Huma writes

Huma writes life skills

قسط 15سفر نامہ کالاماور جیسا کہ چھوٹے نواب نے سوچا ہوا تھا سو ہمیں کالام فورسٹ میں رکنا ہی پڑا ،بارش کی وجہ سے موسم سرد ...
31/07/2026

قسط 15
سفر نامہ کالام

اور جیسا کہ چھوٹے نواب نے سوچا ہوا تھا سو ہمیں کالام فورسٹ میں رکنا ہی پڑا ،بارش کی وجہ سے موسم سرد ہو چکا تھا اس لئے انڈے بیچنے والے بچوں سے انڈے لے کر کھائے گئے ۔جانے ان کے پاس کیا ٹرک تھی اس سرد موسم میں بھی انڈے بہت اچھے سے گرم تھے ۔انڈے بیچنے والے بچے کے ہاتھ ہی جیپ ڈرائیور کے لئے بھی انڈا بھیجا گیا جو زرا فاصلے پہ جیپ کھڑی کئے ہمارا انتظار کر رہا تھا مگر اس نے واپس لوٹا دیا ۔جین زی کہیں کی بھی ہو ہیلتھی کھانے حلق سے کہاں اترتے ہیں ان کے😠جیپ ڈرائیور یہی کوئ انیس بیس سال کا بچہ تھا جب اس سے پوچھا کہ کب سے جیپ چلا رہے ہو تو کہنے لگا سات سال ہو گئے ۔یقینا اس نے بھی سٹارٹ کسی چھوٹے موٹے کام سے لیا ہو گا اور اب اتنی سی عمر میں یہاں تک پہنچ گیا تھا۔

اس مرتبہ جو جھولا ہمارے سامنے نظر آ رہا تھا وہ سلور کلر کی جھالروں سے ڈیکوریٹ تھا بیٹی کو دوبارہ بیٹھنے کی آفر کروائی تو کہنے لگی بھئ یہ تو نئے شادی شدہ کپلز کے بیٹھنے کے لئے ڈیکوریٹ کیا لگ رہا ہے اب ہمارے پاس نیا تو کوئ ہے نہیں آپ دونوں ہی بیٹھ جائیں اتنے بھی کوئ پھٹے پرانے نہیں ہوئے ابھی 🤭۔سو ہم نے کہا ہاں ہاں کیوں نہیں ۔☺️ہم بیٹھ جاتے تھے اس وقت ایسا موقع نہیں ملا تھا ۔

آج ہی حسنین جمال صاحب کی پوسٹ پڑھی ہے جس میں وہ لکھتے ہیں کہ
کنفیوشس نے کہا تھا کہ

"ہماری دو زندگیاں ہیں
دوسری تب شروع ہوتی ہے
جب پتہ لگتا ہے کہ اصل میں آپ کے پاس صرف ایک ہے "

سو ہمیں بھی یہ پتہ چل چکا ہے کہ اب ہر گزرتا دن تو بونس ہی ہے سو کھل کر جی لیں☺️( ان کی آج کی پوسٹ پڑھنے لائق ہے سرچ کرنے میں سستی والوں کے لئے سکرین شاٹ لگا رہی ہوں )

اتنے حسین نظاروں کو دیکھ لینے کے بعد بھی ابھی دل میں کہیں کمراٹ کا خیال چھپا بیٹھا تھا۔جیپ ڈرائیور سے کمراٹ کا سفر دورانیہ اور چارجز پوچھے ۔دونوں ہی ٹو مچ تھے اس لئے اس کو نیکسٹ ٹائم پہ ڈال دیا گیا،

مال روڈ پہ لگے ایک بورڈ کی تصویر لی تاکہ آئیندہ آنے سے پہلے ہی ہم طے کر سکیں کہ کہاں کہاں جانا ہے ؟؟آپ لوگوں کی آسانی کے لئے وہاں موجود اہم مقامات کے راستے اور جیپ چارجز کی تصویر لگا رہی ہوں ۔

ہوٹل واپس پہنچتے پہنچتے تیز بارش شروع ہو گئ تھی ہم بھاگ کر کمروں تک پہنچے ،یہاں کے ہوٹل کا شیف چھٹی پہ گیا ہوا تھا صرف چائے ہی ملتی تھی اور اس موسم میں چائے تو مسٹ تھی نا ۔اب بارش بہت تیز تھی مگر خالی چائے میرے تو خلق سے ہی نہیں اترتی بسکٹ چاہیے تھے مجھے تو۔ساتھ ہی سٹور تھا مگر بارش کہہ رہی تھی آؤ اگر ہمت ہے تو۔بیٹے نے آفر کی بھی کہ کوئ نہیں میں لے آتا ہوں مگر میں نے گھر میں پڑے رہ گئے بسکٹوں کو یاد کر کے ہی چائے پی لی جانے اس بار میں ساتھ رکھنا کیسے بھول گئ تھی۔🙄

بارش رک گئی تو ڈنر کے لئے نکلے صبح کمال کے ناشتے سے ڈر کر ہم نے تندوری جانے کو ہی ترجیح دی اور اس بار ان کے پزا ٹرائ کئے اچھا تجربہ رہا۔

مال روڈ پہ گھومتے ہوئے ڈرائ فروٹس کی شاپ سے ڈرائ آم ،کیلا ،موسمی ،آلوبخارہ لئے،اس کے علاوہ کاجو اور اخروٹ کی گری لی ۔ان میں سے کیلا اور موسمی کا تجربہ بالکل اچھا نہیں رہا ٹو مچ میٹھے تھے ۔

سوات جانے سے پہلے ٹو ڈو لسٹ میں وہاں سے رنگ لینا بھی شامل تھا کیونکہ جب میں کالج ٹرپ کے ساتھ گئ تھی تو وہاں سے ایک بلیک سٹون کی رنگ لائ تھی جو بہت عرصے میرے پاس رہی پھر جانے کب گم گئ ۔اس مرتبہ میں نے بازار کے ہر وزٹ پہ ویسی رنگ ڈھونڈی مگر اب تو بازاروں میں ہر طرف چائنا کا مال ہی بھرا ہوتا ہے۔

واپسی پہ بارش کے باعث آج لان کی بجائے کمرے کے سامنے موجود برآمدے میں بیٹھ موسم انجوائے کیا گیا۔بڑا سپوت بابا کے ساتھ چیس کھیلنے لگا اور ہم نے کل رسپشن پہ ایک پیاری سی بلی دیکھ لی تھی سو آج اس سے ملنے چلے گئے وہاں ایک کارنر میں انہوں نے علاقے کے روایتی میوزیکل انسٹرومنٹس بھی سجا رکھے تھے۔

ہمارے ساتھ والے تین کمروں میں جو خاندان ٹھہرا ہوا تھا اس میں پانچ سے بارہ سال کے آٹھ بچے موجود تھے سب بڑے انہیں ہوٹل میں چھوڑ شائد شاپنگ پہ نکل گئے تھے اور وہ پیچھے سے ہم سب کا امتحان بنے ہوئے تھے، اس عمر میں بچوں میں انرجی بھی بہت ہوتی ہے ہم جو اس امید پہ بیٹھے تھے کہ آخر تو تھک کے آرام سے بیٹھ ہی جائیں گے انہوں نے ہماری یہ امید زور سے توڑی اور ہمارے سونے تک تو وہ بالکل نہیں تھکے تھے،صبح چونکہ ہم نے واپس نکلنا تھا اس لئے ہم نے کان لپیٹ کے سونے کو ہی ترجیح دی

جاری ہے
ان شاء اللہ

قسط 14سفر نامہ کالام       جس آب شار پہ جیپ ڈرائیور ہمیں لے کر آیا وہ جگہ واقعی ہمارے مزاج کے مطابق تھی ۔نہایت حسین ۔پہا...
30/07/2026

قسط 14
سفر نامہ کالام

جس آب شار پہ جیپ ڈرائیور ہمیں لے کر آیا وہ جگہ واقعی ہمارے مزاج کے مطابق تھی ۔نہایت حسین ۔پہاڑوں سے آتی آبشار درمیان میں سڑک ،سڑک کنارے چھلیوں ،فرائز اور شہد کا سٹال اور سڑک کے دوسری جانب تیز بہاؤ کا دریا ۔

