01/04/2026
رخ یار پر سائے فراق کے چھا گئے
مہ و مہر کے سب چراغ بھی بجھا گئے
ہوا کی موج نے گیسو بکھیر ڈالے
یہی خیال مجھے آتش غم لگا گئے
سخن کے سائے میں باندھی تھی سب امیدیں
مگر خیال ہی دردوں میں ڈھل کے سما گئے
از یتوں میں بھی خوشبو تھی زلف جاناں کی
یہی حیات کو خوابیدہ سا بنا گئے
کہاں تلک میں سنبھالتا بکھرے لمحوں کو
تیرے نین و نقش بھی مجھ کو مٹا گئے
فراز ہجر پہ ٹھہری تھی چشم نم کی گھڑی
یہ اشک دید کے موسم کو بھی بہا گئے
ہزار نقش بنے تھے نگاہ میں لیکن
وہ ایک عکس ہی سب رنگ کو بھلا گئے
خدا کی بزم میں شکوہ رہا مقدر کا
کہ میرے خواب بھی تقدیر پر فدا گئے
خاموش دید میں نکہت تھی درد کی ایسی
کہ زخم کھا کے بھی لب پہ حرف دُعا گئے
دیار ہجر میں اشکوں کی داستان کہی
عاصی یہ درد عشق بھی الفاظ میں سما گئے
#اردوشاعری
#غزل
#ہجر
#یادیں
#ادب
#شاعری
#محبت
#احساسات
#اردوادب
#شاعر