Huma writes

Huma writes life skills

یوم مزدور  ~ تو قادر اور عادل ہے  مگر تیرے جہاں میں    ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات               (علامہ اقبال)اگر عل...
01/05/2026

یوم مزدور

~ تو قادر اور عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات
(علامہ اقبال)

اگر علامہ اقبال کے اس شعر کو دیکھا جائے تو رب سے شکوہ بنتا ہے مگر گہرائی میں اتریں تو حقیقت واضح ہوتی ہے

جیسے پانی کا فارمولا ہے نا H20 یعنی دو ہائیڈروجن اور ایک آکسیجن ہوں گے تو ہی پانی بنے گا ایسے ہی احساس ذمہ داری اور خودداری ہونے سے بنتا ہے مزدور۔

کوئ شخص صرف اپنی بھوک مٹانے کو مزدوری کی چکی کے پاٹوں میں نہیں پسے گا، وہ یہ مشکل اپنے پیاروں کے لئے اپناتا ہے ،ان کو ضروریات زندگی مہیا کرنے کی خواہش اسے کوہلو کا بیل بنائے رکھتی ہے ۔

اپنے لئے تو روٹی مانگ کے بھی پوری کی جاسکتی ہے مگر خودداری کی دولت اسے ایسا کرنے نہیں دیتی ۔خواتین مزدور تو مزید داد کی مستحق ہیں کیونکہ ان کے لئے تو کئ سہل راستے موجود ہوتے ہیں۔

مگر وہ یہ بھی سمجھتی ہیں کہ وہ آسان راستے عزت کی منزل پہ نہیں پہنچاتے اس لئے وہ اپنے لئے مزدوری کی کٹھن راہ کو چن لیتی ہیں ۔

اس لئے گھر میں جھاڑو پوچا کرتی ماسی ہو یا کسی عمارت کی تعمیر میں اینٹیں ڈھوتا مزدور ہر ایک کی عزت کیجیے کیونکہ یہ اللہ کے دوست ہوتے ہیں ۔

کیونکہ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ
اپنے ہاتھ سے روزی کمانے والا اللہ کا دوست ہے ۔(مسند احمد بن جبل)

سو اللہ کی دوستی بڑی قیمتی شے ہے اور وہ محنت کی چکی میں پسنے والوں کا انعام ہے۔

میرا سلام پہنچے اللہ کے سب دوستوں کو,اور اس یوم مزدور پہ یہی دعا ہے کہ
اے ہمارے رب !ہمیں بھی اپنے دوستوں میں شامل فرما آمین

Feeling blessed alhumdollilla ہم اکثر موبائل سے نالاں رہتے ہیں کہ یہ ہماری باتیں سنتا ہے ہم آپس میں کوئ بھی بات کریں ,یہ...
01/05/2026

Feeling blessed alhumdollilla

ہم اکثر موبائل سے نالاں رہتے ہیں کہ یہ ہماری باتیں سنتا ہے ہم آپس میں کوئ بھی بات کریں ,یہ اس کے مطابق ہی آپ کو ایڈز اور ریلیز دکھانے لگتا ہے اور یہ کیفیت دل کو بے چین سا کر دیتی ہے ایسے جیسے کوئ جاسوس آپ کو نہ صرف ہمہ وقت چپکے سے دیکھ رہا ہو بلکہ اپنی موجودگی کا احساس بھی دلا رہا ہو۔

مگر کچھ ایسا ہی احساس "قرآن کریم "بھی دلاتا ہے آپ جس بھی کیفیت میں ہوں ,کسی الجھن میں ہوں ,کسی مشکل میں ہوں یہ اسی کے مطابق آیت آپ کے سامنے لے آتا ہے چاہے وہ موبائل سکرول کرتے ہی سامنے آئے، چاہے ٹی وی کے پاس سے گزرتے اس پہ چلتے کسی پروگرام میں سنائ دے، کسی کے گھر لگی کوئ وال ہینگنگ ہو یا قرآن کی تلاوت کرتے اچانک آپ اس پہ اٹک جائیں ۔

اور یہاں ری ایکشن بالکل ہی مختلف ہوتا ہے ایسا لگتا ہے کسی نے گرتے ہوئے کو تھام لیا ہو، دل کو سکون مل گیا ہو ،بے چینی قرار میں بدل گئ ہو اور سب سے بڑھ کر یہ احساس کہ ہاں کوئ ہے، کوئ ہے جو شہ رگ کے پاس ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو اس کا احساس بھی دلاتا ہے

میں اس کی تخلیق ہوں وہ مجھ سے پیار کیوں نہ کرتا ہو گا، میں کوئ نئ مزیدار ڈش بنا لوں ،کوئ کہانی لکھ لوں ،کسی ںےکار چیز کو جگاڑ لگا کر کار آمد بنا لوں تو کتنی ہی دیر سرشاری اور محبت میں اسے دیکھتی ہوں حالانکہ میری تخلیق کے لیول کا رب کریم کی تخلیق کے لیول سے کیا مقابلہ

لیکن مجھے یہ ضرور سمجھ آ جاتا ہے کہ وہ جب کہتا ہے میری طرف ایک قدم بڑھاؤ میں دس بڑھاؤں گا تو بالکل ایسا ہی ہو گا میں ماں ہوں جب اپنے بچے کو پہلا قدم اٹھاتے دیکھا تھا تو لپک کر اسے سہارا دیا تھا کہ کہیں گر نہ جائے اور پھر وہی بات کہ ایک ماں کے پیار اور ستر ماؤں کے پیار کا بھلا کیا مقابلہ