بارش رک چکی تھی ہوائیں نہایت تیز تھیں، بچگان تو آب شار کے ساتھ ساتھ موجود پتھروں سے بنے ٹیڑھے میڑھے راستوں پہ جگہ بناتے اوپر چڑھنے لگے، میں اور میاں جی انہیں بتا کر دریا کی سائیڈ پہ آ گئے ۔

ایک بڑے سے پتھر پہ ایک صاحب نماز ادا کر رہے تھے ۔ہم نے بھی دریا کے یخ ٹھنڈے پانی سے کپکپاتے وضو کیا اور ظہرین ادا کی۔ایسی نمازیں شائد زندگی میں چند بار ہی مل سکی ہوں گئیں سلام پھیرو تو پہاڑوں کی خوبصورتی دیکھ سلام کے ساتھ ساتھ سبحان اللہ بھی بے ساختہ منہ سے خود بخود ادا ہو جائے ۔کہ جس رب نے ایسی پیاری دنیا بنائ ہے اس کی بنائ ہوئ جنت کیا ہی چیز ہو گی🥰 جیسے وہاں بیٹھ جنت مانگی شائد کبھی بھی نہ مانگی ہو گی۔حالانکہ دل میں تو وہ والا شعر ہی گونج رہا تھا

یہ سچ ہے کہ جنت میں ہے حوروں کا وجود
حسن انساں سے نمٹ لوں تو وہاں تک پہنچوں

یہاں ہم حسن انساں کی بجائے حسن دنیا میں کھو گئے تھے ،ابھی تو دنیا کی حسین نظاروں سے ہی دل نہیں بھر پارہا جنت تو بہت آگے کی چیز ہوگی ۔

بڑا سپوت ہماری غیر موجودگی میں خودبخود دونوں چھوٹوں کی کمان سنبھال لیتا ہے اس لئے اس نے بہن کو سہارا دیتے چھوٹے پہ بھی نظر رکھی ہوئ تھی کہ زیادہ اوپر ہی نہ نکل جائے واپس آنا مشکل ہو جاتا ہے ۔

ایسی چڑھائیاں دیکھنے میں بہت مشکل نظر آتی ہیں مگر پھر بھی انسان قدم جماتے ہوئے چڑھ ہی جاتا ہے اصل امتحان تو اترتے وقت ہوتا ہے جب قدم جمانے کی کوشش میں ناکامی آپ کو پھسل کر گرنے سے دوچار کر سکتی ہے ۔

اس آب شار پہ گزرا وقت جھیلوں پہ گزرے وقت سے زیادہ مزیدار رہا، چھیلیوں والے سے چھیلیاں لیں فرائز والے نے بیس منٹ کا ٹائم دیا تھا تو چھوٹے سپوت نے منع کر دیا کیونکہ اس نے چپکے سے دل میں سوچا ہوا تھا کہ ابھی میں نے کالام فورسٹ کے پاس پہنچ کر کچھ دیر وہاں رکنے کا پھڈا بھی ڈالنا ہے🙄 ۔

گھر میں شہد 🍯 ختم تھا اور وہاں جگہ جگہ شہد کے سٹال مجھے شاپنگ پہ اکسا رہے تھے شہد والا بھائ گھروں میں عام استعمال ہونے والی دیگچی میں سے شہد چکھاتا تھا ،میں نے انہیں نئے ڈبے میں ڈالنے کو کہا ،اتنی ہی دیر میں ایک صاحب آئے اور چکھ کر کہنے لگے یہ تو اصل نہیں ہے اصل تو سیدھا جا کر گلے میں لگتا ہے😵‍💫

مجھے ویسے ایسے ڈیڑھ ہوشیار لوگ زرا پسند نہیں بھئ آپ نے نہیں لینا نہ لو ان کی دکانداری تو خراب نہ کرو یوں بھی میرا ماننا تو یہی ہے کہ وہاں بکتا ہوا ہمارے شہروں میں ملنے والے سے پھر بھی بہتر ہی ہو گا☺️ ہوٹل کے لان میں بیٹھے میں نے ایک شہد کی مکھی کو ایک پھول سے دوسرے پھول شہد اکٹھا کرتے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا اب یہ نظارہ بھلا ہمارے مصنوعی شہروں میں کہاں دیکھنے کو ملتا ہے

ان شہد والے صاحب نے کچھ پھول اور جڑی بوٹیاں بھی خشک کرکے ساتھ رکھی ہوئ تھیں جن کا استعمال ان کے مطابق ہاضمے کے لئے بہترین تھا سو وہ بھی چیک کرنے کو تھوڑی سی لے لی گئیں۔یہ اور بات کہ ابھی تک انہیں آزمایا نہیں گیا۔

واپسی کے راستے میں ایک جگہ ٹریفک بلاک ہو گئ ویسے تو ایسے کئ مقامات آتے ہیں جہاں کوئ اناڑی ڈرائیور گاڑی غلط انداز میں پھنسا لے تو ایک دم ہی گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں ایسی ہی ایک جگہ کھڑے ہم سوچ رہے تھے کہ اب جانے کتنا ٹائم یہیں کھڑے رہنا پڑے مگر اچانک کافی دیر سے اٹکی ہوئ گاڑیاں نکلنے لگیں

کچھ دیر میں ہمارے پاس سے ایک ٹریفک وارڈن گزرے تو پتہ چلا کہ یہ ان کا کارنامہ ہے انہوں نے آتے ہی جانے کیا جادو کی چھڑی گھمائی کہ ٹریفک رواں دواں ہو گئ ایسی جگہوں پہ ان وارڈنز کی موجودگی واقعی نعمت ہے ۔

اس راستے میں کئ مشہور شہر آتے ہیں اوشو کا نام تو میں نے سنا ہوا تھا ،مٹلتان کا نام پہلی بار سنا اور ملتان میں ٹ گھسانے کی وجہ سے ہی یاد رہ گیا ۔اچھی سڑک ہونے کے باعث جگہ جگہ ہوٹل اور گیسٹ ہاؤسز بن رہے تھے اور کچھ جگہیں تو اتنی سٹائلش تھیں کہ ہم نے وہیں فیصلہ کر لیا نیکسٹ ٹائم یہاں آ کر رکیں گے ان شاءاللہ ۔

یہ شائد پہلی جگہ ہے جہاں کے وزٹ کے دوران ہی ہم اگلی بار کا ساتھ ساتھ ہی پلان کر رہے تھے نہیں نہیں یاد آیا یہ حرکت ہم نے کشمیر وزٹ کے دوران وادی نیلم میں بھی کی تھی 🤦

جاری ہے
ان شاءاللہ

قسط 13سفر نامہ کالام      جھیلوں تک کا سفر اردگرد کے نظاروں نے بہت خوبصورت بنا دیا تھا پہلا سٹاپ ہم نے چشمہ شفا پہ کیا ,...
29/07/2026

قسط 13
سفر نامہ کالام

جھیلوں تک کا سفر اردگرد کے نظاروں نے بہت خوبصورت بنا دیا تھا پہلا سٹاپ ہم نے چشمہ شفا پہ کیا ,بڑے بیٹے کے فیس پہ کچھ الرجی کا ایشو چل رہا ہے میں نے چشمہ شفا کا بورڈ دیکھتے ہی شور مچا دیا کہ یہاں رکیں گے اور شفا کی امید کے ساتھ یہاں کے چشمے کے پانی سے منہ دھوئیں گے۔😊

کولڈ ڈرنکس کے سٹال کے اوپر سے چشمے کے پانی والا پائپ گزارا گیا تھا جس میں جگہ جگہ سوراخ تھے اس جگاڑ سے وہاں کولڈ ڈرنکس کو بنا فریج ٹھنڈا رکھا جا رہا تھا یہ جگاڑ ویسے وہاں جگہ جگہ نظر آیا ۔

مہونڈڈ جھیل پہ رکنے کی بجائے ہم نے سیف اللہ جھیل پہ پہلے جانے کا ارادہ کیا کہ واپسی پہ یہاں رک جائیں گے آخر اسی راستے سے واپس جانا ہے ۔

