خیبرپختونخواہ پولیس

خیبرپختونخواہ پولیس Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from خیبرپختونخواہ پولیس, Public & Government Service, peshawar, Charsadda.

*چارسدہ پولیس کی بڑی کارروائی، اسلحے کی نوک پر اغواء ہونے والی لڑکی ہنگو سے بحفاظت بازیاب، خاتون سمیت 3 ملزمان گرفتار* چ...
13/09/2026

*چارسدہ پولیس کی بڑی کارروائی، اسلحے کی نوک پر اغواء ہونے والی لڑکی ہنگو سے بحفاظت بازیاب، خاتون سمیت 3 ملزمان گرفتار*

چارسدہ: سرڈھیری پولیس نے بروقت اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے اسلحے کی نوک پر اغواء ہونے والی 15/16 سالہ لڑکی کو ضلع ہنگو سے بحفاظت بازیاب کرلیا، جبکہ کارروائی کے دوران ایک خاتون سمیت تین ملزمان کو گرفتار کرلئے گئے۔

اس حوالے سے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چارسدہ رفعت اللہ خان (PSP) نے سٹی پولیس اسٹیشن میں اتوار کے دن اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ 10 ستمبر 2026 کو تھانہ سرڈھیری پولیس کو ایک کم عمر لڑکی کے اسلحے کی نوک پر اغواء ہونے کی اطلاع موصول ہوئی، جس پر مقدمہ درج کرکے فوری طور پر تفتیش کا آغاز کیا گیا۔

ڈی پی او چارسدہ نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے مغویہ کی بحفاظت بازیابی کے لیے پانچ خصوصی ٹیمیں تشکیل دیں، جن کی نگرانی وہ خود کر رہے تھے۔ ٹیموں میں ایس پی انویسٹی گیشن چارسدہ عالمزیب خان، ڈی ایس پی سرڈھیری بلال حلیم، ایس ایچ او سرڈھیری یاسین خان، سی آئی او سرڈھیری سمیت دیگر پولیس افسران شامل تھے۔

پولیس ٹیموں کو مختلف علاقوں میں روانہ کیا گیا۔ ایک ٹیم نے ضلع مردان، دوسری نے راولپنڈی اور گوجر خان، تیسری نے پشاور، جبکہ چوتھی ٹیم نے ٹل، دوآبہ اور ہنگو کے علاقوں میں کارروائی کی۔ پانچویں ٹیم تکنیکی امور پر مامور تھی، جس نے 100 سے زائد موبائل نمبرز کا ڈیٹا اور سی ڈی آر حاصل کرکے باریک بینی سے تجزیہ کیا۔

ڈی پی او چارسدہ کے مطابق ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ واقعہ دونوں خاندانوں کے درمیان رشتے کے تنازعے کے پس منظر میں پیش آیا۔ پولیس کے مطابق ملزمان نے پہلے لڑکی کا رشتہ مانگا تھا، تاہم انکار کے بعد مبینہ طور پر اسی لڑکی کو اسلحے کے زور پر گھر سے زبردستی اغواء کرلیا گیا۔

چارسدہ پولیس نے جدید ٹیکنالوجی، مسلسل تعاقب اور مربوط حکمت عملی کے ذریعے مغویہ کا سراغ لگایا اور بالآخر اسے ضلع ہنگو سے بحفاظت بازیاب کرلیا۔

کارروائی کے دوران ایک خاتون سمیت تین ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں ایک خاتون سمیت دو مرد شوکت ولد ایاز اور ریاض ولد خانزادہ شامل ہیں۔ گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے۔

اس موقع پر ڈی پی او چارسدہ رفعت اللہ خان (PSP) نے کہا کہ چارسدہ پولیس عوام بالخصوص خواتین کی جان، عزت اور آبرو کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔ کسی بھی جرم میں ملوث عناصر کے ساتھ قانون کے مطابق سختی سے نمٹا جائے گا اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

13/09/2026
کرک (شعبہ تعلقات عامہ) ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کرک عمران خان کی ہدایات پر شادی، منگنی اور دیگر خوشی کی تقریبات کے دوران ہوائی...
13/09/2026

کرک (شعبہ تعلقات عامہ) ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کرک عمران خان کی ہدایات پر شادی، منگنی اور دیگر خوشی کی تقریبات کے دوران ہوائی فائرنگ کے مکمل تدارک اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی سلسلے میں تھانہ یعقوب خان شہید کے ایس ایچ او حکیم خان نے تحت نصرتی کے مختلف علاقوں میں خوشی کی تقریبات کے دوران ہوائی فائرنگ کرنے والے افراد کے خلاف مؤثر کارروائی عمل میں لاتے ہوئے مقدمات درج کیے گئے جبکہ پولیس نے ملزمان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ملزم حسیب اللہ سکنہ بابل خیل کو پستول اور ایمونیشن سمیت جبکہ ملزم مصدق حسین سکنہ یوسف خیل کو بھی پستول اور ایمونیشن سمیت گرفتار کر لیا۔

