Radio Pakistan Faisalabad

Radio Pakistan Faisalabad Official page of Radio Pakistan FM93 Faisalabad.

19/08/2026
19/08/2026

Radio Pakistan Faisalabad's Facebook Live

Musical Content Copyright Disclaimer (Fair Use) under section 107 of the Copyright Act 1976, allowance is made for "fair use" for purposes such as criticism, comment, news reporting, teaching, scholarship, and research. Fair use is a use permitted by copyright statute that might otherwise be infringing. Non-profit, educational or personal use tips the balance in favor of fair use. Copyright Statement: The tracks played in this live broadcast are not intended to infringe any copyright laws in any way. This is for sole purpose of entertainment; no profit is gained from this. It is the copyrighted property of its respective owner. The music is credited to the various music companies including Sony Music Entertainment - SME , Warner Music Group , UMG, Permanent Claim , Warner Music Group Rights Management, Zee Music Co.

17/08/2026

تسلیم فاضلی
شبدوں سے تصویریں بنانے والا شاعر

“وہ آیا، اُس نے دیکھا اور فتح کرلیا” کی اگر کوئی عملی تجسیم دیکھنی ہو تو تسلیم فاضلی کو دیکھ لیجیے۔ وہ صرف پینتیس برس جیا، مگر کئی طویل العمر شُعرا پر بازی لے گیا۔ وہ حقیقی معنوں میں ایک بے مثال شاعر تھا؛ شَبدوں سے تصویریں بنانے اور صنائع و بدائع سے اُن میں رنگ بھرنے والا قلم کار۔

زُود گو ایسا کہ ایک سگریٹ سلگانے اور بُجھانے کے درمیانی وقفے ہی میں کوئی لازوال نغمہ تخلیق کرلیتا؛ ذہین ایسا کہ فلم ساز کے ہونٹوں کی جنبش ہی سے فلمی صورتِ حال بھانپ لیتا اور ایک اَچھوتا گیت کاغذ پر لکھ کے اُس کے ہاتھ میں تھما دیتا؛ لفظوں کا جادوگر ایسا کہ جہاں چاہتا، اپنے شَبدوں سے معانی و نغمگی کی پُھلجھڑیاں کشید کرلیتا۔

جب اُس نے محض اکیس برس کی عمر میں “آپ کو بھول جائیں ہم، اتنے تو بے وفا نہیں” جیسا لازوال گیت لکھا تو بڑے بڑے جغادریوں کو بھی یہ کہنا پڑا کہ تسلیم کو ’تسلیم‘ کرلینے ہی میں عافیت ہے۔

پاکستانی فلمی صنعت کو تسلیم فاضلی جیسا گیت نگار شاید ہی دوبارہ مل سکے؛ وہ اپنی مثال آپ تھا۔ وہ ایسا ’فاضلی‘ تھا جسے اُس کی مختصر سی زندگی میں بھی دل کھول کر ’تسلیم‘ کیا گیا اور آج، اُسے کراچی کے سخی حسن قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے چوالیس برس گزر جانے کے باوجود، اُس کی فنی عظمت بدستور تسلیم کی جارہی ہے۔

آج اُسی بے مثال نغمہ نگار تسلیم فاضلی کی ۴۴ویں برسی ہے۔

تَسلیم فاضِلی کا اَصل نام اِظہار اَنور تھا۔ وہ ۱۹۴۷ء میں دِہلی کے ایک کَشمیری، عِلمی و اَدبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد سیّد مُرتضیٰ حُسین، جو ’دُعا ڈِبائیوی‘ کے قَلمی نام سے معروف تھے، اُردو کے نام وَر شاعر تھے۔ ’ڈِبائیوی‘ اُن کے آبائی قصبے ڈِبائی کی نِسبت تھی، جو موجودہ بھارتی ریاست اُترپردیش کے ضلع بُلند شہر میں واقع ہے۔

تَسلیم فاضِلی کے بڑے بھائی نِدا فاضِلی اور صَبا فاضِلی نے بھی شعر و اَدب اور فُنونِ لَطیفہ میں نام پیدا کیا۔ تَسلیم فاضِلی بَہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے، اِس لیے گھر بھر کے لاڈلے بھی تھے۔ یوں شعر و سُخن کا ذَوق اُنہیں کسی خارجی وَسیلے سے نہیں ملا، بلکہ گویا اُن کے خُون میں شامل تھا۔

تَسلیم فاضِلی کے والد کے حَلقۂ اَحباب میں جِگر مُرادآبادی، شکیل بَدایونی اور جاں نِثار اَختر جیسے نام وَر شُعرا شامل تھے۔ وہ اپنے والد اور بڑے بھائیوں کے ساتھ مُشاعروں اور اَدبی مَحفِلوں میں شریک ہوتے تو اِن بُلند پایہ سُخن وَروں کو قریب سے دیکھنے اور سُننے کا موقع ملتا۔ اِسی اَدبی ماحول نے بَچپن ہی میں اُن کے اندر چُھپے شاعر کو بیدار کردیا اور وہ کَم عُمری ہی میں شعر کہنے لگے۔

اگرچہ تَسلیم فاضِلی کی جائے پَیدائش دِہلی تھی، تاہم اُن کا بَچپن اور اِبتدائی تَعلیمی زمانہ زیادہ تر گَوالیار میں گُزرا۔ اُنہوں نے گَوالیار کے وِکٹوریہ ہائی اِسکول سے مَیٹرک کا اِمتحان پاس کیا اور اِس کے بعد بھی کچھ عرصہ وہیں مُقیم رہے۔ گَوالیار کے وسطِ ساٹھ کی دہائی کے فِرقہ وارانہ فَسادات کے بعد، ۱۹۶۵ء میں، اُن کے والد نے خاندان سمیت پاکستان ہِجرت کا فیصلہ کیا۔ خاندان نے پہلے لاہور اور بعداَزاں کراچی میں سُکونت اِختیار کی، جب کہ اُن کے بڑے بھائی نِدا فاضِلی ہندوستان ہی میں رہ گئے۔

تَسلیم فاضِلی کی والدہ چاہتی تھیں کہ ذَہین اور ہونہار اِظہار اَنور ڈاکٹر یا اِنجینئر بنے، لیکن اُن کا دِل نِصابی کِتابوں سے زیادہ شعر و سُخن کی دُنیا میں لگتا تھا۔ اُنہوں نے گورنمنٹ کالج ناظم آباد، کراچی سے ایف ایس سی کا اِمتحان پاس کیا اور بعداَزاں اپنی پُوری تَوَجُّہ شعر و سُخن پر مَرکوز کردی۔

جب اُنہوں نے تَسلیم فاضِلی کے قَلمی نام سے فِلمی صَنعت کا رُخ کیا تو وہاں قَتیل شِفائی، سَیفُ الدّین سَیف، تَنویر نَقوی، فَیّاض ہاشمی، اَحمد راہی، حِمایت علی شاعِر اور مَسرور اَنور جیسے نام وَر اور مُستند فِلمی نَغمہ نِگاروں کا طُوطی بول رہا تھا۔ تاہم تَسلیم فاضِلی نے ’ہِمّتِ مَرداں، مَددِ خُدا‘ کے مِصداق، ۱۹۶۸ء میں نُمائش پذیر ہونے والی فِلم ’عاشق‘ کے نَغمات لکھ کر اپنے باقاعدہ فِلمی سَفر کا آغاز کیا۔

یوں تقریباً اِکیس برس کی عُمر میں تَسلیم فاضِلی پاکستانی فِلمی دُنیا میں داخل ہوئے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان کی فِلمی نَغمہ نِگاری کی صَفِ اَوّل میں شامل ہوگئے۔ گویا وہ عین عالم شباب ہی میں “وہ آیا، اُس نے دیکھا اور فتح کرلیا” کے قول کی عملی تَجسیم بن گئے۔

تَسلیم فاضِلی کی نَغمہ نِگاری کا اِمتیاز اُن کی سادہ، سَلیس اور عام فَہم زبان، جذبے کی شِدّت، تراکیب کی تازگی اور نَغمے کی صُورتِ حال سے غیرمعمولی مُطابقت تھی۔ وہ فِلمی ضرورت کے مُطابق رُومان، ہِجر، وَفا، بے وَفائی، حَسرت، مَحرومی اور اِنسانی جذبات کو ایسے مُترنّم اَلفاظ میں ڈھالتے کہ نَغمہ فِلم سے نِکل کر سامعین کی ذاتی واردات بن جاتا۔

