نمبردار ایسوسی ایشن پنجاب 1

نمبردار ایسوسی ایشن پنجاب 1 پاکستان کے نمبرداروں کا سہارا
میجر عبد الرحمٰن نمبردار زندہ باد

07/09/2026

نمبرداران ایسوسی ایشن بھاولنگر اتفاق و اتحاد*

❤️

نمبرداران ایسوسی ایشن بنانے کا مقصد ہی *اتفاق و اتحاد* ہے۔

# # # *1. نمبرداران ایسوسی ایشن کیوں ضروری ہے؟*
اکیلا نمبردار اپنی آواز حکومت تک نہیں پہنچا سکتا۔ لیکن جب پورے تحصیل یا ضلع کے نمبردار ایک ایسوسی ایشن بنا لیتے ہیں تو:
1. *طاقت بڑھ جاتی ہے* - حکومت ان کی بات جلدی مانتی ہے
2. *مسائل جلدی حل ہوتے ہیں* - پٹواری، پولیس، DC آفس کے کام آسان ہو جاتے ہیں
3. *حقوق کا تحفظ* - اگر کسی نمبردار پر ظلم ہو تو پوری ایسوسی ایشن ساتھ کھڑی ہوتی ہے

# # # *2. ایسوسی ایشن میں اتفاق کی اہمیت*
*"متحد رہو گے تو معزز رہو گے، لڑ پڑے تو بے وقعت ہو جاؤ گے"*

1. *مشترکہ فیصلے* - سب نمبردار مل کر گاؤں کے مسائل کا حل نکالیں
2. *ایک دوسرے کا احترام* - چھوٹے بڑے کی تمیز نہ کریں۔ سب ایک پلیٹ فارم پر برابر ہیں
3. *سیاست سے پاک* - ایسوسی ایشن میں کوئی پارٹی بازی نہ ہو۔ صرف گاؤں اور عوام کی خدمت
4. *معلومات کا تبادلہ* - ایک گاؤں کا تجربہ دوسرے گاؤں کے کام آئے

# # # *3. اتحاد پر 2 بہترین شعر*
**
*"ہو اگر اتفاق تو ہر مشکل آسان ہے*
*نمبرداروں کا یہی رشتہ ہی پہچان ہے"*"*

1. *"ہمارا دشمن کوئی نمبردار نہیں، ہمارا دشمن غربت، جہالت اور ناانصافی ہے"*
2. *"آئیں سب مل کر عہد کریں کہ ہم اپنے اختیارات کو عوام کی خدمت کے لیے استعمال کریں گے، ذاتی فائدے کے لیے نہیں"*
3. *"اگر ہم متحد رہے تو ضلعی انتظامیہ بھی ہم سے مشورہ کیے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کرے گی"*
*"نمبرداران ایسوسی ایشن کی کامیابی کا راز صرف ایک لفظ میں ہے اور وہ ہے: اتفاق"*
نمبردران ۔۔۔ذندہ باد
پاکستان پائندہ باد
میاں محمد اشرف ڈھڈی نمبردار موضع کھراج پورہ۔۔صدر نمبردار ایسوسی ایشن بھاولنگر

