آو دین سیکھے

آو دین سیکھے Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from آو دین سیکھے, Library, Faisalabad.

اپ ادھر ہم سے ہر قسم کا سوال دین کے متعلق پوچھ سکتے ہیں
اور ہم اس کا اپ کو صحیح جواب قران و حدیث کی روشنی میں بتائیں گے
اور باقاعدہ اپنے پیج پر اس سوال کی پوسٹ بھی لگائیں گے

*9 صفر المظفر یومِ شہادت صحابی رسول کریم ﷺ ،شہیدِ صفین,جانثارِ مولا علی ؑحضرت  عمار بن یاسر ؓ !!!* اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ ...
26/07/2026

*9 صفر المظفر یومِ شہادت صحابی رسول کریم ﷺ ،شہیدِ صفین,جانثارِ مولا علی ؑحضرت عمار بن یاسر ؓ !!!*

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا عمّار بن یاسر ؓ💖

🔵سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما السابقون الاولون (اولین مہاجرین) صحابہ کرام رض میں سے تھے۔

🟠 آپؓ ان غریب صحابہ کرام رض میں سے تھے جنھیں اسلام کے ابتدائی دنوں میں دردناک اذیتیں پہنچائی گئیں۔

سیدنا عمار بن یاسر ؓ فرماتے ہیں:

’’(جب میں نے اسلام قبول کیا تو) میں نے رسول اللہ ﷺ کو (اس حالت میں) دیکھا کہ آپ ﷺ کے ساتھ (ایمان لانے والے) صرف (آٹھ اشخاص تھے یعنی) پانچ غلام، دو عورتیں اور (امیر المومنین سیدنا) ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے۔‘‘

(صحیح بخاری-3857)

👈 آپؓ غزوہ بدر سے لے کر بعد والے تمام غزوات میں شامل رہے۔

👈 آپؓ کے والد سیدنا یاسر ،سیدہ والدہ سمیہ اور بھائی سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنھم اسلام کے سب سے پہلے شہیدوں میں سے ہیں۔

👈آپؓ حبشہ کو ہجرت کرنے والوں کے سربراہ تھے۔

👈آپؓ جنگِ بدر اور دیگر جنگوں میں شریک تھے اور صلح حدیبیہ میں بھی شامل تھے۔

👈آپؓ ام المؤمنین امِ سلمیٰ سلام اللہ علیھا کے رضاعی بھائی تھے اور اس لحاظ سے خال المؤمنین (امت کے ماموں) بھی ہیں ۔

👈آپؓ کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :

📘 *ترجمہ* : "مجھے نہیں معلوم کہ میں تمہارے درمیان کتنی دیر رہوں گا؛ چنانچہ تم میرے بعد ان لوگوں کی اقتدا کرنا ؛آپ نے ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنھما کی جانب اشارہ فرمایا ، اور عمار ؓ کے رستے کو اپنانا۔

(جامع ترمذی-3799)

👈آپؓ کی شہادت کی پیشنگوئی اللہ کے نبی کریم ﷺ نے پہلے ہی دے دی تھی اور آپکی شہادت سے دو گرہوں (برحق اور باغی) کی پہچان ہوئی ۔

احادیثِ مبارکہ ملاحظہ ہوں ،

📕 *ترجمہ* : ابو سعید خدری رضی اللّٰہ عنہ نے بیان فرمایا کہ ہم مسجد نبوی کی اینٹیں ( ہجرت نبوی کے بعد تعمیر مسجد کیلئے ) ایک ایک کر کے ڈھو رہے تھے لیکن حضرت امیر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ دو دو اینٹیں لا رہے تھے ‘ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ادھر سے گزرے اور ان کے سر سے غبار کو صاف کیا پھر فرمایا: "وائے عمار
(افسوس عمار) ! تمہیں ایک باغی جماعت قتل کریگی، عمار رضی اللہ عنہ انھیں اللہ کی طرف بلائے گا، اور وہ عمار کو جہنم کی طرف بلاتے ہونگے"