وہاں ڈھیر ساری فیملیز پکنک منا رہی تھیں سب کے پاس چٹائ اور کھانے پینے کا سامان موجود تھا ویسے تو وہاں سے بھی کھانے پینے کو سب کچھ ہی مل رہا تھا مگر بیشتر افراد اپنا انتظام ساتھ لے کے آئے تھے ۔

جھیل سیف اللہ وہی جگہ ہے جہاں پچھلے ماہ ایک نیوی آفیسر اپنی پوری فیملی کے ساتھ کشتی پتھر سے ٹکرا کر الٹ جانے کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔اس افسوس ناک حادثے کا اثر کافی دن گزر جانے کے بعد بھی وہاں پایا جاتا تھا، ماحول میں ایک بھاری پن سا تھا ۔بوٹنگ پہ مکمل پابندی تھی ۔بلکہ ایک خوف کا احساس موجود تھا ہم نے اپنے جیپ ڈرائیور سے جب بوٹنگ کا پوچھا تو اس نے باقاعدہ توبہ توبہ والے انداز میں منع کیا کہ یہاں ابھی بھی سرچ آپریشن چل رہا ہے ۔ہم نے وہ جگہ دیکھی اور ہمیں بآسانی اندازہ ہو گیا کہ کیا ہوا ہو گا🥺۔کیونکہ ایک تو وہاں پانی یخ ٹھنڈا ہے دوسرا جھیل سے زرا ہی آگے دریا اپنے فل پاور شو کے ساتھ موجود تھا جہاں سے کسی کا بھی بچ نکلنا معجزہ ہی ہوتا۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسے حادثات سے محفوظ رکھے آمین۔

وہاں رہنے کا من ہی نہیں کیا اس لئے زرا سی دیر رک کر ہم مہونڈڈ جھیل پہ آ گئے ۔یہاں بھی لوگوں کا بے تحاشا رش تھا ۔یہاں جھیل میں ایک جگہ ٹراوٹ پکڑنے کو ایک سیٹ اپ بنا رکھا تھا۔اور جو لوگ آرڈر کرتے تھے وہیں سے ان کے سامنے ٹراؤٹ پکڑی جاتی اور اسے تیار کیا جاتا۔

اب جبکہ ہمیں دریا کی مچھلی مل رہی تھی تو ہمیں بھوک ہی نہیں تھی۔یہ اچھا رولا تھا ہمارے ساتھ 😵‍💫جب چاہیے تھی تو مچھلی نہیں تھی اور جب مچھلی تھی تو بھوک نہیں تھی یعنی دوسرے لفظوں میں اس ٹرپ پہ دریا کی مچھلی کھانا ہمارے نصیب میں ہی نہیں تھا 🤦۔

ہم ابھی کہیں بیٹھنے کے لئے پر سکون گوشہ ڈھونڈ ہی رہے تھے کہ بارش شروع ہو گئ ۔اللہ اللہ ایسی ٹھندی بارش میں نے تو اپنی پوری لائف میں ایکسپیرینس نہیں کی ۔باقاعدہ کپکپی چھڑ گئ تھی اور ہم بھاگ کے کسی شیڈ کے نیچے چھپنا چاہتے تھے مگر آس پاس کوئ شیڈ نہ پا کر ہم واپس جیپ میں ہی آ کر بیٹھ گئے ۔

سامنے ہی آب شار تھی بچے جھیل سے زیادہ آب شار پہ جانے میں انٹرسٹڈ تھے تو ڈرائیور نے ہمیں بتایا کہ واپسی کے راستے میں ایک بڑی آب شار آتی ہے وہاں لے چلتا ہوں ۔ہم بھی یہاں کے رش سے نکلنا چاہ رہے تھے سو آب شار کی طرف سفر شروع ہوا۔جتنا وقت ہم اس مشہور جھیل پہ ٹھہرے اس سے زیادہ وقت تو ہم نے چھوٹا مہونڈڈ پہ گزار لیا تھا ویسے باقی آپ لوگوں کا تو پتہ نہیں ہمیں اچھی خوبصورت جگہ کے ساتھ سکون اور کم رش بھی درکار ہوتا ہے تب ہی ہم انجوائے کر پاتے ہیں
جاری ہے
ان شاءاللہ

قسط 12سفر نامہ کالاماس کمرے کا دروازہ شور نہیں کرتا تھا اس لئے میرے اور فجر کے خوبصورت وقت کے درمیان کون آ سکتا تھا بھلا...
28/07/2026

قسط 12
سفر نامہ کالام

اس کمرے کا دروازہ شور نہیں کرتا تھا اس لئے میرے اور فجر کے خوبصورت وقت کے درمیان کون آ سکتا تھا بھلا 😊
سبحان اللہ ❤️کیا ہی نظارہ تھا، میں نے تصویریں لی تو ہیں مگر تصویریں بھلا اس وقت کو کیسے بیان کر پائیں گئیں۔اس کے لئے تو آپ سب کو خود ہی ہمت کرکے ان علاقوں کی طرف جانا ہو گا۔

ناشتے کے لئے مال روڈ پہ نکلے تو سوچا بہت کھا لیا ادریسیہ اب کچھ نیا ٹرائے کرتے ہیں اس کے سامنے ہی" کمال" نام سے ریسٹورنٹ تھا موسم اچھا تھا اور ان کی آوٹ ڈور سیٹنگ بھی ٹھیک تھی تو وہیں بیٹھ گئے ۔انہوں نے مینیو دیا حالانکہ خوب سوچ ساچ کے مڑ کے کھانی ہم نے حلوہ پوری اور آملیٹ پراٹھا ہی ہوتا ہے خیر آرڈر دینے کے بعد ہم آس پاس کے جائزوں میں مصروف ہو گئے ۔

تین چار فیملیز موجود تھیں ہمارے سب سے قریب والے ٹیبل پہ ایک فیملی اپنے ایک تین سال بچے کے ساتھ آ کر بیٹھی اب آج کل بچے بچیاں پینٹ شرٹ ہی پہنتے ہیں اور کٹنگ بھی ایک ہی جیسی ہوتی ہے فیچرز سے بھی اندازہ نہیں ہو پارہا تھا ہم میں شرط لگ گئ کہ یہ بیٹا ہے یا بیٹی ۔اب میرے بچگان مصر تھے کہ یہ لڑکا ہے اور میں کہوں نہیں لڑکی ہے اب بھلا ان سے پوچھیں کیسے ؟؟

خیر ناشتہ آ کر نہیں دے رہا تھا اور کچھ کرنے کو تھا نہیں بچے اٹھ کر گھومنے پھرنے لگے ان کے اس سٹنگ ایریا سے نیچے اترائی میں ایک اور سٹنگ ایریا بھی تھا جو بالکل دریا کنارے تھا اور وہاں بون فائر کا سیٹ اپ بھی موجود تھا کئ فیملیز سے بچے اٹھ کر وہاں چلے گئے تھے اور تصویریں کھنچوا رہے تھے ۔

ہم بھی اب نہایت بور ہو چکے تھے وہاں سے گزرنے والے ہر ویٹر کو ریمانڈر دے چکے کہ بھائ ہم نے ناشتہ کرنے کے بعد آگے بھی کچھ پلان کر رکھا ہے سارا دن یہیں بیٹھے رہنے کا کوئ ارادہ نہیں ہمارا ۔مگر وہ سب اپنے رسٹورینٹ کے نام کمال کی مانند کوئ کمال ہی نو ایکسپریشن کی مثال بنے ہوئے تھے

تنگ آ کر میاں جی اٹھ کر ان کے کچن ایریا کی طرف گئے اور پوچھا کہ اگر کوئ مسئلہ ہے تو بتا دیجیے ہم کہیں اور چلے جاتے ہیں خیر اس کے بعد ناشتہ آ ہی گیا اب ناشتہ کیسا تھا اس کے متعلق کیا ہی کہوں🙄 بس جب ویٹر ہماری ٹیبل سے مینیو کارڈ اٹھانے آیا اور پوچھا فارغ ہے؟ میرے منہ سے ترنت نکلا مینیو کارڈ ہی نہیں ناشتہ بھی فارغ ہے ۔😠

