in this ongoing relief effort. The entire activity is being monitored by Dr. Fareed Ahmed, Deputy Director Livestock Ghizer.

‏منہ کھر (FMD) — وہ بیماری جس نے پاکستان کی دیہی معیشت کو زنجیر میں جکڑ رکھا ہےتحریر: ڈاکٹر علمدار حسین ملکپاکستان کی لا...
26/10/2025

‏منہ کھر (FMD) —

وہ بیماری جس نے پاکستان کی دیہی معیشت کو زنجیر میں جکڑ رکھا ہے

تحریر: ڈاکٹر علمدار حسین ملک

پاکستان کی لائیوسٹاک معیشت گزشتہ کئی دہائیوں سے ایک ایسی بیماری کے شکنجے میں پھنسی ہوئی ہے جسے دنیا کے بیشتر ممالک نے برسوں پہلے ختم کر دیا۔ یہ بیماری — منہ کھر (FMD) — صرف مویشیوں کی نہیں بلکہ پاکستان کی زرعی معیشت، دودھ اور گوشت کی صنعت، برآمدات اور دیہی روزگار کی ریڑھ کی ہڈی پر کاری ضرب ہے۔ تخمینوں کے مطابق اس بیماری کے باعث پاکستان کو ہر سال دو کھرب روپے سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے، لیکن اس کے باوجود وفاقی اور صوبائی لائیوسٹاک محکمے خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ سات دہائیوں میں ایک بھی مقامی ویکسین پلانٹ نہ بن سکا — یہ صرف نااہلی نہیں بلکہ قومی مجرمانہ غفلت ہے۔

پاکستان میں FMD کی تاریخ پچھلے صدی کے وسط سے جانی جاتی ہے۔ یہ بیماری ملک کے تقریباً تمام صوبوں میں پائی جاتی ہے اور ہر سال ہر موسم میں اس کے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں۔ پنجاب، سندھ، اور خیبر پختونخوا میں بارش کے موسم میں بیماری کے پھیلاؤ کی شرح زیادہ ہوتی ہے، جبکہ بلوچستان میں کم لیکن شدید اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ FMD کی وجہ سے مویشی کی افزائش میں کمی آتی ہے، دودھ کی پیداوار میں کمی اور گوشت کی مارکیٹ میں کمی واقع ہوتی ہے، اور کسانوں کی مالی مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔ چھوٹے فارم اور دیہی علاقوں کے مویشی مالکان اس بیماری کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس حفاظتی اقدامات اور ویکسین کی رسائی محدود ہے۔

پاکستان کے صوبوں میں FMD کے کنٹرول کی صورتِ حال مختلف ہے۔ پنجاب میں مویشیوں کی سب سے بڑی آبادی اور بعض اضلاع میں محدود ویکسینیشن پروگرام کی وجہ سے کچھ حد تک اقدامات موجود ہیں، مگر مجموعی طور پر یہ بھی ناکافی ہے۔ سندھ میں بیماری کا پھیلاؤ چھوٹے فارم اور نیم شہری علاقوں میں زیادہ ہے، اور ویکسین کی محدود فراہمی کی وجہ سے مؤثر کنٹرول ممکن نہیں۔ خیبر پختونخوا میں ویکسین کی دستیابی محدود ہے اور نگرانی کے نظام کی کمی کے باعث کیسز اکثر رپورٹ نہیں ہوتے۔ بلوچستان میں مویشیوں کی آبادی کم ہے لیکن جانور آزادانہ گھومتے ہیں، جس سے بیماری کبھی کبھار شدید اثر ڈالتی ہے، جبکہ ویکسینیشن اور ادارہ جاتی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان کے کسی بھی صوبے میں مرض پر مکمل قابو نہیں پایا گیا اور قومی سطح پر مربوط پروگرام کی ضرورت غیر متنازعہ ہے۔

دنیا بھر میں منہ کھر کی تاریخ 19ویں صدی کے اواخر تک جاتی ہے، جب پہلی بار یورپ میں بڑے پیمانے پر اس بیماری کی نشاندہی ہوئی۔ امریکہ اور یورپی ممالک نے اس وبا پر قابو پانے کے لیے متاثرہ جانوروں کو ختم کر کے مکمل معاوضہ ادا کیا، جس سے بیماری چند برسوں میں جڑ سے مٹ گئی۔ بھارت نے 1982 میں اپنے نیشنل ڈیری ڈیولپمنٹ بورڈ کے تحت انڈین امیونولوجیکل لمیٹڈ (Indian Immunologicals Ltd.) کے نام سے پہلا FMD ویکسین پلانٹ قائم کیا۔ آج بھارت سالانہ 450 ملین خوراکیں تیار کر رہا ہے۔ ترکی نے 2010 میں اپنا پلانٹ قائم کیا جو سالانہ 300 ملین خوراکیں تیار کر رہا ہے، ایران 2012 سے 200 ملین اور چین سالانہ ایک ارب خوراکوں سے زائد پیدا کر رہا ہے۔ یہ ممالک بیماری پر قابو پانے کے لیے تحقیق، نگرانی اور ویکسین کی مسلسل بہتری میں سرمایہ کاری کر کے کامیاب ہوئے۔