(صحیح بخاری-2812)

📙 *ترجمہ* : "عمار کو قتل کرنے والا اور اس کا سامان چھیننے والا جہنمی ہے"

(مسند احمد-1776)

🔻 *وضاحت*

آپؓ کی شہادت امیر المومنین علیؑ کرم اللہ وجھہ کے دورِ خلافت میں 37ھ میں جنگِ صفین میں ہوئی جس میں آپؓ خلیفہ برحق امیر المؤمنین سیدنا و مولانا علیؑ بن ابی طالب کی طرف سے امیر معاویہ بن ابی سفیان رض کی سربراہی والے باغی گروہ کے خلاف جہاد میں شریک تھے اور باغی گروہ سے قتال کرتے ہوئے آپ نے 93 سال کی عمر میں شہادت کا عظیم مرتبہ پایا۔

🔴ثقہ تابعی ابراھیم بن عبد الرحمٰن بن عوف رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:

📔 *ترجمہ* : ’’میں نے سیدنا عمار بن یاسر ؓ کو جنگِ صفین کے دن، جس دن آپ کی شہادت واقع ہوئی تھی، یہ پکارتے سنا: آج جنت (میرے) قریب کر دی گئی ہے اور موٹی آنکھوں والی حوروں سے (میرا) نکاح کر دیا گیا ہے۔ آج کے دن ہم اپنے (سب سے زیادہ) محبوب محمد ﷺ سے ملاقات کرنے والے ہیں، انھوں نے مجھے پختہ خبر دی تھی کہ دنیا میں میرا آخری کھانا پانی ملا دودھ ہو گا۔‘‘

(مستدرک حاکم: 3/ 439 ح 5668)

🟢 *فضائلِ عمار بن یاسر ؓ !!!*

📍نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "عمار کی زبان کو اللہ نے شیطان سے محفوظ فرما دیا ہے ".

(صحیح بخاری -3743)

📍رسول اللہ ﷺ نے آپ کو ’’ *الطیب المطیب* ‘‘ یعنی ’’پاکیزہ اور پاک کیا ہوا‘‘ کے لقب سے نوازا۔

(سنن ابن ماجہ-146)

📍نبی کریم ﷺ نے فرمایا،" اللہ تعالیٰ نے عمار کو سر سے لیکر پاؤں تک ایمان سے بھر دیا ہے،عمار کے خون اور گوشت میں ایمان سرایت کر چکا ہے"۔

(سنن نسائی -5010، تاریخ ابن عساکر ج 43،ص 393)

📍نبی کریم‌ﷺ نے فرمایا عمار کو جب بھی دو معاملوں میں اختیار دیا گیا انہوں نے ہمیشہ بہترین کا انتخاب کیا۔

(السلسلۃ الصحیحہ-3567)

*یارِ حیدرِ کرار ؓ عمار بن یاسر ؓ کی عظمت پر کروڑوں سلام !!!*

فِداۓ سیدِ ابرار ہیں عمار بن یاسر ؓ
رسول پاکؐ کا شہکار ہیں عمار بن یاسر ؓ
شہادت کی جِنہیں تھی مُصطفیٰؐ نے خُود بشارت دی
فِداۓ حیدرِ کرار ؓ ہیں عمار بن یاسر ؓ
Nasr ur Rehman✍️

💙💜💙💜💙💜💙💜💙💜❄❄❄❄❄❄❄❄❄❄        ⛲ *بسم الله الرحمن الرحيم* ⛲               🇵🇰   *آج کا کیلنڈر*  🌤🔖 *06 صفر             1448ھ...
21/07/2026