06/09/2026

*صوبے نہیں* ، *اختیار گاؤں تک پہنچائیے*
تحصیلدار،ذیلدار،نمبردار،پٹواری اور چوکیدار کے مضبوط نظام سے ریاست کو گاؤں کی دہلیز تک لایا جا سکتا ہے،پاکستان میں آج کل ایک بار پھر یہ سوال زیرِ بحث ہے کہ کیا ملک کو مزید صوبوں میں تقسیم کیا جائے؟ کیا بارہ،پندرہ صوبے بنائے جائیں؟
کیا تقریباً ایک سو ساٹھ بااختیار ضلعی حکومتیں قائم کی جائیں؟
دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ موجودہ انتظامی ڈھانچہ آبادی،جغرافیے اور عوامی ضروریات کے مقابلے میں ناکافی ہو چکا ہے،وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بھی 12 سے 15 صوبوں کے تصور پر قومی بحث کی بات کی ہے، تاہم 6 ستمبر 2026 تک نہ نئے صوبوں کا کوئی حتمی فیصلہ ہوا ہے اور نہ اس بارے میں وفاقی کابینہ کی باقاعدہ منظوری سامنے آئی ہے۔
مگر شاید ہمیں ایک بنیادی سوال پہلے پوچھنا چاہیے:
کیا مسئلہ واقعی صوبوں کی تعداد کا ہے، یا اختیار کے گاؤں تک نہ پہنچنے کا؟
اگر مسئلہ یہ ہے کہ لاہور،پشاور، کراچی اور کوئٹہ سے دور بیٹھے شہری کو اپنے معمولی کام کے لیے صوبائی دارالحکومتوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں،تو پھر ہر مسئلے کا جواب نیا صوبہ بنانا کیوں ہو؟
کیا ہم ایک ایسا مضبوط،بااختیار اور جدید مقامی انتظامی نظام نہیں بنا سکتے جو گاؤں کی سطح سے شروع ہو اور تحصیل و ضلع تک مربوط انداز میں چلے؟
میری ناقص رائے میں پاکستان کو اس سوال پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
شیر شاہ سوری سے ایک سبق:
برصغیر کی انتظامی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ مضبوط حکومت صرف بڑے دارالحکومتوں سے نہیں چلتی،اصل کامیابی اس وقت حاصل ہوتی ہے جب ریاست کی گرفت اور خدمت آخری بستی تک پہنچے۔
شیر شاہ سوری کے دور کے انتظامی ڈھانچے میں گاؤں بنیادی سطح تھا،گاؤں میں مقدم مقامی سربراہ کا کردار ادا کرتا تھا اور پٹواری حساب و ریکارڈ سنبھالتا تھا،اس سے اوپر پرگنہ کی سطح پر شِقدار انتظام و امن و امان اور منصف/عامل مالیاتی و اراضی امور دیکھتے تھے،یعنی مرکز اور عام آدمی کے درمیان ایک واضح انتظامی زنجیر موجود تھی۔
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ آج کا پاکستان بعینہٖ شیر شاہ سوری یا برطانوی دور کا نظام واپس لے آئے،زمانہ بدل چکا ہے، ریاست کا آئینی ڈھانچہ بدل چکا ہے،شہری کے حقوق بدل چکے ہیں،جمہوریت اور قانون کی بالادستی ہماری بنیادی ضرورت ہے۔
لیکن ایک اصول آج بھی زندہ ہے: ریاست جتنی مؤثر ہوگی،اس کا انتظام اتنا ہی نچلی سطح تک منظم ہوگا۔
تحصیلدار سے چوکیدار تک ایک مربوط زنجیر
ہمیں کیوں نہ ایک ایسا جدید نظام تشکیل دیا جائے جس میں:
ضلع → تحصیل → ذیل → موضع
اور اس پورے ڈھانچے میں:
تحصیلدار → ذیلدار → نمبردار → پٹواری → چوکیدار
اپنی اپنی واضح قانونی ذمہ داری کے ساتھ کام کریں؟
یہ کوئی خیالی تصور نہیں۔ موجودہ پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ میں بھی Lambardar/نمبردار کو Village Officer کے قانونی تصور میں شامل کیا گیا ہے،جبکہ پٹواری اور دیگر ریونیو اہلکار بھی اسی وسیع انتظامی ڈھانچے کا حصہ ہیں۔
