07/08/2026
دفاع اسلام و مسلمین اور
فتنوں کے رد پر تحقیقات
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
حضرت امام احمد رضا خان بریلوی (1856ء - 1921ء) کی زندگی کا ایک بہت بڑا حصہ دینِ اسلام کے بنیادی عقائد کے تحفظ اور اپنے دور میں اٹھنے والے فتنوں کے علمی محاسبے میں گزرا۔ انہوں نے محض جذباتی تقاریر کے بجائے تحقیقی، فقہی اور فکری سطح پر باطل نظریات کا تعاقب کیا، جس کا اعتراف ان کے مخالفین نے بھی کیا۔
ذیل میں ان تمام فتنوں کی تفصیلی تاریخ، ان کے پسِ منظر اور اعلیٰ حضرت کی مخصوص کتب کا مفصل جائزہ پیش کیا جا رہا ہے:
1. فتنۂ قادیانیت (مرزا غلام احمد قادیانی)
انیسویں صدی کے آخر میں پنجاب کے رہنے والے مرزا غلام احمد قادیانی نے پہلے مجدد، پھر مسیح موعود اور بالآخر 1901ء کے قریب باقاعدہ ظلی و بروزی نبوت کا دعویٰ کیا۔ اس فتنے نے مسلمانوں کے بنیادی عقیدہ "ختمِ نبوت" پر حملہ کیا۔
اعلیٰ حضرت ان اولین علمائے کرام میں سے تھے جنہوں نے اس فتنے کے پیدا ہوتے ہی اس کی فکری جڑوں کو کاٹا اور مسلمہ اصولوں کی روشنی میں اس کا کفر واضح کیا۔
اس فتنے کے خلاف اعلیٰ حضرت کی کتب:
المُبِین خَتمِ النَّبِیِّین (1326ھ): اس کتاب میں اعلیٰ حضرت نے قرآن و حدیث کی روشنی میں عقیدہ ختمِ نبوت کو اس طرح واضح کیا کہ قادیانی تاویلات کے سارے راستے بند ہو گئے۔
السَّوءُ وَالعِقَاب عَلَی المَسِیحِ الکَذَّاب (1320ھ): مرزا قادیانی کی متنازع پیشگوئیوں، متضاد تحریروں اور جھوٹے دعووں کا علمی و تاریخی محاسبہ۔
قَہرُ الدَّیَّان عَلَی المُرتَدِّ بِقَادِیَان (1323ھ): اس رسالے میں قادیانی عقائد کا تفصیلی رد کیا گیا اور یہ ثابت کیا گیا کہ حضور ﷺ کے بعد کسی بھی قسم کی نبوت کا دعویٰ دائرہ اسلام سے خارج کر دیتا ہے۔
الجُرازُ الدَّیَّانِی عَلَی المُرتَدِّ القَادِیَانِی: مرزا قادیانی کی الہامات کے نام پر لکھی گئی مضحکہ خیز تحریروں کا لغوی اور لسانانی رد۔
2. فتنۂ نیچریت / عقل پرستی (سر سید احمد خان)
1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد سر سید احمد خان نے علی گڑھ تحریک کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے انگریزی تہذیب اور مغربی سائنس سے مرعوب ہو کر اسلام کے مابعد الطبیعاتی عقائد (Metaphysical concepts) کی ایسی تشریح کی جو سائنسی مادی پرستی (Materialism) کے مطابق ہو۔ انہوں نے معجزات، فرشتوں، جنات، وحی، جنت، دوزخ اور ابلیس کے مادی وجود کا انکار کیا یا ان کی عقلی تاویلات پیش کیں۔ اعلیٰ حضرت نے اسے اسلام کی روح کو مسخ کرنے والا فتنہ قرار دیا۔
اس فتنے کے خلاف اعلیٰ حضرت کی کتب:
القَcurrent قَصْوَرَۃُ العَادِیَہ عَلَی الْمَلْعُوْنَۃِ النِّیْچَرِیَّہ: نیچری عقائد کا خالص عقلی اور نقلی محاکمہ۔ اس میں اعلیٰ حضرت نے ثابت کیا کہ عقلِ انسانی وحی الٰہی پر حاکم نہیں بلکہ اس کے تابع ہے۔
الکَوکَبَۃُ الشَّہَابِیَّۃ فِی کُفرِیَّاتِ اَبِی الوَہَّابِیَّۃ: اگرچہ یہ کتاب بنیادی طور پر نجدیت کے رد میں ہے، لیکن اس میں سر سید احمد خان کے ان مادی نظریات کا بھی رد کیا گیا ہے جو معجزاتِ انبیاء کا انکار کرتے تھے۔
3. فتنۂ وہابیت، نجدیت اور گستاخانِ رسالت