💙💜💙💜💙💜💙💜💙💜
❄❄❄❄❄❄❄❄❄❄

⛲ *بسم الله الرحمن الرحيم* ⛲

🇵🇰 *آج کا کیلنڈر* 🌤

🔖 *06 صفر 1448ھ* 💎
🔖 *21 جولائی 2026ء* 💎
🔖 *06 ساون 2083ب* 💎

🌄 *بروز منگل Tuesday* 🌄

🍁 *عیب پوشی کی فضیلت!*
🔹 *رسولﷺ نے فرمایا:’’دنیا میں کوئی بندہ کسی (دوسرے) بندے کا عیب نہیں چھپاتا مگر قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اس کے عیب چھپا لے گا۔*🔹
📗«صحیح مسلم-6595»


❄❄❄❄❄❄❄❄❄❄
💜💙💜💙💜💙💜💙💜💙

20/07/2026
20/07/2026

*ماہِ صَفَر (Safar)*

📌 اسلامی تقویم کا دوسرا مہینہ

*رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :*

یہ سب لغو خیالات ہیں / ان سب کی کوئی حقیقت (اصل) نہیں ؛

*1۔ عَدْوَى / Ádwā / چھوت (بیماری کا خود بخود متعدی ہونا)*
مرض کا کسی دوسرے کو چمٹنا - کسی سے کوئی مرض خود بخود نہیں چمٹتا [اس پر ایک اعرابی بولا کہ یا رسول اللہ ! پھر میرے اونٹوں کو کیا ہو گیا کہ وہ جب تک ریگستان میں رہتے ہیں تو ہرنوں کی طرح ( صاف اور خوب چکنے ) رہتے ہیں پھر ان میں ایک خارش والا اونٹ آ جاتا ہے اور ان میں گھس کر انہیں بھی خارش لگا جاتا ہے تو آنحضرت ﷺ نے اس پر فرمایا لیکن یہ بتاؤ کہ پہلے اونٹ کو کس نے خارش لگائی تھی ؟]

*2۔ صَفَر / Safar (مہینہ، جسے عرب منحوس سمجھتے تھے)*
امام مالک رحمہ اللہ نے کہا : دور جاہلیت میں لوگ (خاص طور پر عمرہ کے سفر کے لیے) ماہ صفر کو ایک سال حلال قرار دے لیتے تھے اور ایک سال حرام ‘ تو نبی ﷺ نے فرمایا :’’ صفر میں تبدیلی صحیح نہیں ۔‘‘

*3۔ غُول / Ghūl / بھوت پریت (گمراہ کرنے والی خیالی مخلوق)*
ابوزبیر نے کہا : یہ غول ( وہی ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے ) جو رنگ بدلتا ہے ( اور مسافروں کو راستے سے بھٹکا کر مار ڈالتا ہے ۔ )

*4۔ طِيَرَہ / Tiyarah / بدشگونی (بد فالی)*
’’ بدشگونی کی کوئی حقیقت نہیں اور شگون میں سے اچھی نیک فال ہے ۔‘‘ عرض کی گئی : اللہ کے رسول ! فال کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ( فال ) نیک کلمہ ہے جو تم میں سے کوئی شخص سنتا ہے / حوصلہ افزائی کا اچھا کلمہ پاکیزہ بات مجھے اچھی لگتی ہے ۔‘‘

*5۔ هَامَہ / Hāmah (اُلو کے متعلق باطل عقیدہ)*
مقتول کی کھوپڑی سے الو کا نکلنا - محمد بن راشد نے هامہ کی وضاحت میں کہا : اہل جاہلیت سمجھتے تھے کہ مردہ جب دفن کیا جاتا ہے تو اس کی قبر سے ایک الو نکلتا ہے ۔ جناب عطاء رحمہ اللہ نے بیان کیا : لوگ سمجھتے ہیں یہ پرندہ انسانی روح ہوتا ہے جو چیختا چلاتا رہتا ہے ۔ حالانکہ ، انسانی روح نہیں ہوتا بلکہ کوئی زمینی جانور ہے ۔

*6۔ نَوْءَ / 'Naw (ستارے کی تاثیر کے متعلق باطل عقیدہ)*
ستارے کے غائب ہونے اور طلوع ہونے سے بارش برسنا - کسی ستارے کی کوئی تاثیر

