14/10/2024
نور الہی:
قسط نمبر 1
رائیٹر انیلا نذیر
نور ،نور ،نور میری جان ا ٹھ جا بیٹا تجھے سکول سے دیر ہو رہی ہے۔یہ ہے نذیرہاؤ س جس کے رہنے والوں کے دل ایک دوسرے کے لیے دھڑکتے ہیں۔ نذیر صاحب ایک کامیاب بزنس مین ہیں،اور یہ مسز نذیر جو اس وقت اپنی لاڈلی چہیتی اکلوتی بیٹی نور کو اٹھا رہی ہیں جس میں اس گھر کے مکینوں کی جان بستی ہے نور سے بڑے اس کے دو بھائی ہیں جو کہ دو سال پہلے لندن میں اپنے بزنس کے لے گئے ہوئے ہیں ۔ نور ایک خوبصورت نین نقوش والی لڑکی ہے جس کی رنگت دودھ جیسی سفید ،ہونٹ گلاب جسے سرخ ،اور آ نکھیں سمندر جیس نیلی ہیں اور بال لمبے اور سونے جیسے سنہری ہیں۔ نور اٹھ بھی جا میری جان پھر کہو گی میں روز دیر سے اٹھاتی ہوں خود محترمہ دیر سے اٹھتی ہیں ہر روز الارم لگاتی ہے مگر مجال ہے جو کھبی وقت پر ا ٹھ جائے ۔اچھی میری ماں اٹھ گئی ہوں اب خوش ؟ مسز نذیر اسے اچھی خاصی سناتی کمرے سے ہی چلی گئی۔تو وہ بھی اٹھ کر شاور لیتی ہےاور لائٹ گرین ڈریس زیب تن کرتی اور ساتھ لائٹ سا میک اپ کر کے جولری کے نام پر واچ پہنتی ہےاور کانوں میں گولڈ جھمکے پہنتی ہے پاؤں میں گرین کھوسہ ڈال کر نیچے آ جاتی ہے۔ شکر ہے محترمہ کی آ نکھ کھولی جیسے ہی وہ نیچے آ تی ہے مسز نذیر اسے پھر سے سنانے لگتی ہیں وہ اپنے باباجان کی طرف دیکھتی ہے اور ساتھ کہتی باباجان دیکھ رہے ہیں آپ اپنی بیگم صاحبہ کے کام صبح صبح میری کلاس لینے لگی ہیں۔مسٹر نذیر بولتے ہیں خبردار اب آ پ نے میری جان کو کچھ کہا تو عمارہ بیگم کہتیں ہیں یہ سب آ پ کی وجہ سے ہو رہا ہے کل کو محترمہ کو اگلے گھر بھی جانا ہے پھر ادھر لوگ مجھے باتیں سنائیں گے کہ ماں نے وقت کا پابند نہیں بنایا نور بولتی بابا ۔۔۔۔بس عمارہ بیگم اب آ پ چپ بھی کر جائے کتنا بولتی ہیں آ پ ۔نور جوس پی کر اٹھ جاتی ہے مسٹر نذیر بولتے ہیں نور بیٹا کچھ اور بھی کھا لو تم نے توبکل ناشتہ ہی نہیں کیا۔ نور کہتی ہے بابا میں سکول میں کچھ منگوا کر کھا لوں گی آ پ فکر نہ کریں اور آ پ نے میڈیسن کھا کر جانی ہے بھول نہ جائے گا پھر آ پ کی طبیعت خراب ہو جاتی ہے۔نور اپنےبابا کے سر پر بوسہ دے کر بھاگ جاتی ہے۔ پیچھے سے عمارہ بیگم کہتیں ہیں دیکھ رہے ہیں آ پ اس کے کام یہ اگر ایسے ہی کرتی رہی تو کیسے زندگی گزارے گی۔ آ پ اسے سمجھاتے کیوں نہیں ہیں کہ وہ سکول جانا چھوڑ دیں اسے آ خر کیا ضرورت ہے سکول جانے اور دوسروں کی غلامی کرنے کی خدا کا دیا سبھی کچھ تو ہے ہمارے پاس کس چیز کی کمی ہے آ خر اسے ؟ عمارہ بیگم آ پ کیوں اتنا میری جان پر غصّہ کرتی ہیں ابھی بچی تو ہے وہ پھر ہماری اکلوتی بیٹی آ خر میں کیسے اس کی ہر خواہش پوری نہ کروں اور اس پر بلا وجہ کی روک ٹوک کروں اگر وہ ہمارے پاس اپنی خواہش پوری نہ کرے گی پھر کہاں کرے گی پتہ نہیں اگلے لوگ کیسے ہوں آ ج کل کے لوگ اوپر سے اور دیکھتے ہیں اور اندر سے کچھ اور نکلتے ہیں۔