پولیس حکام کے مطابق خوشی کی تقریبات میں ہوائی فائرنگ نہ صرف قانون کی صریح خلاف ورزی بلکہ انسانی جانوں کے لیے بھی سنگین خطرہ ہے۔ شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ خوشی کے مواقع پر ہوائی فائرنگ سے مکمل اجتناب کریں اور ایسے عناصر کی بروقت اطلاع پولیس کو دیں۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کرک عمران خان نے واضح کیا ہے کہ خوشی کی تقریبات میں ہوائی فائرنگ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عملدرآمد جاری رہے گا اور قانون شکنی کرنے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

پشاور میں اگر کوئی افسر واقعی غریب اور بے آواز لوگوں کی آواز بن کر کھڑا ہوا ہے تو وہ CCPO میاں سعید صاحب ہیں۔قسم سے، پشا...
13/09/2026

پشاور میں اگر کوئی افسر واقعی غریب اور بے آواز لوگوں کی آواز بن کر کھڑا ہوا ہے تو وہ CCPO میاں سعید صاحب ہیں۔

قسم سے، پشاور کے عوام نے عرصے بعد ایسا افسر دیکھا ہے جو صرف دفتر میں بیٹھ کر احکامات نہیں دیتا بلکہ میدان میں اتر کر بدمعاشوں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف عملی کارروائی کرتا ہے۔

غریب آدمی کے لیے تھانے کا دروازہ کھلوانا، مظلوم کی فریاد سننا اور طاقتور کے سامنے قانون کی بالادستی قائم کرنا ہی اصل پولیسنگ ہے۔

میاں سعید صاحب! آپ نے ثابت کیا ہے کہ وردی صرف اختیار کا نام نہیں، بلکہ مظلوم کی حفاظت اور انصاف کی ذمہ داری بھی ہے

*چارسدہ پولیس کی بڑی کارروائی، اسلحے کی نوک پر اغواء ہونے والی لڑکی ہنگو سے بحفاظت بازیاب، خاتون سمیت 3 ملزمان گرفتار* چ...
13/09/2026

*چارسدہ پولیس کی بڑی کارروائی، اسلحے کی نوک پر اغواء ہونے والی لڑکی ہنگو سے بحفاظت بازیاب، خاتون سمیت 3 ملزمان گرفتار*

چارسدہ: سرڈھیری پولیس نے بروقت اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے اسلحے کی نوک پر اغواء ہونے والی 15/16 سالہ لڑکی کو ضلع ہنگو سے بحفاظت بازیاب کرلیا، جبکہ کارروائی کے دوران ایک خاتون سمیت تین ملزمان کو گرفتار کرلئے گئے۔

اس حوالے سے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چارسدہ رفعت اللہ خان (PSP) نے سٹی پولیس اسٹیشن میں اتوار کے دن اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ 10 ستمبر 2026 کو تھانہ سرڈھیری پولیس کو ایک کم عمر لڑکی کے اسلحے کی نوک پر اغواء ہونے کی اطلاع موصول ہوئی، جس پر مقدمہ درج کرکے فوری طور پر تفتیش کا آغاز کیا گیا۔

ڈی پی او چارسدہ نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے مغویہ کی بحفاظت بازیابی کے لیے پانچ خصوصی ٹیمیں تشکیل دیں، جن کی نگرانی وہ خود کر رہے تھے۔ ٹیموں میں ایس پی انویسٹی گیشن چارسدہ عالمزیب خان، ڈی ایس پی سرڈھیری بلال حلیم، ایس ایچ او سرڈھیری یاسین خان، سی آئی او سرڈھیری سمیت دیگر پولیس افسران شامل تھے۔

پولیس ٹیموں کو مختلف علاقوں میں روانہ کیا گیا۔ ایک ٹیم نے ضلع مردان، دوسری نے راولپنڈی اور گوجر خان، تیسری نے پشاور، جبکہ چوتھی ٹیم نے ٹل، دوآبہ اور ہنگو کے علاقوں میں کارروائی کی۔ پانچویں ٹیم تکنیکی امور پر مامور تھی، جس نے 100 سے زائد موبائل نمبرز کا ڈیٹا اور سی ڈی آر حاصل کرکے باریک بینی سے تجزیہ کیا۔