ابھی دو دن پہلے ہی بیٹے کو ملکہ سبا اور حضرت سلیمان کے قصے کے متعلق بتا رہی تھی کیونکہ وہ ٹرانسپورٹیشن کو لے کے مجھے قائل کرنے کی کوشش کر رہا تھا میں نے اسے کہا بیٹا میں تو قائل ہی قائل ہوں کہ ہاں ایسا ہو سکتا ہے کیونکہ اس کی گواہی قرآن کریم دے رہا ہے ملکہ کا تخت پلک جھپکنے میں حاضر کر دیا گیا تھا یقینا ایسا علم موجود ہے،مگر ہماری دسترس اس تک کب تک ہو پاتی ہے بس یہ معلوم نہیں۔اس روز جو تلاوت کرنے بیٹھی اور اپنی نشانی نکالی تو وہ سورہ سبا ہی تھی ۔ اور یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا بارہا قرآن کریم نے احساس دلایا کہ وہ واقعی معجزہ ہے ۔

کیا آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے ؟؟

عمرہ کہانی تو ختم ہو چکی مگر یادیں ہیں کہ پیچھا چھوڑنے کو تیار ہی نہیں پاکستان سے سعودیہ کے وقت میں دو گھنٹے کا فرق ہے ج...
24/04/2026

عمرہ کہانی تو ختم ہو چکی مگر یادیں ہیں کہ پیچھا چھوڑنے کو تیار ہی نہیں

پاکستان سے سعودیہ کے وقت میں دو گھنٹے کا فرق ہے جب ہم نے موبائل میں imo انسٹال کر لیا تو ہم فجر کے وقت بچوں کو کال کرتے تھے بچے اس وقت پاکستان میں سکول جانے کے لئے تیار ہو رہے ہوتے تھے۔

بیٹییاں چونکہ زرا زیادہ نازک مزاج ہوا کرتی ہیں تو یہی معلومات ملتیں کہ بیٹی دن میں کئ مرتبہ اداس ہو کر رونے کا سیشن لگاتی ہے اور اس سے ڈیڑھ سال بڑا بھائ اس سیشن کو نہ صرف انجوائے کرتا ہے بلکہ اس نے باقاعدہ ایک چارٹ بنا رکھا تھا جس پہ وہ تاریخ اور وقت کے ساتھ اس کے رونے کے سیشن کی تعداد کو باقاعدہ ریکارڈ کر رہا تھا ۔اور وہ اس حرکت سے چڑ کے مزید ہمیں یاد کرتی تھی 🤦اف یہ بہن بھائ ایسی حرکتیں نہ کریں تو انہیں بہن بھائ کون کہے🤭

میں نے جب بیٹی سے پوچھا کہ عمر جو صرف ساڑھے چار سال کا ہے کیا وہ ہمیں یاد کرکے نہیں روتا؟ تو بتانے لگی

پوچھا تھا میں نے بھی عمر سے کہ تم اتنے آرام سے کیسے ہو تمہیں ماما یاد نہیں آتیں کیا۔؟ کہنے لگا ☺️ مجھے تو وہ روز خواب میں ملنے آتی ہیں میں کیوں اداس ہوں گا بھلا ۔واہ میرے مولا ♥️تو نے بھی دنیا کو چلانے کے لئے کیا کیا سسٹم بنا رکھے ہیں جو ہماری سمجھ سے تو اوپر ہی کی چیز ہیں ۔آج ان دنوں کا منا سا عمر اولیول کے ایگزیم میں پہلا پیپر دے کر آیا ہے وقت کا کام تو ہے اڑنا، اڑتا ہی چلا جاتا ہے آپ سب سے اس کے لئے نیک دعاؤں کی درخواست بھی ہے (اب کی تصویر لگانے کی اماں کو بالکل اجازت نہیں 🥺بھئ ڈھیر سارے بڑے جو ہو گئے ہیں اپنی مرضی ہی چلائیں گے نا)

واپسی کی فلائیٹ ہماری ڈائیریکٹ فیصل آباد ہی کی تھی اور میں جو یہ ایکسپیکٹ کر رہی تھی کہ بچے بھی ہمیں لینے ائیر پورٹ آئے ہوں گے تو بچوں کو رسیو کرنے والوں میں نہ پا کر دل اداس ہو گیا لیکن گھر پہنچنے پہ علم ہوا کہ

بچوں نے گھر پہ ہمارے ویلکم کے لیے خوب تیاری کر رکھی تھی اس لئے وہ گھر پہ ہی ملنا چاہ رہے تھے مین گیٹ سے ٹی وی لاونج کے دروازے تک پھولوں سے بنا راستہ ،کھڑکی کے شیشے پہ لکھے ویلکم کے الفاظ اور یہاں تک کے پنکھے کے پروں پہ رکھی پھولوں کی پتیاں ان کی محنت اور محبت کا اظہار کر رہی تھیں ۔

یہ اور بات کہ پنکھا چلتے ہی مجھے سردی لگنے لگی ۔وہاں جوش جوش میں ہم بہت ایکٹو ہوئے ہوتے ہیں لیکن واپس پہنچ کے لگ پتہ جاتا ہے فلو اور بخار کی لپیٹ میں تقریبا واپس آنے والا ہر شخص ضرور آتا ہے اور میری تو نیند کا شیڈول بھی اس بری طرح متاثر تھا کہ میں صوفے پہ بیٹھے بیٹھے بے ہوش سو جاتی تھی حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم اس شعر کی مانند ہوتے

~ وبائے حجر کی ان بے کنار راتوں میں
ہمارا دل نہیں لگتا تو آنکھ ہی لگ جائے

میاں جی ہی کی ہمت تھی کہ انہوں نے واپس آتے ہی جاب پہ جانا شروع کر دیا تھا کیونکہ ہمارے ہاں پرائیوٹ جابز میں اس سے زیادہ چھٹی کا مطلب عموما ہمیشہ کی چھٹی ہی ہوتا ہے 😐

وہاں دوبارہ جانے کے جنون نے مجھے زندگی میں پہلی بار نشے کے عادی افراد کو سمجھنے میں بھی مدد دی ۔میں عموما ان کی اس حالت کے لئے انہیں ہی ذمہ دار ٹھہراتی اور ان کے لئے کوئ ہمدردی محسوس نہ کرتی تھی مگر وہاں کی محبت نے مجھے احساس دلایا کہ پہلی بار تو شائد سب ایڈونچر کے لئے ہی نشہ کرتے ہوں گے مگر پھر وہ انہیں جکڑ لیتا ہو گا ۔