📌 الْمَجْذُوم / Leprosy Person / جذامی شخص سے ایسے بھاگتا رہ جیسا کہ شیر سے بھاگتا ہے ۔

*(صحیح البخاری 5707، 5717، 5757، 5770 — صحیح مسلم انٹرنیشنل 2220، 2222، 2223، 2224 — ترمذی 2143 — داؤد 3911، 3912، 3914، 3916، 3918 — نسائی 2815 — ماجہ 3539 — مسند احمد 15169 — مشکوۃ 4580)*

19/07/2026

پیر خرم عرف لٹکن شاہ کے دعوں میں کتنی صداقت ہے؟

اس پروگرام میں بہت سے رازوں سے پردہ اٹھ گیا
پیر خرم (عرف لكن شاه) نے انجینئر محمد على مدار گیا مل گیا وجہ سامنے آگئی

اس معاملے کے اہم نکات اور پس منظر پر خصوصی

پروگرام

19/07/2026

Today

19/07/2026

💙💜💙💜💙💜💙💜💙💜
❄❄❄❄❄❄❄❄❄❄

⛲ *بسم الله الرحمن الرحيم* ⛲

🇵🇰 *آج کا کیلنڈر* 🌤

🔖 *04 صفر 1448ھ* 💎
🔖 *19 جولائی 2026ء* 💎
🔖 *04 ساون 2083ب* 💎

🌄 *بروز اتوار Sunday* 🌄

✨ *آخرت کی محرومی!*
🔹 *رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’جس شخص نے دنیا میں شراب پی وہ آخرت میں اس سے محروم رہے گا۔*🔹
📗«صحیح مسلم -5222»


❄❄❄❄❄❄❄❄❄❄
💜💙💜💙💜💙💜💙💜💙

Chapter
19/07/2026

Chapter

19/07/2026

*جس نے علمِ نجوم پر یقین رکھا اور ستاروں کے ذریعے قسمت معلوم کرنے کی کوشش کی اس نے اپنے رب سے کفر کیا !!!*

❓ *کہانت کسے کہتے ہیں ؟*

حدیثِ مبارکہ:

📕 *صحيح البخاري*
*کتاب: دوا اور علاج کے بیان میں*
46. *باب: کہانت کا بیان۔*
*حدیث نمبر:* 5761

*ترجمہ* : ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کتے کی قیمت، زنا کی اجرت اور کاہن کی کہانت کی وجہ سے ملنے والے ہدیہ سے منع فرمایا ہے۔

♦️ *شرح حدیث* :

▪️دین اسلام میں کہانت کا پیشہ حرام اور اس کی کمائی بھی ناجائز ہے۔ اسے کسی صورت میں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

▪️کہانت کی کئی قسمیں ہیں، جن میں حسب ذیل چار مشہور ہیں:

٭ شیاطین آسمانوں کی طرف چڑھتے اور فرشتوں کی گفتگو سے کچھ سن گن لیتے، پھر وہ کاہن کو بتاتے اور اس میں اپنی طرف سے اضافہ بھی کرتے، اسلام کے بعد یہ سلسلہ تقریباً ختم ہو گیا۔

٭ جن ایسے دوستوں کو ایسی خبریں بتاتے جو عام انسانوں سے غائب ہوتیں، یا قریب سے پتا چلتا، دور سے نہیں چلتا تھا، ایسی باتیں جنوں کے ذریعے سے معلوم کر کے انسانوں کو بتائی جاتیں۔

٭ محض گمان اور اٹکل پچو سے بات کی جاتی اور اتفاق سے کچھ صحیح نکل آتی، اس سے دوسروں کو شکار کیا جاتا تھا۔

٭ اپنے تجربے سے اندازہ لگایا جاتا اور یہ آخری قسم جادو سے ملتی جلتی ہے۔

اسلام نے ان تمام قسموں کو حرام قرار دیا ہے اور ان کی کمائی بھی ناجائز ہے۔
(فتح الباري: 267/10)

(هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5761)

❓ *علمِ نجوم سے کیا مراد ہے ؟*

▪️علمِ نجوم سے مُراد وہ علم ہے جس کے ذریعے سے غیب کی خبریں اور اوقات کے سعد، نحس یا اُمور کے مُفید یا غیر مُفید وغیرہ ہونے کی باتیں بتائی جاتی ہیں۔

▪️اس لیۓ شریعت نے اس کہانت سے لوگوں کو روکا اور اس پر سخت وعید بیان فرمائی۔

▪️تاہم اگر ستاروں کے ذریعے سے اوقات معلوم کئے جائیں یا راستے اور سمتیں متعین کی جائیں تو یہ بالا تفاق جائز ہے۔

(سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3905)

❓ *کاہن کسے کہتے ہیں ؟*

▪️کاہن اسے کہتے ہیں جو مستقبل کے واقعات کی پشین گوئی کرے اور غیب کی باتیں بتانے کا دعویٰ کرے۔

▪️اس میں نجومی، جوتشی، علم الاعداد، علم جعفر وغیرہ کے نام سے کام کرنے والے اور طوطے وغیرہ سے فال نکالنے والے سبھی شامل ہیں۔

▪️کاہن اور نجومی عوام کو دھوکا دے کر روزی کماتے ہیں، اس لیے ان کی کمائی حرام ہے۔

▪️ایسے لوگوں سے مستقبل کی باتیں پوچھنا حرام ہے کیونکہ وہ توحید کے منافی ہیں۔

(سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2159)

📖 *سنن نسائي*
*کتاب: بارش طلب کرنے کے احکام و مسائل*
16. *باب: ستاروں کی گردش پر پانی برسنے کا اعتقاد رکھنا جائز نہیں۔*
*حدیث نمبر:* 1526

*ترجمہ* : زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانے میں بارش ہوئی تو آپ نے فرمایا: ”کیا تم نے سنا نہیں کہ تمہارے رب نے آج رات کیا فرمایا؟ اس نے فرمایا: میں نے جب بھی بارش کی نعمت اپنے بندوں پر کی تو ان میں سے ایک گروہ اس کی وجہ سے کافر رہا، وہ کہتا رہا: فلاں و فلاں ستارے کے سبب ہم پر بارش ہوئی، تو رہا وہ شخص جو مجھ پر ایمان لایا، اور میرے بارش برسانے پر اس نے میری تعریف کی، تو یہ وہی شخص ہے جو مجھ پر ایمان لایا، اور ستاروں کا انکار کیا، اور جس نے کہا: ہمیں فلاں فلاں ستارے ( کے غروب و طلوع ہونے) کے سبب بارش دی گئی، تو یہ وہ شخص ہے جس نے میرے ساتھ کفر کیا، اور ستاروں پر ایمان رکھا“۔

☢️ *نجومی کی بات کبھی درست ہونے کی وجہ !!!*

📚 احادیثِ مبارکہ:

📔 *صحيح البخاري*
*کتاب: اس بیان میں کہ مخلوق کی پیدائش کیونکر شروع ہوئی*
6. *باب: فرشتوں کا بیان۔*
*حدیث نمبر:* 3210

*ترجمہ* : عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا تھا ”فرشتے «عنان» میں اترتے ہیں۔ اور «عنان» سے مراد بادل ہیں۔ یہاں فرشتے ان کاموں کا ذکر کرتے ہیں جن کا فیصلہ آسمان میں ہو چکا ہوتا ہے۔ اور یہیں سے شیاطین کچھ چوری چھپے باتیں اڑا لیتے ہیں۔ پھر کاہنوں کو اس کی خبر کر دیتے ہیں اور یہ کاہن سو جھوٹ اپنی طرف سے ملا کر اسے بیان کرتے ہیں۔“

📒 *صحيح البخاري*
*کتاب: دوا اور علاج کے بیان میں*
46. *باب: کہانت کا بیان۔*
*حدیث نمبر* : 5762