ویسے بھی سکول سے انسان بہت کچھ سیکھتا ہے جیسے وقت کا پابند،چیزوں کو کنٹرول کرنا ، کولیگ کے ساتھ ریلیشن شپ، محنت کرنا وغیرہ اور یہ سب ایک کامیاب بزنس مین کے لیے بہت ضروری ہیں آ خر تو اسے ہی ہمارا بزنس سنبھالنا ہے ویسے بھی اس نے مجھے سے کہا تھا کہ میں صرف دو سال اسے سکول جوائن کرنے دوں پھر وہ میرے ساتھ آ فس میں جایا کرے گی اس نے کون سا ساری زندگی سکول پڑھانا ہے آ خر تو اسے ہمارا بزنس ہی تو سنبھالنا ہے۔اوکے جسے آ پ کی مرضی۔ چلو اب میں بھی چلتا ہوں میری زندگی اپنا خیال رکھنا ،اللہ حافظ
عمارہ بیگم کہتی ہیں! کامیابی آ پ کے قدم چومے خیر سے جائے اور خیر سے آ ئے وقت پر آ جائے گا میں آ پ کا انتظار کروں گی۔اللہ حافظ عمارہ بیگم دروازے تک انھیں سی آف کرنے آ ئی اور ساتھ اپنے شریک حیات کو دعائیہ کلمات سے رخصت کیا۔
نور جیسے ہی سکول پہنچی تو پرنسپل عمران صاحب اس پر برس پڑے ٹائم ہوگیا آ پ کا سکول آ نے کا یہ سکول ہے کوئی پارک نہیں جہاں آ پ کسی بھی ٹائم منہ اٹھا کر چلی آ ئے گی۔اور مس کلثوم تو دل میں بہت خوش ہوئی ان کے نزدیک نور اپنے آ پ کو کوئی ہوائی مخلوق سمجھتی ہے۔نو ر نے سر سے معذرت کر کے ٹیچر کے سٹاف روم میں چلی آئی ادھر مس ام ہانی بھی اسے دیکھتے ساتھ ہی اس کے پاس آئی اور اس سے گلے ملتے ہی کہنے لگی نور میری جان کیا ہوا تم لیٹ کیسے ہوگئی اور سر نے تمہیں دیکھا تو نہیں؟ نور نے اس کی طرف نم آ نکھوں سے دیکھا اور کہا اس جلاد کو صبح صبح کیا ہوا ہے جو آ ج اتنا برس رہا ہے ۔ام ہانی نے کہا لگتا ہے آ ج اس کی اپنی بیگم سے اچھی کلاس لگی ہے جو صبح ہی صبح ہم پر غصّہ نکال رہا ہے۔اس پر نور کے چہرے پر ایک خوبصورت مسکراہٹ آ جاتی ہے اور ام ہانی کہتی ہے شکرہے میری دوست کا موڈ تو صحیح ہوا ۔اچھا اب میں کلاس میں جاتی ہوں یہ نہ ہو وہ جلاد پر سے آ جائے ۔ام ہانی اچھا چلو ٹھیک ہے جاؤ تم۔
نور کلاس میں داخل ہوتی ہے تو ساری کلاس اس کے احترام میں کھڑی ہو جاتی ہے۔میم جی اسلام علیکم میم کیسی ہیں آ پ۔؟ بیٹھ جائے آ پ سب الحمد للّٰہ میں ٹھیک ہوں اور بہت اچھی آ پ سب کیسے ہیں؟ اور جلدی سے آ پ لوگ اپنی بک اوپن کریں ۔بریک ٹائم وہ اور ام ہانی باہر سے بریانی منگوا کر کھا لیتی ہیں اور ساتھ گفتگو بھی جاری رہتی ہے۔ام ہانی کہتی ہے تھوڑی سی بریانی دیتے ہیں پلیٹ میں اور 150 روپے لے لیتے اس تو اچھی گھر کی ہے جو بندہ پیٹ بھر کھا بھی لیتا ہے اور پیسوں کے ضیاع کا افسوس بھی نہیں ہوتا۔ نور ہاں صحیح کہہ رہی ہو تم ویسے بھی جب انسان خود کماتا ہے تو پھر اسے پائی پائی کا احساس ہوتا ہے اب مجھے ہی دیکھ لو جتنی ہماری تنخواہ اتنے میں میرے دو دن گزارتے تھے اور اب 150 میں ہی جان جانے لگتی ہے۔اتنے میں بریک ٹائم ختم ہو جاتا ہے اور وہ دونوں اپنی اپنی کلاس میں چلی جاتی ہیں۔اورپھر چھٹی ٹائم سٹاف روم میں چلی آ تی ہیں۔اور پھر ایک دوسرے کے گلے مل کر باہر آ تی سکول سے تو ڈرائیور نور کا انتظار کر رہا ہوتا ہے۔اور وہ ڈرائیور کے ساتھ سیدھا گھر آ جاتی ہے اسلام علیکم میری پیاری امی جان !
