پاکستانی صحافت

پاکستانی صحافت Political Views and Columns of Pakistani writers.

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای شدید زخمی ہ...
24/04/2026

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای شدید زخمی ہیں اور ان تک اعلیٰ حکومتی و عسکری عہدیداروں کی رسائی انتہائی محدود کر دی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جب ان کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای ایران کے سپریم لیڈر تھے تو وہ جنگ، امن اور امریکا سے مذاکرات جیسے اہم فیصلوں میں مکمل اختیار رکھتے تھے، تاہم ان کے مبینہ جانشین کا کردار اس سے مختلف بتایا جا رہا ہے۔
اخبار کے مطابق آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای مارچ سے منظرِ عام پر نہیں آئے اور نہ ہی ان کی کوئی ویڈیو یا آڈیو سامنے آئی ہے، جس کے باعث ان کی صحت اور موجودگی سے متعلق مختلف سوالات جنم لے رہے ہیں۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہیں طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے اور ان تک صرف محدود طبی عملہ ہی رسائی رکھتا ہے۔ بعض سینئر ایرانی حکام کے مطابق ان کی نقل و حرکت اور سکیورٹی وجوہات کے باعث ملاقاتیں انتہائی محدود کر دی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے صدر مسعود پزشکیان، جو پیشے کے اعتبار سے معالج بھی ہیں، مبینہ طور پر ان کے علاج کے عمل میں شامل رہے ہیں۔
مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کی جسمانی حالت میں چوٹوں اور سرجریوں کے باعث مشکلات ہیں، تاہم وہ ذہنی طور پر ہوشیار بتائے جاتے ہیں۔
تاہم ان تمام دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔


Disclaimer:This report is based on media claims and unverified sources. It does not represent confirmed facts from official Iranian authorities or independent verification.

22/04/2026

سیزفائر چلتا رہے گا!

آج شام ایک مرتبہ پھر تین دوستوں سے شرط جیتی جو ایران امریکہ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے حوالے سے تھی. جنگ سنجیدہ چیز ہے، اس پر شرطیں نہیں لگنی چاہئیں. تاہم میری شرط امن کے حوالے سے تھی. میں پہلے دن سے ہی واضح تھا کہ 22 اپریل کو جنگ نہیں چھڑے گی. یہ پیشین گوئی کرنے کے لیے بین الاقوامی تعلقات میں مہارت یا آئن سٹائن نہیں ہونا چاہیئے، بس طاقت کی نفسیات سمجھنا ضروری ہے.

7 اپریل کو جب ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر پاکستان کی ثالثی قبول کر کے دو ہفتے کی عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا، میں اس دن سے واضح تھا کہ یہ جنگ بندی قائم رہے گی۔ دھکے لگیں گے، پوسچرنگ ہو گی، فریقین اپنے اپنے گھریلو سامعین کے لیے منہ سے میزائل پھینکیں گے، مگر جنگ کی آگ پھر سے نہیں بھڑکے گی۔ کیونکہ اسے بھڑکنے کی اجازت اب کوئی بھی فریق نہیں دینا چاہتا، اور اگر سارے کھلاڑی اپنی اپنی وجوہات کی بنا پر سیز فائر ٹوٹتے نہیں دیکھنا چاہتے، تو وہ ٹوٹتا نہیں ہے۔

ٹرمپ نے ابھی ٹروتھ سوشل پر وہ اعلان کر دیا جس کا اربوں لوگ بے چینی سے انتظار کر رہے تھے۔ اس نے لکھا، "حکومتِ ایران کے گہرے داخلی انتشار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست کی بنا پر، میں جنگ بندی کو اُس وقت تک توسیع دیتا ہوں جب تک اُن کی تجویز پیش نہ ہو جائے اور بات چیت ایک یا دوسرے نتیجے پر نہ پہنچ جائے"۔ غور کیجیے اس جملے پر۔ کوئی نئی تاریخ نہیں۔ کوئی دو ہفتے کی حد نہیں۔ کوئی بڑی ڈیڈلائن نہیں۔ بلوم برگ، سی این این، سی بی ایس نیوز، تینوں نے اسے اس طرح رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ نے تاریخ اٹھا لی ہے اور نتیجے تک انتظار کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یعنی جنگ بندی عملی طور پر اُس دن تک قائم ہے جب تک معاہدہ نہ ہو جائے۔ ایک یا دوسرے رخ پر۔ اور ایک رخ بہت مشکل ہے، دوسرا ناگزیر۔

تسنیم کے مطابق ایران نے ٹرمپ کے سیزفائر کے اعلان کو مسترد کردیا اور اس کے امن کی نیت پر گہرے شکوک شبہات کا اظہار کیا ہے. ساتھ نیول بلاکیڈ ختم کرنے کے لیے جنگی کاروائی کی دھمکی بھی دی ہے. تاہم یہ بیانات ہیں اور ایران کو فی الحال ایسے بیانات ہی دینے چاہئیں.

اب بات کو اس کی جڑ سے دیکھیں۔ 28 فروری 2026 کو جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملہ کیا، اور چند گھنٹوں میں علی خامنہ ای، کئی سپاہی کمانڈر، اور درجنوں جوہری سائنس دان ایک ساتھ شہید ہو گئے، ٹرمپ اور نیتانیاہو کی جنگی مشین نے سوچا یہ ایک مختصر جنگ ہو گی۔ تین ہفتے، زیادہ سے زیادہ چھ۔ اور ایران ٹوٹ جائے گا۔ مگر ہوا کیا؟ ایران ٹوٹا نہیں، ایرانیوں کی حمیت اور شجاعت نے کمال کر دیا. ایران نے جدید ترین جنگی طیاروں کی ہولناک بمباری برداشت کی اور پھر 40 سال کا تیار کردہ پلان چالو کردیا. اسرائیل اور خلیجی ممالک کو میزائلوں اور ڈرونز کی باڑھ پر رکھ لیا. 4 مارچ کو ہرمز بند کر دیا۔ برینٹ کروڈ چند دنوں میں 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، امریکا کے گیس پمپ پر فی گیلن قیمت 2.98 ڈالر سے چار ڈالر گیارہ سینٹ پر چھلانگ لگا گئی، یورپ میں ڈچ ٹی ٹی ایف گیس کا نرخ دگنا ہو گیا۔ آئی ایم ایف نے عالمی ترقی کا تخمینہ ایک لمحے میں کم کر دیا، ایران کی اپنی معیشت کے لیے 6.1 فی صد سکڑاؤ کی پیش گوئی آ گئی، تل ابیب میں ایک ہزار سے زیادہ گھر ایرانی میزائلوں سے ناقابلِ رہائش ہو گئے، اور بحرین، قطر، کویت جیسی خلیجی ریاستوں میں خوراک اور پینے کے پانی کی سپلائی پر بحران چھا گیا۔ امارات کو صدر ٹرمپ سے ڈالرز کی سپلائی کے حوالے سے درخواست کرنی پڑ گئی.