دَستیاب فِلمی فِہرستوں کے مُطابق اُنہوں نے ۱۵۴ فِلموں کے لیے ۳۰۹ گیت تَحریر کیے۔ اُن کی نُمایاں فِلموں میں ’ایک رات‘، ’ہِل اِسٹیشن‘، ’اِک نگینہ‘، ’اِک سَپیرا‘، ’اَفشاں‘، ’تُم مِلے پیار مِلا‘، ’جَلے نہ کیوں پَروانہ‘، ’اِنصاف اور قانون‘، ’مَن کی جیت‘، ’شَمع‘، ’شَبانہ‘، ’میرا نام ہے مُحبّت‘، ’دامَن اور چِنگاری‘، ’آئینہ‘، ’بَندش‘، ’طَلاق‘، ’میرے حُضور‘، ’سوسائٹی گِرل‘، ’نیا راستہ‘، ’بِہشت‘، ’آبرو‘ اور ’سِہرے کے پُھول‘ شامل ہیں۔

فِلم ’زینت‘ کے لیے لکھی گئی اُن کی غزل:

’رَفتہ رَفتہ وہ میری ہَستی کا ساماں ہوگئے
پہلے جاں، پھر جانِ جاں، پھر جانِ جاناں ہوگئے‘

نے مَقبولیت کی ایک نئی تاریخ رَقم کی۔

’یہ دُنیا رہے نہ رہے میرے ہَمدم‘، ’ہماری سانسوں میں آج تک وہ حِنا کی خُوشبو مَہک رہی ہے‘، ’ہمارے دِل سے مَت کھیلو، کِھلونا ٹُوٹ جائے گا‘، ’آپ کو بُھول جائیں ہم، اِتنے تو بے وَفا نہیں‘ اور ’خُدا کرے کہ مُحبّت میں وہ مَقام آئے‘ جیسے گیت تَسلیم فاضِلی کی پہچان بنے۔

’دِل نہیں تو کوئی شیشہ، کوئی پَتّھر ہی مِلے‘، ’کسی مِہرباں نے آکے مِری زِندگی سَجا دی‘، ’وَعدے کرکے صَنم کیوں نہ آئے‘، ’جو دَرد مِلا، اَپنوں سے مِلا‘، ’تُجھے دِل میں بَسا لُوں‘، ’بِن تِرے رات تو کیا، ہم سے کَٹے دِن بھی نہیں‘، ’تیرے بِنا دُنیا میں‘، ’آج تک یاد ہے وہ پیار کا مَنظر‘، ’دِل توڑ کے مَت جائیو‘ اور ’تیرے قَدموں میں بِکھر جانے کو‘ جیسے نَغمات آج بھی اُن کے فَن کی تازگی اور اَثر آفرینی کی گواہی دیتے ہیں۔

’دِنوا دِنوا مَیں گِنوں، کب آئیں گے سانوریا‘ کی غیرمعمولی مَقبولیت نے تو گویا اُن پر فِلموں کی بَرسات کردی اور لاہور کی فِلمی صَنعت میں ہر طرف اُن کے نام کا چَرچا ہونے لگا۔

ناشاد، نِثار بَزمی، ایم اَشرف اور رُوبن گھوش جیسے باکمال موسیقاروں نے اُن کے اَلفاظ کو اپنی دُھنوں سے آراستہ کیا، جب کہ نُورجہاں، مَہدی حَسن، اَحمد رُشدی، مِہناز، اے نَیّر، نَیّرہ نُور اور ناہید اَختر جیسے عظیم گلوکاروں نے اُن کے نَغمات کو اپنی آوازوں میں ہمیشہ کے لیے مَحفوظ کردیا۔

فِلموں ’شَبانہ‘، ’آئینہ‘ اور ’بَندش‘ کے نَغمات پر اُنہیں تین مرتبہ نِگار اَیوارڈ سے نوازا گیا۔

تَسلیم فاضِلی مَحض فِلمی گیت نِگار نہیں تھے؛ اُنہوں نے غزل، حَمد، نَعت، مَنقبت اور مَرثیے سمیت دیگر اَصنافِ سُخن میں بھی طَبع آزمائی کی۔ اُن کے مذہبی کلام کی ایک نُمایاں مثال ۱۹۷۵ء کی فِلم ’صُورت اور سیرت‘ میں شامل وہ حَمدیہ و مُناجاتی نَغمہ ہے جسے ایم اَشرف نے موسیقی سے آراستہ کیا اور شَہنشاہِ غزل مَہدی حَسن نے اپنی پُرسوز آواز میں گایا:

’بَندہ تو گُنہ گار ہے، رَحمٰن ہے مَولا
بَندے پہ کَرَم کرنا تِری شان ہے مَولا‘

یہ کلام بھی تَسلیم فاضِلی کی زبان کی سادگی، جذبے کی سچائی اور عام فَہم اَلفاظ میں گہری کیفیت پیدا کرنے کی غیرمعمولی صلاحیت کا آئینہ دار ہے۔ بعض تَذکروں میں اُن کی نَعتوں، مَنقبتوں اور مَرثیوں کا ذِکر بھی مِلتا ہے؛ یوں اُنہوں نے اپنی شاعرانہ اِستعداد کو محض فِلمی نَغمہ نِگاری کی حُدود تک محدود نہیں رہنے دیا۔

اپنی شُہرت کے عُروج پر تَسلیم فاضِلی نے پاکستان کی معروف اَداکارہ نِشو (اصل نام: بلقیس بیگم) سے شادی کی۔ اُن کے ہاں ایک بیٹی، عائشہ فاضِلی، پیدا ہوئیں، جن کی شادی بعداَزاں پاکستان کی نام وَر فِلمی اَداکارہ فِردوس بیگم کے صاحب زادے علی رضا خاں سے ہوئی۔

تَسلیم فاضِلی کے ہم عَصروں کے مُطابق وہ نہایت سادہ، نَرم مِزاج، خُوش اَخلاق، دوست نواز اور بے نیاز اِنسان تھے۔ شُہرت کی بُلندیوں پر پہنچنے کے باوُجود اُن میں تَکبّر یا فَنّی اَنا پیدا نہ ہوئی۔ وہ دُوسروں کی بات تَحمُّل سے سُنتے اور کوئی مَعقول دَلیل سامنے آتی تو اُسے فوراً تَسلیم کرلیتے تھے۔

تَسلیم فاضِلی کی مُختصر مگر غیرمعمولی طور پر ثَمَرآور زِندگی بے اِختیار اَنگریزی کے عظیم رُومانوی شاعر جان کیٹس کی یاد دِلاتی ہے، جو صِرف پچّیس برس کی عُمر میں وَفات پاگیا تھا، مگر اپنے مُختصر تَخلیقی سَفر میں ایسا لازوال شِعری سَرمایہ چھوڑ گیا کہ آج اُس کا شُمار اَنگریزی زبان کے عظیم ترین شاعروں میں ہوتا ہے۔

تَسلیم فاضِلی بھی لَگ بھگ پَینتیس برس زِندہ رہے، مگر اِس مُختصر مُہلت میں ایسے اَن مِٹ نَغمات تَخلیق کرگئے جو نِصف صَدی گُزرنے کے باوُجود اپنی تازگی، نَغمگی اور اَثر آفرینی بَرقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اِس فَنّی مُماثلت کی بِنا پر اگر اُنہیں پاکستانی فِلمی نَغمہ نِگاری کا ’کیٹس‘ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔

تَسلیم فاضِلی ۱۷ اَگست ۱۹۸۲ء کو کراچی میں دِل کا دَورہ پڑنے سے وَفات پاگئے۔ زیادہ تر حوالوں میں اُن کا سَنِ پَیدائش ۱۹۴۷ء دَرج ہے، جس کے مُطابق وَفات کے وقت اُن کی عُمر تقریباً پَینتیس برس بنتی ہے؛ تاہم بَعض تَذکروں میں اُن کی عُمر بَتّیس برس لکھی گئی ہے، جسے دُرست مانا جائے تو اُن کا سَنِ پَیدائش ۱۹۵۰ء کے لَگ بھگ قرار پاتا ہے۔ اُنہیں کراچی کے سخی حَسن قَبرستان میں سُپردِ خاک کیا گیا۔

تَسلیم فاضِلی کی ۴۴ویں بَرسی کے موقع پر ریڈیو پاکستان کراچی کا ایک نُمائندہ وَفد آج سخی حَسن قَبرستان میں اُن کی قَبر پر حاضری دے گا، پُھول چڑھائے گا اور اُس جَواں مَرگ شاعر کو خراجِ عَقیدت پیش کرے گا جس نے پاکستان کی فِلمی موسیقی کو ایسے لازوال گیت عطا کیے جنہیں نہ صِرف پاکستان بلکہ دُنیا بھر میں پسندیدگی کی نِگاہ سے دیکھا اور سُنا گیا۔

