03/06/2026
👈ہنر کوئی بھی ہو، جائز ہو یا ناجائز، یہ ایک الگ موضوع ہے۔ تاہم اخلاق، روایات اور غیرت کا تقاضا ہے کہ انسان ہر حال میں ان اقدار کو زندہ رکھے💫
تصویر میں نظر آنے والے شخص سے گاڑی میں سوار ایک فرد نے سادہ انداز میں کہا کہ دس روپے کا ڈھول بجا دو۔ اس پر ڈھول بجانے والے شخص نے ایک تاریخی جملہ کہا،
( پرون دے کلی کے مڑے شوي دي )🫥
یعنی گزشتہ کل اس گاؤں میں کسی کا انتقال ہوا ہے۔
اس نے ڈھول بجانے سے صرف اس لیے انکار کیا کہ گاؤں والے غم میں ہیں اور اس عمل سے انہیں تکلیف پہنچ سکتی ہے۔ یہ ایک ایسا جملہ ہے جو نہ صرف پشتون روایات کی خوبصورت عکاسی کرتا ہے بلکہ ہمارے مذہب کی تعلیمات، ہمدردی، احساسِ ذمہ داری اور دوسروں کے جذبات کے احترام کو بھی نمایاں کرتا ہے۔