ٹرمپ، جو "پریزیڈنٹ آف پیس" کا نعرہ لے کر آیا تھا، اب ایک ایسی جنگ میں پھنسا تھا جس کا کوئی قابلِ عزت اختتام اس کے پاس نہیں تھا۔ اس کی اپنی ماگا اتحاد بکھرنے لگی۔ ٹکر کارلسن اور سٹیو بینن سرِعام اس جنگ کو ایک "نیتن یاہو کی جنگ" کہہ رہے تھے۔ اٹلی کی جورجیا میلونی نے سسلی کا فوجی اڈہ امریکا کو ایران پر حملے کے لیے دینے سے انکار کر دیا۔ برطانیہ، جرمنی، سپین، سوئٹزرلینڈ اور کئی یورپی ممالک نے کھل کر کہ دیا 'ایبسالئوٹلی ناٹ'. جان کیری نے ایک ٹیلی ویژن مکالمے میں سیدھے الفاظ استعمال کیے۔ "نیتن یاہو نے یہ منصوبہ بش کو بھی دیا تھا، اوباما کو بھی، بائیڈن کو بھی۔ سب نے ٹھکرا دیا۔ صرف ٹرمپ نے قبول کیا"

اب ٹرمپ کو ایک ایسی پتلی گلی کی ضرورت تھی جس سے وہ عزت کے ساتھ نکل سکے۔ چہرہ بچانے والی راہ۔ اور یہاں پاکستان کا مضبوط ایٹمی کاندھا استعمال ہوا. اللہ کرے کہ پاکستان ان خدمات کو اب پاکستانی عوام کے فائدے میں بدل سکے.

مجھے کیوں اس بات کا یقین تھا کہ پاکستان ہی یہ کردار ادا کرے گا؟ کیونکہ پاکستان کے پاس ایک ایسا اثاثہ ہے جسے خلیج کی کوئی عرب ریاست یا عمان یا قطر کی ثالثی کی تاریخ بھی حاصل نہیں کر سکی۔ ایک وردی پوش فیلڈ مارشل جس کا براہِ راست تعلق واشنگٹن اور تہران، دونوں کے ساتھ بنا ہوا ہے۔ عاصم منیر جو ایک سال پہلے تک طاقت کے ایوانوں میں ایک گھس بیٹھیے تھے، آج ٹرمپ کے "فیورٹ فیلڈ مارشل" ہیں، اور تہران کی جانب سے بھی وہ اکلوتے غیر ملکی فوجی سربراہ ہیں جنہیں جنگ کے بعد ایرانی فوجی قیادت نے وردی میں استقبال کیا۔ شہباز شریف کی وزارتِ عظمیٰ اس میں مددگار ہے، مگر اصل انجن وہی ہیں. پنڈی ایک مرتبہ پھر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا ہے.

23 مارچ کو جب منیر نے براہِ راست ٹرمپ سے بات کی، اور ٹرمپ نے ایران کی توانائی کے ڈھانچے پر پانچ دن کی مشروط بندش کا اعلان کیا، تو یہ محض ایک فون کال نہیں تھی۔ یہ ٹرمپ کے لیے سانس لینے کی ایک کھڑکی تھی۔ پاکستان نے وہ پیش کش کی جو امریکا کو زبانی طور پر مانگنی بھی محال تھی۔ ایک ایسی جگہ جہاں سے وہ ایران سے بات کر سکے، بغیر یہ مجبوری مانے کہ اسے بات کرنی پڑ رہی ہے۔ اسلام آباد آج وہ کمرہ ہے جہاں 50 برس بعد امریکا کا نائب صدر اور ایران کا وزیرِ خارجہ ایک ہی وقت میں داخل ہو سکتے ہیں۔ یہ پاکستان کی خوش قسمتی نہیں، اس کی بنائی ہوئی شناخت ہے، اور 70 برس میں اس کی قیمت ادا کی گئی ہے۔

اب آئیے اس کی سب سے پیچیدہ تہہ پر۔ ٹرمپ کا اصل ٹرمپ کارڈ جنگ بندی نہیں، وہ محاصرہ ہے جو اس نے 13 اپریل سے ایران کی بندرگاہوں پر قائم رکھا ہے، جبکہ جنگ بندی بھی قائم ہے۔ سی این این بزنس کے تجزیے کے مطابق امریکی بحریہ اب تک 27 سے 28 بحری جہاز واپس موڑ چکی ہے۔ کپلر کے مطابق ایران کی روزانہ تیل برآمدات، جو فروری میں 1.84 ملین بیرل پر تھیں، بتدریج دم توڑ رہی ہیں۔ ایرانی معیشت کے پاس دو تین مہینوں کا تیل کا ذخیرہ تھا، جو آہستہ آہستہ خالی ہو رہا ہے۔ ولسن سنٹر، بروکنگز، اور انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹجک سٹڈیز کے تجزیہ کار ایک ہی بات کہہ رہے ہیں۔ محاصرہ جتنا طویل ہو گا، تہران پر اتنا ہی وقت کم ہو گا۔ یعنی ٹرمپ جنگ بندی بھی جاری رکھے ہوئے ہے اور گُن ایران کی کنپٹی پر بھی رکھی ہوئی ہے، اور اس گن کو چلانے کی ضرورت نہیں۔ گن خود کام کر رہی ہے۔ وہ جب چاہے گا یہ گن ہٹا لے گا اور اسلام آباد مذاکرات اس کی بڑی وجہ بن سکتے ہیں.

