Rab di Aas

Rab di Aas Serving humanity by helping those in need �

01/07/2026

ہم کسی کام سے باہر جا رہے تھے کہ راستے میں ایک محنت کش بھائی نظر آئے۔ شدید 45 سینٹی گریڈ گرمی میں وہ کلفیوں کی ریڑی دھکیلتے ہوئے اپنے بچوں کے لیے رزق کمانے نکلے ہوئے تھے۔ جب ہم نے انہیں روکا اور ان کا حال پوچھا تو وہ بچوں کی طرح رونے لگ گئے۔ ان کی آنکھوں میں پریشانی، بے بسی اور اپنے بچوں کی فکر صاف نظر آ رہی تھی۔

ان کی باتیں سن کر دل بہت زیادہ اداس ہو گیا۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ جتنی بھی کلفیاں ان کی ریڑی میں موجود ہیں، سب خرید لیتے ہیں تاکہ آج انہیں اس سخت گرمی میں مزید محنت نہ کرنی پڑے۔ الحمدللہ ہم نے ان کی ساری کلفیاں خرید لیں، انہیں ڈھیر سارا پیار دیا اور کہا:

“بھائی! آج آپ گھر جائیں، اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزاریں، یہ دن ان کے نام کر دیں۔”

اللہ تعالیٰ تمام محنت کشوں کی محنت میں برکت عطا فرمائے اور ان کے رزق میں آسانیاں پیدا فرمائے۔ آمین۔ ❤️🤲

ویڈیو ضرور دیکھیں، لائک، شیئر اور کمنٹ کرکے اس محنت کش بھائی کے لیے دعا ضرور کریں

01/07/2026

سڑک کے کنارے بیٹھی یہ غریب ماں اپنے دل کا درد آنکھوں میں لیے خاموش تھی۔ اس کے پاؤں کی تکلیف اتنی بڑھ چکی تھی کہ چلنا بھی اس کے لیے ایک آزمائش بن گیا تھا۔ نہ کوئی سہارا، نہ کوئی پوچھنے والا۔

ماں وہ ہستی ہے جو اپنی ہر تکلیف چھپا کر بھی اپنے بچوں کی خوشیوں کے لیے جیتی ہے، مگر جب ایک ماں خود بےبس ہو جائے تو یہ منظر دل کو رُلا دیتا ہے۔

آئیے، ہم سب مل کر اس ماں کے لیے دعا کریں۔

یا اللہ! اس ماں کی ہر پریشانی آسان فرما، اس کے پاؤں کو مکمل شفا عطا فرما، اس کی زندگی سے دکھ، تکلیف اور محرومیاں دور فرما، اس کے رزق میں برکت عطا فرما، اور اسے اپنی رحمت و کرم کے سائے میں ہمیشہ محفوظ رکھ۔ آمین۔

اگر آپ بھی اس ماں کے لیے دعا کرتے ہیں تو “آمین” ضرور لکھیں، کیونکہ دعا کسی کی زندگی بدلنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

30/06/2026

🥀 اللہ کسی ماں کو ایسے حالات نہ دکھائے…

آج سڑک کنارے ایک ماں کو بے بسی کے عالم میں روتے دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں درد تھا، دل میں ہزاروں فکر تھیں، مگر اس کا دکھ بانٹنے والا کوئی نظر نہ آیا۔

ماں وہ ہستی ہے جو اپنی ہر خوشی قربان کر کے اولاد کے لیے جیتی ہے، مگر جب ایک ماں خود مجبور اور بے سہارا ہو جائے تو یہ منظر دل کو ہلا دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہر ماں کی عزت، صحت اور خوشیاں سلامت رکھے، اور کسی بھی ماں کو ایسے دکھ، ایسی تنہائی اور ایسی مجبوری کبھی نہ دکھائے۔ آمین۔

اگر آپ کے آس پاس بھی کوئی ضرورت مند یا پریشان انسان ہو، تو جہاں تک ممکن ہو اس کا سہارا بنیں۔ کبھی کبھی آپ کی چھوٹی سی مدد کسی کی پوری زندگی بدل سکتی ہے۔ ❤️

