04/08/2026
ریکوڈک کے مزدوروں کے ساتھ ناانصافی: انصاف کے دروازے بند کیوں کیے جا رہے ہیں؟
اسلام آباد کی عدالتیں کیوں؟ بلوچستان کی عدالتیں کیوں نہیں؟
اسپیشل رپورٹ | آغازِ حقوق بلوچستان کہاں ہے؟
ریکوڈک، بلوچستان کا سب سے بڑا معدنی منصوبہ، جہاں مقامی مزدور، ڈرائیور، سیکیورٹی گارڈز اور دیگر ملازمین اپنی محنت سے کام کر رہے ہیں، مگر ان کے ساتھ کیسا سلوک ہو رہا ہے؟ ریکوڈک مائننگ کمپنی (RDMC) کے معاہدے میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ اگر کسی ملازم کو قانونی شکایت ہو تو وہ صرف اسلام آباد کی عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔
یہ شرط پاکستانی قانون، آئین، اور بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے اور بلوچستان کے محنت کشوں کے ساتھ ایک کھلی ناانصافی۔
آغازِ حقوق بلوچستان: کیا یہ مزدوروں کے حقوق کا بھی تحفظ کرے گا؟
2009 میں وفاقی حکومت نے “آغازِ حقوق بلوچستان” کے نام سے ایک پیکیج متعارف کروایا تھا جس کا مقصد بلوچستان کے عوام کو ان کے آئینی اور قانونی حقوق فراہم کرنا تھا۔ اس پیکیج کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ بلوچستان کے وسائل پر مقامی عوام کو حق دیا جائے، ان کے روزگار کے مواقع محفوظ کیے جائیں، اور ان کے قانونی حقوق کو تسلیم کیا جائے۔
لیکن اگر ریکوڈک کے مزدوروں کو انصاف کے لیے اسلام آباد جانا پڑے، تو کیا یہ آغازِ حقوق بلوچستان کی روح کے خلاف نہیں؟
• اگر بلوچستان کے وسائل یہاں کے عوام کے ہیں، تو ان کے قانونی مسائل کا حل بھی یہیں ہونا چاہیے۔
• حکومتِ پاکستان اور بلوچستان اسمبلی کو چاہیے کہ وہ اس معاہدے کی غیر منصفانہ شق کے خلاف فوری کارروائی کریں۔
بلوچستان کے مزدور اسلام آباد کیسے جائیں؟
بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں کام کرنے والے مزدوروں کے لیے اسلام آباد جا کر مقدمہ لڑنا ممکن نہیں۔
• ایک عام مزدور کے پاس سفر کے اخراجات نہیں ہوتے کہ وہ کوئٹہ یا چاغی سے اسلام آباد جا سکے۔
• عدالتی اخراجات، وکیل کی فیس، اور اسلام آباد میں رہائش کا بندوبست کرنا مزدوروں کے لیے بہت بڑا مالی بوجھ ہے۔
• اگر کوئی مزدور اپنے مقدمے کے لیے نوکری چھوڑ کر اسلام آباد جائے، تو وہ اپنے روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔
کیا یہ مزدوروں کے ساتھ زیادتی نہیں؟ کیا بلوچستان کے محنت کشوں کے لیے انصاف حاصل کرنا ناممکن بنایا جا رہا ہے؟
کیا یہ شرط قانونی ہے؟
یہ معاہدہ کئی قانونی اور آئینی اصولوں کے خلاف ہے:
✅ آئین پاکستان کا آرٹیکل 10-A کہتا ہے کہ ہر شہری کو برابر اور آسان انصاف تک رسائی حاصل ہونی چاہیے۔
✅ پاکستان کے لیبر قوانین کے مطابق، مزدور وہیں کیس دائر کر سکتا ہے جہاں وہ کام کر رہا ہو۔
✅ بین الاقوامی مزدور تنظیم (ILO) کے اصولوں کے مطابق، ہر ملازم کو اسی جگہ انصاف ملنا چاہیے جہاں وہ ملازمت کر رہا ہو۔
بلوچستان کی عدالتیں کیوں نہیں؟
جب ریکوڈک بلوچستان میں ہے، مزدور بلوچستان میں ہیں، تو پھر مقدمات بلوچستان میں کیوں نہ سنے جائیں؟
• بلوچستان ہائی کورٹ اور مقامی عدالتیں ریکوڈک کے مزدوروں کے مقدمات سننے کی مکمل مجاز ہیں۔
• کسی بھی قانونی تنازعے کا حل وہیں ہونا چاہیے جہاں متاثرہ فریق موجود ہو، نہ کہ سینکڑوں کلومیٹر دور اسلام آباد میں۔
چاغی کی سماجی تنظیموں، لیبر یونینز اور RDC کے ممبران سے اپیل
ریکوڈک کے مقامی مزدوروں اور بلوچستان کے عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے تمام سماجی تنظیموں، مزدور یونینز اور ریکوڈک کمیونٹی ڈیولپمنٹ کمیٹی (CDC) کے ممبران کو فوری طور پر اقدامات کرنے ہوں گے۔
✅ ریکوڈک کمپنی سے مذاکرات کریں اور مطالبہ کریں کہ معاہدے میں بلوچستان کی عدالتوں کو دائرہ اختیار دیا جائے۔
✅ اگر کمپنی یہ شرط تبدیل نہیں کرتی تو بلوچستان ہائی کورٹ میں درخواست دائر کریں کہ یہ شرط غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔
✅ مقامی میڈیا اور سیاسی نمائندوں کو اس مسئلے پر آواز اٹھانے پر مجبور کریں۔
حکومت بلوچستان اور عدلیہ سے اپیل
بلوچستان حکومت کو فوری نوٹس لینا چاہیے اور ریکوڈک کے مزدوروں کے لیے انصاف کی آسان رسائی کو یقینی بنانا چاہیے۔
• بلوچستان ہائی کورٹ کو اس معاملے پر از خود نوٹس لینا چاہیے اور مزدوروں کو بلوچستان میں مقدمہ دائر کرنے کا حق دینا چاہیے۔
• بلوچستان سے منتخب سینیٹرز اور ایم این ایز کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں یہ مسئلہ اٹھانا چاہیے۔
• آغازِ حقوق بلوچستان کے تحت دیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے اس معاملے میں فوری اصلاحات کی ضرورت ہے۔
آخر میں ایک سوال: انصاف سب کے لیے یا صرف اسلام آباد کے لیے؟
ریکوڈک کمپنی کو فوری طور پر اپنے معاہدے کی اس غیر منصفانہ شرط کو ختم کرنا ہوگا۔ بلوچستان کے مزدور دوسرے درجے کے شہری نہیں ہیں کہ انہیں انصاف کے لیے سینکڑوں کلومیٹر دور جانا پڑے۔
بلوچستان کے عوام کو چاہیے کہ وہ اس ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائیں۔ یہ صرف مزدوروں کا نہیں، بلوچستان کے ہر شہری کا مسئلہ ہے۔ کیا ہم اپنی زمین پر کام کرنے والے مزدوروں کو انصاف سے محروم رہنے دیں گے؟
Copied