اور یہاں ایران کی مجبوری کو سمجھنا ضروری ہے۔ آپ تجزیہ کریں کہ سیزفائر کے دوران اگر تہران کی پاسدارانِ انقلاب کسی تیل کے جہاز پر حملہ کر دے، یا کسی امریکی اتحادی ریاست کی تنصیبات کو نشانہ بنائے، یا ہرمز میں کسی کروز شپ پر آگ کھول دے، تو کیا ہو گا؟ اندرونی طور پر ایران کا حکومتی ڈھانچہ پہلے ہی دراڑ زدہ ہے۔ قلیباف، پزشکیان، اور ایران کی مذاکراتی ٹیم ایک چیز پر متفق ہے اور ایک پر نہیں۔ متفق اس پر ہے کہ امریکا نے جنگ بندی کی شرائط توڑی ہیں۔ غیر متفق اس پر ہے کہ کیا مزید ٹکراؤ کا خطرہ اٹھایا جائے۔ کوئی بھی غلط قدم ٹرمپ کو سیاسی طور پر وہ جواز دے دے گا جو آج اسے اندرونِ امریکا حاصل نہیں۔ یورپ کی ناراضگی مدھم پڑ جائے گی، اور "ایران نے پہلے حملہ کیا" کا بیانیہ ایک رات میں پوری دنیا میں چھپ جائے گا۔ تہران یہ بات جانتا ہے۔ اسی لیے وہ زبانی دھمکیاں دیتا ہے، مگر سرخ لکیر عبور نہیں کرتا۔ کرنی بھی نہیں چاہیے.

سیزفائر کیوں جاری رہے گا؟ کیونکہ سب فریقوں کی اپنی اپنی مصلحت جنگ بندی کو جاری رکھنے میں ہے۔ ٹرمپ کو اپنی ماگا بنیاد واپس چاہیے، اور وہ جنگ سے نکلے بغیر نہیں ملے گی۔ ایرانی حکومت ایک نئی شکل میں اپنے آپ کو بچانا چاہتی ہے، اور اس کے لیے پابندیوں میں ڈھیل، منجمد اثاثوں کی واپسی، اور محاصرہ اٹھانے سے کم پر بات نہیں بنے گی۔ پاکستان اپنے نئے سفارتی سرمائے کو ضائع ہوتے نہیں دیکھنا چاہتا۔ سعودی عرب، قطر، مصر، ترکی، چین، سب کی خواہش ایک ہی ہے۔ جنگ فورا ختم ہو جائے۔

میرے دوست اور پاکستان کے امریکی ماہر پروفیسر سٹیون کوہن نے ایک بار مجھ سے کہا تھا، "پاکستان جغرافیے کا قیدی ہے"۔ پچھلے پچاس دنوں نے دکھایا ہے کہ بعض اوقات قیدی کی بیڑیاں اس کے کنجیاں بن جاتی ہیں۔ پاکستان اس جنگ میں فریق نہیں بنا، ایران کا پڑوسی ہے، امریکا کا پرانا اتحادی ہے، چین کا گہرا شراکت دار ہے، سعودی عرب کا بھائی ہے۔ اسی لیے وہ تنہا کھلاڑی ہے جو تینوں کمروں میں داخل ہو سکتا ہے۔ اور اسی لیے جب ٹرمپ کو ایک سانس لینے کی راہ چاہیے تھی، وہ پاکستان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر نکلا۔ اور اس نے پاکستان کو کریڈٹ بھی دیا، جو ٹرمپ کی تاریخ میں شاید ہی کسی کو اتنے کھلے الفاظ میں ملا ہو۔

میں امن کے ساتھ کھڑا ہوں، ہر وہ دن بابرکت ہے جو جنگ کے بغیر ہو، کیونکہ اس کا ایندھن کمزور لوگ ہیں، جنگ زورآوروں کا شیرہ ہے. غزہ میں خون آشامی دیکھنے کے بعد ایران اور خلیج میں مزید بربریت دیکھنے کی ہمت نہیں ہے. صلح کرانے والے لوگ مبارک ہیں، ہر وہ شخص بابرکت ہے جو پل بنانے پر یقین رکھتا ہے.

اُمید کوئی پالیسی نہیں، تو مایوسی بھی کوئی پالیسی نہیں۔ مگر پتلی گہری راہ سے واقف ہونا، پالیسی ہے۔ اور آج رات ٹرمپ کی اس ایک پوسٹ نے وہ راہ کھول دی ہے۔ معاہدہ قریب ہے۔ دیر ہو سکتی ہے، شکل بدل سکتی ہے، شرائط پر جھگڑا رہے گا، سوشل میڈیا پر جنگ جاری رہے گی. مگر معاہدہ ہو کر رہے گا اور اس کا رستہ بھی اسلام آباد، پیر ودھائی سے گزر کر جائے گا. ایک علاقائی جنگ جو عالمی جنگ میں بدل سکتی ہے، ہر ایک کا ڈراؤنا خواب ہے. معاہدہ ہوگا کیونکہ اس کے بغیر کسی کا گزارہ نہیں، اور جب کسی کا گزارہ نہ ہو، تو معاہدہ کوئی انتخاب نہیں رہتا، مجبوری بن جاتا ہے۔

عارف انیس

As the ceasefire period nears its end, there has been a noticeable increase in pro-government demonstrations in Iran. In...
21/04/2026

As the ceasefire period nears its end, there has been a noticeable increase in pro-government demonstrations in Iran. In some of these protests, reports have emerged of armed women being present.
In the western area of the Iranian city of Khorramabad, a large rally was held in support of the government and armed forces, with significant participation from women.
On the other hand, following reports of new threats from former U.S. President Donald Trump in case a potential deal is not reached, the presence of armed women has also been reported in some protests across Iran.
In a demonstration held in Isfahan, a large number of veiled women reportedly took part. According to initial reports, some of them were carrying weapons such as Kalashnikovs and rocket launchers.
Disclaimer: This report is based on media footage and preliminary information. Certain details, including the presence of armed individuals, could not be independently verified.

جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کی تاریخ قریب آتے ہی ایران میں حکومت کے حق میں مظاہروں میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے، جبکہ بعض م...
21/04/2026

جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کی تاریخ قریب آتے ہی ایران میں حکومت کے حق میں مظاہروں میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے، جبکہ بعض مظاہروں کے دوران اسلحہ بردار خواتین کی موجودگی بھی سامنے آئی ہے۔

ایرانی شہر خرم آباد کے مغربی علاقے میں حکومت اور افواج کے حق میں ایک بڑی ریلی نکالی گئی، جس میں خواتین نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔

دوسری جانب، ممکنہ ڈیل نہ ہونے کی صورت میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نئی دھمکیوں کی اطلاعات کے بعد ایران میں ہونے والے بعض مظاہروں میں اسلحہ بردار خواتین کی موجودگی رپورٹ کی گئی ہے۔

اصفحان میں ہونے والے ایک مظاہرے میں برقعہ پوش خواتین کی بڑی تعداد شریک ہوئی، جن کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ کلاشنکوف اور راکٹ لانچر جیسے ہتھیار اٹھائے ہوئے تھیں۔

Disclaimer:This report is based on media footage and preliminary reports. Some details, including the presence of armed individuals, could not be independently verified.

