Abdul Wahab

Abdul Wahab Official Page of Mufti Abdul Wahab
Islamic Scholar | Exploring Islamic history through travels & bayans | Motivational Speaker | Philanthropist

Mufti Abdul Wahab is a leading global Islamic scholar and a motivational speaker.

پمز کا سانحہ، چودہ ننھی جانیں اور نظام سے چند سوالمفتی عبدالوہاباسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، پمز م...
26/08/2026

پمز کا سانحہ، چودہ ننھی جانیں اور نظام سے چند سوال
مفتی عبدالوہاب

اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، پمز میں پیش آنے والے سانحے کی خبر دیکھی تو دل بہت دکھی ہوا۔ وہ جگہ جہاں والدین اپنے بچوں کو زندگی کی امید لے کر جاتے ہیں، وہیں آگ نے کم از کم 14 نوزائیدہ بچوں کی جان لے لی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ مدر اینڈ چائلڈ وارڈ کی نرسری میں لگی، جہاں 15 بچے موجود تھے اور صرف ایک بچے کو بچایا جا سکا۔ آگ کی وجہ کے بارے میں کہیں ایئر کنڈیشنر کے کمپریسر اور کہیں برقی شارٹ سرکٹ کا ذکر سامنے آیا ہے، اصل وجہ تحقیقات کے بعد ہی واضح ہوگی۔

جو شخص خود ماں یا باپ ہے، وہ شاید اس درد کا کچھ اندازہ کر سکے۔ ایک بچہ جس کے آنے پر گھر میں خوشیاں منائی گئی ہوں، ماں نے جسے چند گھنٹے یا چند دن پہلے اپنی آغوش میں لیا ہو، اچانک اس کا ننھا سا جسد والدین کے حوالے کر دیا جائے، اس دکھ کو الفاظ میں کیسے بیان کیا جا سکتا ہے؟

افسوس یہ ہے کہ یہ پاکستان میں پہلا سانحہ نہیں۔ کبھی عمارت گرتی ہے، کبھی آگ لگتی ہے، کبھی کوئی حادثہ کئی خاندان اجاڑ دیتا ہے۔ ہم چند دن افسوس کرتے ہیں، تحقیقات کا اعلان ہوتا ہے، کچھ افسر تبدیل ہوتے ہیں اور پھر اگلے حادثے تک زندگی معمول پر آ جاتی ہے۔

میں پہلے بھی عمارتوں کے حفاظتی انتظامات کے بارے میں لکھ چکا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں قوانین بالکل موجود نہ ہوں، ایسا بھی نہیں، اصل مسئلہ ان پر عملدرآمد کا ہے۔ جنوری 2026ء میں خود سی ڈی اے نے اسلام آباد کی 6,500 عمارتوں کا سروے کیا تو بتایا گیا کہ بیشتر عمارتوں نے منظور شدہ فائر سیفٹی پلان یا متعلقہ سرٹیفکیٹ حاصل نہیں کیے تھے۔

اب پمز جیسے بڑے سرکاری ہسپتال کے بارے میں ابتدائی سی ڈی اے رپورٹ میں یہ سامنے آیا ہے کہ فائر سیفٹی انتظامات مطلوبہ معیار کے مطابق نہیں تھے اور نرسری کے ایمرجنسی راستے باہر سے بند اور رکاوٹوں کا شکار تھے۔

اصل سوال بھی یہاں سے ہی شروع ہوتے ہیں۔

ایمرجنسی ایگزٹ بند کیوں تھا؟ ایک ایسی جگہ جہاں نومولود بچے، آکسیجن، برقی آلات اور انتہائی حساس مریض موجود ہوں، وہاں اپنا مؤثر فائر فائٹنگ اور فوری انخلا کا نظام کہاں تھا؟ دنیا کے بہت سے ممالک میں عمارت کا نقشہ ہی اس وقت منظور نہیں ہوتا جب تک آگ سے بچاؤ، ایمرجنسی راستوں اور انخلا کا مکمل منصوبہ موجود نہ ہو۔ ہمارے یہاں ضابطے موجود ہونے کے باوجود ان پر عمل کیوں نہیں ہوتا؟

وزیراعظم نے وفاقی سیکرٹری صحت کو معطل کرکے عہدے سے ہٹا دیا اور اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی بھی قائم کردی ہے۔ یہ قدم اپنی جگہ، لیکن کیا ایک سیکرٹری کی معطلی سے ذمہ داری پوری ہوجاتی ہے؟ اگر تحقیقات میں برسوں کی غفلت، ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوری سامنے آتی ہے تو کیا وزیرِ صحت بھی اپنی ذمہ داری قبول کریں گے؟ کیا وزیراعظم اور حکومت خود سے پوچھیں گے کہ وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال میں یہ صورتحال کیسے پیدا ہوئی؟