ڈی پی او چارسدہ کے مطابق ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ واقعہ دونوں خاندانوں کے درمیان رشتے کے تنازعے کے پس منظر میں پیش آیا۔ پولیس کے مطابق ملزمان نے پہلے لڑکی کا رشتہ مانگا تھا، تاہم انکار کے بعد مبینہ طور پر اسی لڑکی کو اسلحے کے زور پر گھر سے زبردستی اغواء کرلیا گیا۔

چارسدہ پولیس نے جدید ٹیکنالوجی، مسلسل تعاقب اور مربوط حکمت عملی کے ذریعے مغویہ کا سراغ لگایا اور بالآخر اسے ضلع ہنگو سے بحفاظت بازیاب کرلیا۔

کارروائی کے دوران ایک خاتون سمیت تین ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں ایک خاتون سمیت دو مرد شوکت ولد ایاز اور ریاض ولد خانزادہ شامل ہیں۔ گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے۔

اس موقع پر ڈی پی او چارسدہ رفعت اللہ خان (PSP) نے کہا کہ چارسدہ پولیس عوام بالخصوص خواتین کی جان، عزت اور آبرو کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔ کسی بھی جرم میں ملوث عناصر کے ساتھ قانون کے مطابق سختی سے نمٹا جائے گا اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

خیبر پختونخوا کے 26 اضلاع ’’ہارڈ ایریا‘‘ قرار، وفاقی افسران کیلئے 250 فیصد سکیورٹی رسک الاؤنس منظور۔۔۔۔۔چارسدہ (سید زاہد...
12/09/2026

خیبر پختونخوا کے 26 اضلاع ’’ہارڈ ایریا‘‘ قرار، وفاقی افسران کیلئے 250 فیصد سکیورٹی رسک الاؤنس منظور۔۔۔۔۔

چارسدہ (سید زاہد علی چشتی) وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کے 6 ریجنز کے 26 اضلاع کو ہارڈ ایریا قرار دیتے ہوئے ان علاقوں میں تعینات وفاقی انتظامی و پولیس افسران کیلئے سکیورٹی رسک الاؤنس کی منظوری دے دی ہے۔
اس حوالے سے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اسلام آباد کی جانب سے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کو خط ارسال کیا گیا ہے، جس میں صوبے کے دہشتگردی سے متاثرہ 26 اضلاع کو ہارڈ ایریا قرار دینے سے متعلق آگاہ کیا گیا ہے۔۔۔
خط کے مطابق ہارڈ ایریا قرار دیے گئے اضلاع میں پشاور، خیبر، مردان، چارسدہ، مہمند، نوشہرہ، کوہاٹ، ہنگو، کرک، کرم، اورکزئی، بنوں، لکی مروت، شمالی وزیرستان، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، جنوبی وزیرستان اپر و لوئر، سوات، بونیر، شانگلہ، باجوڑ، دیر اپر و لوئر اور چترال اپر و لوئر شامل ہیں۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے مطابق ان اضلاع میں تعینات وفاقی انتظامی اور پولیس افسران کو بنیادی تنخواہ کے 250 فیصد کے برابر سکیورٹی رسک الاؤنس دیا جائے گا، جس کا اطلاق یکم جولائی 2026ء سے ہوگا۔
خط میں واضح کیا گیا ہے کہ سکیورٹی رسک الاؤنس کی ادائیگی وفاقی حکومت کرے گی اور اس پر انکم ٹیکس عائد ہوگا۔ تاہم افسر کے تبادلے کی صورت میں الاؤنس فوری طور پر ختم کر دیا جائے گا۔
اسی طرح معطلی، او ایس ڈی، جوائننگ ٹائم اور تربیتی مدت کے دوران افسران سکیورٹی رسک الاؤنس کے حقدار نہیں ہوں گے، جبکہ مذکورہ الاؤنس کو پنشن اور گریجویٹی کے لیے قابلِ شمار آمدن بھی تصور نہیں کیا جائے گا۔
وفاقی حکومت کے فیصلے کے مطابق ضلع صوابی اور ہزارہ ڈویژن میں تعینات وفاقی افسران اس سکیورٹی رسک الاؤنس کے حقدار نہیں ہوں گے۔

ڈی ایس پی گلشید کا تبادلہ ہوگیا۔۔
27/08/2026

ڈی ایس پی گلشید کا تبادلہ ہوگیا۔۔

تقریبا چند سال پہلے تین بھائیوں کو قتل کرنے کے حقائق۔۔۔تحریر: سید زاہد علی چشتیضلع چارسدہ کے علاقے عمرزئی میں تقریبا چند...
27/08/2026