30/06/2026

🥀 اللہ کسی ماں کو ایسے حالات نہ دکھائے…

آج سڑک کنارے ایک ماں کو بے بسی کے عالم میں روتے دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں درد تھا، دل میں ہزاروں فکر تھیں، مگر اس کا دکھ بانٹنے والا کوئی نظر نہ آیا۔

ماں وہ ہستی ہے جو اپنی ہر خوشی قربان کر کے اولاد کے لیے جیتی ہے، مگر جب ایک ماں خود مجبور اور بے سہارا ہو جائے تو یہ منظر دل کو ہلا دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہر ماں کی عزت، صحت اور خوشیاں سلامت رکھے، اور کسی بھی ماں کو ایسے دکھ، ایسی تنہائی اور ایسی مجبوری کبھی نہ دکھائے۔ آمین۔

اگر آپ کے آس پاس بھی کوئی ضرورت مند یا پریشان انسان ہو، تو جہاں تک ممکن ہو اس کا سہارا بنیں۔ کبھی کبھی آپ کی چھوٹی سی مدد کسی کی پوری زندگی بدل سکتی ہے۔ ❤️

08/06/2026

الحمد للہ، ویڈیو وائرل ہونے کے بعد فیصل آباد سے مخلص اور دردِ دل رکھنے والے لوگ امّاں جی کے گھر پہنچنے لگے۔ امّاں جی کی زندگی بھر کی ایک چھوٹی سی خواہش تھی، جسے پورا کرنے کا وعدہ کیا گیا۔ ان کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو اور چہرے پر امید کی نئی روشنی دیکھ کر دل کو بے حد سکون ملا۔ اللہ تعالیٰ تمام خیر کرنے والوں کو جزائے خیر عطا فرمائے اور امّاں جی کی ہر جائز خواہش پوری فرمائے۔ ویڈیو مکمل دیکھیں اور امّاں جی کے لیے دعا ضرور کریں۔

08/06/2026

بھائی کی بے بسی دیکھ کر دل خون کے آنسو رونے لگا۔ چہرے پر مسکراہٹ تھی، مگر آنکھوں میں نہ جانے کتنے درد اور کتنی مجبوریاں چھپی ہوئی تھیں۔ غربت نے جسم کو تھکا دیا، لیکن دل آج بھی بہت بڑا ہے۔ ایسے لوگ ہماری دعاؤں اور توجہ کے مستحق ہیں۔

یہ ویڈیو ضرور دیکھیں، شاید آپ کی آنکھوں سے بھی آنسو نہ رک سکیں۔ اگر ممکن ہو تو اس ویڈیو کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ اس بھائی کی آواز مزید لوگوں تک پہنچ سکے اور کوئی اس کی مدد کا سبب بن جائے۔

title

31/05/2026

آج ایک غریب بندہ شدید دھوپ میں چیزیں اٹھائے کھڑا تھا۔ جب ہم نے اس سے کہا کہ “بھائی اگر اتنے پریشان ہو تو یہ پندرہ سو والی چیز ہمیں دو ہزار میں دے دو اور آرام سے گھر چلے جاؤ”، تو اس نے انکار کر دیا۔ پہلے ہمیں لگا شاید وہ اپنی چیز مہنگی نہیں بیچنا چاہتا، لیکن بعد میں اس کی بات سن کر حقیقت سمجھ آئی۔

اس نے کہا:
“میں یہ چیزیں شاپ پر لے جاؤں گا، لوگ مجھے دیکھیں گے کہ ایک غریب بندہ دھوپ میں کھڑا ہے، پھر کوئی مجھ پر ترس کھا کر پیسے بھی دے دے گا اور چیزیں بھی بک جائیں گی۔”

یہ سن کر دل کو بہت افسوس ہوا کہ کچھ لوگ غربت کو مجبوری کے بجائے ایک ڈرامہ بنا لیتے ہیں۔ اصل حق دار غریب وہ ہوتے ہیں جو محنت کرتے ہیں، خودداری سے جیتے ہیں اور کسی کے سامنے اپنی مجبوری کا فائدہ نہیں اٹھاتے۔ لیکن کچھ لوگ لوگوں کے جذبات استعمال کر کے ہمدردی لینے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ زیادہ پیسے مل سکیں۔

