06/02/2026
اپنے بچے کو موت کے منہ میں دھکیلنا کیسا مشکل فیصلہ ہو گا لیکن اس ماں نے مجبور ہو کر یہ فیصلہ لے ہی لیا اور اس تیرہ سالہ بچے نے بھی انکار نہیں کیا کیونکہ وہ جانتا تھا اس کی ماں، اس کے بہن بھائیوں کی زندگی کا سوال ہے۔
وہ خاتون اپنے تین بچوں کے ساتھ سمندر میں ہاتھوں سے چلانے والی کشتیاں چلا کر ان کے لیے تفریح کا سامان کرنا چاہ رہی تھی۔ تب وہاں اچانک موسم بدلا اور سمندر کی لہریں انھیں بہاتے ہوئے ساحل سے دور لے گئیں۔ انھیں مشکل کا احساس ہونے تک وہ سمندر ے کافی اندر تک آ چکے تھے اور انھیں واپس جانے کا کوئی رستہ نظر نہیں آ رہا تھا ۔ وہ پریشانی سے بس اسی چھوٹے سے کشتی نما پیڈ پہ بیٹھے رہے کہ کوئی ان کو تلاش کرتا ہوا آ جائے گااور وہ واپس چلے جائیں گے، تب تک بس کسی طرح پانی میں گرنے سے بچے رہیں۔
وقت گزرتا رہا ، ان کی مدد کو کوئی نہیں آیا۔ کسی کو خبر ہی نہیں ہوئی کہ وہ گم ہو کر سمندر کے اندر پھنسے ہوئے ہیں۔ اسی مشکل میں کئی گھنٹے گزر گئے۔ شام ڈھلنے لگی اور اس ماں کو بچوں کے ساتھ اپنی موت سامنے نظر آنے لگی۔ ایسے مشکل وقت میں اسے کوئی راہ نظر نہیں آ رہی تھی تو اس نے اپنے تیرہ سالہ بیٹے کی زندگی داؤ پہ لگانے کا فیصلہ کیا کہ شائد اس سے باقی سب کی زندگی بچ سکے۔
اس نے تیرہ سالہ بیٹے سے کہا کہ سمندر میں چھلانگ لگائے اور تیرتا ہوا ساحل تلاش کر کے وہاں پہنچنے کی کوشش کرے۔ وہ ساحل سے تقریباً چار کلومیٹر دور جا چکے تھے۔ گہرا سمندر ، شارک مچھلیوں کا خطرہ ، بہت زیادہ فاصلہ اور ایک تیرہ سالہ بچہ۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن ماں کے پاس اور کوئی چارہ نہیں رہا تھا، اس نے اپنے بچے کی زندگی داؤ پہ لگانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ بچہ بھی جانتا تھا کہ بس یہی حل ہے۔ اس نے لائف جیکٹ پہنی اور سمندر میں چھلانگ لگا دی۔ تیرتا رہا ، تیرتا رہا اور پھر اسے لگا کہ ایسے وہ کبھی ساحل تک نہیں پہنچ پائے گا ، اس نے اپنی لائف جیکٹ اتار دی۔ اپنا بوجھ کم کیا اور پھر سے تیرنے لگا۔
ایک گھنٹہ گزرا ، دو گھنٹے گزرے مگر اس بچے نے ہمت نہیں ہاری۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اگر وہ ہمت ہار گیا تو اس کی ماں ، اس کے چھوٹے بہن بھائی سب کی زندگی چلی جائے گی۔
تین گھنٹے گزرے، اس تیرہ سالہ بچے کے بازو کب سے شل ہو چکے ہوں گے لیکن اس بہادر بچے نے تیرنا نہیں چھوڑا۔ سمندر کی طوفانی لہروں کا مقابلہ کرتا ، شارک مچھلیوں کے ڈر کو ذہن سے بھگاتا، کم ہوتی روشنی کے باوجود بس وہ تیرتا گیا۔
اسے سمندر میں تیرتے ہوئے چار گھنٹے لگے ساحل پہ پہنچنے میں۔ چار گھنٹے کی تیراکی کے بعد وہ ساحل پہ پہنچا تو کھڑے ہونے کی ہمت نہیں ہوئی اور وہ زمین پہ گر گیا۔ پھر دوبارہ اٹھا اور ایمرجنسی مدد لینے کے لیے بھاگا۔
متعلقہ محکموں کو جیسے ہی پتا چلا ، وہ فوراً مدد کے لیے بھاگے اور اس بچے کی ماں اور چھوٹے بہن بھائیوں کو ساحل سے چوار کلومیٹر دور ڈھونڈ لیا۔ انھیں حفاظت سے واپس لے آئے، تب تک انھیں سمندر میں بھٹکے ہوئے دس گھنٹے گزر چکے تھے۔
سننے میں آیا ہے کہ اس تیرہ سالہ بچے کو کچھ دن پہلے ہی سکول میں تیراکی میں ناکام قرار دیا گیا تھا(غیر تصدیق شدہ)۔ لیکن جب ماں اور بہن بھائیوں کی زندگی داؤ پہ لگی تو اس نے اپنی ننھی جان کا سارا زور لگا کر ، اپنی ساری ہمت جمع کر کے اتنی تیراکی کی ، جتنی شائد کوئی بڑا بھی نہ کر سکے اور اپنے پیاروں کی جان بچا لی
۔۔۔۔