*ترجمہ* : عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے کاہنوں کے متعلق پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی کوئی بنیاد نہیں۔ لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! بعض اوقات وہ ہمیں ایسی چیزیں بھی بتاتے ہیں جو صحیح ہو جاتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ یہ کلمہ حق ہوتا ہے۔ اسے کاہن کسی جننی سے سن لیتا ہے وہ جننی اپنے دوست کاہن کے کان میں ڈال جاتا ہے اور پھر یہ کاہن اس کے ساتھ سو جھوٹ ملا کر بیان کرتے ہیں۔

🟤 *نجومی کے پاس جانا،فال نکالنا یا نکلوانا کفر ہے !!!*

حدیث شریف :

📕 *سنن ابي داود*
*کتاب: کہانت اور بدفالی سے متعلق احکام و مسائل*
22. *باب: علم نجوم کا بیان*
23. *حدیث نمبر* : 3905

*ترجمہ* : عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: ”جس نے علم نجوم کا کوئی حصہ اخذ کیا تو اس نے اتنا ہی جادو اخذ کیا، وہ جتنا اضافہ کرے گا اتنا ہی اضافہ ہو گا“۔

📛 *نجومی کے پاس جانے،ہاتھ دکھانے،حساب کروانے،فال نکلوانے یا برج دیکھ کر قسمت کا حال جانے کی سزا !!!*

▪️رسول اللہ ﷺ نے کاہنوں اور نجومیوں کے پاس جانے سے سختی سے منع کیا ہے۔

▪️جس نے برجوں اور ستاروں کی چالوں کی تصدیق کر دی تو رسالتِ محمدیہ ﷺ کا انکار کیا۔

اس سلسلے میں چند احادیثِ مبارکہ :

📙 *صحيح مسلم*
*سلامتی اور صحت کا بیان*
35. *باب: کہانت کی حرمت اور کاہنوں کے پاس جانے کا حرمت۔*
*حدیث نمبر* : 5821

*ترجمہ* : (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی اہلیہ) صفیہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اہلیہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے روایت کی، کہ آپ نے فرمایا:”جو شخص کسی غیب کی خبریں سنانے والے کے پاس آئے اور اس سے کسی چیز کے بارے میں پوچھے تو چالیس راتوں تک اس شخص کی نماز قبول نہیں ہوتی۔“

یہ تو صرف کاہن کے پاس جانے کی سزا ہے۔ البتہ جو اسے عالم الغیب سمجھے اور اس کی باتوں کی تصدیق کرے ان پر ایمان لائے تو وہ کافر ہو جاتا ہے۔

حدیث شریف :

📓 *سنن ابن ماجہ*
*کتاب: تیمم کے احکام و مسائل*
*باب: حائضہ سے مباشرت کی ممانعت کا بیان*
حدیث نمبر:639

*ترجمہ* : حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے حیض والی عورت سے مباشرت (صحبت) کی، یا عورت کی پچھلی شرمگاہ میں مباشرت (صحبت) کی، یا کسی کاہن کے پاس گیا (اور اس سے غیبی معاملات کے بارے میں کچھ پوچھا) اور اس کی کہی ہوئی بات کو سچ مان لیا تو اس نے محمد ( ﷺ) پر نازل ہو جانے والی چیز (قرآن و سنت) کا منکر ہے۔‘‘

✨ *الحاصل*

📌 کاہنوں اور نجومیوں کا تعلق شیاطین سے ہوتا ہے اس لیے علم نجوم، جوتش وغیرہ سب شیطانی علوم ہیں۔

📌 نجومی ستاروں کی چالوں سے استدلال کر کے زمین پر مستقبل میں ہونے والے غیبی امور کی اطلاع دیتے ہیں جو کہ کہانت کی ایک قسم ہونے کی وجہ سے حرام ہے اور کفر باللہ ہے۔