ہمارے ساتھ بھی تو کچھ ایسا ہی ہوا ہے، ایک بار گئے ہیں بار بار جانے کی تمنا ہے۔ آپ سب سے درخواست ہے کہ ہم سب کے لئے حج کی دعا کیجیے ۔حج کی دعا بھی کیا ہی اعلیٰ دعا ہے آپ ایک ساتھ ہی ہمت، صحت، دولت سب مانگ لیتے ہیں کیونکہ حج تو صرف صاحب استطاعت پہ ہی فرض ہے نا اور حج کے مناسک ادا کر پانا صحت اور ہمت کے ساتھ ہی پاسیبل ہے ۔
اللہ تعالیٰ سب پڑھنے والوں کے لئے بھی حج اور عمرہ کے اسباب بنائے آمین

23/04/2026

عمرہ کہانی16

طواف الوداع اگرچہ حج پہ جانے والوں کے لئے ضروری ہے مگر عمرہ سے واپسی پہ بھی لوگ اسے ادا کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں اور یقیناً جدائ کے تصور کے ساتھ یہ والا طواف، ہر طواف سے زیادہ مشکل اور بھاری لگتا ہے ۔ایسے وقت میں اپنا دل لوہے کا بنا لگتا ہے ،جو خانہ کعبہ کے مقناطیس کی طرف کھنچتاچلا جاتا ہے ۔مگر ہائے قسمت کہ اسے زبردستی وہاں سے الگ کرکے پلٹنا ہی پڑتا ہے ۔

میں اپنے ملک سے شائد جنونی محبت کرتی ہوں کہ اس کے متعلق میری اولاد ہی کچھ برا منہ سے نکالے تو اس کی خیر نہیں ہوتی مگر وہاں سے آنے کے بعد میں نے اخبارات اور انٹرنیٹ چھاننے شروع کر دئیے کہ کسی طرح اپنے میاں جی کے لئے وہاں کوئ ایسی نوکری ڈھونڈ لوں کہ ہم حرم کے پاس رہ سکیں ۔کافی عرصہ میں اسی جنون میں مبتلا رہی اور اسی دوران میں نے عابدہ پروین کی اس قوالی کو صحیح معنوں میں سمجھا

~ تو نے دیوانہ کیا تو میں دیوانہ بنا
اب مجھے ہوش کی دنیا میں تماشہ نہ بنا

طواف الوداع کے بعد ہمیں جدہ کے لئے روانہ ہونا تھا ٹائم کم تھا کھانے کا وقت ہونے کے باوجود ہم کھانے کے لئے رک نہیں سکتے تھے ،سفر کے لئے آب زم زم بھرا تو عنبر نے بوتلوں کو دیکھتے ہوئے کہا پانی کا انتظام تو ہو گیا، اب کھانے کا بھی کچھ ہو جاتا تو اچھا رہتا ۔وہاں چیزیں تو لوگ بانٹتے ہی رہتے ہیں ،عام طور پہ وہ کھجوریں وغیرہ ہی ہوتی ہیں لیکن اس وقت ایک صاحب کچھ بانٹتے ہوئے آئے اور ہم سب کے ہاتھوں میں ریپ میں لپٹے شوارمے پکڑا گئے ۔یہ شائد جاتے جاتے فوری دعاؤں کی قبولیت کا آخری تحفہ تھا ۔

آپ میں سے جتنے لوگ میری وال سے پہلے سے جڑے ہیں انہوں نے عنبر نامہ پڑھا ہو گا اور وہ جانتے ہوں گے کہ عنبر کے ہزبینڈ( تصور بھائ )بلڈ کینسر کے باعث اچانک ڈیتھ کا شکار ہوئے تھے ۔

یہ حادثہ عنبر کے لئے کتنا بڑا اور کڑا تھا آپ اس بات سے آسانی سے سمجھ سکتے ہیں کہ وہ تصور بھائ کی زندگی میں کبھی سبزی لینے بھی خود گھر سے نہ نکلی تھی۔جب ہم یہاں آئے اس حادثے کو ہوئے پانچ سال ہو گئے تھے ۔ یہ پانچ سال تین چھوٹے بچوں کے ساتھ گھریلو خاتون سے ورکنگ وومن بنتی ،خود ڈرائیو کرتی ،بجٹ مینجمنٹ کرتی ایک خاتون کے لئے کیسے ہوں گے ؟💔

ہمارے گھروں میں کسی بچے کو چوٹ لگ جائے تو ماں کیا کرتی ہے بھلا؟ وہ اس کا خیال آوٹ آف دا جا کر بھی رکھتی ہے اسے آرام پہنچانے، اسے خوش کرنے کا ہر جتن کرتی ہے

میں نے اس ٹرپ میں ستر ماؤں جتنی محبت کرنے والے کو عنبر کا ایسے ہی خیال کرتے دیکھا، اس کے منہ سے نکلی ہر بات پورے ہوتے دیکھا، وہ ہمارا رب ہے اس لئے اچھے سے جانتا ہے کہ اس نے بندے کو یہ احساس کیسے دلانا ہے ؟کہ دنیا جیسی بھی ہو میں تو ساتھ ہوں نا اورجب میں ساتھ ہوں تو دنیا جیسی بھی ہو جائے کیا فرق پڑتا ہے ۔

آپ سب سے یہ سب شئیر کرنا کیوں ضروری تھا اس لئے کہ ہم میں سے ہر ایک مختلف فیزز سے گزر رہا ہوتا ہے ایسے لگتا ہے کہ یہ سب مشکلات بس میرے لئے ہی ہیں، ہر راستہ میرے لئے ہی بند ہے

نہیں ایسا نہیں ہوتا میں نے کہیں پڑھا تھا کہ اگر سب کے مقدر گٹھڑیوں کی صورت ایک میدان میں رکھ دئیے جائیں اور انسان کو اختیار دیا جائے کہ اپنی مرضی کا بوجھ اٹھا لو تو ہر ایک اپنے مقدر کی گٹھری ہی اٹھائے گا کیونکہ ہمیں بنانے والا بہت اچھے سے جانتا ہے کہ کون کتنا بوجھ اٹھا پانے کےلائق ہے۔