20/04/2026

Whatever direction the situation may seem to be taking, reason suggests that Iran–US negotiations will eventually happen. Although the Iranian Foreign Ministry spokesperson, Esmail Baghaei, has issued a statement that they will not go to Pakistan for talks and that there will be no dialogue with the United States, the Americans are arriving—and they are not coming without some level of assurance.
The world of official statements is a strange one. On one hand, spokespersons solemnly declare that “there will be no talks,” while on the other, behind closed doors, chairs are being rearranged, tea is being kept warm, and interpreters are quietly practicing how to soften their words. Nations keep their flags raised high before their people, while inside, negotiation tables are being carefully prepared.
The situation remains as I have been saying: in Iran, on one side stand the Revolutionary Guards, firm in their hardline stance and ready to fight and sacrifice; on the other side are political representatives who seek dialogue and a lasting solution—one that benefits the nation, lifts economic sanctions, and settles matters once and for all.
This internal struggle is producing visible tension. The political leadership faces pressure from a religious establishment that favors a tougher approach. In the eyes of the Revolutionary Guards, there is a spark of resistance—they wish to write history with the edge of a sword. Meanwhile, the political figures hold a pen, knowing well that some lines are better written in ink than in blood. This is the fate of any state caught between ideology and necessity.
Negotiations—if not today, then tomorrow—will become inevitable, and by then it may already be too late. The political leadership understands this. War will cause losses on both sides. Even if the United States suffers, Iran’s losses will be many times greater, and recovering from them will be extremely difficult. Eventually, both sides will have to return to the negotiating table.
Neither can Iran eliminate a war machine like the United States, nor can the United States completely destroy Iran. In this chess game of power, there are many “checks,” but no “checkmate” in sight. At present, Iran holds a relatively strong position. It has leverage in geopolitical matters and still has room to secure what it wants. Tomorrow, after further damage, those options may shrink significantly.
For now, Arab countries remain largely silent. Much of the world appears to be quietly sympathetic toward Iran, while the United States and Israel seem relatively isolated. However, if the conflict reignites, many countries—including Arab states—may be compelled to take a clear side.
In the end, every war concludes either with surrender or through bilateral negotiations. Economic sanctions are a peculiar weapon: they do not make noise like bullets, but they slowly suffocate. Markets lose their vitality, currencies weaken, and questions begin to grow on the faces of ordinary people. In such circumstances, raising slogans of war is easy, but carrying a war to its logical conclusion is far more difficult.
History offers a simple lesson, though we tend to complicate it. Whether it was the Vietnam War or the Cold War, explosions eventually fall silent, and negotiation tables come alive again. Any other path is longer, bloodier, and far more expensive. When decisions are not made in time, consequences must be endured later.
The Iranian political leadership understands this reality. It is an intelligent nation. The United States also knows it cannot bring this war to a decisive end—it cannot eliminate Iran, nor force it into complete surrender. Given the constantly shifting dynamics of conflict, no final judgment can yet be made. It remains to be seen whether hardline forces in Iran prevail or whether political leadership fully takes control.
I still believe the Iranian delegation will come. Public statements are for domestic audiences; behind the scenes, matters remain in the hands of those who act with reason. It is entirely possible that talks will take place and still remain deadlocked—after all, disputes spanning half a century cannot be resolved in days. If they were, people themselves would become suspicious—and neither Iranian nor American leadership can afford such doubt among their citizens.
If, for some reason, the Iranian leadership truly does not come, then after the ceasefire period ends, the likelihood of war will be high—and war serves no one’s interest. Pakistan will cease its efforts, and whatever fate awaits the parties will be witnessed by the world, which will also bear its consequences.
As for those who wish to sabotage negotiations, who hope to see Pakistan’s peace efforts fail, or who are ready to place blame on Pakistan—they should remember:
“When the lamps go out, the wind belongs to no one.”
— Syed Mehdi Bukhari

20/04/2026

حالات جو بھی رُخ اختیار کرتے نظر آ رہے ہوں عقل یہی کہتی ہے کہ ایران امریکا مذاکرات ہوں گے۔ گو کہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بیان جاری کیا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے پاکستان نہیں جائیں گے اور امریکا سے بات نہیں ہو گی۔ لیکن امریکی پہنچ رہے ہیں اور ان کا آنا بنا کسی یقین کے نہیں ہے۔ بیانات کی دنیا بڑی عجیب ہوتی ہے۔ ایک طرف ترجمان پوری سنجیدگی سے اعلان کرتے ہیں کہ “بات نہیں ہو گی” اور دوسری طرف دروازوں کے پیچھے کرسیوں کی ترتیب بدلی جا رہی ہوتی ہے، چائے گرم رکھی جاتی ہے اور مترجم بھی وقت کے ساتھ اپنے الفاظ کو نرم کرنے کی مشق کر رہے ہوتے ہیں۔ قوموں کے سامنے اپنے اپنے جھنڈے بلند رکھے جاتے ہیں اور بند کمرے میں گفتگو کی میز سجائی جا رہی ہوتی ہے۔

صورتحال وہی ہے جو عرض کرتا رہا۔ ایران میں ایک طرف پاسداران انقلاب ہیں جو سخت مؤقف رکھتے ہیں اور لڑنے مرنے پر تیار ہیں، دوسری جانب سیاسی نمائندگان ہیں جو بات چیت کر کے مستقل حل اور ایسا حل نکالنے کے خواہاں ہیں جس کے نتیجے میں ملک و قوم کا بھلا ہو سکے۔ معاشی پابندیوں سے نکل سکیں اور معاملات ہمیشہ کے لیے سیٹل ہو سکیں۔ اسی کشمکش کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ ایرانی سیاسی قیادت پر سخت مؤقف رکھنے والی مذہبی قیادت کا دباؤ ہے۔ پاسداران کی آنکھوں میں مزاحمت کی چمک ہے۔ وہ تاریخ کو تلوار کے دھار پر لکھنا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب سیاسی چہرے ہیں، جن کے ہاتھ میں قلم ہے اور وہ جانتے ہیں کہ کچھ سطریں خون سے نہیں، سیاہی سے بہتر لکھی جاتی ہیں۔ یہی کشمکش ہر اس ریاست کا مقدر بن جاتی ہے جو نظریہ اور ضرورت کے درمیان کھڑی ہو۔