چھوٹا سپوت الگ تنگ کرے آپ کو ہی شوق ہوا تھا کہ کچھ نیا ٹرائے کرتے ہیں اچھا خاصا ایک جگہ کا پتہ تھا کہ ٹھیک ہے تو کیا ضروت تھی پنگا لینے کی ۔بھئ میرا موقف تو یہ تھا کہ کوئ اچھی جگہ مس نہ ہو جائے ٹرائے نہی کریں گے تو پتہ کیسے چلے گا مگر یہاں والوں نے تو میری توبہ کروا دی ۔

خیر اٹھتے اٹھتے میں نے اس چھوٹے بچے کی والدہ سے ہیلو ہائے کر ہی لی اور اس کا نام پوچھ لیا تاکہ پتہ تو چلے کہ لڑکا ہے یا لڑکی اور یہاں میں بچوں سے شرط جیت چکی تھی😁 ۔یاہ ہو😝 برے ناشتے کی کلفت اڑن چھو ہو چکی تھی کم از کم میرے لئے تو 😅

ناشتے کے ناخوشگوار تجربے کے بعد ہم جیپ کی تلاش میں نکلے، کل تک جو ریٹ تھا وہ آج ویک اینڈ ہونے کی وجہ سے دو تین ہزار رات و رات ہی بڑھ چکا تھا ۔یہ تو خیر ہم دیکھ ہی رہے تھے کہ ویک ڈیز اور ویک اینڈ ز میں کافی فرق ہوتا ہے ان جگہوں پہ ۔جیسا کہ ہم جہاں ٹھہرے ہوئے تھے ہلٹن مون میں وہاں کے دروازے پہ بھی ہاؤس فل کا بورڈ لگ چکا تھا کہ اب خوامخواہ آ کر کمرے کا پوچھ کر ٹائم ضائع نہ کریں ۔

خیر لاروش کے نام سے ایک ہوٹل تھا وہاں جس کے باہر کھڑی جیپ سے گیارہ ہزار میں جھیل سیف اللہ تک کا طے پا گیا ۔میں عموماً پیسوں کے متعلق نہیں لکھتی کیونکہ ریٹس وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں اور کچھ بار گیننگ سکلرز بھی ہوتی ہیں کسی میں کم، کسی میں زیادہ ،تو اوپر نیچے ہوتا رہتا ہے ۔ہم نے جیپ کی حالت کو زیادہ ترجیح دی کہ سفر انجوائے کر سکیں اس میں سن روف بھی تھا ویسے تو ہم سب بڑے ہو گئے ہیں مگر ایسی جگہوں پہ جا کر کون بڑا کون چھوٹا ۔کھل کر جی لیں زندگی کیونکہ وہی بات کہ کل ہو نہ ہو۔
اب سفر شروع ہوا اور وہ کیا گانا ہے
ہم چلیں تو ہمارے
سنگ سنگ نظارے چلیں
بس وہی حساب تھا

جھیل تک پہنچنے کی کسے پڑی تھی جب آنکھیں آس پاس کے حسن کو ہی ڈائجسٹ نہیں کر پا رہی تھیں
سڑک نہایت عمدہ تھی ۔یہاں تک کہ جب جیپ والے کو ہم نے بتایا کہ ہمارے پاس گاڑی ہے تو اس نے اپنے پیسوں کی پرواہ تک نہ کرتے ہوئے مشورہ دیا کہ آپ بے شک اپنی گاڑی پہ چلے جائیں سڑک بہت اچھی ہے کوئ مسئلہ ہی نہیں ۔ہم اس کی دیانتداری سے بہت امپریس ہوئے مگر اب چونکہ اس سے طے کر چکے تھے اس لئے جیپ پہ جانا ہی بہتر سمجھا
جاری ہے
ان شاءاللہ

قسط 11سفر نامہ کالام      چھوٹا مہونڈڈ سے ہم بڑی مشکل سے واپس آئے ،دل چاہتا تھا بس یہیں بیٹھے رہیں اور قدرت کے حسین نظار...
27/07/2026

قسط 11
سفر نامہ کالام

چھوٹا مہونڈڈ سے ہم بڑی مشکل سے واپس آئے ،دل چاہتا تھا بس یہیں بیٹھے رہیں اور قدرت کے حسین نظاروں اور تیز ہواؤں کا لطف لیتے رہیں ۔

وہ جگہ اتنی کوئ پر سکون تھی کہ میاں جی جو سونے کے معاملے میں اتنے نازک مزاج ہیں کہ ہم گھر سے ان کے لئے تکیہ لے کے نکلے تھے کہ انہیں ہوٹل کے تکیوں پہ نیند نہیں آنی انہوں نے نہ تو آس پاس بے تحاشا لوگوں کے ہونے کو لفٹ کروائی اور نہ جھلنگا سی چارپائی کی حالت کو اور مزے سے سو گئے ۔ویسے تو یہ دو تین منٹ کی جھپکی والی نیند ہی تھی مگر سونے کے معاملے میں ٹچی لوگ اس بات سے بآسانی اس جگہ کی وائبز کو سمجھ جائیں گے۔

واپسی پہ حسب وعدہ ہم فارسٹ میں کچھ دیر رکے، اس مرتبہ خود جھولے پہ نہیں بیٹھے بلکہ جھولا جھولتے پیارے سے بچوں کی تصویریں کلک کیں۔ویسے بچوں میں جتنا حسن میں نے اس سائیڈ پہ دیکھا ہے اور کہیں نہیں دیکھا ۔مجھے تو چھوٹے بچے ویسے ہی بہت اچھے لگتے ہیں (اپنے خود کے بڑے سارے جو ہو گئے ہیں 🫣)مگر وہاں تو گھومتے پھرتے بچے حسن میں ایک دوسرے کو مات دینے کے چکر میں تھے ماشاءاللہ ۔

ہوٹل واپس پہنچ کر ہم پھر سے کیا کھائیں والی بحث میں پڑ چکے تھے ۔حلوہ پوری کا ناشتہ کر تو لیتے ہیں بس پھر سارا دن ایسا ہی لگتا ہے کہ اب کچھ مزید نہ کھایا جائے گا اس لئے لائٹ سے انڈے والے برگر اور فرائز پہ اتفاق ہوا۔

بیٹی نے تو موسم کی مناسبت سے سوپ کو ترجیح دی باقی ہم سب نے مصالحے دار فرائز اور انڈے والے برگر کی عیاشی کی ۔اچھا تھا سب چیزوں کا ٹیسٹ۔فرائز وہاں شاشلک والی لکڑی کی باریک سی سٹک کے ساتھ مل رہے تھے کہ چلیں تمیز سے ان میں فرائز پرو پرو کے کھائیں 🤭۔

بچے انٹر نیٹ کی عدم دستیابی اور ہم دروازے کے شور سے تنگ تھے ،اس لئے سوچا کہ آس پڑوس کے ہوٹلز کا جائزہ لے لیا جائے ،اس سلسلے میں ہم نے پیدل ہی مارچ شروع کیا ساتھ والا ہوٹل پامیر تو ہم دیکھ ہی چکے تھے آگے لائن میں جتنے بھی ہوٹلز آتے گئے ہم سب میں چیک کرتے رہے یو اینڈ سی( U&C)نام کے ایک ہوٹل کے علاؤہ اور کوئ بھی اپ ٹو دا مارک نہیں لگا مگر اس میں بھی جو رومز خالی تھی وہ دریا کے بالکل پاس تھے اور دریا کی آواز وہاں اچھی خاصی دل دہلا دینے والی تھی سو لوٹ کے بدھو گھر کو آئے یعنی اپنے ہی ہوٹل میں واپسی ہوئ

رسیپشن پہ بات کی تو انہوں نے نیچے یعنی گراؤنڈ فلور پہ ایک کمرہ دیکھایا جو ابھی خالی ہوا تھا اس کا دروازہ بالکل ٹھیک تھا اور کمرے کے اندر بھی انٹر نیٹ کی سروس موجود تھی سو ہم ترنت وہاں شفٹ ہو گئے یہ اور بات کہ وہاں آ کر پتہ چلا کہ کمرے کا دروازہ بند کرو تو نیٹ کے سگنلز بھی بند ہو جاتے ہیں🙄