تقریبا چند سال پہلے تین بھائیوں کو قتل کرنے کے حقائق۔۔۔

تحریر: سید زاہد علی چشتی

ضلع چارسدہ کے علاقے عمرزئی میں تقریبا چند سال قبل تین بھائیوں کے قتل کا ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس نے علاقے میں گہرا صدمہ پیدا کیا۔ یہ ایک ایسا مقدمہ تھا جس میں ملزم کی گرفتاری اور اسے قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے پولیس نے بھرپور کوششیں کیں۔
اس وقت کے ڈی پی او چارسدہ عرفان اللہ خان نے واقعے کی تفتیش اور ملزم کی گرفتاری کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی، جس میں ایس پی انویسٹی گیشن نذیر خان، سابق ڈی ایس پی تنگی ایاز محمود خان اور سابق ایس ایچ او عمرزئی فضل داؤد خان شامل تھے۔
پولیس ٹیم نے قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے ملزم کی گرفتاری کے لیے کارروائی آگے بڑھائی۔ ملزم بیرونِ ملک، یعنی ملیشیا میں موجود تھا، جسے گرفتار کرکے قانونی کارروائی کے بعد پاکستان لایا گیا۔ بعد ازاں اسے عدالت کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں مقدمے کی قانونی کارروائی جاری رہی۔
ملزم نے ایک طویل عرصہ جیل میں گزارا۔ تاہم بعد میں مقتولین کے ورثا کی جانب سے عدالت میں راضی نامہ پیش کیا گیا، جس کے نتیجے میں قانونی تقاضے مکمل ہونے کے بعد ملزم جیل سے رہا ہوگیا۔۔۔
یہاں ایک اہم سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ جب کسی قتل کے مقدمے میں مقتولین کے ورثا خود اپنے فریقِ مخالف کے ساتھ عدالت میں راضی نامہ پیش کر دیں تو اس معاملے میں پولیس یا عدلیہ کو موردِ الزام ٹھہرانا کہاں تک درست ہے؟ قانون میں بعض جرائم کے حوالے سے صلح اور راضی نامے کی گنجائش موجود ہوتی ہے، جبکہ عدالت فیصلہ کرتے وقت متعلقہ قانونی تقاضوں اور حالات کو مدنظر رکھتی ہے۔
ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ بعض اوقات لوگ مکمل حقائق اور قانونی پس منظر جانے بغیر پولیس اور عدلیہ پر انگلیاں اٹھانا شروع کر دیتے ہیں۔ کسی بھی مقدمے پر رائے قائم کرنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ پولیس نے اپنی ذمہ داری کس حد تک پوری کی، تفتیش میں کیا پیش رفت ہوئی، ملزم کو کس طرح گرفتار کیا گیا اور عدالت کے سامنے مقدمہ کس قانونی طریقے سے آگے بڑھا۔
اس کیس کے حوالے سے دستیاب معلومات کے مطابق سابق ڈی پی او چارسدہ عرفان اللہ خان، سابق ایس پی انویسٹی گیشن نذیر خان، سابق ڈی ایس پی تنگی ایاز محمود خان اور سابق ایس ایچ او عمرزئی فضل داؤد خان نے ملزم کی گرفتاری اور اسے قانون کے سامنے لانے کے لیے قابلِ ذکر کوششیں کیں۔
کسی بھی واقعے کے اصل حقائق جانے بغیر اداروں یا افسران پر الزام لگانا مناسب نہیں۔ انصاف صرف گرفتاری تک محدود نہیں بلکہ اس کے بعد معاملہ عدالت کے سامنے قانون کے مطابق چلتا ہے۔ اگر مقتولین کے ورثا اپنی مرضی اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے راضی نامہ اختیار کریں تو اس کے قانونی اثرات بھی سامنے آتے ہیں۔
لہٰذا ضروری ہے کہ ہم جذبات کے بجائے حقائق، قانون اور مکمل پس منظر کو سامنے رکھ کر کسی بھی مقدمے کے بارے میں رائے قائم کریں۔ عمرزئی کے تین بھائیوں کے قتل کا یہ واقعہ بھی اسی بات کی مثال ہے کہ پولیس کی محنت، تفتیش اور ملزم کی گرفتاری اپنی جگہ، جبکہ مقدمے کا حتمی قانونی انجام عدالت اور متعلقہ فریقین کے قانونی اقدامات سے وابستہ ہوتا ہے۔۔

Address

Peshawar
Charsadda
1978

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when خیبرپختونخواہ پولیس posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share