انسانیت کا تقاضا یہ ہے کہ مدد ہمیشہ سوچ سمجھ کر کی جائے، تاکہ اصل مستحق لوگوں تک حق پہنچ سکے۔ کیونکہ جب لوگ غربت کو دکھاوا بنا لیتے ہیں تو اس کا نقصان ان سچے اور مجبور لوگوں کو ہوتا ہے جو واقعی مدد کے حق دار ہوتے ہیں۔

اللہ ہمیں حق اور سچ کو پہچاننے کی سمجھ عطا فرمائے۔ آمین

28/05/2026


شدید دھوپ اور تھکن نے جسم کو توڑ کر رکھ دیا تھا۔ میں بھی کافی دیر سے کام میں مصروف تھا اور بہت زیادہ تھک چکا تھا۔ جب میں نے خود کو تھوڑا سکون دینے کے لیے دودھ کی ٹھنڈی بوتل لی اور پینے لگا، تو اچانک میری نظر ایک غریب انسان پر پڑی… 🥺

وہ دور کھڑا بڑی حسرت بھری نگاہوں سے اس بوتل کو دیکھ رہا تھا۔
اس کی آنکھوں میں خواہش تو تھی، لیکن جیب خالی تھی۔
وہ شاید صرف دیکھ سکتا تھا، خرید نہیں سکتا تھا… 💔

یہ منظر دیکھ کر دل اندر سے ہل گیا۔
میں فوراً اس کے پاس گیا، اسے محبت سے اپنے ساتھ بٹھایا، اور وہی دودھ کی بوتل اس کے ہاتھ میں دے دی۔ پہلے تو وہ حیران ہوا، پھر اس کی آنکھوں میں عجیب سی چمک آ گئی۔ ✨

وہ بڑے سکون اور خوشی سے بوتل پینے لگا، اور میں خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔
اس لمحے جو دل کو سکون ملا، وہ شاید دنیا کی کسی بڑی خوشی میں بھی نہیں۔ ❤️

میں نے جاتے جاتے اسے کچھ پیسے بھی دیے تاکہ اس کی چھوٹی چھوٹی ضروریات پوری ہو سکیں۔
اس کی دعائیں، اس کے چہرے کی مسکراہٹ، اور اس کی خوشی… میرے لیے سب سے بڑا تحفہ بن گئی۔ 🤲

آج احساس ہوا کہ
اصل خوشی خود پر خرچ کرنے میں نہیں،
بلکہ کسی ضرورت مند کے چہرے پر مسکراہٹ لانے میں ہے۔

28/05/2026

آج راستے میں ایک بوڑھے بزرگ ملے جو بہت زیادہ پریشان تھے۔
چہرے سے تھکن اور بے بسی صاف ظاہر ہو رہی تھی۔ جب میں نے ان سے پوچھا کہ بابا خیریت ہے؟ تو ان کی آنکھیں بھر آئیں۔ انہوں نے بتایا کہ گھر کے حالات بہت خراب ہیں اور وہ راشن لینے جا رہے ہیں، مگر جیب میں اتنے پیسے نہیں کہ گھر کا گزارہ چل سکے۔

یقین کریں، ان کی بات سن کر دل بہت اداس ہو گیا۔
ایک باعزت انسان صرف اس لیے پریشان تھا کہ وہ اپنے گھر والوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام نہیں کر پا رہا تھا۔

میں نے فوراً انہیں روکا اور جتنا مجھ سے ہو سکا ان کی مالی مدد کی، تاکہ وہ آسانی سے گھر کا راشن لے سکیں۔
جب میں نے ان کے ہاتھ میں پیسے رکھے تو ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ بار بار دعائیں دیتے رہے اور کہتے رہے:
“اللہ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے بیٹا، آج تم نے میری بڑی مشکل آسان کر دی۔”

اس لمحے دل کو عجیب سا سکون ملا۔
احساس ہوا کہ کسی ضرورت مند کی مدد کرنا ہی اصل انسانیت ہے۔
ان شاء اللہ، میرا مقصد ہمیشہ یہی رہے گا کہ غریب اور مجبور لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ لے کر آ سکوں۔ 🤍

Address

Chiniot
Chiniot
35400

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rab di Aas posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category