26/08/2026
پمز کا سانحہ، چودہ ننھی جانیں اور نظام سے چند سوال
مفتی عبدالوہاب
اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، پمز میں پیش آنے والے سانحے کی خبر دیکھی تو دل بہت دکھی ہوا۔ وہ جگہ جہاں والدین اپنے بچوں کو زندگی کی امید لے کر جاتے ہیں، وہیں آگ نے کم از کم 14 نوزائیدہ بچوں کی جان لے لی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ مدر اینڈ چائلڈ وارڈ کی نرسری میں لگی، جہاں 15 بچے موجود تھے اور صرف ایک بچے کو بچایا جا سکا۔ آگ کی وجہ کے بارے میں کہیں ایئر کنڈیشنر کے کمپریسر اور کہیں برقی شارٹ سرکٹ کا ذکر سامنے آیا ہے، اصل وجہ تحقیقات کے بعد ہی واضح ہوگی۔
جو شخص خود ماں یا باپ ہے، وہ شاید اس درد کا کچھ اندازہ کر سکے۔ ایک بچہ جس کے آنے پر گھر میں خوشیاں منائی گئی ہوں، ماں نے جسے چند گھنٹے یا چند دن پہلے اپنی آغوش میں لیا ہو، اچانک اس کا ننھا سا جسد والدین کے حوالے کر دیا جائے، اس دکھ کو الفاظ میں کیسے بیان کیا جا سکتا ہے؟
افسوس یہ ہے کہ یہ پاکستان میں پہلا سانحہ نہیں۔ کبھی عمارت گرتی ہے، کبھی آگ لگتی ہے، کبھی کوئی حادثہ کئی خاندان اجاڑ دیتا ہے۔ ہم چند دن افسوس کرتے ہیں، تحقیقات کا اعلان ہوتا ہے، کچھ افسر تبدیل ہوتے ہیں اور پھر اگلے حادثے تک زندگی معمول پر آ جاتی ہے۔
میں پہلے بھی عمارتوں کے حفاظتی انتظامات کے بارے میں لکھ چکا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں قوانین بالکل موجود نہ ہوں، ایسا بھی نہیں، اصل مسئلہ ان پر عملدرآمد کا ہے۔ جنوری 2026ء میں خود سی ڈی اے نے اسلام آباد کی 6,500 عمارتوں کا سروے کیا تو بتایا گیا کہ بیشتر عمارتوں نے منظور شدہ فائر سیفٹی پلان یا متعلقہ سرٹیفکیٹ حاصل نہیں کیے تھے۔
اب پمز جیسے بڑے سرکاری ہسپتال کے بارے میں ابتدائی سی ڈی اے رپورٹ میں یہ سامنے آیا ہے کہ فائر سیفٹی انتظامات مطلوبہ معیار کے مطابق نہیں تھے اور نرسری کے ایمرجنسی راستے باہر سے بند اور رکاوٹوں کا شکار تھے۔
اصل سوال بھی یہاں سے ہی شروع ہوتے ہیں۔
ایمرجنسی ایگزٹ بند کیوں تھا؟ ایک ایسی جگہ جہاں نومولود بچے، آکسیجن، برقی آلات اور انتہائی حساس مریض موجود ہوں، وہاں اپنا مؤثر فائر فائٹنگ اور فوری انخلا کا نظام کہاں تھا؟ دنیا کے بہت سے ممالک میں عمارت کا نقشہ ہی اس وقت منظور نہیں ہوتا جب تک آگ سے بچاؤ، ایمرجنسی راستوں اور انخلا کا مکمل منصوبہ موجود نہ ہو۔ ہمارے یہاں ضابطے موجود ہونے کے باوجود ان پر عمل کیوں نہیں ہوتا؟
وزیراعظم نے وفاقی سیکرٹری صحت کو معطل کرکے عہدے سے ہٹا دیا اور اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی بھی قائم کردی ہے۔ یہ قدم اپنی جگہ، لیکن کیا ایک سیکرٹری کی معطلی سے ذمہ داری پوری ہوجاتی ہے؟ اگر تحقیقات میں برسوں کی غفلت، ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوری سامنے آتی ہے تو کیا وزیرِ صحت بھی اپنی ذمہ داری قبول کریں گے؟ کیا وزیراعظم اور حکومت خود سے پوچھیں گے کہ وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال میں یہ صورتحال کیسے پیدا ہوئی؟
کسی ایک افسر کو ہٹا دینا آسان ہے، نظام کو درست کرنا مشکل ہے۔ ہمیں مشکل کام کرنا ہوگا۔
ان بچوں کو واپس نہیں لایا جا سکتا، لیکن اگر اس سانحے کے بعد ملک بھر کے ہسپتالوں، اسکولوں، مارکیٹوں اور بڑی عمارتوں کی حقیقی فائر سیفٹی جانچ شروع ہوجائے، بند ایمرجنسی راستے کھولے جائیں اور ذمہ داروں کو واقعی جواب دہ بنایا جائے تو شاید آئندہ کسی ماں کی گود اجڑنے سے بچ سکے۔
ورنہ چند دن بعد ہم یہ خبر بھی بھول جائیں گے، اور پھر کسی نئے سانحے پر یہی سوال دوبارہ پوچھ رہے ہوں گے:
کیا ہم اگلے حادثے کا انتظار کر رہے ہیں، یا کبھی حادثہ ہونے سے پہلے بھی جاگیں گے؟
اللہ تعالیٰ ان معصوم بچوں کے والدین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور ہمارے حکمرانوں اور ذمہ دار اداروں کو انسانی جان کی قدر اور اپنی ذمہ داری کا صحیح احساس عطا فرمائے۔ آمین۔