زِندگی نے اگرچہ تَسلیم فاضِلی کو اپنی صَلاحیتوں کے مُکمّل اِظہار کے لیے زیادہ مُہلت نہ دی، مگر اُنہوں نے اِس مُختصر زِندگی کو اپنے فَن سے ایسی وُسعت عطا کردی جو طَویل عُمروں کو بھی کم ہی نَصیب ہوتی ہے۔ آج وہ سخی حَسن قَبرستان میں آسودۂ خاک ہیں، لیکن اُن کے نَغمات بَدستور فَضاؤں میں گُونج رہے ہیں اور ہر نئی نَسل کو یہ باوَر کرا رہے ہیں کہ فَن کار رُخصت ہوجاتا ہے، مگر سچّا فَن وقت کی دَست بُرد سے مَحفوظ رہتا ہے۔

سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان


fans Radio Pakistan Bahawalpur Radio Pakistan Multan RadioPakistan Karachi Radio Pakistan Dera Ismail Khan Radio Pakistan Rawalpindi Radio Pakistan Peshawar Quaid e Azam University Bahria University @

17/08/2026

“من بندہ آن روی کہ دیدن نگذارند”
اُستاد نصرت فتح علی خان کی ۲۹ ویں برسی کی مناسبت سے ریڈیو پاکستان کا انہیں خراج تحسین

اَحمد عَقیل رُوبی مرحوم نے اَگست ۱۹۹۲ء میں مَنظرِ عام پر آنے والی اپنی کتاب “نُصرت فتح علیخاں” میں اِس نابغۂ موسیقی کا تعارف کروانے کے لیے ایک نہایت دِل نشیں تمثیل باندھتے ہوئے “مَنکہ مُسمّیٰ نُصرت فتح علی خاں” کے عنوان کے تحت ایک پُرتاثیر تحریر لکھی۔

اَحمد عَقیل رُوبی کی اِس اَچھوتی اور دِل کو لُبھا لینے والی تحریر جیسی شاید ہی کوئی دوسری لِکھت اِس شہنشاہِ قوّالی کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے اَب تک صَفَحاتِ شُہود پر ظاہر ہوئی ہو اور اِس کے مقابلے پر اُتر سکے۔ نُصرت فتح علی خاں کو اپنے اَکھروں اور شَبدوں سے خراجِ عقیدت تو بہت سوں نے پیش کیا ہے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے، لیکن رُوبی مرحوم جیسا مُنفرد تمثیلی خراج شاید ہی کسی اور کے حصّے میں آیا ہو۔

نُصرت فتح علی خاں نے اپنے ایک اِنٹرویو میں بتایا تھا کہ مَیں نے موسیقی کا باقاعدہ آغاز ۲۳ مارچ ۱۹۶۵ء کو ریڈیو پاکستان لاہور سے کیا تھا۔ یہ میری زندگی کی پہلی قوّالی تھی اور یہ اَمیر خُسرو کی فارسی قوّالی تھی:

“مَن بَندۂ آن رُوی کہ دِیدن نَگُذارَند۔

آج اُنہی اُستاد نُصرت فتح علی خاں کی ۲۹ویں بَرسی ہے۔ وقت گزرنے کا پتا ہی نہیں چلا ، اور اُنہیں اپنے چاہنے والوں اور مداحوں سے بچھڑے اُنتیس سال بھی گزر گئے ۔

نُصرت فتح علی خاں نے شُہرت کی بے اِنتہا بُلندیوں پر پہنچ کر بھی ہمیشہ ریڈیو پاکستان کو یاد رکھا۔ بلاشبہ آج، اُن کی بَرسی کے دن، ریڈیو پاکستان کا بھی یہ حق بنتا ہے کہ وہ اِس نابغۂ موسیقی کے فن و شخصیت پر کوئی شاندار، جان دار اور بھرپور مضمون باندھے، لیکن اَحمد عَقیل رُوبی کی تحریر کی تاثیر، دِل نشینی اور جامعیت کے سبب ریڈیو پاکستان نے یہ مناسب سمجھا ہے کہ آج “مَنکہ مُسمّیٰ نُصرت فتح علی خاں” کی اشاعت ہی پر اِکتفا کیا جائے۔

تاہم ہم اپنے قارئین کو یہ بھی باور کراتے چلیں کہ اَحمد عَقیل رُوبی کا یہ بے مثال تمثیلی خراجِ عقیدت بھی اُستاد نُصرت فتح علی خاں کے فن و شخصیت کا کماحقہٗ اِحاطہ کرنے سے قاصر ہی ٹھہرتا ہے اور بس ایک طرح کا “خُلاصہ” ہے۔ بقول حَسیبُ الحسن:

“تِرے وُجود سے آتی ہوئی مَہک کی قَسم
یہ دیوی لفظ تِرے حُسن کا خُلاصہ ہے”

ہم سمجھتے ہیں کہ اُستاد نصرت فتح علیخان فنِ موسیقی کے “دیوتا” تھے اور احمد عقیل رُوبی کی تحریر بس اُس دیوتا کے محاسن کا “خلاصہ” ہے ۔

مَنکہ مُسمّیٰ نُصرت فتح علی خان

“مَنکہ مُسمّیٰ نُصرت فتح علی خان ولد اُستاد فتح علی خان مرحوم۔۔۔۔۔۔ ایک بندۂ حقیر، اللہ کا فقیر، نبیؐ کا قصیدہ خواں، علیؓ کے در کا غلام ہوں۔ اُن کے ناموں کا وِرد میرا ایمان اور اُن کی غلامی میری پہچان ہے۔ اُن کے نام ہونٹوں پر سجا کر ملک ملک گھومتا ہوں۔ مَستی میں گاتا ہوں اور جھومتا ہوں۔ میری خواہش ہے، جہاں تک زمین پھیلی ہے، جہاں تک ہوائی سواری جاتی ہے، مَیں اللہ کا وِرد کرتا وہاں تک پہنچ جاؤں۔ اللہ، نبیؐ اور علیؓ کے قصیدے گاؤں اور خُوشبو، وَحدت اور اَمن کا پیغام سناؤں!

مَنکہ مُسمّیٰ نُصرت فتح علی خان، اُستاد فتح علی خان کا بیٹا ہوں، جو فقیر تھا۔ ساری زندگی دِل کی بِین پر حق کا نغمہ گاتا رہا۔ ہندوستان کی سرزمین پر ہر بُزرگ کے مزار پر حاضری دی۔ اَولیائے اللہ کے در کی دھول سونا سمجھ کر جھولی میں بھری۔ اور مرتے وقت یہ سونا وہ میری جھولی میں ڈال گئے، جسے مَیں دن رات دِل میں سجاتا ہوں اور آنکھوں سے چومتا ہوں۔ نہ مجھے کوئی غمی ہے، نہ گِلہ۔ سب اُس کا کرم ہے، جو چیونٹی کو پتھر میں رِزق دیتا ہے۔ اُس کی عنایت ہے، جو محبوبِ خدا ہے۔ اُس کی محبت ہے، جو شیرِ خدا ہے۔ اُن بُزرگوں کی دُعائیں ہیں، جو اللہ کے پیارے ہیں، جن کے مزاروں پر لاکھوں اِنسان حاضری دے کر تسکینِ قلب حاصل کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔ یہ سب میرے محافظ ہیں، ورنہ مَیں کیا ہوں؟ ایک ناچیز، حقیر بندہ، جس کی اہمیت دو ٹکے سے زیادہ نہیں۔

مَنکہ مُسمّیٰ نُصرت فتح علی خان، ایک گناہ گار اِنسان ہوں۔ دِل کی چادر میلی ہے۔ دِل کی میل کو اللہ کا وِرد دُور کرتا ہے۔ اِسی کو اپنا مشغلہ بنایا ہے۔ کبھی تو دِل کی میل دُور ہوگی۔ یہی وِرد میرا کام، یہی میرا آرام ہے، اور اِسی سے میرا نام ہے۔ اللہ کا فقیر ہوں۔ گلی گلی صدا دیتا پھرتا ہوں کہ اُسے دُکھ میں ہی نہ پکارو، سُکھ میں بھی وِرد کرو، دُکھ دُور ہو جائیں گے:

دُکھ میں سب سُمرن کریں، سُکھ میں کرے نہ کوئے
سُکھ میں جو سُمرن کریں، دُکھ کاہے کو ہوئے۔۔۔

دِین اَمن کا پیغام ہے۔ اندھیرے میں روشنی ہے۔ زخم کے لیے مرہم ہے۔ دُکھ کی موت ہے۔۔۔۔۔۔ مَیں بنجارہ ہوں۔ گاؤں گاؤں، شہر شہر، ملک ملک اَمن کا یہی پیغام لے کر گھومتا ہوں۔ آرزو ہے، اِسی میں عُمر گزر جائے۔ منزل پر پہنچوں تو اللہ، نبیؐ اور علیؓ کی غلامی کا زیور ماتھے پر ستارہ بن کر چمک رہا ہو۔