📌 دورِ حاضر میں ستارہ پرستی کے رواج کی واضح دلیل ستاروں کی چال سے متعلق معلومات حاصل کرنا ہے، جو برج کے نام سے مشہور ہے۔

📌 لہذا ستاروں کی چال دیکھ کر مستقبل کے امور کی پیشنگوئی کرنا، یا کسی کے دعوے کو تسلیم کرنا، یا ایسی باتوں میں دل چسپی لینے سب ناجائز ہے ۔

📌 علاوہ ازیں اگر کسی کو برجوں پر یقین نہ بھی ہو تب بھی اس کے دیکھنے، سننے اور پڑھنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

*و ما علینا الا البلاغ المبین*
اور ہمارے ذمے تو صرف اللہ (تعالیٰ کا پیغام) صاف صاف پہنچا دینا ہے بس ۔
Nasr ur Rehman✍️

19/07/2026

⛔*★ نبیﷺ کی خودکشی کی کوشش کرنا، صحیح یا ضعیف؟؟★*

5_بسم اللہ الرحمن الرحیم_
_________________________

📗 *صحیح بخاری کی اس روایت کی سند متصل نہیں ہے، تابعی کہتا ہے:*
*فِيمَا بَلَغَنَا، ہم تک یہ بات پہنچی ہے (یعنی سنی سنائی بات)*
(صحیح بخاری 6982)

🔘 *لیکن لیکن اس روایت کی مکمل سند (صحیح ابن حبان ج4 ص8 رقم 2968) اور (المسند لابن مردویه ج1 ص581 رقم 469) میں موجود ہے، فِيمَا بَلَغَنَا کے بغیر۔*

🔴 *اگر کوئی اس روایت کو صحیح بھی ماننا چاہے تو اس میں کوئی حیرانگی اور گستاخی والی بات نہیں ہے۔*

🟡 *قرآن میں اس سے بڑی بات ہے یوسف علیہ السلام کے بارے میں:*
سورۃ یوسف 24
"اس عورت نے یوسف کی طرف قصد (برائی کا ارادہ) کیا اور یوسف بھی اس عورت کا قصد (برائی کا ارادہ) کر لیتا، اگر وہ اپنے رب کی برھان (نشانی) نہ دیکھتا، یو نہی ہوا کہ ہم نے اس سے برائی اور بے حیائی دور کر دی، بیشک وہ (یوسف) ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھا۔"

⭕ *﴿یوسف کس عورت کا قصد کر لیتا، جو یوسف کی لےپالک ماں تھی﴾*
ﷲ اکبر

🟡 *یہ بھی اسی طرح کا واقعہ ہے کہ جب آپﷺ پے وحی کا سلسلہ کچھ مدت کے لیئے منقطع ہو گیا تو کفار نے آپﷺ کو بہت پریشان کیا اور طرح طرح کی باتیں کیں کہ تمھارے رب نے تمہیں چھوڑ دیا ہے (نعوذ باللہ)، اسی غم و پریشانی میں آپﷺ نے خود کو پہاڑ سے گرانے کی کوشش کی تو (رب کی طرف سے نشانی) فرشتہ سامنے آ جاتا اور آپﷺ کو تسلی دیتا کہ والله آپ ﷲ کے رسول ہیں تو آپﷺ پہاڑ سے نیچے اتر آئے۔*
(صحیح بخاری 6982)
(صحیح ابن حبان 2968)
(المسند لابن مردویه 469)

📍 *﴿ظاہر ہے نبیﷺ کو سلسلہ وحی منقطع ہونے کا غم تو تھا﴾*

🟢 *اسی لیئے تو قرآن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ سے فرمایا:*

*اے نبیﷺ تمہارے رب نے تم کو ہرگز نہیں چھوڑا اور نہ ہی وہ تم سے ناراض ہوا۔*
(سورہ الضحیٰ 3)

*وما علینا الاالبلاغ المبین*
طالبِ دعا:
*✍️محمد طلال حیدر*

Address

Faisalabad
38000

Telephone

03032953081

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when آو دین سیکھے posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category