16/11/2021
ایک بادشاہ بازار سے گزرا،
وہاں ایک چودھری 2 روپے میں گدھا بیچ رہا تھا۔۔
اگلے دن بادشاہ پھر وہاں سے گزرا،
وہ پھر وہیں بیٹھا گدھا بیچ رہا تھا۔
بادشاہ رک گیا اور اس سے پوچھا کہ گدھا کتنے کا ہے۔
اس نے دیکھا کہ بادشاہ ہے،
اس نے قیمت 50 روپے بتا دی۔
بادشاہ بولا کل تو تم 2 روپے کا بیچ رہے تھے۔
اب وہ گبھرا گیا اور گبھراہٹ میں اس نے کہہ دیا کہ اس پر بیٹھ کر آنکھیں بند کرو تو مدینہ کی زیارت ہوتی ہے، اسلیے اس کی قیمت زیادہ ہے۔
بادشاہ نے وزیر کو کہا کہ بیٹھ کر دیکھو کچھ نظر آتا ہے کہ نہیں۔
وزیر بیٹھنے لگا، تو چودھری نے فورا کہہ دیا کہ زیارت صرف نیک ایماندار اور پارساء کو ہوتی ہے۔
اب وزیر بیٹھ گیا، اس نے آنکھیں بند کیں، کچھ بھی نظر نہ آیا، مگر اس نے سوچا کہ میں اگر کہوں گا کہ نظر نہیں آیا، تو سب کہیں گے کہ نیک ایماندار اور پرہیزگار نہیں ہے۔۔
اس نے کہا کہ ماشااللہ مدینہ صاف نظر آرہا ہے۔
بادشاہ کو تجسس ہوا، اس نے کہا کہ میں خود بیٹھ کے دیکھوں گا۔
اب بادشاہ بیٹھ گیا، اور بادشاہ کو کچھ بھی نظر نہ آیا۔
اب اس نے سوچا کہ وزیر تو بچ گیا،
اب اگر میں کہوں گا کہ نہیں نظر آتا،
تو سب سمجھیں گے بادشاہ نیک اور پرہیزگار نہیں ہے۔
اس نے کہا، ماشااللہ، سبحان اللہ، مجھے مکہ اور مدینہ دونوں نظر آرہے ہیں۔
اور پھر اس کو گدھا بھی 50 روپے میں خریدنا پڑا۔
بالکل کچھ یہی صورتحال یہاں کی بھی ہے۔
تبدیلی صرف ان کو ہی نظر آرہی ہے ، جو کے اندھے مقلد ہے اور یہ تبدیلی اندھے مقلد سے لیکر بادشاہ سلامت کو نظر آ رہی ہے لیکن اصل میں جو غریب مکاؤ تبدیلی آگئی ہے سب کو نظر آرہی ہے سوائے اندھے مقلد کے