22/04/2026
"آپ نے ‘چھلا’ تو کئی بار سنا ہوگا… مگر کیا کبھی اس کے پیچھے چھپی درد بھری حقیقت کو محسوس کیا ہے؟ آج وہی کہانی سنیں…" 😔
گرمیوں کی کڑکتی دوپہر
مصیبت کے مارے مسافروں نے التجا کی ساندل بار کے کشتی بان سے،
ہمیں دریا پار کروا دو۔
بخار میں پھنکتے مانجھی نے انکار کر دیا۔ مسافروں کا اصرار بڑھتا گیا، کشتی بان کا دل پسیج گیا، اس نے اپنے نو عمر بیٹے چھلے کو جس کی ابھی بمشکل مسیں ہی بھیگی تھیں کہا انہیں چھوڑ آؤ۔ بیٹے نے انکار کر دیا، ابا! تمہیں اس حال میں چھوڑ کر نہیں جا سکتا۔
مسافر اب منتوں پر اتر آئے، باپ نے بیٹے سے پھر کہا،پار لگا آ انہیں۔
دریا بپھرا ہوا ہے، تم بیمار ہو اور میں نے پہلے کبھی اتنےمسافروں کو بٹھا کر کشتی نہیں چلائی۔ بہتر ہے میں تمہاری دیکھ بھال کروں، اس بار بیٹے نے سختی سے انکار کر دیا۔
باپ چڑ گیا۔ مر نہیں جاؤں گا، جا اور چھوڑ کر آ انہیں۔
نو عمر لڑکا نہ چاہتے ہوئے اٹھا اور مسافروں کو ساتھ لے کر چلا گیا۔
دن ڈھل گیا، رات بھیگتی گئی، شفق کی سرخی ہر سُو پھیل گئی، سورج طلوع ہو گیا لیکن وہ جو لڑ کر گیا تھا واپس نہ لوٹا۔
ہاں کچھ اور لوگ آ گئے۔ وہ لوگ جنہوں نے اسے مسافروں اور کشتی سمیت دریا کی لہروں کے سپرد ہوتے دیکھا تھا۔
تب ساندل بار کے اس بوڑھے کشتی بان کے کندھے ڈھے گئے۔ خود کو پیٹتا، کوستا اور روتا ہوا دریا کی جانب چل دیا۔
جاوو نی کوئی موڑ لیاوو
نی میرے نال گیا جے لڑ کے
اللہ کرے آ جاوے جے سوہنا
دیواں جان قدماں وچ دھر کے
لیکن کوئی بھی ابن مریم موجود نہیں تھا جو اس کے جگر کے ٹکڑے کو لے کر آتا۔
وقت گزرتا گیا یہاں تک کہ چار صدیاں بیت گئیں وہ تو واپس نہ آیا جو اس سے لڑ کر گیا تھا لیکن کشتی بان کی آہیں اور پچھتاوے ساندل بار سے نکل کر پورے پنجاب کی فضاؤں میں پھیل گئے۔
بیٹے کی محبت کوئی ایک دکھی باپ سے پوچھے اب اس کشتی بان کی کیفیت کو دیکھ کر ان اشعار کو پڑھیں
یہ اس قدر دلگداز اشعار ہیں کہ اس کشتی بان کے جذبات کو الفاظ کی ترجمانی دینا بس میں نہیں۔
انہیں بس محسوس کیا جا سکتا ہے ،پنجابی حساس دل اصحاب شاید اس کی دردناکی سمجھ سکیں
چھلا بیری بور اے
(چھلا بیری پر لگے اس پھول جیسا ہے جس نے ابھی پھل بننا تھا)
وطن ماہی دا دور اے
( ہمارا وطن تو ابھی بہت دور ہے)
جانا پہلے پور اے
(ابھی اس کے جانے کا نہیں بلکہ میرے جانے کا وقت تھا کہ میری عمر زیادہ تھی)
گل سن چھلیا او چھورا
( میری بات سنو او بیٹے)
دل نوں لایا ای جھورا
( تم نے میرے دل کو بہت بڑا روگ لگا دیا ہے)
چھلا مڑ کے نئی آیا
اوئے رونا عُمراں دا پایا
اوئے مَلیا ای دیس پرایا
او گل سُن سانولا ڈھولا
ساڑ کے کیتا ای کولا
چھلا زیراں زَبراں
مویاں مَلیاں قبراں
جیوندے لیہندے نہ خبراں
گل سُن چھلیا او بیڑے
اللہ سنگ نہ نکھیڑے
چھلا گل دی وے گانی
ٹر گئے دلاں دے او جانی
میری دکھاں دی کہانی
آ کے سن جا زبانی
وے گل سن چھلیا راہیا
کاہدی دیری لایاں
چھلا کھوہ تے دھرئیے
اوئے گلاں منہ تے کرئیے
اوئے سچے رب توں ڈرئیے
وے گل سن چھلیا ڈھولا
کاہدا پایا ای رولا