سو اگر آپ اس وقت چوٹ کھائے ہوئے ہیں ستائے ہوئے ہیں تو بھاگ کے اپنے رب کی آغوش میں پناہ لیجیے کیونکہ خالی ہاتھ آئے تھے اور خالی ہاتھ ہی جانا ہے درمیان میں جو کچھ مل رہا ہے وہ بھی اسی کا کرم ہے اور جو چھن رہا ہے وہ بھی تو اسی کی دین تھا نا۔

اہم یہ ہے کہ رب سے ناطہ کتنا مضبوط ہے اور خود سے ناطہ مضبوط کرنے کا کلیہ وہ بار بار قرآن میں دیتا ہے

"ان اللہ مع الصابرین "

عمرہ کہانی 15       خاتون ہونے کے ناطے میں اس افسوس میں تو تھی کہ میری رسائ حجر اسود اور حطیم تک آسان نہ تھی مگر وہاں جب...
22/04/2026

عمرہ کہانی 15

خاتون ہونے کے ناطے میں اس افسوس میں تو تھی کہ میری رسائ حجر اسود اور حطیم تک آسان نہ تھی مگر وہاں جب دوبارہ عمرہ کے لئے نیت کرنے مسجد عائشہ گئے تو دل جیسے خاتون ہونے پہ خوشی اور مسرت سے بھر گیا ہو ۔

یہ" میقات "ہماری پیاری والدہ حضرت عائشہ کی وجہ سے ہی ہمیں میسر آیا ہے ۔( میقات وہ حد ہے جہاں سے عمرہ یا حج کا ارادہ رکھنے والوں کو احرام باندھنا لازم ہو جاتا ہے) مسجد عائشہ بہت ہی خوبصورت بنائ گئ ہے اور وہاں بھی مسلسل نیت کرنے آنے والوں کا تانتا بندھا رہتا ہے ۔

کیا ہی خوبصورت مذہب ہے ہمارا کہ ہر ہر بات کی وضاحت اتنی اچھی طرح کی گئ کہ جن موضوعات کو ہمارے ہاں taboo کا درجہ حاصل ہے ان کے متعلق بھی مکمل کلئیرٹی ہے اور یہ سمجھانے کی کوشش کی گئ ہے کہ جو چیزیں فطرت کا حصہ ہیں انہیں قابل نفرت سمجھنے کی بجائے انہیں ساتھ لے کر کس طرح مینیج کرنا ہے ۔

اب میڈیکل سائنس کی ترقی کی بناء پہ کئ ایسے طریقے موجود ہیں جو خواتین کو ان دنوں میں پاک رہنے کے آسان زرائع مہیا کرتے ہیں مگر بات وہی ہے کہ کوئ بھی طریقہ 100 پرسنٹ شیورٹی نہیں دے پاتا ۔

اس لئے کسی بھی مس ہیپ کی صورت اسے اپنی کم بختی ماننے کی بجائے یہ یاد رکھیے کہ کہاں ہم اور کہاں اماں عائشہ جب ان کے ساتھ ایسے مواقع پہ ایسے معاملات پیش آ سکتے ہیں تو ہم کس کھیت کی مولی ہیں؟

بلکہ ہمیں تو یہ سوچ کہ ہی خوش ہو جانا چاہیے کہ اس کی وجہ سے ہمیں ان سے نسبت قائم ہو گئ ۔(پوزیٹو تھنکنگ) بلکہ میں اپنا ہی تجربہ بیان کروں تو جو کیفیت میں نے اس حالت میں مسجد نبوی کے دروازے کے پاس بیٹھے ایکسپیرینس کی وہ شائد کعبہ شریف پہ پڑنے والی پہلی نظر کے علاؤہ دوسرا موقع تھا جب دنیا جیسے بےمعنی ہو گئ تھی ۔وہ وقت میں آج بھی یاد کروں تو جیسے دل بھر آتا ہے، آنکھ نم ہو جاتی ہے اس لمحے جو سکون میرے دل میں اترا شائد آئیندہ آنے والے کتنے ہی مشکل وقت اس لمحے ملی طاقت کی بنا آسان ہو گئے ۔بے شک ہمارا رب ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے ۔

عمرہ کہانی 14  حرم کی توسیع کا کام مسلسل چلتا رہتا ہے ۔جب ہم گئے تھے ان دنوں بھی یہ بڑے بڑے، اونچے اونچے ہوٹل بالکل خالی...
21/04/2026

عمرہ کہانی 14

حرم کی توسیع کا کام مسلسل چلتا رہتا ہے ۔جب ہم گئے تھے ان دنوں بھی یہ بڑے بڑے، اونچے اونچے ہوٹل بالکل خالی کروا لئے گئے تھے، جنہیں اگلے مرحلے میں ڈھا کر وہ جگہ بھی حرم میں شامل کی جانی تھی ۔اس کے باوجود بھی وہاں محاورۃ نہیں حقیقتاً تل دھرنے کو جگہ نہیں ہوتی ،

حج کے دنوں کے علاؤہ سارا سال دنیا بھر سے مسلمان عمرہ کی غرض سے وہاں جاتے ہیں مگر رش کی کیفیت کبھی کم نہیں ہوتی ۔

میں نے پہلے بھی ذکر کیا تھا کہ اگر آپ خانہ کعبہ کو ہاتھ لگانا چاہیں، حطیم میں نوافل پڑھنا چاہیں یا حجر اسود کو بوسہ دینا چاہیں تو اس کے لئے آپ میں ڈھیر ساری ہمت ہونی چاہیے جو کہ مجھ میں تو نہ تھی اس لئے میں نہ تو حطیم میں نوافل ادا کر سکی، نہ ہی حجر اسود تک پہنچ پائ ,وہاں میں نے کئ مرتبہ تصور کی آنکھ سے یہ دیکھنے کی کوشش کی کہ اگر یہاں کوئ بھی نہ ہو بس میں ہی میں ہوں تو کیسا لگے گا؟