مسئلہ یہ نہیں کہ یہ عہدے موجود نہیں،مسئلہ یہ ہے کہ ان کی صلاحیت،مقامی رسائی اور ریاست کے ساتھ ان کے تعلق کو جدید تقاضوں کے مطابق پوری طرح استعمال نہیں کیا جا رہا۔
نمبردار کو بااختیار بنائیے، بادشاہ نہیں،یہ جملہ اس پورے نظام کی بنیاد ہونا چاہیے:
"نمبردار بااختیار ہو، مگر بادشاہ نہ ہو۔"
نمبردار کو اتنا اختیار ضرور دیا جائے کہ وہ اپنے موضع میں ریاست کا مؤثر نمائندہ بن سکے،لیکن اس کے اختیار پر قانون،اپیل،نگرانی اور احتساب کی مضبوط حدود بھی موجود ہوں۔
نمبردار کے فرائض میں جدید انداز سے یہ امور شامل کیے جا سکتے ہیں:
- موضع کے بنیادی انتظامی و سماجی حالات سے حکومت کو باخبر رکھنا؛
- سرکاری اعلانات اور عوامی معلومات لوگوں تک پہنچانا؛
- مستحق افراد اور سرکاری منصوبوں کے بارے میں مقامی تصدیق میں معاونت؛
- قدرتی آفات، سیلاب، بارش، فصلوں کے نقصان اور ہنگامی صورتِ حال کی فوری اطلاع؛
- آبادی، نقل مکانی اور مقامی حالات کے بنیادی اعداد و شمار کی بروقت نشاندہی؛
- پولیس اور انتظامیہ کو مقامی حالات سے آگاہ کرنے میں قانونی معاونت؛
- زمین کے ریکارڈ سے متعلق امور میں پٹواری اور ریونیو انتظامیہ کے ساتھ رابطہ؛
- معمولی نوعیت کے مقامی اختلافات میں غیر جبری اور قانونی ثالثی میں معاونت؛
- ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان رابطے کا ایک مؤثر پل بننا۔
لیکن فیصلہ وہی ہوگا جو قانون دے گا۔ نمبردار کسی عدالت کا متبادل نہیں، پولیس کا افسر نہیں، اور نہ ہی کسی شہری کے بنیادی حقوق پر حاکم ہے۔
وہ ریاست کا مقامی خادم اور رابطہ کار ہے۔
آج کا نمبردار کل کا نمبردار نہیں
یہاں ایک بات خاص طور پر کہنے کی ضرورت ہے۔
ہم آج کے نمبردار کو صدیوں پرانے نمبردار کے پیمانے سے نہ ناپیں۔ ،آج کا نمبردار عموماً ایک ایسے معاشرے میں کام کر رہا ہے جہاں شناختی کارڈ،موبائل فون،ڈیجیٹل زمین کا ریکارڈ،کمپیوٹرائزڈ نظام،سوشل میڈیا،جدید مواصلات اور قانونی شعور عام ہو چکا ہے،موجودہ نمبردار پڑھے لکھے ہیں،قانون اور سرکاری طریقۂ کار سے واقف ہیں،جدید ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں اور اپنے علاقے کے لوگوں کے مسائل کو براہِ راست جانتے ہیں،یہی لوگ ریاست کے لیے ایک بہت بڑا انتظامی اثاثہ بن سکتے ہیں۔
پنجاب میں زمین کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے پہلے ہی پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی کا جدید نظام موجود ہے،اور حکومت خود شفاف،مؤثر اور شہری مرکز نظامِ اراضی کی طرف بڑھ رہی ہے۔
تو پھر سوال یہ ہے:
جب زمین کا ریکارڈ ڈیجیٹل ہو سکتا ہے تو نمبردار کا مقامی کردار بھی ڈیجیٹل کیوں نہیں ہو سکتا؟
کیوں نہ ہر نمبردار کو ایک سرکاری موبائل ایپ یا محفوظ ڈیجیٹل پورٹل دیا جائے؟
وہ اپنے موضع کی ہنگامی صورتحال رپورٹ کرے،سرکاری اطلاع وصول کرے،متعلقہ افسر تک مسئلہ پہنچائے اور کارروائی کی پیش رفت دیکھ سکے،یوں صدیوں پرانا مقامی رابطہ اکیسویں صدی کی ٹیکنالوجی سے جڑ جائے گا۔