مذاکرات آج نہیں تو کل کرنا پڑیں گے اور تب بہت دیر ہو چکی ہو گی۔ یہ بات سیاسی قیادت سمجھتی ہے۔ جنگ میں نقصان دونوں جانب ہو گا۔ امریکا کا بھی ہو گا تو ایران کا کئی گنا زیادہ ہو گا۔ اس نقصان کی بھرپائی کرنا مشکل سے مشکل تر ہو گا۔ اور آخر کار پھر مذاکرات کی میز پر ہی بیٹھنا ہو گا۔ نہ ایران امریکا جیسی وار مشین کو ختم کر سکتا ہے نہ امریکا ایران کو مکمل ختم کر سکتا ہے۔ طاقت کی اس شطرنج میں “چیک” تو بہت ہیں مگر “چیک میٹ” کہیں نظر نہیں آتا۔ آج ایران اچھی پوزیشن رکھتا ہے۔ اس کو جیو پولیٹیکل معاملات و محاذ پر سبقت حاصل ہے۔ ابھی وہ جو حاصل کرنا چاہتا ہے اس کی گنجائش موجود ہے۔ کل کو مزید نقصان کرانے یا کرنے کے بعد یہ چوائس محدود سے محدود تر ہو جائے گی۔آج وہ جو کچھ منوانے کی پوزیشن میں ہے کل کو شاید نہ ہو۔ ابھی تو عرب ممالک بھی خاموش ہیں۔ دنیا ایران کی خاموش ہمدرد ہے۔ امریکا اسرائیل اکیلے ہیں۔ یہ جنگ پھر سے شروع ہوتی ہے تو عربوں سمیت شاید باقی ممالک کے لیے بھی ایک واضح سائیڈ لینا مجبوری بن سکتی ہے۔

بلآخر ہر جنگ کا اختتام یا تو سرنڈر کے اعلان پر ہوتا ہے یا دو طرفہ مذاکرات کی صورت۔ معاشی پابندیاں بھی عجیب ہتھیار ہوتی ہیں۔ یہ گولی کی طرح شور نہیں کرتیں مگر خاموشی سے سانس تنگ کر دیتی ہیں۔ بازار کی رونق مدھم پڑتی ہے، کرنسی کی حرارت کم ہوتی ہے، اور عوام کے چہروں پر سوال بڑھتے جاتے ہیں۔ ایسے میں جنگ کا نعرہ لگانا آسان ہوتا ہے مگر جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانا بہت زیادہ مشکل۔ تاریخ کا سبق بڑا سادہ ہے مگر ہم اسے پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ ویتنام جنگ ہو یا کولڈ وار، آخرکار دھماکے خاموش ہوتے ہیں اور میزیں آباد۔ کوئی اور راستہ چننا زیادہ طویل، زیادہ خونی اور زیادہ مہنگا ہوتا ہے۔فیصلے بروقت نہ کیے جائیں تو بعد میں صرف نتائج بھگتے جاتے ہیں۔

ایرانی سیاسی قیادت اس صورتحال کا ادراک رکھتی ہے۔وہ ذہین قوم ہے۔ امریکا بھی جانتا ہے کہ وہ یہ جنگ منطقی انجام تک نہیں پہنچا سکتا۔ ایران کو ختم نہیں کر سکتے، اسے سرنڈر پر مجبور نہیں کر سکتے۔ پل پل بدلتی جنگی صورتحال پر کوئی حتمی رائے نہیں دی جا سکتی۔ دیکھنا ہو گا ایران میں شدت پسند قوت غالب آتی ہے یا سیاسی قوت معاملات کو مکمل اپنے ہاتھ لیتی ہے۔ مجھے اب بھی محسوس ہوتا ہے ایرانی وفد آئے گا۔ بیانات اپنی عوام کے لیے ہیں۔ پسِ پردہ معاملات ہوش والوں کے ہاتھ ہیں۔ یہ عین ممکن ہے وہ آئیں اور گفتگو میں ڈیڈ لاک برقرار رہے۔ آخر نصف صدی کے معاملات دنوں میں حل نہیں ہو جاتے۔ ہو جائیں تو عوام شک کی نظر سے دیکھتے ہیں اور اپنے عوام میں پیدا ہوتے شک و شبہات اس وقت نہ ایرانی قیادت افورڈ کر سکتی ہے، نہ امریکی کر سکتے ہیں۔

اگر ایرانی قیادت کسی سبب واقعی نہیں آتی تو سیز فائر کی مدت ختم ہونے کے بعد جنگ شروع ہونے کے قوی امکانات ہوں گے۔ اور جنگ کسی کے مفاد میں نہیں۔ پاکستان اپنی کوششیں روک دے گا۔ پھر جو فریقین کے مقدر کا فیصلہ ہو گا وہی ساری دنیا دیکھے گی بھی اور اس کے نتائج بھگتے گی بھی۔ ہاں وہ طبقات جو مذاکرات کے سبوتاژ ہونے کے خواہشمند ہیں، پاکستان کی امن قائم کرنے کی کوششوں کو ناکام دیکھنا چاہتے ہیں یا پاکستان پر ملبہ ڈالنے کو تیار بیٹھے ہیں ان کو یہی کہا جا سکتا ہے “چراغ سب کے بجھیں گے، ہوا کسی کی نہیں”۔

سید مہدی بخاری

20/04/2026

The Dilemma of Iran–US–Israel Negotiations
Although both sides came to the negotiating table with the intention of achieving lasting peace and a future ceasefire…
They were fully aware that the chances of success were extremely limited.
The reason is:
Iran is not willing, at any cost, to end its nuclear program, nor does it intend to hand over 400 kg of enriched uranium to the United States.
On the other hand, the United States and Israel are not willing to settle for anything less than Iran completely and permanently abandoning its nuclear program and enriched uranium.
Therefore…
Despite coming to the negotiating table, both sides clearly knew that the chances of success were almost negligible.
Thus,
Both sides have decided to use this temporary ceasefire period to prepare for the next phase of war.
While the media is focused on negotiations and a possible ceasefire, in reality, both parties are constantly engaged in regrouping, repositioning, compensating for losses, securing supplies and reinforcements, and preparing for the next phase of conflict.
During this time, the United States is deploying thousands of additional troops to the Middle East, repositioning its navy for a complete blockade of Iran, and replacing air defense systems that were destroyed by Iran in the Gulf.
Israel, on one hand, is trying to replenish its dangerously depleted stock of air defense missiles, while also preparing its air force for a prolonged bombing campaign against Iran and finalizing new target lists.
Similarly, Iran is working around the clock to recover underground stockpiles of missiles and drones that had become inaccessible after the entrances to certain facilities were destroyed by US and Israeli airstrikes. Iran is clearing debris from these sites to regain access, while also attempting to replace its destroyed air defense systems and missile launchers.
But the question is: if these three countries resume war again… what could they do this time that they were unable to do in the past month of fighting?
Perhaps this time, the United States might attempt to take control of the Strait of Hormuz and disrupt Iranian oil trade by launching a formal military operation to capture key Iranian islands such as Kharg.
On the other hand, Iran might attempt to completely block not only the Strait of Hormuz but also the Bab al-Mandab.
The longer this war continues, the longer the global economy will remain hostage.
The real concern is that Trump, in an attempt to end the war quickly, might push the region toward a nuclear crisis.