برصغیر میں شاہ اسماعیل دہلوی کی کتاب "تقویۃ الایمان" کے بعد ایک نیا فکری رخ سامنے آیا، جسے سنی علماء نے شانِ رسالت میں تنقیص (کمی) کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ بعد ازاں علمائے دیوبند (جیسے مولوی اشرف علی تھانوی، مولوی خلیل احمد انبیٹھوی، اور مولوی رشید احمد گنگوہی) کی بعض کتب میں ایسی عبارات سامنے آئیں جن میں نبی کریم ﷺ کے علمِ غیب کو معاذ اللہ بچوں، پاگلوں اور جانوروں سے تشبیہ دی گئی، یا یہ لکھا گیا کہ ابلیس کا علم نبی ﷺ سے زیادہ ہے۔ اعلیٰ حضرت نے ان عبارات کو کفر قرار دیا اور عظمتِ مصطفیٰ ﷺ کا دفاع کیا۔
اس فتنے کے خلاف اعلیٰ حضرت کی کتب:
حُسَامُ الحَرَمَیْن عَلَی مَنْحَرِ الکُفْرِ وَالمَیْن (1324ھ): یہ اعلیٰ حضرت کی سب سے تاریخی کتاب ہے۔ انہوں نے دیوبندی اور قادیانی اکابرین کی گستاخانہ عبارات کا عربی ترجمہ کر کے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے جلیل القدر علماء کے سامنے پیش کیا۔ حرمین کے تقریباً 33 کبار علماء نے ان عبارات کو کفر قرار دے کر اعلیٰ حضرت کے فتوے پر تصدیقات لکھیں۔
سُبحٰنَ السُّبُّوح عَنْ عَیْبِ کِذْبٍ مَّقْبُوْح: اس نظریے کا رد کہ "اللہ تعالیٰ جھوٹ بول سکتا ہے" (امکانِ کذب)۔ اعلیٰ حضرت نے عقلی اور نقلی دلائل سے ثابت کیا کہ کذب عیب ہے اور اللہ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے۔
الْاَمْنُ وَالْعُلٰی لِنَاعِتِ الْمُصْطَفٰی بِدَافِعِ الْبَلَا: اس کتاب میں حضور ﷺ کو "دافع البلا" (بلاؤں کو دور کرنے والا) ثابت کیا گیا اور یہ واضح کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کو کائنات میں وسیع اختیارات عطا فرمائے ہیں۔
الstate الؤُلُؤُ المَکنُون فِی عِلمِ الغَیبِ المَصُون: علمِ غیبِ رسول ﷺ کے ثبوت میں لکھی گئی بے مثال کتاب۔
4. فتنۂ تشیع (رافضیت / تفضیلیت)
اعلیٰ حضرت کے دور میں شیعہ عقائد کے پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ سنیوں کے اندر ایک نیا طبقہ پیدا ہو رہا تھا جسے "تفضیلیہ" کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ خود کو سنی کہتے تھے لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما پر فضیلت دیتے تھے۔ اعلیٰ حضرت نے رافضیوں کے ساتھ ساتھ ان تفضیلیوں کا بھی تعاقب کیا اور عقائدِ اہل سنت کی حفاظت کی۔
اس فتنے کے خلاف اعلیٰ حضرت کی کتب:
الرَّدُّ الرَّافِضَہ (1320ھ): شیعہ مذہب کے بنیادی اصولوں اور خلفائے راشدین پر ان کے اعتراضات کا جامع رد۔
غَایَۃُ التَّحْقِیْق فِی اِمَامَۃِ الْعَلِیِّ وَالصِّدِّیْق: اس کتاب میں انہوں نے احادیثِ مبارکہ اور اجماعِ امت سے ثابت کیا کہ حضور ﷺ کے بعد کائنات میں سب سے افضل شخصیت حضرت ابوبکر صدیق کی ہے، اور تفضیلیوں کے متبادل نظریات کو باطل کیا۔
الزِّلَالُ النَّقِیَّہ فِی غُربَۃِ الدِّیَارِ المِصرِیَّہ: تفضیلی عقائد رکھنے والوں کے اعتراضات کے جوابات۔
5. فتنۂ غیر مقلدیت (لامذہبیت)
برصغیر میں ایک ایسا گروہ ابھرا جس نے فقہی ائمہ (امام ابو حنیفہ، امام شافعی وغیرہ) کی تقلید کو شرک اور بدعت کہنا شروع کر دیا اور خود کو "اہلِ حدیث" نام دیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ عام عامی بھی براہِ راست حدیث سے مسئلہ نکال سکتا ہے۔ اعلیٰ حضرت نے واضح کیا کہ ائمہ کی تقلید دراصل قرآن و حدیث کو سمجھنے کا مستند ذریعہ ہے، نہ کہ کوئی الگ دین۔
اس فتنے کے خلاف اعلیٰ حضرت کی کتب:
اَلْحَقُّ الْمُبِیْن فِی اِقَاصَۃِ الْمُقَلِّدِیْن: تقلید کی شرعی ضرورت اور ائمہ اربعہ کی فقہ کی اہمیت پر مدلل کتاب۔
حَاجِزُ الْبَحْرَیْنِ الْوَاقِی عَنِ الْجَمْعِ بَیْنَ الصَّلَاتَیْن: غیر مقلدین کے اس مسئلے کا رد جس میں وہ بغیر شرعی عذر کے دو نمازوں (مثلاً ظہر اور عصر) کو جمع کرتے ہیں۔
الْمُسْتَنَدُ الْمُعْتَمَد: اصولِ فقہ اور اصولِ حدیث کی روشنی میں غیر مقلدین کے اعتراضات کے علمی جوابات۔
6. فتنۂ متحدہ قومیت اور شدھی تحریک (سیاسی فتنہ)
1920ء کے آس پاس تحریکِ خلافت کے دوران مسلم رہنماؤں (بشمول علمائے دیوبند اور گاندھی) نے "ہندو مسلم اتحاد" اور "متحدہ قومیت" کا نعرہ لگایا۔ اسی دوران ہندوسان میں "شدھی تحریک" شروع ہوئی جس کا مقصد غریب مسلمانوں کو لالچ یا دباؤ کے ذریعے ہندو بنانا تھا۔ گاندھی کو مسلمانوں کا قائد تسلیم کیا جا رہا تھا اور مساجد میں ان کے خطبے ہو رہے تھے۔ اعلیٰ حضرت نے اس سیاسی ابتر صورتحال میں "دو قومی نظریے" کا علم بلند کیا اور مسلمانوں کو خبردار کیا کہ ہندو کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے۔
اس فتنے کے خلاف اعلیٰ حضرت کی کتب:
اَلْمَحَجَّۃُ الْمُؤْتَمَنَہ فِی اٰیَۃِ الْمُمْتَحِنَہ (1339ھ): سورہ ممتحنہ کی آیات کی روشنی میں غیر مسلموں (ہندوؤں) سے سیاسی اور مذہبی گٹھ جوڑ کی شرعی ممانعت پر ایک شاہکار کتاب۔ اس کتاب نے تحریکِ پاکستان کے لیے "دو قومی نظریے" کی فکری بنیاد فراہم کی۔
تَدْبِیْرِ فَلَاح وَ نَجَات وَ اِصْلَاح: مسلمانوں کے معاشی بائیکاٹ اور ہندوؤں پر انحصار ختم کرنے کے لیے ایک جامع معاشی اور سیاسی گائیڈ لائن۔
7. فتنۂ غلو، جہالت اور رسومات (بدعات کا رد)
یہ اعلیٰ حضرت کی شخصیت کا وہ پہلو ہے جس پر عام طور پر پردہ ڈالا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ اعلیٰ حضرت صرف مخالفین کے خلاف لکھتے تھے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے خود کو "سنی" کہنے والے ان جاہل پیروں اور عوام کا بھی سخت رد کیا جو تصوف اور محبتِ اولیاء کے نام پر شریعت کی حدیں پار کرتے تھے۔
اس فتنے کے خلاف اعلیٰ حضرت کی کتب:
الزُّبْدَۃُ الزَّکِیَّہ فِی تَحْرِیْمِ السُّجُوْدِ التَّحِیَّہ (1335ھ): مزاراتِ اولیاء یا پیروں کو تعظیمی سجدہ کرنے کے خلاف۔ اعلیٰ حضرت نے 70 کے قریب احادیث اور فقہی اصولوں سے ثابت کیا کہ غیر اللہ کو سجدہِ عبادت کرنا کفر ہے اور سجدہِ تعظیمی کرنا حرامِ قطعی اور گناہِ کبیرہ ہے۔
جُمْلَۃُ النَّکَایَہ فِی مَنْعِ النِّسَاءِ عَنْ زِیَارَۃِ الْقُبُوْرِ: جاہلانہ رسومات اور اختلاط کے پیشِ نظر عورتوں کے مزارات اور قبرستان جانے کی ممانعت پر تفصیلی فتویٰ۔
احکامِ شریعت: اس کتاب میں انہوں نے مزارات پر چادریں چڑھانے کی حدیں، قوالی میں باجوں (موسیقی) کی حرمت، اور تعزیہ داری (محرم کے جلوسوں میں غیر شرعی کاموں) کا سختی سے رد کیا۔
اہم ترین علمی سرمایہ:
ان تمام فتنوں کے جوابات، فتاویٰ اور علمی ابحاث اعلیٰ حضرت کے 30 جلدوں پر مشتمل فتاویٰ کے انسائیکلوپیڈیا "فتاویٰ رضویہ" (العطایا النبویہ فی الفتاوی الرضویہ) میں تفصیلاً موجود ہیں، جو تقریباً 22,000 سے زائد مسائل اور مروجہ فتنوں کے حل پر محیط ہے۔
4 صفر المظفر 1448
محمد شرافت علی قادری رضوی
ادارہ تحقیقات امام احمد رضا انٹرنیشنل سمندری
03448672550