پاکستان میں سالانہ تقریباً 300 ملین خوراکوں کی ضرورت ہے تاکہ کم از کم 75 فیصد جانور ویکسین لگوا سکیں، مگر دستیاب ویکسینیشن کی شرح صرف پانچ فیصد کے لگ بھگ ہے۔ وفاقی اور صوبائی محکمے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال رہے ہیں، اور قومی سطح پر کوئی ایسا نظام موجود نہیں جو بیماری کی درست نگرانی، رپورٹنگ یا ویکسینیشن کے اثرات کا تجزیہ کر سکے۔ پاکستان کے ویٹرنری ادارے اور ریسرچ سنٹرز — جو کسی زمانے میں جنوبی ایشیا میں علم و تحقیق کے مراکز سمجھے جاتے تھے — آج صرف نوکریوں کے دفاتر بن چکے ہیں۔ نہ تحقیق کو پالیسی میں شامل کیا گیا، نہ پالیسی کو عملی جامہ پہنایا گیا۔

پاکستان نے دیگر ممالک سے سبق کیوں نہیں سیکھا؟ بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں: پالیسی کی غیر سنجیدگی اور غفلت، ادارہ جاتی کمزوری، وفاقی اور صوبائی محکموں میں عدم تعاون، مالی وسائل کی کمی، نگرانی کے نظام کی ناکامی، اور صوبوں کے درمیان سیاسی اور انتظامی کشمکش۔ بھارت، چین، ترکی اور ایران نے اپنی بیماری کے کنٹرول کو قومی ترجیح بنایا، مستقل ویکسین پلانٹ قائم کیے، تحقیق اور نگرانی میں سرمایہ کاری کی، اور بیماری کو مکمل قابو میں لایا۔ پاکستان میں یہ اقدامات کبھی مستقل بنیادوں پر عملی نہیں ہوئے، جس کی وجہ سے ہم مسلسل پیچھے رہ گئے۔

FMD

A one-day complimentary vaccination, treatment, and deworming camp was organized by the Livestock Department Ghizer in t...
26/10/2025

A one-day complimentary vaccination, treatment, and deworming camp was organized by the Livestock Department Ghizer in the flood-affected area of Gout, Ghizer. The community, largely dependent on livestock and agriculture for their livelihood, expressed gratitude to the Livestock Department Ghizer, Gilgit-Baltistan Rural Support Programme (GBRSP), and the Pakistan Poverty Alleviation Fund (PPAF) for their valuable support.

Livestock Department under the supervision of DD Livestock Ghizer Dr. Fareed ahmad conducted a one-day vaccination and t...
25/10/2025

Livestock Department under the supervision of DD Livestock Ghizer Dr. Fareed ahmad conducted a one-day vaccination and treatment camp in the flood-affected area of Chatorkhand Ishkoman and Rawshon Gupis with the support of GIlgit baltistan Rural supports programme in collaboration with livestock Department Ghizer District with financial assistance of Pakistan Poverty Alleviation Fund (PPAF) under its project Emergency Relief to Flood Affected villages of District Ghzer. The activity will continue until Oct 30th,2025. The nominated staff of the Livestock department will continue vaccination and deworming on a daily basis until 30 Oct. The community volunteers and activisit will also extend their support to accomplish the activity.

The team initiated Pox and Enterotoxemia vaccinations for sheep and goats.
The campaign will continue until the last animal returns from pasture, ensuring complete coverage. Field staff are providing door-to-door vaccination and treatment services for sheep, goats, and poultry, bringing veterinary care to farmers’ doorsteps.
Farmers may contact the Veterinary Dispensary Chatorkhand, Gupis for assistance and further guidance.

A free veterinary camp has been organized by the Livestock Department Ghizer in Rawshan/Hakis valley for flood victims.3...
30/08/2025

A free veterinary camp has been organized by the Livestock Department Ghizer in Rawshan/Hakis valley for flood victims.
30/08/2025

A free veterinary camp was organized in the flood-affected village of Ishkoman Dain.  Treatment was provided for animals...
26/08/2025

A free veterinary camp was organized in the flood-affected village of Ishkoman Dain.

Treatment was provided for animals injured during the flood, and medicines were supplied for sick animals.

Livestock Assistant Mohiuddin is going door-to-door in Ishkoman Dain village to offer services to the affected..
25/08/2025

In light of the orders of the Deputy Director of the Livestock & dairy development Department District Ghizer, the staff...
18/08/2025

In light of the orders of the Deputy Director of the Livestock & dairy development Department District Ghizer, the staff is present in the affected areas of Ishkoman, Yasin and Khalti to assess the damages caused by the flood.

In view of this emergency situation, all staff are on high alert and stand with the public in this difficult time.

Address

Ghizar

Telephone

+923555490749

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Livestock & dairy Development Ghizer posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share