میں آرام سے حجر اسود کو بوسہ بھی دے پاؤں گی اور حطیم ( اس میں نماز پڑھنا خانہ کعبہ کے اندر نماز پڑھنا ہے کیونکہ یہ حصہ ایک وقت میں خانہ کعبہ کی چار دیواری کے اندر ہی تھا) میں نماز بھی پڑھ سکوں گی ۔مگر اتنے رش میں مجھ سے یہ امیجن بھی نہیں ہو پاتا تھا مگر

پھر اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ میں نے سچ مچ یہ سین دیکھ لیا ۔جی بالکل چاہے ٹی وی پہ ہی سہی کوویڈ کے دنوں میں، میں نے حرم کو اس طرح دیکھا جیسے میں سوچتی تھی کہ ایسا ہو تو میں کتنے مزے سے اپنی سب خواہشات پوری کر پاؤں ۔مگر جب حقیقت میں ایسا وقت آیا تو مجھے اچھا نہیں لگا، یہ جگہ تو ہر وقت اپنے چاہنے والوں میں گھری ہی ہونی چاہیے نا ۔اور یوں بھی جب میں ہی اس وقت میں وہاں نہیں تھی تو کیا فایدہ ،لیکن مجھے دل سے ان خواتین کے لئے خوشی ہوئ جنہوں نے اس موقع سے فایدہ اٹھایا ۔یقینآ انہوں نے کچھ زیادہ ہی دل سے ایسے وقت کی دعا کر لی ہو گی۔

ساری دنیا سے جمع ہوئے مسلمانوں کی اتنی بڑی تعداد دیکھ جہاں دل خوش ہوتا ہے وہاں اداس بھی ہو جاتا ہے کہ یہ شائد وہی دور ہے جس کے متعلق ایک حدیث کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ

ایک ایسا وقت آئے گا کہ مسلمان تعداد میں بہت زیادہ ہوں گے مگر وہ سیلاب کی جھاگ کی طرح بے وقعت اور کمزور ہوں گے💔

آج ہر کوئ جانتا ہے کہ کون ظالم ہے؟ اور کون مظلوم
کون اپنی طاقت کے بل پہ ہر اصول، ہر قانون کو روند رہا ہے ۔مگر ہم ایمان کے اس درجے پہ ہی ہیں کہ دل سے اس ظلم کو برا جانیں بس۔

عمرہ کہانی 13عمرہ پہ پیش آنے والے چند حیرت انگیز واقعات اس دوران جو دعائیں ترنت پوری ہوئیں ان میں سے ایک کا زکر تو شروع ...
19/04/2026

عمرہ کہانی 13

عمرہ پہ پیش آنے والے چند حیرت انگیز واقعات

اس دوران جو دعائیں ترنت پوری ہوئیں ان میں سے ایک کا زکر تو شروع کی قسط میں ہی کیا تھا جب عمرہ شروع کرنے سے پہلے سخت دھوپ اور گرمی کا سماں تھا مگر عنبر نے بھابھی کے عبایا پہ کوک گرنے پہ اسے ان الفاظ میں تسلی دی کہ ابھی بارش ہو گی اور عبایا دھل جائے گا اور واقعی کچھ ہی دیر میں موسلا دھار بارش شروع ہو گئ۔

دوسرا واقعہ بھی عنبر ہی کے ساتھ پیش آیا تھا کہ جب ریاض الجنہ میں ہم وہیل چئیر کی سائیڈ سے چلے گئے تھے تو وہاں اسے بھی وہیل چئیر والی خاتون مل گئ تھیں اور اس نے نہایت اطمینان سے نوافل پڑھے تھے

ایک اور دعا جو میں نے اور عنبر نے بآواز بلند ایک ساتھ کی وہ بھی پوری ہوئ الحمد اللہ♥️ لیکن اس کو پورا ہونے میں کئ سال لگے ۔وہ دعا دو نہایت ہی پیارے بچوں کو ایک ڈبل پش چئیر میں بیٹھے دیکھ کر ہم نے اپنی بھابھی کو دی کہ
اللہ تعالیٰ تمہیں بھی ایسے دو پیارے پیارے بیٹوں سے نوازے اور الحمد اللہ ،اللہ تعالیٰ نے ہمیں دو نہایت ہی پیارے پیارے بھتیجوں سے نوازا ہے ۔

وہاں مسلسل ہوٹل سے کھانا کھا کر جی اوب سا گیا تھا، ہم حرم میں کھڑے اس بارے میں بات ہی کر رہے تھے کہ۔گھر کی روٹی کھائے کتنی دیر ہو گئ نا ،، اسی وقت ایک صاحب ایک بڑا سا شاپر لئے ہمارے سامنے آئے ،اس میں سے انہوں نے گھر کی بنی روٹیاں اور ساتھ پنیر کے پیکڈ چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہمیں پکڑائے اور یہ جا اور وہ جا۔اور ہم حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئے یہ کیا ہوا بھلا۔لیکن جو بھی ہوا مزے کا ہوا۔

اسی طرح واپسی پہ آب زم کا کین ہر ایک فرد ایک ہی لا سکتا تھا عنبر نے لیکن دو بڑی بڑی بوتلیں جو ہم وہاں قیام کے دوران پینے کے لئے کمرے میں رکھتے تھے ان میں آب زم زم بھرا اور ساتھ لانے کو گود میں بچوں کی طرح اٹھا لیا ۔ہم سب اسے ڈرا رہے تھے کہ سیکورٹی والوں نے رکھوا لینا ہے تم ایویں اتنا وزن اٹھائے پھر رہی ہو لیکن اس نے کہا دیکھنا کسی نے بھی نہیں روکنا مجھے ۔اور واقعی سب گارڈز نے اسے بوتلوں کے ساتھ دیکھا ،مگر فل اگنور کیا اور وہ مزے سے کین کے ساتھ ساتھ ان بوتلوں کو بھی پاکستان لے آئ ۔