مَنکہ مُسمّیٰ نُصرت فتح علی خان نے موسیقی کو عبادت سمجھ کر سیکھا ہے۔ اُس کے سُروں میں اللہ، نبیؐ اور علیؓ کے ناموں کی خُوشبو نے شامل ہوکر سُروں کی عظمت اور زندگی کو اَمر بنا دیا ہے۔ یہ موسیقی رُوحانی سازینہ ہے۔ جب یہ فضا میں پھیلتا ہے تو سُننے والے عقیدت کی دہلیز پر دِل رکھ دیتے ہیں۔ یہ سب ذِکرِ الٰہی کی تاثیر ہے۔ سات سُروں کا کوئی کمال نہیں۔

مَنکہ مُسمّیٰ نُصرت فتح علی خان، ہرکارہ ہوں۔ سُروں کی چِٹّھیوں پر اللہ کا نام اور پیغام لکھ کر دِلوں کے لیٹر باکس میں ڈالتا ہوں۔ آواز کے پَروں پر اَمن کی تصویریں بنا کر فضا میں سجاتا ہوں۔ میرا مَولا مجھ پر کرم کرتا ہے۔ اَوقات سے زیادہ دیتا ہے۔ شُہرت و عِزّت سے جھولی بھر دیتا ہے۔ اور میری پلکیں شُکرانے کے آنسوؤں سے بھیگ جاتی ہیں۔

مَنکہ مُسمّیٰ نُصرت فتح علی خان کی یہی خواہش ہے کہ مَیں دِلوں کے لیٹر باکس میں چِٹّھیاں ڈالتا رہوں، آواز کے پَروں پر اَمن کی تصویریں بناتا رہوں، مَولا کرم کرتا رہے اور میری پلکیں تشکّر کے آنسوؤں سے بھیگتی رہیں۔۔۔۔۔۔!”

(اَحمد عَقیل رُوبی پاکستان کے مشہور شاعر، ناول نگار، سوانح نگار، نقّاد، مترجم، ڈراما نویس، فلمی نغمہ نگار اور اُستادِ اَدب ہو گزرے ہیں۔ اُنہوں نے ایف سی کالج لاہور کے شعبۂ اُردو کے صدر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔ عالمی اَدب، بالخصوص یونانی اَدب و اَساطیر، کے ساتھ ساتھ اُنہیں موسیقی کے اَسرار و رُموز سے بھی غیرمعمولی واقفیت تھی۔ اُن کی تقریباً تیس تصانیف میں “نُصرت فتح علیخاں”، “یونان کا اَدبی ورثہ”، “عِلم و دانش کے معمار”، “قتیل کہانی” اور ناصر کاظمی کے بارے میں لکھی گئی “مجھے تو حیران کر گیا وہ” نمایاں ہیں۔ حکومتِ پاکستان نے اُن کی اَدبی خدمات کے اعتراف میں اُنہیں تمغۂ اِمتیاز سے بھی نوازا۔۲۰۱۴ ء میں انتقال ہوا۔ لاہور میں مدفون ہیں۔

حَسیبُ الحسن ضلع خُوشاب کی تحصیل نُورپُور تھل کے رہائشی ہیں اور پاکستان کی نئی نسل کے نمائندہ غزل گو شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ اُن کی شاعری سادہ اور رواں زبان، تازہ تشبیہات، اچھوتے اِستعاروں اور عصرِ حاضر کے جذباتی و معاشرتی تجربات کے دل نشیں اظہار سے عبارت ہے۔ وہ بالخصوص محبت، ہجر، تنہائی، انسانی بے بسی اور باطنی کرب جیسے موضوعات کو ایسی برجستگی سے شعر میں ڈھالتے ہیں کہ اُن کے کئی اَشعار نے نوجوان قارئین میں غیرمعمولی مقبولیت حاصل کی ہے۔)

تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان


fans Radio Pakistan Bahawalpur Radio Pakistan Multan RadioPakistan Karachi Radio Pakistan Dera Ismail Khan Radio Pakistan Rawalpindi Radio Pakistan Peshawar University of Oxford University of Peshawar

16/08/2026

عظیم قوال و موسیقار نصرت فتح علی خان کی 29ویں برسی پر انہیں خراجِ عقیدت، جن کی آواز آج بھی دنیا بھر میں دلوں کو مسحور کرتی ہے۔

15/08/2026

*عُمدہ بی بی اور نواب عنایت کوٹیا*
*پاکستان کے ابتدائی عہد کے دو عظیم عوامی گلوکار، جن کی آوازیں ریڈیو پاکستان کے “آواز خزانہ” میں محفوظ نہ ہو پائیں ۔*

دونوں میں حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی تھی: دونوں ایک ہی عہد کے پنجاب کے لوک گلوکار تھے؛ دونوں نے اپنی گائیکی میں لمبا سُر لگانے کی بدولت غیرمعمولی شہرت حاصل کی؛ دونوں نے لاؤڈ اسپیکر عام ہونے سے پہلے میلوں، ٹھیلوں اور کُھلے میدانوں میں محض اَپنے گلے کے زور پر اُونچی آواز میں گا کر اپنے فن کا لوہا منوایا؛ دونوں کا تعلق کسی باقاعدہ یا موروثی گائیک گھرانے سے نہیں تھا۔

تاہم دیگر دو معاملات میں بھی دونوں یکساں اور بڑی حد تک ’ستم رسیدہ‘ بھی ٹھہرے: دونوں اپنے عہد کی سماجی درجہ بندی میں کم تر سمجھے جانے والے محنت کش خاندانوں سے تعلق رکھنے کے سبب ادنیٰ ناموں سے منسوب اور مشہور ہوئے۔ عمدہ بی بی کو “عُمداں ماچھن” اور نواب عنایت کوٹیا کو “نواب کمہار” کہا گیا ہے۔

عمدہ بی بی نے تو پتا نہیں اِس معاشرتی رویّے پر اپنے کرب کا اظہار کیا یا نہیں، مگر نواب عنایت کوٹیا نے اپنی ایک جگنی میں خود کو ’کمّی‘ کہہ کر ایک منفرد احتجاج ضرور ریکارڈ کروایا۔ اُن کی جُگنی کے بول ہیں:
“نام نواب تے ذات کمّی دی،
جگنی کراں تیار”
(ترجمہ: نام نواب ہے، ذات کمّی کی ہے اور میں جگنی تیار کرتا ہوں۔)

یہ بول محض ایک گلوکار کا تعارف نہیں، بلکہ اُس زمانے کے پنجابی معاشرے کی طبقاتی ساخت پر مختصر مگر معنی خیز تنقید بھی ہیں۔ یہاں ’کمّی‘ سے مراد کوئی کم حیثیت انسان نہیں؛ پنجاب کے قدیم دیہی معاشرتی نظام میں یہ اصطلاح اُن محنت کش اور دست کار خاندانوں کے لیے استعمال ہوتی تھی جو اپنی فنی اور پیشہ ورانہ خدمات کے ذریعے گاؤں کی اجتماعی زندگی میں بنیادی کردار ادا کرتے تھے لیکن بدقسمی تے عزت و تکریم سے محروم رہتے تھے۔

اور دوسرا یہ کہ اِن دونوں کی آوازیں بوجوہ لاہور ریڈیو کے محفوظ صوتی سرمائے کا حصہ نہ بن سکیں۔ جس زمانے میں لاہور ریڈیو اسٹیشن اپنی ابتدائی نشریاتی زندگی سے گزر رہا تھا، تقریباً اُسی زمانے میں لاہور میں کام کرنے والی گراموفون کمپنیوں نے عُمدہ بی بی اور نواب عنایت کوٹیا کی آوازیں ریکارڈ کرکے اُن کی “تھالیاں” تیار کیں؛ مگر قسمت کا کھیل دیکھیے کہ گراموفون نے جن آوازوں کو محفوظ کرلیا، لاہور ریڈیو بوجوہ اُنہیں اپنے ذخیرۂ صوت “آواز خزانہ” میں محفوظ نہ کرسکا۔

یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ اِس محرومی کا سبب اُن کی شہرت میں کوئی کمی تھی۔ اُس زمانے کی گراموفون کمپنیاں ہر آواز پر سرمایہ صرف نہیں کرتی تھیں۔ اُن کی ترجیح عموماً وہی فن کار بنتے تھے جو میلوں، ٹھیلوں، اکھاڑوں اور عوامی اجتماعات میں اپنی مقبولیت اور گائیکی کا لوہا پہلے ہی منوا چکے ہوتے۔ عُمداں اور نواب عنایت کوٹیا کے گراموفون ریکارڈ اِس اَمر کی گواہی ہیں کہ ریڈیو تک پہنچنے سے پہلے ہی اُن کی آواز پنجاب کے وسیع عوامی حلقوں میں اپنی جگہ بنا چکی تھی۔

*عُمدہ بی بی کا تعارف:*

عمدہ بی بی سال ۱۹۱۰ء کے آس پاس متحدہ پنجاب کے ضلع فیروزپور کے ایک گاؤں “سُباجکے” (جسے آج کل “پربھات سنگھ والا” کہا جاتا ہے) میں خوشی محمد کے گھر پیدا ہوئیں۔ خوشی محمد مَشک کے ذریعے لوگوں کے گھروں تک پانی ڈھونے کا کام کرتے تھے اور یوں وہ اپنے اِس مخصوص پیشے کی نسبت سے مقامی معاشرت میں ’ماچھی‘ کہلاتے تھے۔ ’ماچھی‘ کا لفظ ’ماشکی‘ (بمعنی ’مَشک والا‘) کا غلطُ العام ہے۔

عمدہ بی بی ابھی تقریباً پانچ برس کی تھیں کہ اُن کے والدین یکے بعد دیگرے وفات پاگئے۔ ترکے میں کوئی زمین یا جائیداد بھی نہ تھی، تو اُنہیں مجبوراً کم عمری ہی میں اپنا پیٹ پالنے کے لیے لوگوں کے گھروں میں برتن مانجھنے اور دوسرے کام کاج کرنے پڑے۔

تنہائی، غربت اور یتیمی نے عمدہ بی بی کی شخصیت پر بہت گہرا اثر ڈالا۔ وہ رات کو اپنے سُونے گھر میں دُکھی ہوکر بین الاپنے لگتیں۔ یہ بین بالعموم “کَلی” کی شکل میں ظاہر ہوتے تھے۔

“کَلی” پنجاب میں ایک مخصوص لوک نظم کو کہا جاتا ہے، جسے کسی باقاعدہ ساز کے بغیر بلند آواز اور مخصوص جذباتی لَے میں گنگنایا یا گایا جاتا ہے۔

عمدہ بی بی کے گاؤں میں حضرت پیر محمد شاہ کا مزار تھا، جہاں ہر سال میلہ لگتا اور گرد و نواح کے دیہات کے فن کار انعام و اکرام کے لالچ میں اس میں شریک ہوتے۔ عمدہ بی بی بھی پہلی مرتبہ اسی میلے میں، شوق یا حالات کے جبر کے تحت، گانے کے لیے سامنے آئیں۔عمدہ کی آواز میں بے پناہ سوز و درد تھا؛ اُنہوں نے جب اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ اپنے کان پر ہاتھ رکھ کر لمبی، درد بھری ہیک لگائی تو کئی سننے والے بے اختیار آبدیدہ ہوگئے۔

“ہیک” ٹھیٹھ پنجابی زبان کا لفظ ہے ۔ ایک طویل آواز ، لمبی پکار یا اونچی سریلی آواز کو “ہیک “ کہا جاتا ہے۔ ۱۸۹۵ء میں لاہور سے شائع ہونے والی ایک پنجابی لغت میں اس لفظ کے معنی یوں درج ملتے ہیں:
“A prolonged sound of the voice in singing; sound; calling.”
(ترجمہ: گاتے ہوئے آواز کو دیر تک کھینچنا، لمبی آواز، طویل پکار۔)
(بحوالہ: بھائی مایا سنگھ، دی پنجابی ڈکشنری، منشی گلاب سنگھ اینڈ سنز، مفیدِ عام پریس، لاہور، ۱۸۹۵ء، ص ۴۴۱۔)

عمدہ بی بی کو پہلی مرتبہ گاتے دیکھ کر کسی نے کہا کہ “عُمداں ماچھن”نے کیا خوب گایا ہے! کسی اور نے یہ تبصرہ کرکے کہ ماچھن بہت دُکھی عورت ہے، اُنہیں “دُکھی ماچھن” کا نام دے دیا۔ روایت کے مطابق یہی نام کثرتِ استعمال سے مختصر ہوکر “دُکّی ماچھن” ہوگیا اور وہ اپنی زندگی میں زیادہ تر اِسی نام سے مشہور رہیں۔

لوگوں کی پذیرائی سے حوصلہ پاکر عمدہ بی بی نے خوشی رام نامی ایک ہندو گلوکار کو اپنا اُستاد بنایا اور اُن سے گائیکی کی باقاعدہ تربیت حاصل کی۔ وہ ’دوہرے‘ اور ’چھند‘ بلند سُر میں گاتیں اور پنجابی لوک کہانیوں، بالخصوص قصۂ ہیر رانجھا، اور ہجریہ گیتوں کو ہیک کے ساتھ اپنے مخصوص انداز میں پیش کرتی تھیں۔

عُمدہ بی بی کی گائیکی کا سب سے نمایاں وصف لمبی ہیک تھی۔ وہ کان پر ہاتھ رکھ کر ہیک لگاتیں تو اُن کی بلند، کھنچی ہوئی اور درد میں ڈوبی آواز کھلے میدان میں دُور تک پہنچتی۔ ایسا محسوس ہوتا جیسے کوئی اپنے دُکھ پر بین کررہا ہو۔

عُمدہ بی بی نے عالمِ شباب میں قدم رکھا تو اُن کی شادی اپنے چچا کے بیٹے سے گاؤں “بگّیکے ہِٹھاڑ” میں کردی گئی، مگر شومئی قسمت، اُن کے دُکھوں کا سلسلہ شادی کے بعد بھی ختم نہ ہوسکا۔ کچھ عرصے بعد اُن کے شوہر کا بھی انتقال ہوگیا ۔ اولاد بھی نہیں تھی؛ تاہم شوہر کی وفات کے بعد اُنہوں نے دوبارہ شادی نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنی باقی زندگی گائیکی کے لیے وقف کردی۔

زندگی کے اِن پے در پے صدمات نے عُمدہ بی بی کی آواز کے سوز و گداز کو مزید گہرا کردیا۔ وہ بالخصوص ہجر، فراق اور جدائی کا کلام گاتی تھیں۔ اُن کے ایک گیت کے بول ہیں:
“وے مینوں سُتّی نوں کیویں دن چڑھ گیا،
وے میں کھیلن جانا دُور۔
اَڑیا کلّھ چڑھائیاں وے چوڑیاں،
اَجّ ہو گئیاں چکنا چُور”
(ترجمہ: میری آنکھ لگ گئی اور دن چڑھ آیا۔ اِس گہری نیند کا مجھے دُکھ ہوا ہے کہ مجھے تو دُور کا سفر کرنا تھا۔ ارے دوست! تُو نے کل مجھے جو چوڑیاں پہنائی تھیں، دیکھو! وہ آج ٹوٹ کر چکنا چُور ہوگئی ہیں۔)

عمدہ بی بی جب ہجریہ اور فراقیہ کلام گاتیں تو اُن کی اپنی آنکھوں سے بھی آنسو بہنے لگتے اور سامعین بھی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ پاتے۔ اُن کی آواز میں محض بلندی نہیں، ایک ایسی داخلی کسک بھی تھی جو غالباً یتیمی، غربت اور بیوگی کے ذاتی تجربات سے پیدا ہوئی تھی۔

حیرت کی بات ہے کہ بٹوارے کے بعد کے دونوں پنجابوں میں عمدہ بی بی کی ذات سے متعدد افسانہ ہائے عامہ (folklore) بھی منسوب ہوئے۔

ایک مشہور افسانۂ عامہ یہ ہے کہ جس زمانے میں لین دین آنے، دو آنے وغیرہ میں ہوتا تھا اور ایک روپیہ بہت بڑی رقم سمجھی جاتی تھی—یہاں تک کہ روایت کے مطابق ایک روپے میں ایک من گندم مل جاتی تھی—عمدہ بی بی کسی محفل میں ایک روپے سے کم کی “ویل” قبول نہیں کرتی تھیں۔

پنجاب کے میلوں اور اکھاڑوں میں کسی پسندیدہ فن کار کی آواز یا ادا سے خوش ہوکر دی جانے والی انعامی رقم کو “ویل” کہا جاتا تھا۔

