08/03/2026
بسمہ تعالیٰ
محضر مبارک آیت اللہ العظمیٰ سیستانی (دامت برکاتہ)
سلام اور نیک تمناؤں کے ساتھ۔
احتراماً گزارش ہے کہ درج ذیل مسئلہ کے بارے میں اپنی رائے مرحمت فرمائیں:
موجودہ حساس حالات کو دیکھتے ہوئے اور اس بات کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ معاشرے میں زیادہ سے زیادہ عوامی شرکت اور اتحاد پیدا ہو تاکہ فساد برپا کرنے والوں کے فتنے کو روکا جا سکے—جیسے لوگوں میں مایوسی پھیلانا، دینی عقائد کو کمزور کرنا، بے راہ روی اور اخلاقی فساد کو فروغ دینا، قتل و غارت، عوامی املاک کو نقصان پہنچانا اور بدامنی پھیلانا—اسی طرح دشمنوں کی طرف سے ایران کو تقسیم کرنے اور اسلامی نظام کو گرانے کی سازشیں بھی ہو رہی ہیں۔
ان حالات میں میں اپنے آپ کو اس بات کا پابند سمجھتا ہوں کہ اسلامی اقدار اور انقلاب کی حمایت کے اظہار کے لیے، دشمنوں کو مایوس کرنے اور ان کے دلوں میں خوف پیدا کرنے کے لیے مساجد، سڑکوں اور عوامی مقامات پر حاضر رہوں۔
سوال 1
کیا اس طرح کی موجودگی میرے اور میرے جیسے لوگوں پر واجب ہے؟
سوال 2
اگر میرے والدین اس کام کی مخالفت کریں اور اجازت نہ دیں کیونکہ انہیں میری وجہ سے فکر ہو گی، تو ایسی صورت میں میرا شرعی فریضہ کیا ہے؟
کیا معاشرے کی ضرورت کے باوجود والدین کی اطاعت مقدم ہے یا ان اجتماعات میں شرکت زیادہ واجب ہے؟
ہاتھ سے لکھا ہوا جواب
جواب 1:
مذکورہ صورت میں حاضر ہونا واجب نہیں ہے۔
جواب 2:
اگر اس کام سے والدین کو اذیت یا تکلیف پہنچتی ہو تو ایسا کام کرنا جائز نہیں ہے۔
البتہ اگر کسی خاص حالت میں واقعی یہ کام واجب ہو جائے اور اس کے بغیر مقصد پورا نہ ہو تو اس صورت میں الگ حکم ہو سکتا ہے، لیکن عام حالات میں ایسی موجودگی واجب نہیں ہے۔