کسی ایک افسر کو ہٹا دینا آسان ہے، نظام کو درست کرنا مشکل ہے۔ ہمیں مشکل کام کرنا ہوگا۔

ان بچوں کو واپس نہیں لایا جا سکتا، لیکن اگر اس سانحے کے بعد ملک بھر کے ہسپتالوں، اسکولوں، مارکیٹوں اور بڑی عمارتوں کی حقیقی فائر سیفٹی جانچ شروع ہوجائے، بند ایمرجنسی راستے کھولے جائیں اور ذمہ داروں کو واقعی جواب دہ بنایا جائے تو شاید آئندہ کسی ماں کی گود اجڑنے سے بچ سکے۔

ورنہ چند دن بعد ہم یہ خبر بھی بھول جائیں گے، اور پھر کسی نئے سانحے پر یہی سوال دوبارہ پوچھ رہے ہوں گے:

کیا ہم اگلے حادثے کا انتظار کر رہے ہیں، یا کبھی حادثہ ہونے سے پہلے بھی جاگیں گے؟

اللہ تعالیٰ ان معصوم بچوں کے والدین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور ہمارے حکمرانوں اور ذمہ دار اداروں کو انسانی جان کی قدر اور اپنی ذمہ داری کا صحیح احساس عطا فرمائے۔ آمین۔

وہ دانائے سُبل، ختم الرُّسل، مولائے کُلؐ جس نےغُبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادیِ سینانگاہِ عشق و مستی میں وہی اوّل، وہی آخرو...
26/08/2026

وہ دانائے سُبل، ختم الرُّسل، مولائے کُلؐ جس نے
غُبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادیِ سینا
نگاہِ عشق و مستی میں وہی اوّل، وہی آخر
وہی قُرآں، وہی فُرقاں، وہی یٰسیں، وہی طٰہٰ

25/08/2026

نعتِ رسولِ مقبول ﷺ -ربیع الاول کے حوالے سے اسلام چینل پر خصوصی پروگرام۔

Naat-e-Rasool-e-Maqbool (S.A.W) - Rabi ul Awwal special program at Islam Channel Urdu!

゚viral

Smiles, hope, and new beginnings ❤️A memorable day as our Chairman, M***i Abdul Wahab, distributed rickshaws through the...
25/08/2026

Smiles, hope, and new beginnings ❤️

A memorable day as our Chairman, M***i Abdul Wahab, distributed rickshaws through the Rozgar Project, creating opportunities for individuals to earn and support their families with dignity 🤲

رسول اللہ ﷺ نے دل کیسے جیتے؟مفتی عبدالوہاب تاریخ میں بہت سے فاتح گزرے ہیں، کچھ نے ملک فتح کیے، کچھ نے قلعے مسخر کیے، کچھ...
25/08/2026

رسول اللہ ﷺ نے دل کیسے جیتے؟
مفتی عبدالوہاب

تاریخ میں بہت سے فاتح گزرے ہیں، کچھ نے ملک فتح کیے، کچھ نے قلعے مسخر کیے، کچھ نے تخت الٹ دیے۔ مگر محمدِ عربی ﷺ کی فتوحات کا انداز سب سے جدا اور نرالا تھا۔
آپ ﷺ نے دلوں کو فتح کیا، محبت سے، خیر خواہی سے، نرم خوئی سے، حسن معاشرت سے۔ آپ ﷺ جس دل کے دروازے پر تشریف لے گئے، وہاں دستک نہیں دی، رحمت کی خوشبو بن کر داخل ہوگئے۔

آپ ﷺ کی پوری زندگی اس آیت کی عملی تفسیر تھی:
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ

آپ ﷺ صرف مسلمانوں کے لیے رحمت نہ تھے، بلکہ آپ کی رحمت کا دامن دوست و دشمن، بوڑھے اور بچے، آزاد اور غلام، حتیٰ کہ جانوروں تک پھیلا ہوا تھا

وہ دل جو صدیوں کی دشمنی میں پتھر ہوچکے تھے، آپ ﷺ کی محبت سے موم ہوگئے، جو لوگ آپ ﷺ کے نام سے ناواقف تھے، آپ ﷺ کے اخلاق سے آشنا ہوگئے، اور جو کل تک جان لینے والے تھے، وہ آج جان لٹانے والے بن گئے۔

آپ ﷺ دل آزاری نہیں، دل داری کرتے تھے۔

ایک شخص نے آپ ﷺ سے قرض کا تقاضا کیا اور تقاضے میں سختی کی، یہاں تک کہ آپ ﷺ کی چادر مبارک کھینچی۔ صحابہ کو ناگواری ہوئی، مگر آپ ﷺ نے اسے ملامت نہیں کی، بلکہ مسکرائے اور فرمایا کہ اسے اس کا حق دے دو۔