ذیلدار کا کردار بھی واپس سوچنے کی ضرورت ہے،اگر کئی مواضعات کو ایک انتظامی حلقے میں منظم کیا جائے تو ذیلدار کو جدید میں رابطہ افسر بنایا جا سکتا ہے،اس کا کام نمبرداروں پر بادشاہی کرنا نہیں بلکہ ان کے کام کو تحصیل انتظامیہ سے جوڑنا ہو۔
مثلاً:
20 یا 30 مواضع → ذیل → ذیلدار → تحصیلدار/اسسٹنٹ کمشنر
نمبردار مقامی معلومات دے،پٹواری ریکارڈ دے،چوکیدار زمینی صورتِ حال سے آگاہ کرے،ذیلدار ان سب کو مربوط کرے اور تحصیلدار قانونی و انتظامی نگرانی کرے،یوں ہر چھوٹی بات کے لیے ضلع یا صوبائی سیکریٹریٹ کی طرف دوڑنے کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔
چوکیدار کو بھی معمولی نہ سمجھا جائے،ہم نے اپنے مقامی نظام کے ایک اہم ستون کو تقریباً بھلا دیا ہے: چوکیدار۔
وہ گاؤں کی سطح پر ریاست کی آنکھ اور کان بن سکتا ہے،مگر قانون کے دائرے میں،قدرتی آفت ہو،کسی علاقے میں غیر معمولی صورتِ حال ہو،کوئی سرکاری اطلاع پہنچانی ہو،کوئی ہنگامی واقعہ ہو یا مقامی انتظامیہ کو فوری زمینی اطلاع درکار ہو،تو تربیت یافتہ اور جواب دہ مقامی اہلکار بہت قیمتی ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ کام طاقت کے زور پر نہیں بلکہ تربیت،قانون اور جواب دہی سے ہونا چاہیے،منتخب مقامی حکومت بھی ساتھ ہو،یہاں ایک بنیادی اصول ضروری ہے:
نمبردار منتخب نمائندے کا متبادل نہیں،پاکستان کا جدید نظام صرف سرکاری اہلکاروں سے نہیں چل سکتا،ایک طرف منتخب مقامی حکومت ہو،دوسری طرف ریونیو و انتظامی ڈھانچہ ہو،منتخب نمائندے عوام کی سیاسی نمائندگی کریں،جبکہ تحصیلدار، ذیلدار،نمبردار،پٹواری اور چوکیدار اپنے قانونی انتظامی فرائض انجام دیں،دونوں ایک دوسرے کے حریف نہیں بلکہ ریاستی نظام کے دو مختلف ستون ہوں۔
ڈیجیٹل ریکارڈ، مگر انسانی رابطہ بھی:ہمیں یہ غلط فہمی بھی ختم کرنا ہوگی کہ صرف کمپیوٹر حکومت چلا دے گا۔
ڈیجیٹل ریکارڈ ضروری ہے،مگر ڈیجیٹل ریاست کو زمینی آنکھ بھی چاہیے،کمپیوٹر یہ بتا سکتا ہے کہ فلاں موضع میں کتنے کھاتے ہیں،لیکن وہاں کا نمبردار یہ بھی جانتا ہے کہ کون سا راستہ بارش میں بند ہو جاتا ہے،کس بستی کو پانی کا مسئلہ ہے،کہاں فصل متاثر ہوئی،کون سا خاندان اچانک مشکل میں ہے اور کس مسئلے نے مقامی سطح پر جنم لیا ہے۔
لہٰذا ہمیں:
ڈیجیٹل ریکارڈ + مقامی علم دونوں کو ملانا ہوگا،مگر احتساب کے بغیر اختیار خطرناک ہے،یہ بات بھی کھلے دل سے تسلیم کرنی ہوگی کہ مقامی اختیار کے ساتھ مقامی طاقت کا غلط استعمال بھی ہو سکتا ہے،اسی لیے نئے نظام کے پانچ ستون ہونے چاہئیں:
پرانا مقامی ڈھانچہ + جدید قانون + منتخب مقامی حکومت + ڈیجیٹل ریکارڈ + سخت نگرانی
ہر نمبردار کے فیصلے کے خلاف شکایت کا راستہ ہو،ہر پٹواری کا ریکارڈ قابلِ جانچ ہو،ہر ذیلدار جواب دہ ہو،ہر تحصیلدار کی کارکردگی ناپی جائے،اور ہر شہری کو شکایت کا حق حاصل ہو۔
یعنی:
اختیار ہو،مگر احتساب کے ساتھ،مراعات ہوں،مگر ذمہ داری کے ساتھ،عزت ہو،مگر قانون کے تابع۔
نئے صوبے آخری حل کیوں ہوں؟