20/04/2026

ایران، امریکہ، اسر-- آئل مذاکرات کا Dilemma۔۔۔

گو کہ دونوں فریق دیرپا امن اور مستقبل جنگ بندی کی نیت سے مذاکرات کی میز پر آئے۔۔۔

لیکن دونوں کو ہی علم تھا کہ مذاکرات کی کامیابی کے امکانات بہت محدود ہیں!

جس کی وجہ یہ ہے کہ :
∆ ایران کسی بھی قیمت پر اپنا جوہری پروگرام ختم نہیں کرنا چاہتا اور 400 کلو افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔
∆ جبکہ امریکہ و اسر-- آئل اس سے کم پر کسی قیمت راضی نہیں ہو سکتے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام اور افزودہ شدہ یورینیم سے مکمل و مستقل بنیادوں پر دستبردار ہو جائے۔۔۔

چنانچہ !!

مذاکرات کی میز پر آنے کے باوجود دونوں کو اس بات کا بخوبی علم تھا کہ مذاکرات کی کامیابی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔۔۔

لہذا،

دونوں نے ہی عارضی جنگ بندی کے اس وقت کو آگے آنے والی جنگ کی تیاری میں گزارنے کا قصد کیا۔۔۔

اور جہاں میڈیا پر مذاکرات اور ممکنہ جنگ بندی کا چرچا ہے وہیں دونوں فریق دن رات صبح شام ہر لمحہ دھڑا دھڑا ری-گروپنگ، ری-پوزیشننگ، نقصانات کے ازالے ، کمک و رسد کی دستیابی اور جنگ کے دوسرے فیز کی تیاریوں میں مشغول ہیں!!

امریکہ اس دوران ہزاروں کی تعداد میں مزید فوجی مشرق وسطیٰ منتقل کررہا ہے ، اپنی بحریہ کو ایران کی مکمل ناکہ بندی کے لیے ری-پوزیشن کررہا ہے اور گلف میں ایران کے ہاتھوں تباہ کیے گئے اپنے ائیرڈیفنس سسٹمز کو ری-پلیس کررہا ہے۔

اسر-- آئل جہاں ایک طرف اپنے ائیرڈیفنس میزائلوں کے خطرناک حد تک کم ہوچکے ذخیرے کو دوبارہ سے بھرنے کی کوششوں میں ہے وہیں ایران پر بمباری کے طویل سلسلے کے لیے اپنی ائیر فورس کو تیار کرنے کے ساتھ ساتھ نئے اہداف کی لسٹوں کو فائنلائز کررہا ہے۔

اسی طرح ایران اس وقت اپنے میزائلوں، ڈرونز کے ان زیر زمین ذخائر کو ریکور کرنے میں دن رات جتا ہے کہ جن تنصیبات کے دہانوں کو امریکہ و اسر-- ائل نے بمباری کر کے تباہ کردیا تھا اور وہ میزائل و ڈرونز ایران کی دسترس سے باہر ہوچکے تھے۔ اس وقت ایران ان تنصیبات کے دہانوں سے ملبہ صاف کر کے ان میزائلوں اور ڈرونز تک رسائی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے تباہ شدہ ائیر ڈیفنس سسٹمز اور میزائل لانچرز کو ری-پلیس کرنے کی کوششوں میں مگن ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ اگر یہ تینوں ممالک پھر سے جنگ چھیڑ دیتے ہیں۔۔۔ تو ایسا کیا کر لیں جو ابھی گزشتہ ایک ماہ کی جنگ میں نہ کر سکے؟

تو شاید اس مرتبہ امریکہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور ایرانی تیل کی تجارت کو ساقط کرنے کے لیے ایران کے چند اہم جزائر جیسے خارگ پر باضابطہ فوج کشی کر کے ان پر قبضہ کرنے کی کوشش کرے۔۔۔

تو دوسری جانب ایران ، ممکن ہے کہ آبنائے ہرمز کے ساتھ ساتھ باب المندب کو بھی مکمل طور پر بند کرنے کی کوشش کرے۔

یہ جنگ جتنی طویل ہوتی جائے گی، عالمی معیشت اتنے عرصے یرغمال بنی رہے گی۔۔۔

بس خدشہ یہ ہے کہ ٹرمپ کہیں اس جنگ کو جلدی ختم کرنے کے چکر میں خطے کو کسی ایٹمی بحران میں نہ دھکیل دے ۔

#ستی

20/04/2026

*باتیں چلتی رہنی چاہئیں۔*

پچھلے دنوں یوٹیوب پر ایک پوڈکاسٹ سنتے سنتے اچانک رک گیا۔ ہمارے پڑوسی ملک کے ایک معروف اینکر اور پوڈکاسٹ ہوسٹ کی گفتگو تھی، عام طور سے وہ خود پوڈکاسٹ انٹرویو لیا کرتے مگر اس بار ان سے سوال جواب ہو رہے تھے۔
مجھے ان کا انداز پسند ہے، ایک اچھا سوال کیا اور پھر مزے سے خاموشی سے ہتھیلی پر ٹھوڑی ٹکائے مہمان کی بات سنتے رہے، نہایت توجہ اور انہماک سے۔ اس بات میں کوئی سوال بنتا، تو کیا، ورنہ آگے بڑھتے گئے۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں کے کئی اینکرز صرف اپنی آواز سننا پسند کرتے ہیں اور دوسرے کو بات مکمل نہیں کرنے دیتے۔ ایسے لوگوں کے لیے انگریزی کا محاورہ ہے ’لو دا ساؤنڈ آف ہِز اون وائس۔‘
یہ پوڈ کاسٹ ان کی ذاتی زندگی پر تھا۔ وہ صاحب بتا رہے تھے کہ انہوں نے محبت کی شادی کی، چودہ پندرہ سال ہو گئے، سب بہترین جا رہا ہے۔ میزبان نے خوشگوار، کامیاب شادی کا راز پوچھا تو انہوں نے ایک بہت سادہ مگر بہت گہری بات کہی۔ کہنے لگے کہ ہم نے شروع سے طے کیا تھا کہ آپس کی باتیں کبھی ختم نہیں ہوں گی۔ چھوٹی چھوٹی باتیں شیئر کرتے رہیں گے، دوستوں کی طرح، سبلنگز کی طرح، کبھی کھٹی میٹھی، کبھی تند و تیز، مگر باتیں بند نہیں ہوں گی۔ ناراضگی ہو، اختلاف ہو، مگر روٹھ کر خاموش نہیں بیٹھیں گے۔