حرم میں ایک مرتبہ ہماری فیملی ایک دوسرے سے رش کی بنا پہ الگ ہو گئ اب نماز کے بعد ہم نے کھانا کھانے جانا تھا کال پہ بات کرنے کے باوجود ہم ایک دوسرے کو ڈھونڈ نہیں پا رہے تھے، ہنی (بھائ) نے اس وقت نہایت مزیدار طریقہ اپنایا کہ میں نے جو ریڈ کیپ پہن رکھی ہے میں اسے اوپر کی طرف اچھالتا ہوں آپ لوگ اوپر کی طرف نظر رکھیں بس جہاں ٹوپی نظر آئے وہاں پہنچنا ہے بس آپ نے ۔اور یہ طریقہ واقعی کام کر گیا ہم نے ایک دوسرے کو ڈھونڈ نکالا۔

عمرے کے دوران جب امی ، دونوں بھتیجوں کو لے کر وہیل چئیر پہ بیٹھتی تھیں تو اسے چلانے والے صاحب لوگوں کو آگے سے ہٹانے اور متوجہ کرنے کے لئے زور زور سے کہتے تھے" حجا ""حجا" اب جانے اس کا مطلب کیا تھا مگر بھتیجیوں نے یہ لفظ سیکھ لیا تھا اور وہ چلتے چلتے کہتی جاتیں تھیں "حجا "حجا " اور ان کی توتلی زبان سے یہ بہت پیارا لگتا تھا بعد میں کسی نے بتایا کہ وہ حاجی حاجی کہہ کر متوجہ کرتے ہیں کہ حاجی آ رہے ہیں جگہ خالی کردیں۔

مکہ مکرمہ میں ہمیں ایک ہی جمعہ میسر آیا ہم اپنی طرف سے بہت جلدی گیارہ بجے ہی تیار ہو کر جمعے کے لئے حرم کی طرف چل پڑے کہ ٹائم سے اچھی جگہ پہنچ جائیں مگر باہر نکل کر احساس ہوا کہ ہم تو نہایت ہی لیٹ ہو چکے ہیں اچھی جگہ تو دور کی بات ہم حرم میں ہی داخل نہ ہو پائے اور کافی دور ایک ہوٹل کی لابی میں ہی امام صاحب کی مدہم سے آتی آواز کو ہی فالو کرکے جمعہ کی نماز ادا کی گئی ۔بعد میں علم ہوا کہ جمعہ کے روز صرف وہی حرم میں نماز ادا کر پاتے ہیں جو فجر سے ہی وہاں موجود رہتے ہیں ۔چلیں ہمیں تو کسی نے پہلے نہیں بتایا تھا آپ سب نئے جانے والے یہ بات یاد رکھیے گا۔

عمرہ کہانی 11مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کی کھلتی اور بند ہوتی بڑی بڑی چھتریاں بہت دلکش لگتی ہیں ۔ریاض الجنہ جانے کے لئے ج...
16/04/2026

عمرہ کہانی 11

مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کی کھلتی اور بند ہوتی بڑی بڑی چھتریاں بہت دلکش لگتی ہیں ۔ریاض الجنہ جانے کے لئے جب انتظار میں بیٹھے ہوتے تھے تو وہاں کی چھت دھیرے دھیرے ہٹتی جاتی تھی اور فجر کے وقت کی خوبصورتی اپنے پورے رنگ و روپ سے ہر سو چھا جاتی تھی ۔

مدینہ کی فضا میں رچی نرمی ہمیں بے خود کئے دیتی تھی ۔وہاں کبوتروں کے غول میں کھڑے ہونا، انہیں دانہ ڈالنا، ان کو آتے جاتے دیکھنا بھی اچھا لگتا تھا

مسجد نبوی میں بیٹھے ہوں، تو کوئ نہ کوئ کچھ نہ کچھ بانٹ رہا ہوتا تھا ،ہم نے بھی کئ مرتبہ منی منی بھتیجیوں کے ہاتھوں کھجوریں بانٹوائیں،وہاں بہت محبت کرنے والی خواتین ملیں، ایک دوسرے کی زبان سے نابلد، ہم لیکن ایک دوسرے کی محبت کو خوب ڈی کوڈ کر پا رہے تھے

ایمان کی لڑی میں جڑے ہم مختلف دیسوں سے آئے انجان ہو کر بھی انجان نہ لگتے تھے، الجزائر کی ایک سرخ و سفید خاتون نے زمل اور شانزے دونوں کو ایک ساتھ گود میں فٹ کیا اور تصویر لینے کی فرمائش کی ۔کوئ اس وقت انہیں دیکھ کے یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ اجنبی ہیں ۔

کچھ خاص ہے وہاں بہت ہی خاص

ایسا لگتا تھا جیسے ہم موبائل کی مرتی ہوئ بیٹری کی مانند تھے جسے ایک دم چارجر سے اٹیچ کر دیا ہو اور ہم جیسے ریڈ سے گرین میں شفٹ ہو گئے ہوں بس کچھ عجب سا احساس تھا خوشی کا ،اطمینان کا ،سکون کا ،جسے محسوس تو کیا جا سکتا ہے بیان کرنا آسان نہیں
جو لوگ دنیا کی چالاکیوں سے ،بے وفائیوں سے ،بے اعتنائیوں سے تنگ آ گئے ہوں وہ ایک مرتبہ اپنی' میں "کو گھر چھوڑیں اور جا کر مدینہ منورہ کی فضاؤں میں سانس لیں۔مجھے لگتا ہے یہ ایسی تھراپی ہے جو کہیں اور میسر نہیں