یہ رسول اللہ ﷺ کا مزاج تھا، اپنا حق چھن جائے تو بھی دوسروں کے دل نہ توڑو۔

آپ ﷺ جانتے تھے کہ انسان کا جسمانی زخم کچھ ہی دنوں میں بھر جاتا ہے، مگر دل کا زخم کبھی کبھی برسوں تک تازہ رہتا ہے۔

مسجد میں ایک دیہاتی آیا اور لاعلمی میں مسجد کے ایک گوشے میں پیشاب کرنے لگا۔ صحابہؓ اسے روکنے کے لیے بڑھے، مگر آپ ﷺ نے فرمایا:
"اسے چھوڑ دو۔"
پھر نرمی سے سمجھایا کہ مسجدیں اس کام کے لیے نہیں، بلکہ اللہ کے ذکر، نماز اور قرآن کے لیے ہیں۔

سوچیے ایک غلطی ہوئی، مگر رسول اللہ ﷺ نے غلطی کو نہیں، انسان کو دیکھا۔
یہی خیر خواہی تھی، اصلاح بھی ہو اور دل بھی نہ ٹوٹے۔

آپ ﷺ کی دعوت میں دلیل تھی، مگر اس کے ساتھ محبت بھی، اصلاح تھی، مگر اس کے ساتھ شفقت بھی، حق گوئی تھی، مگر اس کے دامن میں خیر خواہی بھی۔

حضرت زاہرؓ ایک دیہاتی صحابی تھے، دنیا اسے معمولی سمجھتی تھی ظاہری اعتبار سے اسکی کوئی بڑی حیثیت نہ تھی، مگر رسول اللہ ﷺ ان سے محبت فرماتے تھے۔
ایک دن وہ بازار میں اپنا سامان فروخت کر رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ خاموشی سے ان کے پیچھے تشریف لے گئے، انہیں اپنی آغوش میں لے لیا۔ زاہرؓ نے پوچھا: کون ہے؟
پھر جب پہچانا تو رسول اللہ ﷺ کی قربت میں خوش ہوگئے۔
آپ ﷺ نے مزاحاً فرمایا:
"اس غلام کو کون خریدے گا؟"
زاہرؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ مجھے معمولی قیمت والا پائیں گے۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
"لیکن اللہ کے ہاں تم معمولی نہیں ہو۔"

کیا خوبصورت انداز ہے، کتنی بہترین تسلی ہے، کتنا پیارا بول ہے۔

دنیا جسے گمنام سمجھ رہی تھی، محمد ﷺ نے اس کے دل پر اپنی مہر محبت ثبت کردی کہ:
تم اللہ کے ہاں معمولی نہیں ہو۔
یہی نبوی محبت تھی کہ لوگوں کو وہ مقام دکھانا جو دنیا کی نگاہوں سے اوجھل تھا۔

ایک مرتبہ آپ ﷺ نے حضرت معاذ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا:
"اے معاذ! اللہ کی قسم! میں تم سے محبت کرتا ہوں۔"
پھر فرمایا کہ میں تمہیں ایک بات کی وصیت کرتا ہوں کہ ہر نماز کے بعد یہ دعا نہیں چھوڑنا:
"اللهم أعني على ذكرك وشكرك وحسن عبادتك"
محبت کا انداز ملاحظہ کیجئے، اظہار بھی کیا تو صرف جذبات کی تسکین کے لیے نہیں، بلکہ محبت کو آخرت کی کامیابی کا راستہ بنا دیا۔

یہی نبوی محبت ہے اور جو محبت تمہیں اللہ کے قریب نہ کرے، وہ ادھوری ہے۔

حضرت انس نے دس برس رسول اللہ ﷺ کی خدمت کی۔
دس سال، کتنا طویل عرصہ ہے، مگر وہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے کبھی مجھے "اُف" تک نہیں کہا۔

یہ صرف حلم نہیں تھا، یہ انسان کی عزت کا شعور تھا۔

ہم چند دن کسی کے ساتھ رہ کر اس کی خامیاں گنوانا شروع کردیتے ہیں، اور آپ ﷺ نے دس برس ایک بچے کی محبت سے تربیت کی، یقینی بات ہے کہ وہ بچا تھا، کبھی شرارت بھی کی ہوگی، کبھی کسی کام میں سستی بھی کی ہوگی، کبھی مزاج نبوت کے خلاف بھی کوئی کام سرزد ہوا ہوگا، لیکن زبان نبوت سے اف تک نہیں نکلی، قربان جاؤں آپکے اعلی اخلاق پر اے میرے نبی۔