خیر ایک طرح سے یہ اچھا ہی تھا جس نے موبائل پہ ٹک ٹک کرتے رہنا وہ باہر ہی بیٹھتا اور جس نے سونا ہوتا وہ سکون سے سو سکتا تھا ورنہ یہ موبائل کہاں چین سے سونے دیتے ہیں ۔

موسم انتہا کا حسین تھا ہم نے لان میں بیٹھنے کا ارادہ کیا مگر وہاں ایک ہی چئیر فری تھی ہم ابھی سوچ ہی رہے تھے کہ تلاش کریں فوراً ہی ہوٹل اٹینڈنٹ کرسیاں اٹھائے بھاگا چلا آیا ، یہ اس ہوٹل کی بہت اچھی بات تھی کہ جیسے ہی کوئ لان میں بیٹھنے آتا وہ فوراً تعداد کے مطابق کرسیاں ارینج کرنے خود ہی چلے آتے ۔بنا ہمارے کہے۔😊

جانے سے پہلے میں سوات سائیڈ پہ عملے کے رویوں کے متعلق بہت سی پوسٹس پڑھنے کے بعد زرا پریشان ہی تھی۔ انسان چھٹیوں میں ریلیکس کرنے کے لئے ایسی جگہوں کا رخ کرتا ہے خدا نخواستہ کوئ ایسا واقعہ ہو گیا تو ساری چھٹیوں کا بیڑہ غرق ہو جاتا ہے مگر سچ بتاؤں تو وہاں موجود سب لوگوں کے رویے بہت تمیز دار اور بآخلاق تھے ۔شکر الحمد اللہ ۔❤️

لان میں بیٹھ ہمارا پرانا والا کمرہ بھی دکھائی دیتا تھا وہ کسی اور فیملی کو دیا جا چکا تھا، جس کے ساتھ سات آٹھ سال کے بچے تھے وہاں بیٹھے ہم نے دیکھا کہ انہوں نے دروازے کی آواز کا کیا ہی زبردست علاج کیا تھا جس بڑی سی کھڑکی سے میں نے فجر کا نظارہ کیا تھا وہ دروازے کی بجائے اسے ہی آنے جانے کے لئے استعمال کر رہے تھے ارے واہ یہ بات ہمیں تو نہ سوجھی تھی واقعی بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے والا معاملہ ہر عہد میں ہی رہتا ہے۔😘

کچھ دیر میں وہاں انڈے بیچنے کے لئے دو بچے چلے آئے ان سے ہلکی پھلکی گپ شپ لگائ ۔چھوٹی چھوٹی عمر سے ہی وہاں بچے کسی نہ کسی کام سے منسلک تھے۔چاہے مسواک بیچ رہے ہوں بوائل انڈے ، نشانہ بازی کا سٹال ہو یا جھولے کا ۔مال روڈ پہ بھی کافی سوپ، فرائز، ملک شیک ،پان وغیرہ کے سٹالز کم عمر بچوں نے ہی سنبھال رکھے تھے ۔

یہاں لیکن برینڈز کی شدید کمی نظر آئ تندوری اور براڈ وے پیزا کے علاؤہ مجھے تو کوئ قابل زکر برینڈ نظر نہیں آیا ۔

ہمارا ارادہ صبح جیپ بک کروا کر جھیل سیف اللہ تک جانے کا تھا ۔دو سال پہلے ہم ناران سے جھیل سیف الملوک گئے تھے وہ سڑک سڑک نہیں تھی صرف پتھر ہی پتھر تھے وہاں تک صرف جیپس ہی جاسکتی تھیں ہم نے اسی تجربے کے پیش نظر جیپ پہ جانے کا ارادہ کیا تھا۔ہم سب صبح کے لئے بہت ایکسائٹڈ تھے کیونکہ ہمارا جھیل سیف الملوک کا تجربہ نہایت ہی شاندار رہا تھا
جاری ہے
ان شاءاللہ

قسط 10سفر نامہ کالام   بچپن میں کبھی غباروں کو پھوڑنے کے لئے نشانہ بازی کی ہو گی شائد، پھر یہ بچوں والا کام لگنے لگا، مگ...
26/07/2026

قسط 10
سفر نامہ کالام

بچپن میں کبھی غباروں کو پھوڑنے کے لئے نشانہ بازی کی ہو گی شائد، پھر یہ بچوں والا کام لگنے لگا، مگر کالام فورسٹ نے ہم سب ہی کے اندر کہیں سویا ہوا بچہ جگا دیا تھا اور بچپن ہی طرح میرا نشانہ کوئ نہیں لگا 🙄

خیر چھوٹے سپوت سے اس وعدے کے ساتھ ہم فورسٹ سے آگے نکلے کہ واپسی پہ پھر رک جائیں گے ۔ ورنہ اس کا ارادہ تو آج یہیں سارا دن گزارنے کا لگ رہا تھا ۔

سڑک حیرت انگیز طور پہ نہایت عمدہ تھی ۔یہاں تک کہ مقامی فیملیز رکشوں میں بھی وہاں پکنک منانے آ رہی تھیں۔فورسٹ سے کچھ ہی آگے چھوٹا مہونڈڈ کا بورڈ تھا ہم اس سڑک کی طرف مڑ گئے ۔پارکنگ کی جگہ اوپر تھی اور پکنک پوائنٹ نیچے گہرائ میں تھا اوپر سے ہی نظارہ کمال کا تھا اور نیچے اترنے کے بعد تو ہم یہی سوچ کر دنگ تھے کہ اگر یہ چھوٹا مہونڈڈ ہے تو بڑا کیا ہی شے ہو گا۔

پہلے ایک نسبتا چھوٹا سا تالاب تھا جس کے پاس ایک صاحب میز پہ مچھلیوں کا کھانا رکھ کر بیچ رہے تھے ۔پوچھنے پہ انہوں نے بتایا کہ تالاب میں مچھلیوں کے بچے ہیں جن کا شکار منع ہے ۔اسی تالاب میں بوٹنگ بھی ہو رہی تھی ۔

وہاں سے زرا آگے تیز بہاؤ کا دریا تھا اور اس کے پر سکون کنارے کی سائیڈ پہ چارپائیاں اور بنچ لگا کر لوگوں کے بیٹھنے کا انتظام کیا گیا تھا ۔پانی یخ ٹھنڈا تھا اور ہوا نہایت ہی تیز چل رہی تھی۔ہمیں جو چارپائی ملی وہ بے چاری کافی ڈھیلی ہو چکی تھی اور مجھے تو ڈر ہی تھا کہ کہیں ہمارے وزن کے باعث ٹوٹ ہی نہ جائے مگر وہ بے چاری لگتا ہے ہم جیسوں کے بیٹھنے کی عادی ہو چکی تھی

ساتھ والا لکڑی کا بنچ خالی ہوا تو ہم وہاں شفٹ ہو گئے ۔خوب تصویریں بنائیں ،پانی میں پاؤں زیادہ دیر رکھنے کے مقابلے کئے ۔آس پڑوس بیٹھی فیملیز سے ہیلو ہائے کی۔پشاور سے دو بہنیں اپنی آل اولاد کے ساتھ اپنے کالام میں مقیم چچا کی طرف آئ ہوئ تھیں ہم نے بتایا کہ واپسی پہ ہم پشاور وزٹ کا بھی سوچ رہے تھے مگر گرمی بہت ہو گی انہوں نے فوراً منع کیا کہ واقعی گرمی بہت ہے آئیں ضرور پشاور ،مگر سردیوں میں ۔چلیں جب قسمت میں ہوا ۔ان شااللہ قصہ خوانی بازار بھی دیکھ ہی لیں گے ۔

بالاکوٹ سے ناران جاتے ہوئے راستے میں ایک جگہ آتی ہے "کیوائی "کے نام سے ۔بہت خوبصورت آبشار ہے, پانی میں بیٹھنے کو چارپائیاں اور کرسیاں بچھی ہوتی ہیں مگر وہاں جو ہوٹل مافیا ہے وہ کسی کو بھی بنا کچھ کھائے پیے وہاں بیٹھنے نہیں دیتا ۔