عمارہ بیگم وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ آ گئی میری شہزادی
جی،اچھا میں اپنے روم میں جاتی ہوں کچھ دیر آ رام کروں گی ۔عمارہ بیگم میری جان پہلے کچھ کھا لو پھر آ رام کر لینا صبح بھی تم نے کچھ نہیں کھایا تھا۔نور میری والدہ میں نے سکول میں بریانی منگوا کر کھا لی تھی ۔عمارہ بیگم ٹائم دیکھا ہے تم نے کتنا ہو گیا پھر تم نے لیکچر بھی تو لیا تھا ادھر بھی انرجی ویسٹ ہوئی ہے ۔بہت لاپرواہ ہو گئی ہو تم ذرا تم اپنی صحت کا خیال نہیں رکھتی۔
نور اچھے چلے میں فریش ہو کر آ تی ہوں۔چلو ٹھیک ہے تم فریش ہو کر آ ؤ میں کھانا لگواتی ہوں۔
وہ اپنے روم میں آ تی ہے اور بی بی پنک کلر کا ڈریس ورڈاب سے نکال کر شاور لینے چلی جاتی ہے اور پھر اپنے بالوں میں کنگھی کر کے نیچے آ جاتی ہے۔
عمارہ بیگم آ جاؤ بیٹا نور جیسے ہی کھانے کو دیکھتی ہےجس میں چکن سموسے، بریانی، چکن سالن، سلاد، کوک، اور میٹھے میں کسٹرڈ وغیرہ بنا ہوتا ہے کہتی ہے واؤ آ ج تو مزے ساری میری پسند کی چیزیں بنی ہیں مزے ، عمارہ بیگم ماشاءاللہ ایسے مسکراہٹی ہوئی میری جان بہت اچھی لگتی ہے اللہ نظر بند سے بچائے۔
نور کھانا کھا کر اوپر اپنے روم میں آ رام کرنے چلی جاتی ہے۔اور عمارہ بیگم ملازمہ کو آ واز دے کر برتن اٹھانے کا کہتی ہیں اور خود ڈرامہ دیکھنے لگتی ہیں۔
قاسم جیسے ہی گھر آ یا والد صاحب نے کہا بیٹا ٹائم دیکھا ہے یہ کوئی وقت ہے گھر آ نے کا سو دفعہ کہہ چکا ہو مگر مجال ہے جو کانوں پر جوں بھی رینگے۔ابو جی میں کوئی سڑک چھاپ تو نہیں جو آ پ مجھے اتنی باتیں سنا رہے ہیں۔ میرے بچے میں جانتا ہوں تم آ فس سے آ رہے ہو (قاسم نذیر صاحب کے آ فس میں ہی کام کرتا ہے یوں سمجھئے نذیر صاحب کا رائٹ ہینڈ ہی قا سم ہے) مگر پھر بھی اپنی طرف دھیان دو تمہارا حلیہ کسی سڑک چھاپ سے کم نہیں لگ رہا ذرا اپنے کپڑوں پر دھیان دو ۔اس نے جیسے ہی اپنے کپڑوں کی طرف دیکھا تو اسے بھی اپنا آ پ سڑک چھاپ جیسا ہی لگا کیوں کہ گھر سے کچھ دور اس کی گاڑی خراب ہو گئی تھی تو وہ اپنی گاڑی اپنے دوست عاصم کی طرف کھڑی کر کے خود پیدل ہی اپنے گھر آ گیا تھا کچھ راستہ کچا تھا اور کچھ موسم خراب تھا اور آ ندھی چل رہی تھی اس لیے وہ ایک خوبصورت مرد اس وقت کسی سڑک چھاپ سے کم نہ لگ رہا تھا۔اچھا اب میں اپنے روم میں جاتا ہوں وہ جیسے ہی لاوئنج سے اپنے روم کو جانے لگا تو کچن میں کام کرتی اس کی ماں نے اسے کچن سے آ واز دی بیٹا آ گئے جی میری پیاری امی جان اس نے پیار سے کہا بیٹا ادھرہی آ جاؤ کھانا میں لگا دیتی ہوں۔ قاسم نہیں امی میں نے عاصم کے گھر سے ابھی ابھی کھا کر آ یا آ پ رہنے دیں اور آ پ پلیز اپنی صحت پر دھیان دیا کریں پھر آ پ کا بی پی لو ہو جاتا ہے۔ آ پ کیا ہر وقت کچن میں گھسی رہتی ہے اور یہ عائشہ کہاں ہے؟ ویسے تو بڑی عالمہ بنتی ہے۔بیٹا اسے آ ج بخار ہو گیا ہے تو اس لیے میں نے اس اس کے کمرے میں آ رام کے لیے بھیجا ہے ۔کیا اس نے دوائی لی ہے ؟ اس نے فکر سے پوچھا ہاں بیٹے وہ تھوڑی دیر پہلے ہی تمہارے بابا کے ساتھ جاکر دوائی لے کر آ ئی ہے. چلے یہ تو صحیح ہو گیا اچھا آ پ بھی جاکر آ رام کر لیں میں بھی اپنے روم میں جاکر کچھ دیر آ رام کر تا ہوں۔ کوثر بیگم نے کہا نہیں بیٹا مجھے ابھی تمہارے بابا کے لیے کافی بنانی ہے۔ قاسم کہتا پیاری امی جی آ پ جائے آ رام کریں میں بنادیتا ہوں۔ نہیں بیٹے تم ابھی آ ئے ہو اور آ تے ساتھ میں تم سے کام لے لوں ۔قاسم امی جان پھر کیا ہوگیا ویسے بھی یہ کہیں نہیں لکھا کہ گھر کے کام ہمیشہ عورتیں ہی کرے۔ بلکہ ہمارا پیارا دین تو ہم مردوں کو بھی اپنے گھر کے کام کرنے کا درس دیتا ہے۔ہمارے پیارے آ قا جان صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے گھر کا کام خود کرتے تھے یہ تو ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے کیا آ پ اپنے بیٹے کو اپنے نبی کی سنت پر عمل کرنے سے روک رہی ہے اس نے کچھ طرح سے کہا کہ ان کا دل بے اختیار دھڑک اٹھا اور کوثر بیگم بولی بھلا میری ناچیز کی کیا اوقات کے میں دو جہاں کے سردار کی سنت پوری کرنے سے تمہیں روکوں میری جان اگر تم ان کے نام پر اپنی جان بھی دو دو تو میں پھر بھی کھبی نہ روکوں گی ان کے نام پر میرے سو بیٹے بھی ہو تو میں خوشی خوشی اس مبارک نام پر قربان کر دوں ان کی سنت پر عمل کر نا بہت خوش نصیبی کی بات اور اسی میں انسان کے لیے دو جہاں کی کامیابی چھپی ہے۔ جیتے رہو میرے بچے۔اچھا میں اپنے کمرے میں جاتی ہوں۔ان کے جانے کے بعد قاسم نے چائے کو ٹرے میں سجا کر اپنے والد کے کمرے میں جاکر کر ان کو پیش کی پھر اپنی گڑیا کے کمرے میں جاکر اسے اٹھایا پیار سے، گڑیا گڑیا اٹھ جا میری شہزادی اتنے میں عائشہ کی آ نکھ کھولی تو اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس پایا بھائی آ پ آ گئے ہاں میری جان میں آ گیا اچھا یہ چائے پی لو بھائی آ پ نے بنائی ہے؟ جی !