غم سے گھبرا کے قیامت کا طلب گار نہ بن
اتنا مایوس کرم اے دل بیمار نہ بن

خواہش دید ہے تو تاب نظر پیدا کر
ورنہ بہتر ہے یہی طالب دیدار نہ بن

مجھے منظور ہے یہ برق گرا دے مجھ پر
مجھ سے بیگانہ مگر اے نگہ یار نہ بن

دامن حال کو بھی پھولوں سے بھر دے ناداں
صرف مستقبل رنگیں کا طرفدار نہ بن

بالیقیں منزل مقصود ملے گی مجھ کو
نا امیدی تو مری راہ کی دیوار نہ بن

ہے رہائی کی تمنا تو گرا دے دیوار
قید زنداں میں رہین غم دیوار نہ بن

لائق حمد ہے وہ جس کی ضیا ہے ان میں
کم نظر چاند ستاروں کا پرستار نہ بن

میں خطا‌ وار ہوں تو مجھ کو مٹا دے صیاد
سارے گلشن کے لئے باعث آزار نہ بن

ایسے اقدام کا حاصل ہے یہاں ناکامی
بزم ساقی ہے یہ کشفیؔ یہاں خوددار نہ بن

کشفی لکھنؤی

عمرہ کہانی 10چار ساڑھے چار گھنٹے کے سفر کے بعد ہم مدینہ منورہ  داخل ہوئے میرے ذہن میں تھا کہ جس طرح ہم پیدل چل کر مکہ مک...
15/04/2026

عمرہ کہانی 10

چار ساڑھے چار گھنٹے کے سفر کے بعد ہم مدینہ منورہ داخل ہوئے میرے ذہن میں تھا کہ جس طرح ہم پیدل چل کر مکہ مکرمہ میں حرم شریف کی طرف گئے اور پھر خانہ کعبہ پہ نظر پڑی شائد اسی طرح ہم ہوٹل سامان رکھ کر مسجد نبوی کی طرف جائیں گے تو گنبد خضرا کا دیدار نصیب ہو گا۔

مگر بس نے اچانک ایک موڑ کاٹا اور گنبد خضرا نظروں کے سامنے ۔کتنی ہی دیر تو سمجھ ہی نہیں آیا کہ یہ میں امیجن کر رہی ہوں یا واقعی مجھے نظر آیا ہے؟ کیونکہ بس ایک اور موڑ کاٹ چکی تھی اور میں کنفیوز سی بیٹھی تھی لیکن جب آس پاس سب نے کہنا شروع کیا کہ دیکھا؟ کیا آپ نے بھی گنبد خضرا دیکھا ؟تو مجھے یقین آیا کہ وہ الوژن نہیں تھا حقیقت میں ہی تھا ۔

مکہ مکرمہ سے مدینہ شریف کا تاثر ایک دم مختلف ہے جیسے وہاں کی فضا میں ایک رعب ہے ،دبدبہ ہے، یہاں کی فضا میں نرمی ہے،اپنائیت ہے ، خوش آمدید سا تاثر ہے۔

مکہ مکرمہ میں چونکہ ہر ایک خانہ کعبہ کی طرف ہی کھنچا چلا جاتا ہے،کیونکہ کسی کو خانہ کعبہ کو ہاتھ لگانا ہے،تو کسی کو حجر اسود کو چومنا ہے،یا پھر کوئ حطیم میں نوافل پڑھنا چاہتا ہے تو اس کے لئے طواف کرنے والے لوگوں کے چکر کے بیچ میں سے راستہ بنانا پڑتا ہے ،اگر تو آپ خوب ڈیل ڈول رکھتے ہیں تو یہ ممکن ہو پاتا ہے سلم سمارٹ سے لوگ کئی مرتبہ مایوس ہی لوٹتے ہیں ۔

یہاں مسجد نبوی اتنی بڑی ہے کہ آپ جہاں بھی ہوں وہیں نماز میں شامل ہو جاتے ہیں، کہیں مخصوص جگہ پہ پہنچنے کی بے قراری نہیں ہوتی سوائے" ریاض الجنہ" کے ۔

جس وقت ہم گئے تھے ابھی ریاض الجنہ وزٹ کے لئے ایپ کے ذریعے اپنی باری بک کروانا شروع نہیں ہوا تھا. ہم خواتین فجر کے بعد دروازہ کھلنے کے انتظار میں بیٹھ جاتی تھیں وہاں تعینات سعودی فی میل گارڈز ہمیں الگ الگ گروپس میں بانٹ دیتی تھیں۔ہم پاکستانی اور انڈین خواتین ایک ہی گروپ میں ہوتی تھیں جنہیں وہاں جو مرضی انسٹرکشنز دی جاتیں وہ ایک کان سے سن کر دوسرے سے اڑا دیتیں ۔

جب ہم ریاض الجنہ پہنچے تو سب دو دو نوافل پڑھ سکتے تھے تاکہ اگلے گروپ کو جگہ مل سکے مگر برصغیری گروپ اسی کوشش میں ہوتا کہ مزید نوافل پڑھنے کا موقع مل جائے اسی چکر میں ایک خاتون نے عین راستے میں نوافل پڑھنے کی کوشش کی سعودی گارڈ نے روکنے کی کوشش کی تو وہ کہنے لگیں
توں ہٹ جا🤦
میں تے بنن لگی آں نیت
اللہ اکبر
🫡
یہ کہا اور سینے پہ ہاتھ باندھ لئے اور وہ گارڈ بے بسی سے کھڑی رہ گئ
ریاض الجنہ جانے کے لئے وہیل چئیر کا راستہ بالکل الگ سے تھا میں اور عنبر امی کی وہیل چئیر کے ساتھ باتیں کرتے جب کافی آگے تک آ گئے تو احساس ہوا کہ وہیل چئیر ایک ہے اور ہم دو ۔گارڈز یقینا ہم میں سے ایک کو واپس بھجوا دے گئیں۔اب عنبر نے وہیں کھڑے آنکھیں بند کیں اور خوب زور و شور سے دعائیں مانگنے لگی اللہ میاں جی ہم دونوں کو پہنچا دیں پلیز۔

