02/06/2026
گلگت میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ وہ کسی سیاسی جماعت پر تنقید کرکے ووٹ نہیں مانگتے بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر عوام سے حمایت حاصل کرتے ہیں۔
نواز شریف نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام ان کے دل کے بہت قریب ہیں اور کئی برس بعد یہاں آکر عوام کا جوش و خروش دیکھ کر انہیں بے حد خوشی ہوئی۔ تاہم انہوں نے علاقے کی سڑکوں اور بنیادی سہولیات کی صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ گلگت بلتستان کو آخر کیوں نظرانداز کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ان کے دورِ حکومت میں گلگت سے سکردو تک سڑک کی تعمیر، ہائیڈل پاور منصوبوں، اسپتالوں، بجلی کے منصوبوں اور نلتر منصوبے سمیت متعدد ترقیاتی کام مکمل کیے گئے۔ ان کے بقول ملک بھر میں موٹرویز کا جال بچھایا گیا، لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا گیا اور لواری ٹنل جیسے اہم منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچائے گئے۔
مسلم لیگ (ن) کے قائد نے وعدہ کیا کہ اگر ان کی جماعت کو عوام نے موقع دیا تو وہ ہر دو سے تین ماہ بعد گلگت بلتستان کا دورہ کریں گے اور ترقیاتی منصوبوں کی خود نگرانی کریں گے تاکہ عوامی مسائل کا دیرپا حل یقینی بنایا جا سکے۔
اپنی سیاسی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ انہیں کئی مرتبہ دیس نکالا دیا گیا، جیلوں میں ڈالا گیا۔ انہوں نے شرکا سے مخاطب ہو کر کہا، ’’مجھ سے گلہ نہ کرو، قصور آپ کا بھی ہے، مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا؟ مجھے کیوں ملک سے باہر جانا پڑا؟‘‘
انہوں نے کہا کہ گلگت ایئرپورٹ کو جدید خطوط پر استوار کرنے، خنجراب روڈ کو بہتر بنانے، الیکٹرک بسوں کی فراہمی، آسان ہاؤسنگ قرضوں، طلبہ کے لیے اسکالرشپس اور لیپ ٹاپس کی فراہمی جیسے منصوبے بھی ان کی ترجیحات میں شامل ہیں۔
نواز شریف نے کہا کہ گلگت بلتستان کے آئینی اور انتظامی مسائل کے حل کے لیے 2017 میں قائم کی گئی کمیٹی اور اس کی سفارشات پر عملدرآمد نہ ہو سکا، تاہم موقع ملا تو ان تجاویز کو عملی شکل دی جائے گی۔
انہوں نے دیامر بھاشا ڈیم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ برسوں گزر جانے کے باوجود یہ اہم منصوبہ ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا، حالانکہ اس کی تکمیل قومی ضرورت ہے۔