عائشہ نے گھونٹ بھرا واہ جی واہ کیا بات ہے بھائی کے ہاتھ میں تو بہت ذائقہ ہے؟ ماشاءاللہ سے مزا آ گیا۔
شکریہ میری گڑیا یہ کہتے ساتھ اس نے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا اور بخار چیک کیا اب تو کم ہےاس نے ہاتھ ہٹاتے ساتھ کہا ۔
عائشہ، جی اللّٰہ پاک کا شکر ہے ویسے بھی آ پ کو پتہ ہے ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا تھا
" جب کسی آ دمی کو اس کے جسم میں کوئی تکلیف ہوتی ہے تو اللّٰہ تعالیٰ اس کی نگرانی کرنے والے فرشتے کو حکم دیتا ہیں کہ میرا بندہ دن رات میں جو نیک اعمال کرتا تھا ،تم اس وقت وہی عمل لکھتے رہو جب تک یہ میری قید ( بیماری) میں ہے۔( مسند احمد)
ماشاءاللہ میری گڑیا کو ہر طرح کے حالات کے مطابق حدیثیں یاد کر چکی ہیں۔
عائشہ! جی کیوں کہ میر ا نام عائشہ ہے اس لیے مجھے حدیثیں خصوصی طور پر یاد ہونی چاہیئے۔قاسم مطلب کیا اس بات کا ؟ عائشہ بھائی آ پ جانتے حضرت عائشہ صدیقہ حضرت ابوبکر صدیق ( رضی اللہ عنہ) کی لخت جگر ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی لاڈلی چہیتی بیوی ام المومنین عائشہ صدیقہ عالمہ فاضلہ تھیں جب اصحاب رسول کو کسی مسئلہ کی سمجھ نہ آ تی تو وہ حضرت عائشہ صدیقہ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوتے تھے شاید ہی کھبی ایسا ہوا ہو کہ امی جان عائشہ صدیقہ کے پاس اس مسلئے کا حل نہ ہو۔اس لیے میں چاہتی ہو کہ آ ج کے پر فتن دور میں ان کےنقش قدم پر چلوں تاکہ اس ا مت کی بھکٹی ہوئی ماموں بہنوں کو صراط مستقیم پر چلانے کے لیے ایک شمع کا کرادار ادا کر سکوں ۔ آ پ پلیز اللہ پاک سے دعا کیجیے گا تاکہ میں امی جان عائشہ صدیقہ کی زندگی پر عمل کر کے اس دین کی خدمت کرکے دینا و آ خرت میں کامیاب ہو سکوں۔
قاسم ماشاءاللہ بہت نیک ارادے ہیں میری گڑیا کے انشاء اللہ میں ضرور دعا کروں گا اب تم آ رام کرو۔یہ امی جان کی چائے ٹھندی ہو رہی ہے یہ کہتے ہی وہ اس کے کمرے سے نکل کر اپنی امی جان کے کمرے میں جاتا ہے جو کہ ابھی ابھی عشاء کی نماز پڑھ کر فارغ ہو ئی تھیں اور جائے نماز کو فولڈ کر کے رکھتی ہیں۔ قاسم امی جان آ پ کی چائے
امی جان اس سے پکڑ کر چائے پیتی ہے اور پھر لیٹ جاتی ہیں اور قاسم ان کے پاؤں دبانے لگتا ہے ۔
ایک حدیث کا مفہوم ہے
"ماں کے قدموں تلے جنت ہے"
قاسم کی امی دعا دیتی ہیں
"جیتے رہو میرے بچے خوش رہو اللہ تم دونوں کے مقدر چاند 🌙 کی طرح چمکدار بنائے دنیا و آ خرت میں کامیابیاں تم دونوں کے مقدم چومے اچھا ہم سفر نصیب ہو ۔کھبی کہیں ناکامی کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔"
قاسم! آ مین
پھر قاسم اپنے روم میں آ کر شاور لیتا ہےاور عشاء کی نماز پڑھ کر جو جو ذکر حدیث مبارکہ سے ثابت ہے وہ پڑھتا ہے جیسے سورت ملک، چار کل ( سورت الناس، سورت فلق، سورت الخاص، سورت الکافرون) اور تسبیح فاطمہ ( 34اللہ اکبر، 33 بار سبحان، 33 بار الحمدللہ) آ یت الکرسی پھر وضو کر کے سوتا ہے روزانہ ، ایک حدیث کا مفہوم ہے"جو شخص رات کو وضو کر کے سوتا ہے فرشتہ اسکے لیے ساری رات استغفار کرتاہے"
پھر سونے کی دعا پڑھ کر تہجد ٹائم کا الارم لگا دیتا ہے اور سونے کے لیے لیٹ جاتا اور آ نکھیں بند کر لیتا ہے۔