مجھے یہ بات خوبصورت اور فکرانگیز لگی۔ ریورس کر کے یہ ٹکڑا دوبارہ سنا۔ اس میں دانائی جھلک رہی تھی۔ یہ بات دراصل جتنی سادہ لگتی ہے اتنی ہی اہم بھی ہے۔ اس ایک جملے میں ’باتیں چلتی رہنی چاہییں‘ رشتوں کا پورا فلسفہ سما گیا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ رشتے چھوٹی چھوٹی باتوں سے زندہ رہتے ہیں۔ وہ باتیں جو بظاہر غیر اہم ہوتی ہیں، آج کیا ہوا، کس نے کیا کہا، بازار میں کیا دیکھا، ٹریفک میں کتنی دیر لگی وغیرہ، مگر انہی باتوں سے دو لوگوں کے درمیان ایک تار بندھا رہتا ہے جو خاموشی سے ٹوٹ جاتا ہے۔
میں نے اپنے والد مرحوم سردار محمد ہاشم خان خاکوانی کو بھی یاد کیا۔ احمد پور شرقیہ میں ان کے دوستوں کا حلقہ گو بہت وسیع نہیں تھا، مگر جو چند ایک تھے، وہ آپس میں مل کر خوب باتیں کرتے۔ ہمارے گھر کے باہر ایک کھلا بڑا پلاٹ تھا، وہاں محفل جمتی۔ شام کو پانی کا چھڑکاؤ کرکے کرسیاں بچھا دی جاتیں، ہمسائے آ جاتے، مغرب کے بعد گپ شپ چلتی رہتی۔ موسم کے حساب سے چائے یا شربت وغیرہ گھر سے آ جاتا۔

میری عمر کے لوگوں کو یاد ہوگا کہ 1984-85 میں ہتھوڑا گروپ کی بہت وارداتیں ہوئی تھیں جن سے خوف وہراس پھیل گیا تھا۔ مختلف علاقوں میں لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت محلوں میں پہرے کا سلسلہ شروع کیا۔ ہمارے ہاں بھی یہ چلتا رہا۔ ہماری کالونی میں مرکز گھر کے باہر والا وہ خالی پلاٹ تھا۔ وہاں دیر تک لوگ جمع رہتے، گپیں چلتی رہتیں۔ کبھی سیاست، کبھی زمینداری کے جھگڑے، کبھی محلے کی خبریں، ہتھوڑا گروپ کی افواہیں۔
والد سینیئر ایڈووکیٹ ہائی کورٹ تھے، گھر میں ہمیشہ سے اخبار آتا تھا۔ ان کے پاس معلومات زیادہ ہوتیں تو لوگ استفسار کرتے رہتے۔ میرے ابو سب کی سنتے، اپنی رائے بھی دیتے تھے۔
میں بارہ تیرہ سال کا لڑکا تھا، ایک بار ان سے پوچھا کہ آپ روزانہ انہی لوگوں کے ساتھ بیٹھتے ہیں، کیا باتیں ختم نہیں ہوتیں؟ انہوں نے ہنس کر کہا، ’باتیں کبھی ختم نہیں ہوتیں، لوگ ختم ہو جاتے ہیں۔‘
اس بات کو چالیس سال ہونے کو ہیں۔ اس وقت یہ بات سمجھ نہیں آئی تھی، آج سمجھ آتی ہے۔ اللہ والد مرحوم کی بخشش فرمائے، آمین۔ باتیں ختم نہیں ہوتیں۔
آج کے ریلیشن شپ ایکسپرٹس کہتے ہیں کہ خاموشی رشتوں کی سب سے خطرناک بیماری ہے۔ لڑائی نہیں، اختلاف نہیں، بلکہ خاموشی۔ جب دو لوگ آپس میں بات کرنا بند کر دیتے ہیں تو درمیان میں ایک دیوار اٹھنا شروع ہوتی ہے جو دن بہ دن اونچی ہوتی جاتی ہے۔

’اس جملے ’باتیں چلتی رہنی چاہییں‘ میں رشتوں کا پورا فلسفہ سما گیا ہے‘

ہمارے ہاں بہت سے گھروں میں یہ ہوتا ہے کہ میاں بیوی ایک چھت تلے رہتے ہیں مگر باتیں نہیں کرتے۔ اب تو یہ بھی ہو گیا ہے کہ کھانے کے لیے ایک ہی میز پر بیٹھے ہیں، مگر اپنے اپنے ہاتھ میں فون ہے۔ بچوں کے معاملات پر ضروری گفتگو ہو جاتی ہے، مگر وہ گفتگو جو صرف اس لیے ہو کہ دل میں کچھ ہے جو بانٹنا ہے، وہ شاید ختم ہو چکی ہے۔
جس پوڈ کاسٹ کی بات کر رہا تھا، اس میں یہ نکتہ بیان کیا گیا کہ ہم نے ابتدا ہی میں طے کیا کہ کبھی ناراض ہو کر خاموش نہیں رہنا۔ روٹین کی بات چیت، گپ شپ چلتی رہے، تھوڑی بہت نوک جھونک، ہلکا پھلکا کوئی طعنہ بھی چل جائے مگر چپ کی دیوار درمیان میں نہیں آنے دینی۔ یہ ایک عہد ہے جو شادی سے بھی بڑا ہے۔
اب یہاں ایک تکلیف دہ سوال اٹھتا ہے۔ باتیں بند کیوں ہوتی ہیں؟ لڑائی یا اختلاف کی بات سمجھ میں آتی ہے، مگر بہت سے رشتے تو بغیر کسی واقعے کے خاموش ہو جاتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ انا ہے، دوسری بڑی وجہ رد ہونے کا خوف بھی ۔ یہ ڈر کہ میں نے دل کی بات کہی اور سامنے والے نے توجہ نہ دی، یا ہنس کر اڑا دیا، تو کیا ہوگا؟ یہ رد ہونے کا خوف آہستہ آہستہ زبان کو بند کر دیتا ہے۔ پھر جب ہفتہ بھر بات نہ ہو تو ایک عجیب سی رکاوٹ آ جاتی ہے، جیسے پرانی کھڑکی جسے زنگ لگا ہو، اسے کھولنے کے لیے زور لگانا پڑے۔ یوں ایک رشتہ جسے کوئی نہیں توڑنا چاہتا، خود بخود ٹوٹ جاتا ہے۔
ویسے دوستی میں بھی یہی اصول کام کرتا ہے۔ میں خود بھی اس میں شامل ہوں کہ بعض پرانے سکول کے زمانے کے دوستوں سے رابطہ صرف اس لئے ٹوٹ گیا کہ فون کرنا، اٹھانا کم ہوگیا، پھر بند ہی ہو گیا۔
کوئی لڑائی ہوئی، نہ کوئی اختلاف۔ بس ایک دن فون نہیں اٹھایا، پھر دوسرے دن بھی نہیں اٹھایا، پھر ہفتہ گزر گیا، مہینہ گزر گیا، پھر ایک عجیب سی جھجھک آ گئی کہ اب اتنے عرصے بعد کیا کہوں گا؟ ہمارے ہاں ایسے بہت سے رشتے ہیں جو خاموشی نے کھا لیے۔ کسی نے کسی کا برا نہیں چاہا مگر باتیں رک گئیں تو سب رک گیا۔