ایک روپے سے کم ویل قبول نہ کرنے کا مقصد محض زیادہ معاوضہ حاصل کرنا نہیں بتایا جاتا۔ کہا جاتا ہے کہ عمدہ بی بی چاہتی تھیں کہ اگر اُن کے فن کی قدر دانی کے لیے رقم نکلے تو کسی صاحبِ ثروت کی جیب سے نکلے، نہ کہ کسی غریب یا سفید پوش شخص کی محدود آمدنی سے۔ اُنہوں نے خود بچپن میں شدید غربت کا سامنا کیا تھا، اس لیے وہ محنت کشوں اور غریب غرباء کی مجبوریوں سے اچھی طرح واقف تھیں۔

عُمدہ بی بی سے منسوب ایک مشہور لوک کہانی یہ بھی ہے کہ ایک مرتبہ ضلع حصار کا ایک عمر رسیدہ کسان اُن کے پاس آیا اور فریاد کی کہ اُس کا بیٹا، جو عُمدہ کی آواز کا شیدائی ہے، اپنا بیل فروخت کرکے حاصل ہونے والی تمام رقم اس کی ویلوں پر لٹا بیٹھا ہے۔ بزرگ نے بے بسی سے کہا: ’اب میں کھیت میں ہل کیسے چلاؤں گا؟‘ ۔عمدہ بی بی نے یہ سنا تو اُس بزرگ نے اپنے بیل کی جو رقم بتائی ، وہی کسی کمی بیشی کے بغیر اُس بوڑھے کسان کی ہتھیلی پر رکھ دی۔

عمدہ بی بی کے بارے میں ایک اور مشہور لوک کہانی یہ ہے کہ لاہور کے ایک دولت مند زمیندار یا نواب نے اُنہیں اپنے کسی عزیز کی شادی میں گانے کے لیے مدعو کیا۔ وہ اُن کی آواز اور گائیکی سے اس قدر متاثر ہوا کہ اُنہیں دل دے بیٹھا اور شادی پر اصرار کرنے لگا۔ عمدہ بی بی اپنے شوہر کی وفات کے بعد دوسری شادی نہ کرنے کا فیصلہ کرچکی تھیں، اس لیے اُنہوں نے صاف انکار کردیا۔ زمیندار نے اُنہیں لاہور کے ایک مکان کے بالائی حصے، یعنی چوبارے، میں قید کردیا، جبکہ مکان کے نچلے حصے میں اُس کے نوکروں کا پہرا رہتا تھا۔

ایک دن ایک فقیر یا مانگنے والا اُس گلی میں آیا تو عمدہ بی بی نے چوبارے کی کھڑکی سے اُس سے مدد کی منت سماجت کی اور اسے اپنے گاؤں کا اتا پتا بتایا۔

لاہور سے فیروزپور کا درمیانی فاصلہ پچاس پچپن میل کا تھا اور فقیر اور جوگی وغیرہ حصولِ معاش کے لیے اتنی مسافت طے کرکے دُور دراز علاقوں تک بالعموم سفر کرتے رہتے تھے۔ چنانچہ وہ فقیر اُن کا پیغام لے کر سُباجکے پہنچ گیا۔

پیغام ملنے پر گاؤں کے دو نوجوانوں، ایشَر سنگھ اور گوریا سنگھ، نے عمدہ بی بی کو لاہور سے نکالنے کی ذمہ داری قبول کی۔ گوریا سنگھ جوگیوں والی بین بجانا جانتا تھا، اس لیے دونوں نوجوان جوگیوں کا بھیس بدل کر لاہور پہنچے۔ گوریا سنگھ نے چوبارے کے باہر بین بجائی تو عمدہ بی بی نے آواز پہچان لی۔ وہ رات کے وقت رسی کے ذریعے چوبارے سے نیچے اُتریں اور دونوں نوجوانوں کے ساتھ قید سے فرار ہوگئیں۔ جب وہ ستلج کے عین درمیان پہنچے تو نوجوانوں نے عمدہ بی بی سے کہا: “اب وہ زمیندار تمہیں نہیں پکڑ سکتا؛ اب ایک ہیک لگاؤ۔”

عمدہ بی بی نے دریا کے بیچ ایسی بلند اور طویل ہیک لگائی کہ اُن کی آواز ستلج کے دونوں کناروں تک سنی گئی۔ کہا جاتا ہے کہ جن لوگوں نے اُس رات وہ ہیک سنی، وہ زندگی بھر اُسے فراموش نہ کرسکے۔

یہ واقعہ تاریخی دستاویز سے زیادہ لوک داستان کا رنگ رکھتا ہے، مگر اس سے عمدہ بی بی کی آواز کی غیرمعمولی قوت اور عوام میں اُن کی شہرت کا اندازہ ضرور ہوتا ہے۔

عمدہ بی بی سے وابستہ ایک اور مشہور روایت یہ ہے کہ اُن کی گائیکی سے خوش ہوکر دو مختلف جاگیرداروں نے اُنہیں دو گاؤں جاگیر میں دے دیے۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ جلال آباد کے جاگیردار نے اُن کی فرمائش پر جلال آباد سے بگّیکے ہِٹھاڑ تک سڑک بھی تعمیر کروائی۔ بتایا جاتا ہے کہ بٹوارے کے بعد بھی کئی دہائیوں تک یہ دونوں گاؤں مقامی طور پر عمدہ بی بی کے نام سے منسوب رہے؛ تاہم اس روایت کی تصدیق کے لیے باقاعدہ کوئی اراضی ریکارڈ ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

عمدہ بی بی کی مقبولیت محض میلوں، ٹھیلوں اور اکھاڑوں تک محدود نہیں رہی۔ ۱۹۳۸ء میں ایک معروف گراموفون کمپنی نے اُن کی آواز ریکارڈ کرنے کے لیے اُن سے رابطہ کیا اور ۱۹۳۹ء میں اُن کا پہلا گراموفون ریکارڈ، جسے اُس زمانے میں عام طور پر “توا” یا “تھالی” کہا جاتا تھا، بازار میں آیا۔ اس ریکارڈ کا نمبر ایف ۔ ۱۲۷۰۶ بتایا جاتا ہے۔ بعد ازاں اُن کے مزید ریکارڈ بھی جاری ہوئے اور اُن کی آواز پنجاب کے اُن علاقوں تک پہنچ گئی جہاں وہ خود جاکر نہیں گا سکتی تھیں۔

اُن کے گراموفون ریکارڈوں کی مقبولیت کا اندازہ اس روایت سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ شادی بیاہ کے لیے لاؤڈ اسپیکر بک کراتے وقت لوگ سب سے پہلے یہ پوچھتے تھے: ’تیرے کول دُکّی دے ریکارڈ ہن؟‘ یعنی تمہارے پاس دُکّی کے ریکارڈ موجود ہیں؟ یہ گراموفون ہی تھا جس نے کھلے میدانوں اور میلوں میں گونجنے والی عمدہ بی بی کی آواز کو وقت اور فاصلے کی قید سے نکال کر پنجاب کے گھروں اور شادی بیاہ کی محفلوں تک پہنچایا۔

تقسیمِ ہند کے موقع پر عمدہ بی بی کو بھی اپنا آبائی گاؤں چھوڑنا پڑا۔ ایک معروف مقامی روایت کے مطابق سُباجکے کے لوگ اُنہیں پاکستان جانے نہیں دینا چاہتے تھے، مگر ۱۹۴۷ء کے پُرآشوب حالات میں اُن کا وہاں بھارت میں رہنا ممکن نہ رہا۔ بالآخر وہی ایشَر سنگھ اور گوریا سنگھ، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اُنہوں نے کبھی لاہور کی قید سے اُنہیں نکالا تھا، اُنہیں اپنی حفاظت میں ستلج پار کراکے پاکستان کی جانب چھوڑ گئے۔

پاکستان پہنچ کر عمدہ بی بی پاکپتن میں آباد ہوئیں اور کچھ عرصہ گاتی بھی رہیں۔ یہاں بھی اُن کی آواز کی قدر کی گئی، مگر کہا جاتا ہے کہ ہجرت کے بعد اُن کا دل ماں، باپ اور اپنے شوہر کی قبروں سے دُوری کے سبب پوری طرح نہ لگ سکا۔ آبائی گاؤں اور اپنے بچپن اور جوانی کے دنوں کی سُباجکے سے جُڑی یادوں نے اُنہیں اندر سے توڑ دیا۔ تقسیم کے تقریباً پانچ یا چھ برس بعد اُن کا انتقال ہوگیا۔ اس حساب سے اُن کی وفات ۱۹۵۲ء یا ۱۹۵۳ء کے لگ بھگ بنتی ہے، لیکن وفات کی صحیح تاریخ اور قبر کا مقام ابھی تک دستیاب معلومات میں درج نہیں۔

