04/09/2026
⚡ بجلی کے مسائل کے حوالے سے ایکسن دیامر سے اہم ملاقات
پاکستان نظریاتی پارٹی گلگت بلتستان کے سینٸر ناٸب صدر شفقت علی غوری اور دیامر حلقہ 1 کے پارٹی امیدوار
جناب نقیب اللّٰہ کوہ طور صاحب نے بجلی کے دیرینہ مسائل کے حوالے سے ایکسن دیامر جناب محبت خان صاحب سے اہم ملاقات کی، جس میں علاقے میں جاری لوڈشیڈنگ، بجلی کے نظام اور پاور ہاؤسز کے مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
ملاقات کے دوران دونوں پارٹی رہنماٶں نے واضح موقف اختیار کیا کہ محکمہ بجلی کے ملازمین سے سختی سے ڈیوٹی لی جائے تاکہ عوام کو مقررہ شیڈول کے مطابق بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ جو ملازم اپنی ڈیوٹی انجام نہیں دیتا، اسے محض ایک جگہ سے دوسری جگہ ٹرانسفر کرنے کے بجائے قواعد و ضوابط کے مطابق سخت محکمانہ کارروائی، تنخواہ روکنے اور ضرورت پڑنے پر ملازمت سے فارغ کرنے کی کارروائی کی جائے۔
اس پر ایکسن دیامر جناب محبت خان صاحب نے انکے موقف کو سراہتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ملازمین سے سختی سے ڈیوٹی لی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ بعض ملازمین طویل عرصے سے ڈیوٹی انجام دیے بغیر گھروں میں بیٹھ کر تنخواہیں وصول کرتے رہے ہیں، ان تمام ملازمین کو بھی اپنی ڈیوٹی پر حاضر کیا جائے گا۔
🔧 رائیکوٹ پاور ہاؤس کے حوالے سے اہم پیش رفت
رائیکوٹ پاور ہاؤس کی خراب مشین اور رائیکوٹ پاور ہاؤس نمبر 2 کے حوالے سے سوال کیا گیا کہ خراب مشین کب تک ٹھیک ہوگی اور پاور ہاؤس نمبر 2 کب فعال کیا جائے گا؟
اس پر ایکسن صاحب نے یقین دہانی کرائی کہ خراب مشین تین دن کے اندر پاور ہاؤس میں نصب کر دی جائے گی۔ مزید بتایا گیا کہ زیرِ تعمیر چینل، جو تقریباً دس دن میں مکمل ہونے کی توقع ہے، اس دوران دوسری مشین کی مرمت بھی مکمل کرائی جائے گی اور پاور ہاؤس کو مکمل طور پر چلانے کی کوشش کی جائے گی، جس سے لوڈشیڈنگ میں نمایاں کمی اور خاتمے کی امید ہے۔
🏔️ رائیکوٹ پاور ہاؤس نمبر 2 کا چینل
پاور ہاؤس نمبر 2 کے حوالے سے ایکسن صاحب نے بتایا کہ موجودہ صورتحال میں چینل کا مسئلہ انتہائی مشکل ہے۔ چینل کے مقام کا جائزہ لینے کے لیے تین سروے ٹیمیں بھیجی جا چکی ہیں، تاہم وہ کسی قابلِ عمل حل کے بغیر واپس آئیں۔
ایکسن صاحب کے مطابق اس مسئلے کے حل کے لیے ایک متبادل طریقہ موجود ہے، جس پر تقریباً ڈھائی کروڑ روپے لاگت آ سکتی ہے، جس کے لیے منتخب نمائندوں کی معاونت درکار ہوگی۔
مجوزہ طریقہ یہ ہے کہ جس طرح پلوں پر اوپر تاریں لگا کر نیچے پل کو سہارا دیا جاتا ہے، اسی طرز پر ایک پہاڑی سے دوسری پہاڑی تک تاریں باندھ کر ان کے ذریعے نیچے پائپوں کو گزارا جائے۔ اس طریقے سے اگر سیلاب بھی آئے تو ایک یا دو پائپ متاثر ہونے کا امکان ہوگا، جبکہ باقی چینل کو بڑے نقصان سے محفوظ رکھا جا سکے گا۔ ایکسن صاحب کےمطابق اس کے علاوہ پاور ہاؤس نمبر 2 کے چینل "سر" بنانا انتہائی مشکل ہے۔
⚡ گیس پاور اور بونر پاور ہاؤس
نقیب اللّٰہ کوہ طور صاحب نے گیس پاور کے مسئلے کے حوالے سے بھی استفسار کیا، جس پر ایکسن صاحب نے بتایا کہ بنیادی مسئلہ حل ہو چکا ہے، صرف چینل کا معمولی مسئلہ باقی ہے جو دو سے تین دن میں کلیئر ہونے کی توقع ہے۔
بونر پاور ہاؤس کے حوالے سے ایکسن صاحب نے بتایا کہ اسے فی الحال عارضی طور پر چند دنوں میں چلایا جائے گا، جبکہ اس کا مستقل کام سردیوں میں مکمل کیا جائے گا، کیونکہ اس وقت پانی کی زیادتی کے باعث کام میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
📢 ایکسن دیامر کی اہم یقین دہانی
ایکسن دیامر جناب محبت خان صاحب نے مزید یقین دہانی کرائی کہ ایک ہفتے سے دس دن کے اندر رائیکوٹ پاور ہاؤس کو مکمل طور پر رن کیا جائے گا۔
آخر میں شفقت غوری صاحب اور ممبر صاحب دونوں نے ایکسن صاحب کو واضح طور پر تاکید کی کہ عوام سے کیے گئے وعدوں اور یقین دہانیوں کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ عوام مزید وعدے نہیں بلکہ عملی اقدامات چاہتے ہیں۔
بجلی عوام کا بنیادی حق ہے، اس حق کے حصول اور عوامی مسائل کے حل کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