ہم یہاں بھی بیٹھ کر اس انتظار میں تھے کہ ابھی کوئ آ کر آرڈر کرنے کا حکم نامہ جاری کرے گا مگر ہمارا انتظار انتظار ہی رہا یعنی وہاں یہ عنڈہ گردی نہیں تھی ۔اچھا لگا دیکھ کر ۔واپس نکلتے ہوئے ہم نے پینے کے پانی کا پوچھا تو وہ بھی ہمیں ہوٹل سے مفت بھر کر دیا گیا ۔لگتا ہے ابھی یہ علاقہ باقی جگہوں کی طرح کمشرلائز نہیں ہوا اخلاقیات باقی ہیں یہاں ۔

ایک گاڑی میں بڑے بڑے پتھر لا کر دریا میں ڈالے جا رہے تھے شائد کچھ تعمیر کرنے کا ارادہ تھا وہاں ،وہ منظر بھی کافی دل چسپ لگا ۔

واپس آنے لگے تو سب نے مچھلیوں کو کھانا ڈالنا شروع کر دیا اور کھانے کی جگہ پہ ان کا اکٹھا ہونا اور ایک دوسرے سے لڑنا اتنا کوئ شاندار نظارہ تھا کہ ہم کتنی ہی دیر یہی کرتے رہے یہاں تک کہ ہمیں یہ احساس تنگ کرنے لگا کہ کہیں اوور ایٹننگ سے مچھلیاں مر ہی نہ جائیں۔

پارکنگ کی طرف جاتے ہوئے ایک ٹیبل پہ بہت خوبصورت پتھراور ان سے بنی جیولری رکھ کر بیچی جا رہی تھی ۔چھوٹے سپوت نے دکاندار لڑکے سے پتھروں پہ ڈسکشن شروع کر دی ۔مائن کرافٹ کھیلنے والے بچوں کو ہی ان کے اتنے مشکل مشکل نام یاد ہو سکتے ہیں میرے تو منہ پہ ہی نہیں چڑھ رہے تھے

Cobblestone ,granite,diorite,deepslate
اور فلانا ڈھمکانا
(یہ نام بھی میں نے گوگل سے سرچ کرکے لکھے ہیں ویسے مجھے یاد کوئ نہیں ہوئے تھے 🫣)
جاری ہے
ان شاءاللہ

قسط 9 کالام سفر نامہ   کالام کی فجر دیکھنے کو بھی میں بے چین تھی، مگر فجر پڑھنے کے بعد جب باہر نکلنا چاہا تو یاد آیا کہ ...
25/07/2026

قسط 9
کالام سفر نامہ

کالام کی فجر دیکھنے کو بھی میں بے چین تھی، مگر فجر پڑھنے کے بعد جب باہر نکلنا چاہا تو یاد آیا کہ دروازہ بہت ظالم آواز کے ساتھ کھلتا ہے اس لئے کمرے میں موجود بڑی سی کھڑکی سے ہی باہر کا نظارہ انجوائے کر لیا گیا ۔

آج کے دن ہمارا سفر کا بالکل موڈ نہیں تھا ہم کالام کا آس پاس کا ایریا ہی ایکسپلور کرنا چاہتے تھے ۔ناشتہ کرنے کے ارادے سے کالام بازار میں نکلے ۔جو لوگ مری وزٹ کرتے رہتے ہیں انہیں پتہ ہو گا کہ مری مال روڈ ناشتے کے معاملے میں ڈھیر سارے آپشنز رکھتا ہے ،مال روڈ سے نیچے کی طرف جاتی ایک سڑک پہ سارے ہی رستوران ایک دوسرے کے مقابلے پہ ناشتے کے لئے گاہکوں کو آوازیں دے رہے ہوتے ہیں

یہاں مری کے مقابلے میں مال روڈ بہت منا سا لگتا ہے اور آپشنز بھی کم ہی ہیں ۔رات چونکہ بار بی کیو کا تجربہ اچھا رہا تھا تو ہم نے اسی ادریسیہ نامی رسٹورینٹ میں ہی ناشتہ کرنے کی ٹھانی ۔اچھا مزیدار سا گول تکیوں والا دیوان پہ سٹنگ ارینجمنٹ تھا اور ناشتہ بھی اچھا تھا ۔سروس بھی بہتر تھی ۔

ہوٹل واپس آ کر ہم تیار شیار ہوئے اور گاڑی میں کوئ مزے کی جگہ ڈھونڈنے نکل کھڑے ہوئے زرا سا آگے جانے پہ کالام فوریسٹ کا بورڈ نظر آیا اور ہم اس میں اینٹر ہو گئے ۔

واؤ جسٹ واؤ 😳۔کیا ہی خوبصورت نظارہ تھا ۔جنگل میں منگل سنا تھا وہاں آنکھوں سے دیکھا ۔جگہ جگہ کیمپنگ تھی۔زپ لائنر جو اونچے سے ایک درخت سے دوسرے تک جا رہے تھے ۔مینول سٹائل جھولے لگے تھے، جن پہ لکڑی کی سیڑھی لگا کر بیٹھا جا سکتا تھا اور پھر ایک شخص پینگ دینے کے سٹائل میں جھولا جھلاتا تھا۔

بوائل انڈے بیچنے والے بچے ادھر ادھر گھوم رہے تھے ۔ایک بچے نے ہمیں نشانہ بازی کی دعوت دی ہم نے اس سے آگے کہاں جایا جا سکتا ہے؟ پوچھا تو اس نے ہمیں گائیڈ کیا کہ کچھ ہی آگے جائیں تو چھوٹا مہونڈڈ کے نام سے جھیل ہے اچھا پکنک پوائنٹ ہے گاڑی آرام سے چلی جاتی ہے کوئ فکر کی بات نہیں ۔

وہاں ہم نے صرف جھولا لینے پہ اکتفا کیا کیونکہ زپ لائنر پہ ایک بچی نے خوب تماشا لگا رکھا تھا وہ ایک درخت سے دوسرے تک تو آ گئ تھی مگر واپس زپ لائنر کے ذریعے جانے کو تیار نہ تھی اور وہاں موجود اٹینڈنٹ کے تاثرات اتنے مظلومانہ تھے کہ بے چارے پہ ترس آ رہا تھا ۔اس نے ڈھیروں ہی منتوں سے بچی کو واپسی کے لئے تیار کیا کیونکہ اس سائیڈ سے نیچے اترنے کا کوئ چانس نہیں تھا۔

زرا آگے تاروں پہ سائکل چلانے کا آپشن بھی موجود تھا اور اسی بچی کی سائز کا ایک بچہ نہایت اعتماد سے باریک سی تار پہ سائکل چلاتا انجوائے کر رہا تھا ۔ایک صاحب وہاں کا لوکل انسٹرومنٹ اٹھائے ہماری طرف آ گئے اور ایک مشہور سا گانا سنایا (پہلے تو کبھی کبھی غم تھا رحیم شاہ والا گانا تھا مگر لوکل لینگویج میں )

میرا چھوٹا سپوت ان کے انسٹرومنٹ میں بہت انٹرسٹڈ تھا اس نے وہ ان سے لے کے بجانے کی کوشش بھی کی گلوکار نے خوش ہو کر بیٹے کا نام پوچھا اور اس کا نام گانے میں دعائیہ انداز میں شامل کرکے سنایا ۔ہمارے ہاں لوک فنکاروں کی قدر کا کوئ سسٹم موجود نہیں وہ بے چارے بھی اتنے کمزور سے تھے کہ دل دکھ رہا تھا ۔

چھوٹا بیٹا جو کل تک کالام کو مشکل سے پاسنگ مارکس دے رہا تھا 😊جنگل کی خوبصورتی سے گھائل ہو چکا تھا 🤭مجھے آہستہ سے کہنے لگا بڑا ہو کر میں یہاں اپنے دوست کو لے کر آؤں گا پھر ہم ہائیکنگ کریں گے ،کیمپنگ کریں گے میں نے جب پوچھا اچھا جی آخر کار تم نے مان ہی لیا نا کہ یہ جگہ خوبصورت ہے کہنے لگا ہاں بلکہ میں تو سوچ رہا ہوں بڑے ہو کر میرا جو پلان تھا کہ میں باہر کی کسی کنٹری میں سیٹل ہونا چاہتا ہوں اب میں یہاں سیٹل ہونے کا سوچ رہا ہوں اففف آج کل کے بچگان کی محبتوں میں بھی کیا ہی مزے کی شدت ہے😘
جاری ہے ان شاءاللہ

