30/08/2026
اہلیان ریشن کو آسان لفظوں میں بتارھا ھوں کہ پیڈو صوبائی محکمہ ھے اور پیسکو وفاقی محکمہ۔پیڈو اپنا پراجیکٹ چلانے میں ناکام ھوا تو وفاق سے بجلی کامعاھدہ کیا۔
مطلب اگر گاؤں کا دوکاندار بازار میں کسی ایجنسی والے سے 100روپے کا سودا سلف خرید کر گاؤں میں جاکر 200 روپے پہ بیچتا ھے تو گاؤں کے لوگ 200روپے کےلیے اپنےدوکاندار کے بجائے ھول سیل ایجنسی کو مردہ باد نہیں کہہ سکتے؟۔کیونکہ ھول سیل والا شخص اپنی ریٹ پر محلے کے دوکاندار کو بیچ دیا ھے اب مقامی لوگ جانیں انکا دوکاندار جانے۔
یہی کچھ ریشن بجلی معاھدے کاھے کہ محلے یعنی پیڈو/صوبہ نے وفاق کے پیسکو ھول سیل ایجنسی والے سے صرف 7 روپے میں بجلی خریدی ھے لیکن ریشن کے عوام کو 13, روپے میں دے رھا ھے۔اب بتائیں قصور وار کون ھے؟
لہذا ریشن کے میرے باعزت ذندہ دل عوام اپنے صوبائی نمائندے کو پکڑیں کہ سات روپے کے بجائے تیرہ روپے فی یونٹ عوام سے کیوں لیا جارھاھے؟ ۔۔۔۔ بات ختم۔۔۔