Madrasa arabia noorul uloom kohir

Madrasa arabia noorul uloom kohir Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Madrasa arabia noorul uloom kohir, Social service, Kohir, Zaheerabad.

22/11/2025

کل کی اداس شام… محترم اطہر حسین صاحب مرحوم کی اہلیہ محترمہ ہم سے رخصت ہوگئیں

تحریر : مفتی نذیر احمد حسامی یکے از ابنائے قدیم مدرسہ عربیہ نور العلوم کوہیر


مدرسہ عربیہ نورالعلوم کوہیر منڈل تعلقہ ظہیر آباد کی تاریخ کے ابتدائی اور روشن صفحات میں ایک اہم اور نمایاں نام محترم اطہر حسین صاحب مرحوم کا بھی ہے۔ وہ نہ صرف مدرسے کے بانیان میں سے تھے، بلکہ طویل عرصے تک خازنِ مدرسہ کی حیثیت سے مثالی خدمات انجام دیں ، آج بھی ان کی خدمت کی خوشبو اس ادارے کی فضا میں محسوس ہوتی ہے۔
نوّے کی دہائی کا وہ زمانہ جب کوہیر اور اطراف و اکناف میں کوئی دینی ادارہ موجود نہ تھا— کچھ درد مند دل، کچھ اخلاص کے چراغوں میں اللہ کے دین کی شمع جلانے کا جذبہ پیدا ہوا… انہی روشن دلوں میں محترم مقصود صاحب قبلہ ناظم مدرسہ کے ساتھ محترم اطہر حسین صاحب بھی کھڑے تھے۔جس طرح محترم مقصود صاحب اس کارِ خیر کے بانی ستونوں میں شمار ہوتے ہیں، اسی شان سے اطہر حسین صاحب بھی اس تحریک کے شریکِ اوّل اور بنیاد گذار تھے۔ ان دونوں نے مل کر نورالعلوم کا وہ بیج بویا جس کا سایہ آج سینکڑوں طلبہ اور خاندانوں پر رحمت بن کر پھیل رہا ہے۔
محترم اطہر حسین صاحب مرحوم کا گھر بھی مدرسے کے ساتھ متصل تھا—جیسے دِل مدرسے سے جڑا تھا، ویسے ہی گھر کی دیواریں بھی مدرسے کی محبت میں بس گئی تھیں۔ محترم اطہر حسین صاحب مرحوم
وہ نرم دل، مخلص، ہمدرد، اور ادارے کے لیے سراپا فکر تھے۔
طلبہ کی نگرانی ہو یا تربیت، ادارے کی ضروریات ہوں یا اہل خیر کو متوجہ کرنا—یہ سب ان کا معمول تھا۔ نورالعلوم ان کے لیے ادارہ نہیں، ایک امانت، ایک مشن اور ایک عشق تھا۔اور ان کے ساتھ چلنے والی ہمسفر… محترمہ مہرالنساء صاحبہ
وہ صرف ایک شریکِ زندگی نہیں تھیں بلکہ دین کی راہ میں ایک مضبوط رفیق، ایک سچی معاون اور اخلاص و قربانی کا چلتا پھرتا پیکر تھیں۔
صوم و صلاۃ کی پابند، ذکر و دعا کی خوگر، خواتین میں دعوت و تبلیغ کا روشن چراغ…انہوں نے اپنے شوہر کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر دین کی خدمت کی، اور اپنی زندگی دعوت، اصلاح اور خیر خواہی کے سفر میں گزار دی۔دونوں میاں بیوی نے ملک و بیرونِ ملک دعوت و تبلیغ کے متعدّد اسفار کیے۔ مجاہدہ، قربانی، محنت، ایثار—ان کی طبیعت میں رچ بس گئے تھے۔
دونوں میاں بیوی اصل سکونت کے اعتبار سے حیدرآباد کے تھے، لیکن روزگار اور تدریسی ذمہ داریوں نے انہیں کوہیر سے یوں جوڑ دیا کہ گویا یہ بستی ہی ان کا اصل وطن بن گئی۔
اطہر حسین صاحب نے اپنی ابتدائی تعلیم ضلع سنگاریڈی میں حاصل کی، جبکہ اہلیہ محترمہ نے حیدرآباد میں تعلیم پائی۔ دونوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز تدریس سے کیا اور یہی تدریسی خدمت انہیں کوہیر لے آئی، جہاں انہوں نے مدرسہ عربیہ نورالعلوم میں یادگار خدمات کا ایک روشن باب رقم کیا۔ ریٹائرڈ مینٹ کے بعد وہ حیدراباد شاہین نگر منتقل ہو گئے تھے، ہمارے زمانے طالب علمی میں وہ کم سن بچوں اور خواتین کے درمیان مہر آپا کے نام سے مشہور تھیں ،اورخواتین میں خاص مقام رکھتی تھیں: مہمان نواز، نرم دل، غریب نواز، اقربا پرور، شفیق، متواضع، اور اخلاق کا پیکر۔
پھر… کل شام کا وہ لمحہ جس نے سب کو غمزدہ کردیا
گزشتہ روز، 15 نومبر کی شام، طویل علالت کےبعدمحترمہ مہرالنساء صاحبہ بسترِ علالت پر ہمارے درمیان سے رخصت ہوگئیں۔یہ خبر بجلی بن کر گری۔ دل تھام لیے گئے، نگاہیں نم ہوگئیں، اور زبانوں پر بے اختیار یہی الفاظ آئے:“افسوس… بہت بڑا افسوس…نورالعلوم کی ماں جیسی شخصیت ہم سے جدا ہوگئیں۔”ان کا جانا صرف ایک خاتون کا انتقال نہیں…یہ ایک دور کے ختم ہونے کا غم ہے،یہ ایک محبت بھری ماں کی شفقت کا اٹھ جانا ہے،یہ ایک داعیہ، مربیہ اور باوقار معلمہ کے بچھڑنے کا صدمہ ہے۔ہم سب اس تازہ سانحے پر غم میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ پسماندگان میں تین بیٹے اور تین بیٹیاں چھوڑیں جو سب شادی شدہ اور حیدرآباد میں مقیم ہیں۔اے پروردگار!محترم اطہر حسین صاحب مرحوم اور محترمہ مہرالنساء صاحبہ کی کامل مغفرت فرما،ان کی قبور کو نور سے بھر دے،انہیں جنت الفردوس کے اعلیٰ مقامات عطا فرما،اور پسماندگان کو اس تازہ اور بھاری غم پر صبر جمیل اور اجر عظیم عطا فرما۔
آمین یا رب العالمین۔

22/11/2025
08/04/2025

Address

Kohir
Zaheerabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Madrasa arabia noorul uloom kohir posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category