اگر نئے صوبے کسی علاقے کی حقیقی انتظامی،جغرافیائی یا شناختی ضرورت پوری کرتے ہیں تو ان پر بحث ضرور ہونی چاہیے،لیکن صرف اس لیے کہ حکومت عوام تک نہیں پہنچ پا رہی،ہر بار نقشے پر نئی لکیر کھینچ دینا شاید کافی نہ ہو،اگر نئے صوبے بن بھی جائیں لیکن اختیار پھر نئے صوبائی دارالحکومت میں مرکوز ہو جائے تو عام آدمی کی مشکل کہاں ختم ہوگی؟
آج لاہور دور ہے،کل نیا صوبائی دارالحکومت قریب آ سکتا ہے،مگر اگر اس نئے دارالحکومت سے بھی ہر حکم تحصیل اور ضلع کے بعد گاؤں تک پہنچنے میں ہفتے لگیں تو مسئلہ پھر وہیں کھڑا ہوگا،اصل کامیابی صوبوں کی تعداد کم یا زیادہ کرنے میں نہیں،ریاست کو شہری کے قریب لانے میں ہے۔
نمبردار کو عزت بھی دیں،ذمہ داری بھی یہ وقت نمبردار کو محض ایک روایتی لقب سمجھنے کا نہیں،اگر ریاست واقعی گورننس کو نچلی سطح تک لے جانا چاہتی ہے تو اسے اپنے موجودہ مقامی ڈھانچے کو دیکھنا چاہیے،ہزاروں مواضع میں پہلے ہی ایسے لوگ موجود ہیں جو اپنے علاقے،لوگوں،زمین،خاندانوں، راستوں،فصلوں اور مقامی حالات سے واقف ہیں۔
انہیں مناسب تربیت دیجیے،انہیں جدید ٹیکنالوجی دیجیے،انہیں واضح قانونی اختیارات دیجیے،انہیں مناسب معاوضہ اور مراعات دیجیے،ان کے لیے ضابطۂ اخلاق بنائیے،ان کے کام کا آڈٹ کیجیے،اور ان کے خلاف شکایت و اپیل کا مؤثر نظام بنائیے،پھر دیکھیے ریاست کس طرح آخری گھر تک پہنچتی ہے۔
ریاست کو گاؤں تک لے جانے کا وقت:
پاکستان کو شاید ہر مسئلے کے لیے ایک نیا صوبہ نہیں چاہیے،پاکستان کو شاید ایک ایسی حکومت چاہیے جو گاؤں کے آدمی کو محسوس کرا سکے کہ ریاست اس کے دروازے سے چند قدم کے فاصلے پر ہے۔
تحصیلدار حکومت کا قانونی بازو ہو،ذیلدار رابطے کا مضبوط پل ہو،پٹواری درست اور ڈیجیٹل ریکارڈ کا امین ہو،چوکیدار مقامی اطلاع کا ذمہ دار اہلکار ہو،اور نمبردار ریاست اور عوام کے درمیان باوقار،بااختیار مگر جواب دہ رابطہ ہو،یہی نمبردار اگر جدید قانون،ڈیجیٹل ریکارڈ،ٹیکنالوجی اور منتخب مقامی حکومت کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو وہ ماضی کا صرف ایک عہدہ نہیں رہے گا،وہ جدید پاکستان کے گاؤں کی سطح کا ایک مؤثر انتظامی ستون بن سکتا ہے،ہمیں ماضی کی اندھی تقلید نہیں کرنی،ماضی کے کارآمد تجربے کو جدید ریاست کے تقاضوں سے جوڑنا ہے۔
شیر شاہ کے دور میں گاؤں کی سطح تک انتظامی رابطہ موجود تھا،آج ہمارے پاس اس کے ساتھ کمپیوٹر،انٹرنیٹ،موبائل،جغرافیائی نظام،ڈیجیٹل زمین کا ریکارڈ اور جدید قانون بھی موجود ہے۔
تو پھر کیوں نہ دونوں کو ملا دیا جائے؟
پرانی جڑیں،جدید شاخیں،قانون کی چھاؤں اور عوام کی خدمت۔
شاید پاکستان کو ایک بار پھر یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مضبوط ریاست وہ نہیں جس کے دفاتر بہت بڑے ہوں،مضبوط ریاست وہ ہے جس کا ہاتھ آخری گاؤں تک پہنچتا ہو،اور اگر وہ ہاتھ قانون،دیانت،ٹیکنالوجی اور جواب دہی کے ساتھ پہنچے تو شاید ہمیں ہر انتظامی مشکل کا جواب نئے صوبے کے نقشے میں نہیں،اپنے ہی گاؤں کے منظم نظام میں مل جائے۔
منقول۔