عمدہ بی بی کی زندگی کے بہت سے واقعات دستاویزی تاریخ کے بجائے عوامی حافظے، مقامی روایتوں اور افسانہ ہائے عامہ کے ذریعے ہم تک پہنچے ہیں۔ اِن روایتوں میں وقت کے ساتھ مبالغہ یا داستانی رنگ شامل ہوجانے کا امکان اپنی جگہ موجود ہے۔

تاہم عُمدہ بی بی کی گراموفون ریکارڈنگ، غیرمعمولی ہیک، ہجریہ کلام اور مشترکہ پنجاب میں بے مثال عوامی مقبولیت ایسے حقائق ہیں جن سے انکار ممکن نہیں۔ آج بھی اُن کی آواز کی نادر و نایاب ریکارڈنگز ’ایمازون میوزک‘ جیسے عالمی شہرت یافتہ پلیٹ فارم پر موجود ہیں، جو اُن کے فن کی بُلندی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

وہ کسی موروثی گائیک گھرانے کی تربیت یافتہ فن کار نہیں، بلکہ غربت، یتیمی اور ذاتی صدمات کی آگ سے گزر کر پنجاب کی ایک عظیم عوامی آواز بنی تھیں۔ گراموفون نے اُن کی آواز کے کچھ نقوش محفوظ کرلیے، مگر لاہور ریڈیو کا ذخیرۂ صوت اُن کی جادوئی ہیک سے محروم رہ گیا۔ اس کی وجہ شاید اُن کا پاکپتن کے کسی گاؤں کو اپنا ٹھکانہ بنانا تھا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لاہور میں زمیندار کے ہاتھوں اپنی قید کے دنوں کی تلخ یادوں کے سبب وہ لاہور آنے سے کتراتی رہی ہوں۔

*نواب عنایت کوٹیاکاتعارف *

اِن کا اصل نام نواب علی تھا۔ سالِ پیدائش اور والد کا نام صحت کے ساتھ معلوم نہیں۔ اِن کے بارے میں صرف اِس قدر معلومات دستیاب ہیں کہ یہ متحدہ پنجاب کے ضلع گوجرانوالہ کی تحصیل وزیرآباد کے گاؤں ’کوٹ عنایت خاں‘ کے ایک کُمہار، یعنی مٹّی کے برتن بنانے والے، گھرانے میں پیدا ہوئے۔ اپنے گاؤں کی نسبت سے ’نواب عنایت کوٹیا‘ اور خاندانی پیشے کی نسبت سے ’نواب کُمہار‘ کے نام سے مشہور ہوئے۔

اگرچہ نواب عنایت کوٹیا کی پیدائش کے ساتھ ساتھ وفات کی صحیح تاریخیں بھی دستیاب نہیں، تاہم اس گلوکار کی فنّی سرگرمیوں اور گراموفون ریکارڈوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بیسویں صدی کی ابتدائی دہائیوں، بالخصوص ۱۹۲۵ء اور اُس کے بعد، پنجاب کے معروف لوک گلوکاروں میں شمار ہونے لگے تھے۔

نواب عنایت کوٹیا کا تعلق بھی کسی موروثی گائیک گھرانے سے نہیں تھا۔ انہوں نے محض اپنے شوق کے باعث ایک قریبی گاؤں کے لوک گلوکار اللہ دتّہ وڑائچ کو اپنا اُستاد بنایا اور اُن سے قصّہ گائیکی کی تربیت حاصل کی۔ یہ تربیت کلاسیکی موسیقی کی کسی باقاعدہ درس گاہ میں نہیں، بلکہ پنجاب کی زبانی روایت کے مطابق اُستاد اور شاگرد کے باہمی تعلق کے ذریعے ہوئی۔ نواب نے اپنے اُستاد سے لوک داستان کو سُر، لَے، مکالمے اور طویل ہیک کے ساتھ پیش کرنے کا فن سیکھا اور پھر اُسی روایت میں اپنی منفرد شناخت قائم کی۔

نواب عنایت کوٹیا کی گائیکی کا بنیادی وصف ان کی بلند، توانا اور دُور رَس آواز تھی۔ آپ قصّے کے کسی اہم مقام پر سُر کو دیر تک کھینچتے اور ایسی طویل ہیک لگاتے کہ کھلے میدان میں بیٹھے دُور کے سامعین تک آواز پہنچ جاتی۔ لاؤڈ اسپیکر عام ہونے سے پہلے میلوں، ٹھیلوں اور اکھاڑوں میں گلوکار کی کام یابی کا انحصار بڑی حد تک اُس کے گلے کی طاقت، سانس کی طوالت اور مجمعے کو اپنی گرفت میں رکھنے کی صلاحیت پر ہوتا تھا۔ نواب عنایت کوٹیا اِن تینوں اوصاف کے حامل تھے۔

نواب عنایت کوٹیا محض گلوکار نہیں، بلکہ قصّہ گو، نغمہ نگار اور اپنے کلام کے طرز ساز بھی تھے۔ وہ پنجاب کی طویل لوک داستانوں کو چھوٹے چھوٹے گیتوں، مکالموں اور گائے جانے کے قابل واقعات میں تقسیم کرکے پیش کرتے تھے۔ اِس طرز میں وہ کبھی راوی بن جاتے، کبھی داستان کے کسی کردار کی آواز اختیار کرلیتے اور کبھی سوال و جواب کی صورت میں پورا منظر سامعین کے سامنے زندہ کردیتے تھے۔

نواب عنایت کوٹیا کی گائیکی میں عموماً بھاری سازوں کی کثرت نہیں ہوتی تھی۔ ان کی اصل قوّت ان کا گلا، لفظ کی واضح ادائیگی، داستانی مکالمہ اور طویل ہیک تھی۔ دستیاب تذکروں کے مطابق “جَنّا” نامی فن کار ان کے ساتھ ’جوڑی‘ یا اَلغوزہ بجاتا تھا۔ یوں مختصر سازینہ اور طاقت وَر انسانی آواز مل کر اُن کی قصّہ گائیکی کی مخصوص فضا قائم کرتے تھے۔

نواب عنایت کوٹیا کے گائے ہوئے قصّوں اور داستانی موضوعات میں ’ہیر رانجھا‘، ’سَسّی پُنّوں‘، ’مِرزا صاحباں‘، ’سوہنی مہینوال‘، ’پورن بھگت‘، ’دُلّا بھٹّی‘، ’ڈھول شہزادہ سمّی‘، ’شاہ بہرام اور حسن بانو‘ اور ’جنگِ جَیمل فتح‘ خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں۔ ان کی محفوظ ریکارڈنگز میں ’ہیر تے قاضی دے سوال جواب‘، ’ہیر دے سوال جواب‘ اور ’سوہنی دا حُسن‘ جیسے عنوانات بھی ملتے ہیں۔ اِن عنوانات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی داستان کو محض بیان نہیں کرتے تھے، بلکہ اُس کے واقعات اور کرداروں کو مکالمے، سُر اور جذباتی ادائیگی کے ذریعے ایک جیتی جاگتی ڈرامائی صورت عطا کردیتے تھے۔

نواب عنایت کوٹیا کی سب سے نمایاں فنّی شناخت ’جُگنی‘ بنی۔ جُگنی پنجابی لوک گائیکی کی وہ صنف یا بیانیہ ترکیب ہے جس میں گلوکار ایک فرضی کردار ’جُگنی‘ کو مختلف شہروں، دیہاتوں، میلوں اور معاشرتی حالات کا مشاہدہ کراتا ہے۔

مثال کے طور پر، اپنے بولوں ’جُگنی ٹُر چلی لاہور‘ یا ’جُگنی جا پہنچی لُدھیانے‘ وغیرہ کے ساتھ، جُگنی جہاں جاتی ہے وہاں کے لوگوں، رسم و رواج، حالات اور معاشرتی تضادات پر کوئی نہ کوئی تبصرہ کرتی ہے۔ اِس صنف میں گلوکار کو حالاتِ حاضرہ، ظرافت، سماجی مشاہدے اور برجستہ شعر گوئی کی خاصی گنجائش ملتی ہے۔

جُگنی کی ابتدا کے بارے میں مختلف روایتیں موجود ہیں، اِس لیے نواب عنایت کوٹیا کو قطعی طور پر جُگنی کا موجد یا پہلا گلوکار کہنا تاریخی احتیاط کے منافی ہوگا۔ البتہ اُنہیں جُگنی کے قدیم ترین معروف اور ریکارڈ شدہ گلوکاروں میں ضرور شمار کیا جاسکتا ہے۔ اُن کی گائی ہوئی جُگنی نے اِس صنف کو میلوں اور اکھاڑوں سے نکال کر گراموفون کی تھالی تک پہنچایا اور بعد کی نسلوں کے لیے ایک قابلِ تقلید طرز قائم کردیا۔