اسی وقت ایک انڈین لڑکی دو وہیل چیئرز کو نہایت مشکل سے دھکیلتی ہم تک آ پہنچی ،اس کے ساتھ اس کی اپنی والدہ بھی تھیں اور اس کی مدر ان لاء بھی، مگر چلانے والی وہ اکیلی تھی عنبر نے فوراً اپنی خدمات پیش کیں اس نے بھی فوراً قبول کیں۔ اور یوں ہم سب آرام سے ریاض الجنہ پہنچ گئے بلکہ عنبر سب سے پہلے پہنچنے والوں میں سے تھی اسے دو کی بجائے چار نوافل پڑھ لینے کا ٹائم مل گیا۔

ایسے کئ مواقع اس وزٹ کے دوران پیش آئے جہاں دعائیں اس سپیڈ سے قبول ہوئیں کہ ہم حیرت زدہ ہی رہ گئے ۔بے شک ایسے وقت میں اپنا آپ جب اپنے رب کا لاڈلا لاڈلا سا لگتا ہے تو اس احساس کا کوئ بھی خوشی مقابلہ کر ہی نہیں سکتی ۔
(ریاض الجنہ کا خواتین کے لئے مختص حصہ ویسے مردوں کی نسبت نہایت مختصر ہے )
جاری ہےان شاء اللہ

عمرہ کہانی 9          کوئ کتاب لکھ کر چھپوانا اور فیس بک پہ لکھنے میں سب سے بڑا فرق یہی ہے کہ کتاب پہ تبصرہ اس کے مکمل ہ...
14/04/2026

عمرہ کہانی 9

کوئ کتاب لکھ کر چھپوانا اور فیس بک پہ لکھنے میں سب سے بڑا فرق یہی ہے کہ کتاب پہ تبصرہ اس کے مکمل ہو جانے اور چھپ کے آ جانے کے بعد ہوتا ہے مگر فیس بک پہ آپ کو ہاتھ کے ہاتھ فیڈ بیک ملتا ہے ۔

جیسا کہ آج ایک سسٹر نے ان باکس میں مجھے یہ میسیج بھجوایا۔اچھا لگا مجھے ان کی محبت دیکھ کر ۔

مگر یہاں میرا اپنا ایک پوائنٹ آف ویو ہے ۔ہم خصوصا برصغیر کے مسلمان محبت کی ایک الگ ہی قسم میں مبتلا ہوتے ہیں ۔صاف کہوں تو ظاہری اور مادی طرز کی محبت ہے ہماری ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے 63 سال ان جگہوں پہ گزارے ۔نبوت آپ کو چالیس سال کی عمر میں ملی، اگلے 23 سال میں غم بھی ہیں خوشیاں بھی، فتوحات بھی ہیں اور احد بھی۔طائف کا سفر بھی ہے اور شعب ابی طالب بھی ۔یعنی جگہیں اپنے آپ میں کوئ کمال نہیں رکھتیں بلکہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہستی ہے جو کمال ہے ۔

ہمیں محبت ان سے کرنی تھی ان کے طور طریقوں سے، ان کے دئیے گئے احکامات سے ،ان کے طرز زندگی سے ۔وہ نبوت ملنے سے پہلے بھی صادق اور امین تھے ہم میں سے کون ہے جو ان کی محبت کا دعویدار ہو اور یہ دعوی بھی کر سکے کہ میں اس لئے ہمیشہ سچ بولتا ہوں کیونکہ میرے پیارے نبی صادق تھے۔

کون ہے جو ظالم کے سامنے کلمہ حق پڑھنے کی ہمت رکھتا ہے ہم تو وہ منافق ہیں جو گھروں میں ہونے والی سیاست میں بھی اپنی پسند کی سائیڈ کے لئے سچائ سے دانستہ منہ موڑ لیتے ہیں۔

ہماری محبت داڑھی رکھنے ،ٹخنوں سے اوپر شلوار کرنے ،چار شادیوں کی اجازت ہونے،ان سے منسوب چیزوں کو چومنے کی حد تک ہی ہے ۔جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت میں ان سنتوں کو اپناتے ہیں اللہ انہیں ضرور ان کی نیت کا پھل دے۔

مگر میرا یہ سب لکھنے کا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ ہمیں اپنی ترجیحات پہ لازمی غور کرنا چاہیے ۔ضرور ان مادی چیزوں سے لگاؤ رکھیے مگر ساتھ ساتھ پوری کوشش کیجیے کہ صادق بنیں , امین رہیں, وہ جیسے شوہر تھے, جیسے سپہ سالار تھے ,جیسے ایڈمنسٹریٹر تھے ,جیسے فاتح تھے،جیسے دوست تھے غرض ان کی زندگی میں سیکھنے کو اتنا کچھ ہے کہ ہم کچھ تھوڑا بہت بھی سیکھ پائیں تو مجھے یقین ہے کہ ہمارا بیڑہ پار ہو جائے ۔

مگر ہم الجھ کر رہ جاتے ہیں ان کے لباس میں ،ان کی چال میں ،ان کے حسن میں ،ان کے سایہ کے ہونے یا نہ ہونے میں ،جہاں سے وہ گزرے ہوں گے ان گلیوں میں ،۔حالانکہ سچ تو یہ ہے کہ مسجد نبوی جو آج اتنی وسیع و عریض ہے اس میں بھی صرف گرین کارپٹس والی جگہ یعنی "ریاض الجنہ" ہی وہ جگہ ہے جو اس زمانے میں مسجد نبوی تھی.

کبھی تاریخ پڑھیں تو رونا آ جائے کہ بعد میں آنے والے کئ ظالموں نے تو حرم کی حرمت کا خیال نہ رکھا، حجر اسود کو نہ بخشا تو کیا وہ ظالم ان گلیوں سے نہ گزرے ہوں گے ۔ان گلیوں میں کوئ ایسی خاصیت نہیں جو انسان کو حقیقت میں اشرف المخلوقات بنا سکے یہ طاقت صرف میرے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات میں ہی ہے جسے ہائے افسوس ہم بھلائے بیٹھے ہیں💔

Address

Saeed Colony
Faisalabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Huma writes posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category