قسط 8کالام سفر نامہ        کالام تک پہنچنے کا سفر تھکا دینے والا تھا ۔ہم نے سوچا پہلے پیٹ پوجا پھر کام دوجا😊 یعنی ٹھہرنے...
24/07/2026

قسط 8
کالام سفر نامہ

کالام تک پہنچنے کا سفر تھکا دینے والا تھا ۔ہم نے سوچا پہلے پیٹ پوجا پھر کام دوجا😊 یعنی ٹھہرنے کو ہوٹل بعد میں دیکھ لیتے ہیں پہلے کہیں سے کچھ کھا لیا جائے ،راستے میں تندوری ریسٹورنٹ کا بورڈ دیکھا تھا تو سوچا اسی کو ٹرائے کر لیتے ہیں دیسی اور ولایتی دونوں آئٹمز آرڈر کیے گئے دیسی تو اچھا رہا مگر چاؤمن نے بالکل ہی مایوس کیا ۔

وہاں کے ویٹر سے کچھ ہوٹلز کے نام پوچھے حالانکہ تندوری میں بھی ٹھہرنے کو رومز موجود تھے مگر پارکنگ منی سی تھی اس لئے کھانا کھا کر ہوٹل کی تلاش میں نکلے

پامیر نام سے پہلا ہوٹل چیک کیا کیونکہ سامنے ہی کافی وسیع و عریض پارکنگ موجود تھی اور مرد حضرات کی اپنی گاڑیوں سے محبت کوئ ڈھکی چھپی بات تھوڑا نہ ہے اس لئے گاڑی کھڑی کرنے کو مناسب جگہ ہونی چاہیے ہمارا کیا ہے🫣۔

خیر کمرے کوئ امپریس نہ کر پائے تو اس کے ساتھ ہی موجود ہلٹن مون میں آ گئے، اگر کسی کو فیصل آباد گرامر سکول اور کوہ نور گرامر سکول کی ہسٹری یاد ہے کہ ایک وقت میں یہ دونوں سکول ایک ہی تھے پاکستان انڈیا کی طرح ۔بعد میں دو الگ الگ سکولوں میں کنورٹ ہو گئے تھے مختلف انتظامیہ کے ساتھ۔بالکل یہی ان پامیر اور ہلٹن مون ہوٹلز کا بھی سین لگ رہا تھا

درمیان میں دیوار کرکے ان کو دو مختلف حصوں میں بانٹ دیا گیا تھا ،مگر پامیر کی نسبت ہلٹن والوں نے مینٹیننس پہ کافی کام کیا تھا سو ہمیں پہلے منزل پہ ایک بڑا سا کمرہ مل گیا جو ہماری پوری فیملی کو کافی تھا۔

کھانا کھا لیا گیا تھا سو فورا آرام کرنے کی غرض سے ہم بڑے دونوں تو بستر میں گھس گئے ۔مگر جین زی کو بنا انٹر نیٹ کے چین کہاں ۔بڑا سپوت ہوٹل انٹر نیٹ کا پاس ورڈ لگوا کر آیا مگر انٹر نیٹ باہر لان میں تو کام کرتا تھا کمرے میں آتے ہی ٹاٹا بائے بائے کہہ دیتا تھا😵‍💫 ۔

اوپر سے کمرے کا دروازہ اتنی کوئ ہولناک آواز سے کھلتا بند ہوتا تھا 🧟کہ وہ کیا محاورہ ہے کہ قبروں میں سوئے مردوں کو اٹھا دے ہم تو پھر ابھی جندہ تھے 🙄۔اور بیٹا صاحب نیٹ کے سگنلز کی تلاش میں مسلسل اندر باہر ہو رہے تھے ۔

ابھی دروازے کے شور سے ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ اوپر کی منزل پہ ایسا لگا جیسے کوئ کنسٹرکشن ورک شروع ہو گیا ہے وقفے وقفے سے ایسے ایسے دھماکے ہونے لگے کہ ہم خود سے ہی گیس کرنے لگتے کہ اب اینٹیں گرائ ہیں شائد😠 نہیں نہیں اس بار تو بڑے بڑے بانس ٹائپ گرتے محسوس ہو رہے ہیں خیر چارو ناچار اٹھ کر باہر لان میں آ کر بیٹھ گئے ۔

بیٹی ابھی کمرے میں ہی تھی کیونکہ اس کی آنکھ لگ گئ تھی۔ریسپشن پہ کمپلین کی وہ فوراً اوپر گئے اور بتایا کہ منع کر دیا ہے اب آوازیں نہیں آئیں گئیں۔لان میں موسم اتنا اچھا تھا کہ ہم نے وہیں بیٹھے رہنے کو ہی ترجیح دی کہ اب سونے ہی جائیں گے

شام میں جو مال روڈ سونا سونا لگ رہا تھا رات ہوتے ہی لائٹس اور میوزک کی آواز نے اسے نیا ہی رنگ دے دیا تھا ویسے میوزک میں بھنگڑا ٹائپ ڈھول کی آواز نمایاں تھی جو کہ میرے حساب سے یہاں فٹ نہیں ہو رہی تھی۔

چھوٹے بیٹے نے بھی کچھ کچھ اس جگہ کو نمبر دینے شروع کر دیے تھے کہ ہاں ٹھیک ہی ہے ۔میں نے اس پہ ہی شکر کر لیا ۔
وہاں کمرے میں بیٹی کی آنکھ کھلی تو ہم سب کو غائب پا کر اس نے باہر آنے کو دروازہ کھول جیسے ہی باہر قدم نکالا اسی تیزی سے اندر واپس کھینچ لیا۔

کیونکہ ساتھ والے کمرے میں جو فیملی ابھی آ کے ٹھہری تھی اس نے ہمارے ہی دروازے کے سامنے اپنا پورا دستر خوان بچھا رکھا تھا چھوٹے سے سلنڈر پہ گھر سے لایا گیا دیگچا دھرا تھا اور وہ سب وہیں زمین پہ بیٹھ کھانے کے ساتھ ساتھ موسم انجوائے کر رہے تھے ۔

بیٹی معذرت کرتی اور جگہ بناتی نیچے ہمارے پاس آئ تو ہنسی روکنے کی شدت سے اس کا منہ سرخ ہو رہا تھا ہم نے وجہ پوچھی تو کہنے لگی میں نے کمرے سے نکلتے ہوئے بروقت اپنا قدم روک لیا نہیں تو سیدھا آلو گوشت کے ڈونگے میں ہی پڑنا تھا۔🤦

میں نے کہا بیٹا ایسی سچویشن میں تو بہترین طریقہ یہ ہوتا کہ آپ کہتیں اسلام علیکم اور اپنی ہی چوکھٹ میں چوکری مار کے بیٹھ جاتیں اور کہتیں بسم اللہ شروع کیجیے اپنا ہی گھر سمجھئے 🤭

خیر مجھے ویسے یہ سب دیکھ مزہ آتا ہے ریگولر آنے والے یقینا جان جاتے ہیں کہ ہم کس طرح اپنے ٹرپ کو اپنے بجٹ میں رکھ سکتے ہیں ۔راستے میں لوگوں کو گاڑیوں پہ میں نے ڈبل بیڈ کے میٹریس تک باندھ کے لاتے دیکھا اور کیمپنگ تو وہاں بہت نارمل نظر آ رہی تھی ۔