بشکریہ راجہ عدیل عالم نمبردار

، انجمن نمبرداران تحصیل جہانیاں کا اہم اجلاسانجمن نمبرداران تحصیل جہانیاں کا اہم اجلاس چوہدری اکرام الغنی نمبردار، صدر ا...
03/09/2026

،

انجمن نمبرداران تحصیل جہانیاں کا اہم اجلاس
انجمن نمبرداران تحصیل جہانیاں کا اہم اجلاس چوہدری اکرام الغنی نمبردار، صدر انجمن نمبرداران ضلع خانیوال کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔
اجلاس میں تحصیل جہانیاں کے معزز نمبرداران نے بھرپور شرکت کی اور نمبرداران کو درپیش مسائل، باہمی امور اور تنظیمی معاملات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
اجلاس میں شرکت کرنے والے معزز نمبرداران میں:
رانا فیاض انور نمبردار چک نمبر 139 دس آر، چوہدری یونس نمبردار چک نمبر 138 دس آر،
چوہدری زبیر واہلہ نمبردار چک نمبر 110 دس آر،
چوہدری الیاس رندھاوا نمبردار چک نمبر 140 دس آر،
چوہدری مشتاق احمد نمبردار چک نمبر 138 دس آر،
محمد حیات ٹنڈا نمبردار چک نمبر 143 دس آر،
چوہدری ندیم اکرم کمبوہ نمبردار چک نمبر 125 دس آر ،
چوہدری جاوید چھینہ نمبردار چک نمبر 121 دس آر،
مدثر نواز ٹنڈا چک نمبر 143 دس آر،
شاہد مجید بھٹی نمبردار چک نمبر 142 دس آر،
چوہدری اعظم نمبردار چک نمبر 132 دس آر،
چوہدری یعقوب نمبردار چک نمبر 117 دس آر،
رانا شبیر احمد نمبردار اور
رانا عباد نمبردار ٹھٹھہ صادق آباد
شامل تھے۔
شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ نمبرداران کے مسائل کے حل اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے باہمی اتحاد و اتفاق کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

