15/04/2026
زیرو ایف آئی آر" (Zero FIR) کا تصور قانونی طور پر بہت اہمیت رکھتا ہے، خاص طور پر ان حالات میں جب جرم کسی ایسے علاقے میں وقوع پذیر ہوا ہو جو متعلقہ تھانے کی حدود میں نہ آتا ہو۔
درج ذیل میں اس کی تفصیلات اور طریقہ کار بیان کیا گیا ہے:
۱. زیرو ایف آئی آر کیا ہے؟
عام طور پر جب کوئی شخص تھانے جاتا ہے، تو پولیس یہ کہہ کر انکار کر دیتی ہے کہ "یہ واقعہ ہماری حدود کا نہیں ہے، آپ فلاں تھانے جائیں"۔ اس مشکل کو حل کرنے کے لیے زیرو ایف آئی آر کا طریقہ اپنایا جاتا ہے۔
• تعریف: یہ ایک ایسی ایف آئی آر ہے جو کسی بھی تھانے میں درج کروائی جا سکتی ہے، قطع نظر اس کے کہ جرم کس علاقے میں ہوا ہے۔
• نمبرنگ: اسے "زیرو" اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ اس تھانے میں اسے کوئی باقاعدہ سیریل نمبر نہیں دیا جاتا، بلکہ اسے صرف "0" نمبر سے درج کیا جاتا ہے۔
۲. پاکستان میں اس کی قانونی حیثیت
پاکستان میں پولیس رولز اور مجموعہ ضابطہ فوجداری (CrPC) کے تحت پولیس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ جرم کی اطلاع ملتے ہی کارروائی کرے۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس نے کئی بار یہ واضح کیا ہے کہ حدود کا تنازع ایف آئی آر درج نہ کرنے کا عذر نہیں بن سکتا۔
۳. زیرو ایف آئی آر کا طریقہ کار
1. اندراج: جب متاثرہ شخص کسی بھی قریبی تھانے پہنچتا ہے، تو ڈیوٹی آفیسر کو تفصیلات بتاتا ہے۔
2. ابتدائی کارروائی: پولیس فوری طور پر جرم کی تفصیلات لکھتی ہے اور اسے "زیرو" نمبر کے ساتھ رجسٹر کرتی ہے۔ اگر معاملہ سنگین ہو (جیسے قتل یا اغوا)، تو وہ فوری طبی امداد یا ابتدائی تفتیش بھی شروع کر سکتے ہیں۔
3. منتقلی: ایف آئی آر درج کرنے کے بعد، متعلقہ تھانہ اس ریکارڈ کو اس تھانے منتقل کرنے کا پابند ہے جس کی حدود میں وہ جرم ہوا تھا۔
4. باقاعدہ نمبر: جب ریکارڈ متعلقہ تھانے پہنچ جاتا ہے، تو وہاں اسے ایک باقاعدہ سیریل نمبر (مثلاً FIR No. 125/2024) دے دیا جاتا ہے اور تفتیش باقاعدہ شروع ہو جاتی ہے۔
۴. زیرو ایف آئی آر کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
• وقت کی بچت: سنگین جرائم میں وقت بہت اہم ہوتا ہے۔ حدود کے چکر میں ثبوت ضائع ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔
• متاثرین کی سہولت: حادثے یا ہنگامی صورتحال میں متاثرہ شخص دور دراز کے تھانے نہیں جا سکتا۔
• پولیس کی ذمہ داری: یہ پولیس کو اس بات کا پابند بناتی ہے کہ وہ سائل کو بھگانے کے بجائے اس کی فریاد سنے۔
۵. اگر پولیس انکار کرے تو کیا کریں؟
اگر پولیس حدود کا بہانہ بنا کر زیرو ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کرے، تو سائل درج ذیل اقدامات کر سکتا ہے:
• ایس پی (SP) یا ڈی پی او (DPO) کو درخواست دے سکتا ہے۔
• جسٹس آف پیس (سیشن جج) کے پاس دفعہ 22-A اور 22-B کے تحت درخواست دے کر ایف آئی آر درج کرانے کا حکم حاصل کر سکتا ہے۔
• آج کل پنجاب پولیس اور دیگر صوبوں کی ہلپ لائن 15 یا موبائل ایپس پر بھی شکایت درج کی جا سکتی ہے۔