دوپہر کی کافی کڑاہی بچ گئ تھی تو وہ پیک کروا لی گئ تھی سوچا تھا اب ساتھ یہاں کے چپلی کباب لے لیتے ہیں بیٹے نے فورا یہ آئیڈیا ریجیکٹ کر دیا کیونکہ وہ مال روڈ کا چکر لگا آیا تھا اور چپلی کباب تلنے والا تیل دیکھ لینے کے بعد اس آپشن پہ ہاں کہنے کو قطعاً تیار نہیں تھا۔ہوٹل کے پاس ہی ادریسیہ نام سے ہوٹل تھا جس پہ بار بی کیو تیار کیا جا رہا تھا اس پہ سب نے ہامی بھر لی تو یہی پیک کروا کر ہوٹل لان میں ہی لے آیا گیا ۔

موسم کوئ اتنا حسین تھا کہ میں جو نیند کے معاملے میں ساری فیملی میں مشہور ہوں کہ دس بجے تک میں سو نہ پاؤں تو میرا خود بخود شٹ ڈاؤن ہونے لگتا ہے مگر وہاں میں رات ایک بجے تک موسم انجوائے کرنے کو بیٹھی رہی ۔
جاری ہے ان شاءاللہ

قسط 7سفر نامہ کالام   نئ جگہوں پہ میں سب سے زیادہ ایکسائٹڈ فجر کا ٹائم دیکھنے کے لئے ہوتی ہوں ۔یوں تو یہ وقت ہر جگہ ہی ب...
23/07/2026

قسط 7
سفر نامہ کالام

نئ جگہوں پہ میں سب سے زیادہ ایکسائٹڈ فجر کا ٹائم دیکھنے کے لئے ہوتی ہوں ۔یوں تو یہ وقت ہر جگہ ہی بہت مقدس سی وائبز دیتا ہے لیکن پہاڑوں میں تو اس وقت کا حسن دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے

فضہ گٹ میں بھی ہم فجر پڑھ ہوٹل سے نکل کھڑے ہوئے ۔ہر طرف پھیلی خاموشی میں صرف دریا کے بہنے کی آواز تھی جو بہت اچھی لگ رہی تھی ۔خواتین اپنے فل عبایا ز میں جوگرز پہنے دریا کنارے بنے ٹریک پہ واک کرتی نظر آئیں ۔شرم و شرمی تھوڑی سی واک ہم نے بھی کر لی اور پھر دریا کنارے پڑے بنچ پہ بیٹھ دریا کو دیکھنے لگے۔کیا ہی خوبصورت نظارے ہیں میرے رب کی قدرت کے ۔سبحان اللہ ۔

آج ہم نے کالام کے لئے نکلنا تھا جیسے آرام سے موٹر وے ٹو موٹروے سفر کرتے ہم سوات پہنچ گئے تھے کچھ یہی تصویر ذہن میں لئے کالام کے لئے نکل پڑے مگر اس سڑک نے کئ جگہوں پہ ہمیں باور کروایا کہ بیٹا جی سفر تو اب شروع ہوا ہے اردو والا سفر بھی اور انگلش والا(suffer) بھی ۔

پچھلے سال کے سیلاب سے سڑکوں کو جو نقصان پہنچا تھا وہ تاحال مرمت کے مراحل سے نہ گزر سکا تھا ۔کوئ پانچ کلومیٹر کی سڑک وقفے وقفے سے patches کی صورت میں ایسی تھی جو ہڈی پھسلی ہلا کر رکھ دیتی تھی ۔اور ایسے ہی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کے کنارے پہ بچے ہاتھ میں پاپڑ کے پیکٹ لئے کھڑے تھے اور گاڑی کی رفتار کم ہونے پہ تیزی سے پاپڑ بیچنے کھڑکی تک آتے اور دستک دینے لگتے ۔شائد ان کے کاروبار میں خلل نہ پڑے اسی لئے گورنمنٹ سڑک تعمیر نہیں کروا رہی 🤦

ایک اور طبقہ بھی ایسی جگہوں پہ پوزیشن سنبھالے کھڑا ملا قریب ہی کوئ زیر تعمیر مسجد ہوتی اور ہاتھ میں چندہ لکھا کارڈ پکڑے لوگ کھڑے ہوتے جو گاڑی کی رفتار کم ہو جانے کے باعث پاس آتے اور اپنے لوکل لہجے میں چندہ کو مسجد کے لئے چاندہ چاندہ کہتے کھڑکی کے پاس آ جاتے۔

خیر ایک مرتبہ ہمیں اورنج جیکٹ پہنے ایک سرکاری اہلکار نے روکا اور دو سو روپے طلب کئے پوچھنے پہ بتایا کہ یہ ٹورزم فیس ہے ویسے جتنی گاڑیاں وہاں سے روز کے روز گزرتی ہیں ان پیسوں سے وہ ٹوٹے ہوئے سڑک کے patches کئ مرتبہ ٹھیک کروائے جا سکتے ہیں لیکن جانے اس ٹورزم فیس کا اور کیا استعمال سوچ رکھا ہے وہاں کی انتظامیہ نے۔

اس سفر کے دروان رکشے بھی بہت نظر آئے اور یہاں کے رکشے کلر ورائٹی میں پنجاب سے بہت آگے تھے۔کیا ہی لڑکیوں کے ڈریسز کے کلرز شیڈ ہوں گے جتنے شیڈز کے میں نے وہاں رکشے دیکھ لئے۔

بحرین وہاں کا ایک اہم شہر ہے بحرین میں سڑک کنارے ایک ہوٹل کا نام کویت دیکھ بچوں نے بہت انجوائے کیا کہ پاکستان میں بحرین بھی ہے اور اس بحرین میں کویت بھی ہے😊

اور ایک اہم چیز وہاں موجود کار شو رومز تھے واہ جی واہ کیا ہی اعلیٰ سے اعلیٰ گاڑیاں کھڑی تھیں وہاں ۔میاں جی آج کل میں گاڑی چینج کرنے کا سوچ رہے ہیں تو وہ بھی نہایت دلچسپی سے ان شورومز میں چمچماتی گاڑیاں دیکھ رہے تھے اور چھوٹے بیٹے کو بھی گاڑیوں کو بہت شوق ہے وہ وہاں ورائٹی دیکھ حیران تھا ہمارے یہاں کے شورومز میں بہت کم ورائٹی ہوتی ہے اور گاڑی ملتی بھی آن لائن شاپنگ کی مانند طویل انتظار کے بعد ہے جبکہ وہاں تو ہاتھ کے ہاتھ کوئ بھی گاڑی لی جا سکتی تھی ۔

ایک اور عجیب سی چیز جو راستے میں نوٹ کی کہ وہاں گاڑیوں پہ نمبر پلیٹ لگانے کا رواج زرا کم ہی ہے بنا نمبر پلیٹس بہت سے گاڑیاں دیکھیں بلکہ جب وہ ٹورزم فیس ہم سے چارج کی جا رہی تھی تو ہم نے پاس سے گزرتی بنا نمبر پلیٹ کی گاڑی کو حیرت سے دیکھا وہ صاحب ہماری حیرانی کو دور کرنے کو کہنے لگے یہ لوکل گاڑی ہے🫨 ہائیں یعنی لوکلز کی پہچان ہی یہ ہے کہ وہ بنا نمبر پلیٹ گھومتے ہیں

سفر کے دوران خوازہ خیلہ کا جو بازار ہمارے راستے میں آیا اس نے تو دن میں تارے دکھا دئیے ۔ٹریفک یہاں ڈیڈ سلو والی کیفیت میں تھی انتہا کی گرمی ،شدید رش والی جگہ جہاں لوگ سیمنٹ بجری لے جانے والی ٹرالی میں ہر چیز پھل، سبزی وغیرہ رکھ کے بیچ رہے تھے ۔یہ ٹرالی ہماری طرف پنجاب میں صرف سیمنٹ پتھر کے لئے ہی استعمال ہوتی ہے۔
چلیں تو کٹ ہی جاتا ہے سفر کی مانند یہ راستہ بھی آخر ختم ہوا اور ہم اپنی منزل کالام پہنچ گئے۔چھوٹے برخوردار کے تاثرات کہہ رہے تھے کہ وہ جگہ سے کچھ زیادہ امپریس نہیں ہو پایا ۔اور چھٹیاں غارت جانے کی سوچ اس کی شکل پہ صاف لکھی نظر آ رہی تھی 🙄
جاری ہے
ان شاءاللہ

Address

Saeed Colony
Faisalabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Huma writes posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category