نمبردار — ریاستِ پاکستان کا بے لوث نمائندہنمبردار صدیوں سے ریاست اور عوام کے درمیان رابطے کی اہم ترین کڑی کے طور پر اپنے...
28/08/2026

نمبردار — ریاستِ پاکستان کا بے لوث نمائندہ

نمبردار صدیوں سے ریاست اور عوام کے درمیان رابطے کی اہم ترین کڑی کے طور پر اپنے فرائض انجام دیتا آ رہا ہے۔ آج بھی ملک کے دیہی علاقوں میں نمبردار بلا معاوضہ ریاستی خدمات سرانجام دیتے ہوئے عوامی مسائل، انتظامی امور اور ریاستی ذمہ داریوں میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔

ایسے میں اسسٹنٹ کمشنر عیسیٰ خیل، میانوالی کی جانب سے ایک نمبردار کے ساتھ مبینہ بدترین اور توہین آمیز سلوک کی شدید مذمت کی جاتی ہے۔ کسی بھی سرکاری افسر کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ ریاست کے ایک مقرر کردہ نمائندے کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کرے جو اس کے وقار، عزتِ نفس اور منصب کو مجروح کرے۔

نمبردار کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ ریاست کی خدمت اور عوام کی سہولت کے لیے اپنی ذمہ داریاں نبھاتا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ایک طرف نمبردار سے ریاستی امور میں تعاون اور خدمات کی توقع کی جاتی ہے، جبکہ دوسری طرف وہ بغیر معاوضہ خدمات، محدود وسائل اور بیوروکریسی کے رحم و کرم پر اپنے فرائض انجام دینے پر مجبور ہے۔

نمبردار عزت، مراعات نہیں بلکہ اپنے منصب کا جائز احترام چاہتا ہے۔ ریاستی نظام میں اس کے کردار کو تسلیم کرنا اور سرکاری افسران کی جانب سے اس کے ساتھ باوقار اور مہذب رویہ اختیار کرنا ناگزیر ہے۔

ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ نمبردار کے ساتھ پیش آنے والے اس واقعے کا شفاف نوٹس لیا جائے، معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں اور اگر بدسلوکی ثابت ہو تو ذمہ دار کے خلاف قانون و ضابطے کے مطابق کارروائی کی جائے۔

نمبردار ریاست کا بے لوث نمائندہ ہے — اس کی تذلیل دراصل ریاستی خدمت کے ایک اہم کردار کی تذلیل ہے۔

نمبردار کا وقار، ریاست کا وقار ہے۔
نمبردار کو عزت دیں، ریاستی نظام کو مضبوط کریں۔

22/08/2026
وزیر اعلیٰ گلگت  بلتستان امجد حسین نے تمام اضلاع کے نمبرداروں سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انتظامی اور سی...
08/08/2026

