26/07/2026
*9 صفر المظفر یومِ شہادت صحابی رسول کریم ﷺ ،شہیدِ صفین,جانثارِ مولا علی ؑحضرت عمار بن یاسر ؓ !!!*
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا عمّار بن یاسر ؓ💖
🔵سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما السابقون الاولون (اولین مہاجرین) صحابہ کرام رض میں سے تھے۔
🟠 آپؓ ان غریب صحابہ کرام رض میں سے تھے جنھیں اسلام کے ابتدائی دنوں میں دردناک اذیتیں پہنچائی گئیں۔
سیدنا عمار بن یاسر ؓ فرماتے ہیں:
’’(جب میں نے اسلام قبول کیا تو) میں نے رسول اللہ ﷺ کو (اس حالت میں) دیکھا کہ آپ ﷺ کے ساتھ (ایمان لانے والے) صرف (آٹھ اشخاص تھے یعنی) پانچ غلام، دو عورتیں اور (امیر المومنین سیدنا) ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے۔‘‘
(صحیح بخاری-3857)
👈 آپؓ غزوہ بدر سے لے کر بعد والے تمام غزوات میں شامل رہے۔
👈 آپؓ کے والد سیدنا یاسر ،سیدہ والدہ سمیہ اور بھائی سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنھم اسلام کے سب سے پہلے شہیدوں میں سے ہیں۔
👈آپؓ حبشہ کو ہجرت کرنے والوں کے سربراہ تھے۔
👈آپؓ جنگِ بدر اور دیگر جنگوں میں شریک تھے اور صلح حدیبیہ میں بھی شامل تھے۔
👈آپؓ ام المؤمنین امِ سلمیٰ سلام اللہ علیھا کے رضاعی بھائی تھے اور اس لحاظ سے خال المؤمنین (امت کے ماموں) بھی ہیں ۔
👈آپؓ کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :
📘 *ترجمہ* : "مجھے نہیں معلوم کہ میں تمہارے درمیان کتنی دیر رہوں گا؛ چنانچہ تم میرے بعد ان لوگوں کی اقتدا کرنا ؛آپ نے ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنھما کی جانب اشارہ فرمایا ، اور عمار ؓ کے رستے کو اپنانا۔
(جامع ترمذی-3799)
👈آپؓ کی شہادت کی پیشنگوئی اللہ کے نبی کریم ﷺ نے پہلے ہی دے دی تھی اور آپکی شہادت سے دو گرہوں (برحق اور باغی) کی پہچان ہوئی ۔
احادیثِ مبارکہ ملاحظہ ہوں ،
📕 *ترجمہ* : ابو سعید خدری رضی اللّٰہ عنہ نے بیان فرمایا کہ ہم مسجد نبوی کی اینٹیں ( ہجرت نبوی کے بعد تعمیر مسجد کیلئے ) ایک ایک کر کے ڈھو رہے تھے لیکن حضرت امیر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ دو دو اینٹیں لا رہے تھے ‘ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ادھر سے گزرے اور ان کے سر سے غبار کو صاف کیا پھر فرمایا: "وائے عمار
(افسوس عمار) ! تمہیں ایک باغی جماعت قتل کریگی، عمار رضی اللہ عنہ انھیں اللہ کی طرف بلائے گا، اور وہ عمار کو جہنم کی طرف بلاتے ہونگے"
(صحیح بخاری-2812)
📙 *ترجمہ* : "عمار کو قتل کرنے والا اور اس کا سامان چھیننے والا جہنمی ہے"
(مسند احمد-1776)
🔻 *وضاحت*
آپؓ کی شہادت امیر المومنین علیؑ کرم اللہ وجھہ کے دورِ خلافت میں 37ھ میں جنگِ صفین میں ہوئی جس میں آپؓ خلیفہ برحق امیر المؤمنین سیدنا و مولانا علیؑ بن ابی طالب کی طرف سے امیر معاویہ بن ابی سفیان رض کی سربراہی والے باغی گروہ کے خلاف جہاد میں شریک تھے اور باغی گروہ سے قتال کرتے ہوئے آپ نے 93 سال کی عمر میں شہادت کا عظیم مرتبہ پایا۔
🔴ثقہ تابعی ابراھیم بن عبد الرحمٰن بن عوف رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
📔 *ترجمہ* : ’’میں نے سیدنا عمار بن یاسر ؓ کو جنگِ صفین کے دن، جس دن آپ کی شہادت واقع ہوئی تھی، یہ پکارتے سنا: آج جنت (میرے) قریب کر دی گئی ہے اور موٹی آنکھوں والی حوروں سے (میرا) نکاح کر دیا گیا ہے۔ آج کے دن ہم اپنے (سب سے زیادہ) محبوب محمد ﷺ سے ملاقات کرنے والے ہیں، انھوں نے مجھے پختہ خبر دی تھی کہ دنیا میں میرا آخری کھانا پانی ملا دودھ ہو گا۔‘‘
(مستدرک حاکم: 3/ 439 ح 5668)
🟢 *فضائلِ عمار بن یاسر ؓ !!!*
📍نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "عمار کی زبان کو اللہ نے شیطان سے محفوظ فرما دیا ہے ".
(صحیح بخاری -3743)
📍رسول اللہ ﷺ نے آپ کو ’’ *الطیب المطیب* ‘‘ یعنی ’’پاکیزہ اور پاک کیا ہوا‘‘ کے لقب سے نوازا۔
(سنن ابن ماجہ-146)
📍نبی کریم ﷺ نے فرمایا،" اللہ تعالیٰ نے عمار کو سر سے لیکر پاؤں تک ایمان سے بھر دیا ہے،عمار کے خون اور گوشت میں ایمان سرایت کر چکا ہے"۔
(سنن نسائی -5010، تاریخ ابن عساکر ج 43،ص 393)
📍نبی کریمﷺ نے فرمایا عمار کو جب بھی دو معاملوں میں اختیار دیا گیا انہوں نے ہمیشہ بہترین کا انتخاب کیا۔
(السلسلۃ الصحیحہ-3567)
*یارِ حیدرِ کرار ؓ عمار بن یاسر ؓ کی عظمت پر کروڑوں سلام !!!*
فِداۓ سیدِ ابرار ہیں عمار بن یاسر ؓ
رسول پاکؐ کا شہکار ہیں عمار بن یاسر ؓ
شہادت کی جِنہیں تھی مُصطفیٰؐ نے خُود بشارت دی
فِداۓ حیدرِ کرار ؓ ہیں عمار بن یاسر ؓ
Nasr ur Rehman✍️