حضرت جابرؓ کے والد شہید ہوگئے اور ان پر قرض تھا۔ حضرت جابرؓ پریشان تھے۔
رسول اللہ ﷺ نے ان کی پریشانی کو صرف سنا نہیں، اپنا مسئلہ سمجھا۔
آپ ﷺ نے ان کے قرض کے معاملے میں مدد فرمائی اور ان کے لیے آسانی پیدا کی۔

یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہمیں بتاتی ہے کہ خیر خواہی صرف یہ نہیں کہ کسی غم زدہ سے کہا جائے: "اللہ آسانی کریگا۔"
بلکہ کبھی خیر خواہی یہ ہے کہ اس کے بوجھ میں اپنا کندھا ڈال دیا جائے۔

میں اپنے قلم کوتاہ سے اس اعلی ہستی کے کتنے اخلاق گنواؤں، مختصر اتنا کہ آقا کریم کی محبت ایسی بارش تھی جو صرف پھولوں کو نہیں کانٹوں کو بھی سیراب کرتی تھی۔

اگر ہم واقعی محمد ﷺ کے امتی ہیں تو ہمیں بھی اپنے گرد ایک ایسی فضا پیدا کرنی ہوگی جہاں لوگ ہماری زبان سے نہیں، ہمارے اخلاق سے اسلام کو پہچانیں۔

ہمیں چاہیے کہ ہم کسی تھکے ہوئے کو سہارا دیں، کسی روتے ہوئے کو تسلی دیں، کسی غلطی کرنے والے کو اصلاح کا موقع دیں،
کسی اجنبی کو اپنائیت دیں،
اور کسی ایسے شخص کا ہاتھ تھام لیں جسے دنیا نے چھوڑ دیا ہو۔

شاید یہی ہماری سیرتِ مصطفیٰ ﷺ سے حقیقی وابستگی کی پہلی علامت ہو۔

آپ ﷺ نے دلوں کو تلوار سے نہیں، محبت سے فتح کیا تھا، اب ہماری باری ہے کہ ہم اسی محبت کو اپنے کردار میں زندہ کرتے ہیں یا نہیں۔

کیا آپ القدس الشریف کی بابرکت سرزمین پر موجود مسجدِ عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں جانتے ہیں؟ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ...
24/08/2026

کیا آپ القدس الشریف کی بابرکت سرزمین پر موجود مسجدِ عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں جانتے ہیں؟

جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں بیت المقدس فتح ہوا تو یہ تاریخ کا ایک اہم موڑ تھا۔ روایت میں آتا ہے کہ جب آپ رضی اللہ عنہ کو چرچ آف ہولی سیپلکر میں نماز ادا کرنے کی دعوت دی گئی تو آپ نے وہاں نماز پڑھنے سے احتراز کیا، اس خدشے کے پیش نظر کہ بعد میں مسلمان اسے مسجد بنانے کا مطالبہ نہ کر دیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے باہر نماز ادا فرمائی، اور بعد میں اسی مقام کے قریب مسجدِ عمر تعمیر کی گئی۔

یہ واقعہ صرف ایک تاریخی روایت نہیں بلکہ ایک عظیم اصول کی یاد دہانی ہے کہ اقتدار اور کامیابی کے باوجود دوسروں کے مقدسات کا احترام کیسے کیا جاتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ عمل ہمیں بتاتا ہے کہ حقیقی عظمت صرف طاقت حاصل کرنے میں نہیں بلکہ انصاف اور اعلیٰ کردار قائم رکھنے میں ہے۔

آج بھی مسجدِ عمر رضی اللہ عنہ القدس شریف آنے والے زائرین کو ماضی کی ان اقدار کی یاد دلاتی ہے جہاں عدل، ذمہ داری اور انسانوں کے جذبات کا خیال رکھا جاتا تھا۔

سلام ہو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور تمام صحابہ کرام و اہل بیت پر۔

***iAbdulWahab

24/08/2026

کیا آپ کو معلوم ہے یہ جگہ کہاں ہے؟
Kia Aap ko Maloum Hay Ye Jaga kaha hay?

Do You know Where is this place?

انسانیت کا رشتہ ہر رنگ، نسل اور زبان سے بلند ہے۔ کیا آپ بھی بچوں سے محبت رکھتے ہیں؟ Humanity is above every colour, race...
24/08/2026

انسانیت کا رشتہ ہر رنگ، نسل اور زبان سے بلند ہے۔
کیا آپ بھی بچوں سے محبت رکھتے ہیں؟

Humanity is above every colour, race, and background.
Do You love children too?

***iAbdulWahab

Address

16 Village Way East
Harrow
HA27LU

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Abdul Wahab posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organisation

Send a message to Abdul Wahab:

Shortcuts

Share