’رشتوں میں ہر وقت اچھی میٹھی گفتگو نہیں ہوتی۔ کبھی تلخ باتیں بھی ہوجاتی ہیں‘

یہاں ایک عجیب تضاد بھی سوچنے والا ہے۔ آج ہمارے ہاتھوں میں جو آلہ ہے، اسی نے ہمیں بیک وقت دنیا سے جوڑ دیا اور اپنوں سے کاٹ دیا۔ فیس بک پر سینکڑوں لوگوں کی خبر رکھتے ہیں، واٹس ایپ پر بیسیوں گروپوں میں ہیں، مگر گھر میں بیٹھے والدین سے بات کا وقت نہیں۔ سوشل میڈیا نے ایک نیا کلچر دیا ہے جس میں خوشی ہو یا دکھ، اس کا اظہار سٹیٹس سے ہوگا۔ دوست احباب بھی اپنا ردعمل سوشل میڈیا پر دیں گے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ گھر میں بیٹھا آدمی اکیلا ہے۔ باتیں ہو رہی ہیں مگر غلط لوگوں سے۔ قربت کا دھوکہ ہے، قربت نہیں۔
کئی برس پہلے ایک صاحب سے کسی محفل میں ملاقات ہوئی، انہوں نے ایک بات کہی تھی کہ دوستی کا ایندھن بات ہے۔ جب تک بات چیت ہے، آگ جل رہی ہے۔ بات بند، آگ بجھی۔ اس فقرے پر زیادہ غور نہیں کیا تھا، اب سوچتا ہوں کہ خوب کہا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی اصول اگر بڑے پیمانے پر ممالک پر اپلائی کریں تو اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ پاکستان اور انڈیا کی مثال سامنے ہے۔
2019 کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی رابطے تقریباً ختم ہو گئے۔ نتیجہ؟ کشیدگی بڑھتی گئی۔ ایک ایسا وقت بھی آیا کہ جنگ کے بادل چھا گئے، پھر پچھلے سال جنگ ہو بھی گئی۔ اگر باتیں چل رہی ہوتیں، ٹریک ون میں نہ سہی تو ٹریک ٹو میں، سامنے نہیں تو پس پردہ، تو شاید معاملہ اس حد تک نہ پہنچتا۔
ایسا نہیں کہ صرف بات کرنے سے سارے مسائل حل ہو جاتے ہیں، انٹرنیشنل ریلیشنز پیچیدہ ہوتے ہیں، وہاں بعض معاملات میں گرہ کھلنے میں برسوں بلکہ عشروں لگ جاتے ہیں۔ تاہم اگر بات چیت چلتی رہے تو معاملات پوائنٹ آف نو ریٹرن تک نہیں پہنچتے۔ اسی وجہ سے دنیا کی بڑی طاقتیں بھی مکمل خاموشی سے گریز کرتی ہیں کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ رابطہ ٹوٹے تو خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

خیر، میں واپس ابتدائی بحث کی طرف آتا ہوں۔ کسی اور جگہ پوڈ کاسٹ میں ایک جملہ سنا کہ رشتوں میں ہر وقت اچھی میٹھی گفتگو نہیں ہوتی۔ کبھی تلخ باتیں بھی ہو جاتی ہیں اور ایسا ہونا فطری ہے۔ کبھی بحث بھی ہو، کبھی آواز بھی اونچی ہو، مگر اس کے بعد پھر بات ہو۔ یہی فرق ہے ایک زندہ رشتے اور ایک مردہ رشتے میں۔ زندہ رشتے میں شور بھی ہوتا ہے، مردہ رشتے میں سناٹا ہوتا ہے۔
ہم اکثر خاموشی کو سکون سمجھ لیتے ہیں۔ ہمارے ہاں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ فلاں صاحب بہت سمجھدار ہیں، خاموش رہتے ہیں، بحث نہیں کرتے۔ یہ نہیں سوچتے کہ کئی بار یہ خاموشی سمجھداری نہیں بلکہ رشتے سے دستبرداری ہوتی ہے۔ آپ نے بات کرنا چھوڑ دیا تو آپ نے رشتے سے ہاتھ اٹھا لیا۔
میں نے یہ بات اپنے اوپر بھی اپلائی کی۔ کئی رشتے ہیں جن میں باتیں کم ہو گئی ہیں۔ کئی دوست ہیں جن سے بس عید پر میسج ہوتا ہے۔ بعض رشتے دار ہیں جن سے صرف شادی بیاہ پر ملاقات ہوتی ہے۔ اس پوڈکاسٹ نے مجھے جھنجھوڑ دیا۔ شاید مجھے بھی کچھ فون کالز کرنی چاہییں جو بہت دیر سے ملتوی ہیں۔
آپ نے یہ کالم پڑھا ہے، چند منٹ بھی صرف کیے۔ اب اگر ممکن ہو تو کالم پڑھ کر بند کرنے سے پہلے ایک کام کریں۔ ذہن میں اس ایک شخص کا نام لائیں جس سے باتیں کب کی رک گئی ہیں۔ کوئی لڑائی تھی، نہ کوئی وجہ، بس وقت کی گرد نے رشتے کو دھندلا کر دیا۔ پھر فون اٹھائیں۔ بس ایک کال۔ یہ نہ سوچیں کہ کیا کہوں گا، کیونکہ جب باتیں شروع ہوتی ہیں تو الفاظ خود آ جاتے ہیں، ہمیشہ سے آتے رہے ہیں۔ رشتے مرتے نہیں، بس سو جاتے ہیں۔ ایک آواز انہیں جگانے کے لیے کافی ہے۔

محمد عامر ہاشم خاکوانی

Address

Nazimabad
Faisalabad
38000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when پاکستانی صحافت posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share