ایک معروف زبانی روایت کے مطابق مشہور لوک گیت ’دَم گُٹکوں، دَم گُٹکوں۔۔۔۔دَم گُٹکوں گُٹکوں کرے سائیں۔۔۔ایہہ تے کلمہ نبیؐ دا پڑھے سائیں‘ بھی سب سے پہلے نواب عنایت کوٹیا نے گایا تھا۔ بعد میں عالم لوہار اور پھر عارف لوہار کی آوازوں نے اِس بند کو غیرمعمولی شہرت بخشی۔

بعض تذکروں میں نام وَر پنجابی لوک گلوکار عالم لوہار کو نواب عنایت کوٹیا کا شاگرد یا اُن کے طرز سے گہرا اثر قبول کرنے والا فن کار بتایا گیا ہے۔ اِس اُستاد شاگرد کے تعلق کی مکمل دستاویزی تفصیل دستیاب نہیں، لیکن دونوں کی جُگنی، قصّہ گائیکی، بلند آواز، طویل ہیک اور عوامی اسلوب میں نمایاں مماثلت ضرور پائی جاتی ہے۔

عالم لوہار نے بعد میں ریڈیو، ٹیلی وژن اور گراموفون کے ذریعے جُگنی کو عالم گیر شہرت دی، مگر اِس طرز کی ابتدائی ریکارڈ شدہ صورت نواب عنایت کوٹیا کے ہاں پہلے سے موجود تھی۔

نواب عنایت کوٹیا کے بیٹے “سرجا” اور “مرزا” بھی گاتے تھے، جبکہ اُن کا بیٹا “بوٹا” ساز پر اُن کا ساتھ دیتا تھا۔ یوں اگرچہ نواب خود کسی موروثی گائیک گھرانے سے نہیں آئے تھے، اُن کے بعد اُن کے خاندان میں قصّہ گائیکی اور ساز نوازی کی روایت کسی حد تک جاری رہی۔ بعد کی نسل میں رفیق کُمہار، لطیف کُمہار اور حنیف کُمہار ٹیڈی نے بھی لوک داستانوں اور ماہیوں کی اِسی روایت کو آگے بڑھایا۔ اِس طرح نواب عنایت کوٹیا کا فن محض اُن کے گراموفون ریکارڈوں تک محدود نہ رہا، بلکہ خاندان، شاگردوں اور بعد کے لوک گلوکاروں کے ذریعے بھی منتقل ہوتا رہا۔

نواب عنایت کوٹیا کی آواز کو اُن کے عہد کی گراموفون کمپنیوں نے ریکارڈ کیا۔ اُن کے متعدد ریکارڈ آج ڈیجیٹل صورت میں “ایپل میوزک” اور “ایمازان میوزک” پر بھی دستیاب ہیں۔ یہ ریکارڈ اِس اَمر کی گواہی ہیں کہ وہ اپنے زمانے کے مقبول عوامی فن کار تھے اور اُن کی آواز تجارتی طور پر ریکارڈ کیے جانے کے قابل سمجھی جاتی تھی۔

کچھ دستیاب تذکروں میں نواب عنایت کوٹیا کے بارے میں بعض متضاد باتیں بھی ملتی ہیں؛ مثلاً یہ کہ وہ ۱۹۳۳ء میں ریڈیو پاکستان لاہور سے مشہور ہوئے، حالانکہ اُس وقت نہ ریڈیو پاکستان وجود میں آیا تھا اور نہ لاہور ریڈیو اسٹیشن نے اپنی باقاعدہ نشریات شروع کی تھیں۔

اب تک دستیاب شواہد یہی بتاتے ہیں کہ نواب عنایت کوٹیا کی شہرت کا اصل میدان ریڈیو اسٹوڈیو نہیں، بلکہ پنجاب کے میلے، ٹھیلے، اکھاڑے اور گراموفون ریکارڈ تھے۔ اُن کی آواز اپنے زمانے میں عوام تک ضرور پہنچی، مگر لاہور ریڈیو کے محفوظ صوتی سرمائے میں اُن کی کوئی یقینی ریکارڈنگ سامنے نہیں آسکی۔ وہ حقیقت میں ریڈیو پاکستان لاہور پر ریکارڈ یا نشر کیوں نہ ہوسکے، یہ معاملہ ابھی صیغۂ راز میں ہے۔ ممکن ہے اُن کی سادہ طبیعت، ناخواندگی یا دیہی ماحول سے وابستگی اُنہیں اِس قومی ادارے سے رابطے سے دُور رکھے رہی ہو۔ تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ ریڈیو کو اُن کی ضرورت تھی، اُنہیں ریڈیو کی نہیں۔

فن اپنی قدر خود منواتا ہے۔ آج بھی بٹوارے کے بعد قائم ہونے والے دونوں پنجابوں میں فنِ موسیقی کے قدر دان عُمدہ بی بی اور نواب عنایت کوٹیا کو نہایت اعلیٰ القاب سے یاد کرتے ہیں۔ عام لوگ آج بھی اُن کی آواز، گائیکی اور غیرمعمولی ہیک سے وابستہ وہ لوک روایتیں، بلکہ بعض دیومالائی قصّے تک، اپنی چوپالوں اور بیٹھکوں میں اپنی نئی نسل کو سُنواتے ہیں، جو اُنہوں نے اپنے دادا پردادا سے سُنے تھے۔

لاہور ریڈیو اسٹیشن کا افتتاح ۱۹۳۷ء میں آل اِنڈیا ریڈیو کے ایک اسٹیشن کی حیثیت سے ہوا۔ ۱۹۴۷ء میں جب یہ آزاد مملکتِ پاکستان کا ریڈیو اسٹیشن بنا تو عُمدہ بی بی اور نواب عنایت کوٹیا، دونوں حیات تھے اور کسی نہ کسی صورت میں اپنے فن کی آبیاری بھی کررہے تھے۔ تاہم نامعلوم وجوہات کی بنا پر ریڈیو پاکستان لاہور اُن دونوں کی آوازوں کو اپنے ذخیرۂ صوت میں محفوظ نہ کرسکا۔ اگر اُن کی آوازیں آج ریڈیو پاکستان کے صوتی بینک ’آواز خزانہ‘ میں موجود ہوتیں تو نہ صرف اُن دونوں کے فن کو بقا ملتی، بلکہ خود اِس قومی صوتی خزانے کی قدر، توقیر اور تاریخی اہمیت میں بھی کہیں زیادہ اضافہ ہوجاتا۔

عُمدہ بی بی اور نواب علی کے زمانے کے بے قدر لوگ اُنہیں اُن کے محنت کش خاندانی پس منظر کی نسبت سے ’ماچھن‘ اور ’کُمہار‘ جیسے نام دے کر اُن کی عظیم فنّی شناخت کو پیشہ ورانہ نسبتوں کے باعث کم تر کرنے کی کوشش کرتے رہے؛ مگر ریڈیو پاکستان جیسے فن شناس اور قدر دان قومی ادارے کے لیے عُمدہ بی بی آج بھی اسمِ بامسمّٰیٰ، ایک ’عمدہ گلوکارہ‘، اور نواب عنایت کوٹیا اپنے فن کے حقیقی ’نوابِ فن‘ ہیں۔

اگرچہ ریڈیو پاکستان کو اِن دونوں عظیم عوامی گلوکاروں کی آوازیں اپنے ذخیرۂ صوت میں محفوظ کرنے کا اعزاز حاصل نہ ہوسکا، لیکن اِس کے باوجود یہ ادارہ اُن کے فن کا معترف ہے۔ اِس اعتراف کا ایک ثبوت یہ تفصیلی مضمون ہے، جسے دنیا بھر میں ہمارے قارئین پڑھ رہے ہیں۔ اِس مضمون کا ایک نسخہ گُرمُکھی رسم الخط میں بھی جلد ہی ریڈیو پاکستان کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ پر شائع کیا جائے گا۔

اُن دونوں کی آوازیں محفوظ نہ رہ سکیں، لیکن پنجاب کے عوامی حافظے میں اُن کی یاد اور اُن کے فن کی گونج آج بھی زندہ ہے—اور ریڈیو پاکستان کے ادارہ جاتی حافظے میں بھی۔

تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان



fans Radio Pakistan Bahawalpur Radio Pakistan Multan RadioPakistan Karachi Radio Pakistan Dera Ismail Khan Radio Pakistan Rawalpindi Radio Pakistan Peshawar University of Oxford University of Peshawar FM101abbottabad Allama Iqbal Open University NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN Bahria University Quaid e Azam University Radio Pakistan World Service

Address

Radio Pakistan, D Ground, Peoples Colony No. 1
Faisalabad
38000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Radio Pakistan Faisalabad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share