31/07/2026
قسط 15
سفر نامہ کالام
اور جیسا کہ چھوٹے نواب نے سوچا ہوا تھا سو ہمیں کالام فورسٹ میں رکنا ہی پڑا ،بارش کی وجہ سے موسم سرد ہو چکا تھا اس لئے انڈے بیچنے والے بچوں سے انڈے لے کر کھائے گئے ۔جانے ان کے پاس کیا ٹرک تھی اس سرد موسم میں بھی انڈے بہت اچھے سے گرم تھے ۔انڈے بیچنے والے بچے کے ہاتھ ہی جیپ ڈرائیور کے لئے بھی انڈا بھیجا گیا جو زرا فاصلے پہ جیپ کھڑی کئے ہمارا انتظار کر رہا تھا مگر اس نے واپس لوٹا دیا ۔جین زی کہیں کی بھی ہو ہیلتھی کھانے حلق سے کہاں اترتے ہیں ان کے😠جیپ ڈرائیور یہی کوئ انیس بیس سال کا بچہ تھا جب اس سے پوچھا کہ کب سے جیپ چلا رہے ہو تو کہنے لگا سات سال ہو گئے ۔یقینا اس نے بھی سٹارٹ کسی چھوٹے موٹے کام سے لیا ہو گا اور اب اتنی سی عمر میں یہاں تک پہنچ گیا تھا۔
اس مرتبہ جو جھولا ہمارے سامنے نظر آ رہا تھا وہ سلور کلر کی جھالروں سے ڈیکوریٹ تھا بیٹی کو دوبارہ بیٹھنے کی آفر کروائی تو کہنے لگی بھئ یہ تو نئے شادی شدہ کپلز کے بیٹھنے کے لئے ڈیکوریٹ کیا لگ رہا ہے اب ہمارے پاس نیا تو کوئ ہے نہیں آپ دونوں ہی بیٹھ جائیں اتنے بھی کوئ پھٹے پرانے نہیں ہوئے ابھی 🤭۔سو ہم نے کہا ہاں ہاں کیوں نہیں ۔☺️ہم بیٹھ جاتے تھے اس وقت ایسا موقع نہیں ملا تھا ۔
آج ہی حسنین جمال صاحب کی پوسٹ پڑھی ہے جس میں وہ لکھتے ہیں کہ
کنفیوشس نے کہا تھا کہ
"ہماری دو زندگیاں ہیں
دوسری تب شروع ہوتی ہے
جب پتہ لگتا ہے کہ اصل میں آپ کے پاس صرف ایک ہے "
سو ہمیں بھی یہ پتہ چل چکا ہے کہ اب ہر گزرتا دن تو بونس ہی ہے سو کھل کر جی لیں☺️( ان کی آج کی پوسٹ پڑھنے لائق ہے سرچ کرنے میں سستی والوں کے لئے سکرین شاٹ لگا رہی ہوں )
اتنے حسین نظاروں کو دیکھ لینے کے بعد بھی ابھی دل میں کہیں کمراٹ کا خیال چھپا بیٹھا تھا۔جیپ ڈرائیور سے کمراٹ کا سفر دورانیہ اور چارجز پوچھے ۔دونوں ہی ٹو مچ تھے اس لئے اس کو نیکسٹ ٹائم پہ ڈال دیا گیا،
مال روڈ پہ لگے ایک بورڈ کی تصویر لی تاکہ آئیندہ آنے سے پہلے ہی ہم طے کر سکیں کہ کہاں کہاں جانا ہے ؟؟آپ لوگوں کی آسانی کے لئے وہاں موجود اہم مقامات کے راستے اور جیپ چارجز کی تصویر لگا رہی ہوں ۔
ہوٹل واپس پہنچتے پہنچتے تیز بارش شروع ہو گئ تھی ہم بھاگ کر کمروں تک پہنچے ،یہاں کے ہوٹل کا شیف چھٹی پہ گیا ہوا تھا صرف چائے ہی ملتی تھی اور اس موسم میں چائے تو مسٹ تھی نا ۔اب بارش بہت تیز تھی مگر خالی چائے میرے تو خلق سے ہی نہیں اترتی بسکٹ چاہیے تھے مجھے تو۔ساتھ ہی سٹور تھا مگر بارش کہہ رہی تھی آؤ اگر ہمت ہے تو۔بیٹے نے آفر کی بھی کہ کوئ نہیں میں لے آتا ہوں مگر میں نے گھر میں پڑے رہ گئے بسکٹوں کو یاد کر کے ہی چائے پی لی جانے اس بار میں ساتھ رکھنا کیسے بھول گئ تھی۔🙄
بارش رک گئی تو ڈنر کے لئے نکلے صبح کمال کے ناشتے سے ڈر کر ہم نے تندوری جانے کو ہی ترجیح دی اور اس بار ان کے پزا ٹرائ کئے اچھا تجربہ رہا۔
مال روڈ پہ گھومتے ہوئے ڈرائ فروٹس کی شاپ سے ڈرائ آم ،کیلا ،موسمی ،آلوبخارہ لئے،اس کے علاوہ کاجو اور اخروٹ کی گری لی ۔ان میں سے کیلا اور موسمی کا تجربہ بالکل اچھا نہیں رہا ٹو مچ میٹھے تھے ۔
سوات جانے سے پہلے ٹو ڈو لسٹ میں وہاں سے رنگ لینا بھی شامل تھا کیونکہ جب میں کالج ٹرپ کے ساتھ گئ تھی تو وہاں سے ایک بلیک سٹون کی رنگ لائ تھی جو بہت عرصے میرے پاس رہی پھر جانے کب گم گئ ۔اس مرتبہ میں نے بازار کے ہر وزٹ پہ ویسی رنگ ڈھونڈی مگر اب تو بازاروں میں ہر طرف چائنا کا مال ہی بھرا ہوتا ہے۔
واپسی پہ بارش کے باعث آج لان کی بجائے کمرے کے سامنے موجود برآمدے میں بیٹھ موسم انجوائے کیا گیا۔بڑا سپوت بابا کے ساتھ چیس کھیلنے لگا اور ہم نے کل رسپشن پہ ایک پیاری سی بلی دیکھ لی تھی سو آج اس سے ملنے چلے گئے وہاں ایک کارنر میں انہوں نے علاقے کے روایتی میوزیکل انسٹرومنٹس بھی سجا رکھے تھے۔
ہمارے ساتھ والے تین کمروں میں جو خاندان ٹھہرا ہوا تھا اس میں پانچ سے بارہ سال کے آٹھ بچے موجود تھے سب بڑے انہیں ہوٹل میں چھوڑ شائد شاپنگ پہ نکل گئے تھے اور وہ پیچھے سے ہم سب کا امتحان بنے ہوئے تھے، اس عمر میں بچوں میں انرجی بھی بہت ہوتی ہے ہم جو اس امید پہ بیٹھے تھے کہ آخر تو تھک کے آرام سے بیٹھ ہی جائیں گے انہوں نے ہماری یہ امید زور سے توڑی اور ہمارے سونے تک تو وہ بالکل نہیں تھکے تھے،صبح چونکہ ہم نے واپس نکلنا تھا اس لئے ہم نے کان لپیٹ کے سونے کو ہی ترجیح دی
جاری ہے
ان شاء اللہ