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے تمام اضلاع کے نمبرداروں سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انتظامی اور سیاسی سطح پر نمبرداروں کا ہمیشہ سے اہم کردار رہا ہے۔ پالیسیوں پر عملدرآمد کے لیے بھی نمبرداروں کا تعاون درکار رہتا ہے۔ صوبے کے سیٹلڈ علاقوں میں نمبرداروں کو زیادہ اہمیت نہیں دی گئی، جس کی وجہ سے نمبرداری نظام موثر نہیں رہا اور زمینوں کی بندر بانٹ ہوئی، جس کا فائدہ صرف لینڈ مافیا کو پہنچا۔ اس کے برعکس نان سیٹلڈ علاقوں میں نمبرداری نظام مضبوط اور موثر رہا، جس کا براہِ راست فائدہ ان علاقوں کے عوام کو ہوا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سیٹلڈ علاقوں میں بھی نمبرداری نظام کو فعال اور مضبوط بنایا جائے گا۔ ویلج ویریفکیشن کمیٹیوں کا قیام دفاتر کے بجائے پبلک اسمبلی میں کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔ نمبردار اس کی نگرانی کریں اور علاقے کے بااثر و اچھی شہرت رکھنے والے افراد کو ان کمیٹیوں کا حصہ بنائیں۔ وزیرِ اعلیٰ نے یقین دہانی کرائی کہ نمبرداروں کے جائز مطالبات ترجیحی بنیادوں پر پورے کیے جائیں گے۔ اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایت کی جائے گی کہ وہ نمبرداروں کے دفاتر کے لیے مناسب اقدامات کریں اورانہیں اہمیت دیں۔ علاوہ ازیں، مائننگ رولز (کان کنی کے قوانین) میں بھی ویلج ویریفکیشن کمیٹیوں کو اہم کردار دیا جائے گا تاکہ علاقے اور عوام کے حقوق کا تحفظ ممکن ہو سکے۔اس موقع پر نمبرداروں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی مائننگ کے خلاف وزیرِ اعلیٰ کے احکامات پر ہم انہیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں اور مکمل حمایت کا یقین دلاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لینڈ ریفارمز ایکٹ پاکستان پیپلز پارٹی اور وزیرِ اعلیٰ کا تاریخی اقدام ہے، جس سے گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق کا تحفظ ہوا اور انہیں ان کی زمینوں کا مالک بنایا گیا۔ ہمیں فخر ہے کہ گلگت بلتستان کی ترقی و بہبود کا وژن رکھنے والے وزیرِ اعلیٰ منتخب ہوئے ہیں۔ ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ لینڈ ریفارمز ایکٹ پر عملدرآمد سمیت جو بھی فیصلے آپ گلگت بلتستان کی ترقی کے لیے کریں گے، تمام نمبردار آپ کے ساتھ بلا مشروط اور مکمل تعاون کریں گے۔

راجہ ادا حقانی جالپ نمبردار چک مجاہد جنرل سکریٹری و بانی نمبردار ایسوسی ایشن تحصیل پنڈدادنخان کا فیصل آباد کا دورہ ۔ نمب...
03/11/2025

راجہ ادا حقانی جالپ نمبردار چک مجاہد جنرل سکریٹری و بانی نمبردار ایسوسی ایشن تحصیل پنڈدادنخان کا فیصل آباد کا دورہ ۔ نمبردار راجہ ادا حقانی صاحب کا کہنا تھا کہ
اختلاف رائے کیا جا سکتا پے مگر بے وفائی نہیں نمبردار میجر عبدالرحمن رانا صاحب صدر پنجاب نے مجھے انگلی پکڑ کر پنجاب کے نمبرداری نظام میں چلایا اور پنجاب کے نمبرداران سے متعارف کرایا ۔بھائی شہزاد انور گجر سٹی صدر فیصل آباد نے میری پھر پور معاونت اور سپورٹ کی میرے جیسے ہزاروں نمبرداروں پر میجر صاحب کے احسانات ہیں ۔آج فیصل آباد میں دونوں رہنماؤں سے ملاقات کر کے خوشی ہوئی ۔مجھے میجر صاحب ،نمبردار چوہدری شہزاد انور گجر صاحب اورآپ کی پوری ٹیم پر فخر ہے۔
راجہ صاحب کے ہمراہ ان کا بڑا بیٹا راجہ محمد شہاب محی الدین جالپ بھی موجود تھا۔

04/11/2024

مٹی کے اوپر محل بنانے کے ساتھ ساتھ مٹی کے نیچے بھی محل بنانے کی کوشش جاری رکھیں
اصل ٹھکانہ وہی قبر ہے جس کا اختیار آپ کے پاس ہے وہ محل بنے یا؟؟؟؟

Address

Rehman Hospital Main Shaikhupura Road
Faisalabad
38000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when نمبردار ایسوسی ایشن پنجاب 1 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share