نبض اکوال

نبض اکوال Nabz-e-Akwal
"'نبض اکوال"

19/08/2026

وہ شخص جس نے اپنی موت کا اعلان خود کیا …
آج ایک ایسی خبر سن کر دل ٹھہر سا گیا…
بابا محمد علی ٹال والے جنہوں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ لوگوں کی وفات کی خبر مسجد میں اعلان کرکے سنانے میں گزارا، آج 105 برس کی عمر میں خود اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔
مگر ان کی وفات کی سب سے حیران کر دینے والی بات یہ ہے کہ…
جس آواز سے وہ دوسروں کی وفات کا اعلان کیا کرتے تھے، اسی آواز میں انہوں نے اپنی وفات کا اعلان بھی پہلے ہی ریکارڈ کروا دیا تھا۔
سوچیے ذرا…
ایک انسان اپنی موت کو اتنے یقین سے قبول کر لے کہ اپنی ہی زبان سے یہ پیغام چھوڑ جائے کہ
جب میں دنیا سے چلا جاؤں تو میرے انتقال کا اعلان اسی میری اپنی آواز میں کر دینا۔
یہ صرف ایک ویڈیو نہیں…
یہ موت کی اٹل حقیقت کا ایک زندہ سبق ہے۔
ہم دوسروں کے جنازے دیکھتے ہیں،
قبرستان جاتے ہیں،
فاتحہ پڑھتے ہیں…
اور پھر واپس آکر ایسے زندگی شروع کر دیتے ہیں جیسے ہمیں کبھی مرنا ہی نہیں۔
مگر بابا جی نے شاید اپنی پوری زندگی سے ہمیں ایک آخری سبق دے دیا:
موت کسی اور کے گھر کا دروازہ نہیں کھٹکھٹاتی…
ایک دن ہمارے اپنے دروازے پر بھی دستک ضرور ہوگی۔
آج وہ آواز، جو لوگوں کو دوسروں کے دنیا سے چلے جانے کی خبر سناتی تھی، خاموش ہوگئی۔
لیکن بابا جی کی آواز اپنے پیچھے ایک سوال چھوڑ گئی ہے:
"اگر آج میری موت کا اعلان ہوجائے… تو کیا میں اللہ کے سامنے جانے کے لیے تیار ہوں؟"
105 سال کی عمر پانا یقیناً ایک طویل زندگی ہے،
مگر اصل کامیابی لمبی زندگی نہیں…
اصل کامیابی یہ ہے کہ زندگی ختم ہو تو ایمان سلامت ہو، زبان پر اللہ کا ذکر ہو، دل میں کسی کے لیے کینہ نہ ہو، اور انسان اپنے رب سے ملنے کے لیے تیار ہو۔
بابا محمد علی صاحب!
آپ نے ساری زندگی دوسروں کی موت کا اعلان کیا،
اور جاتے جاتے اپنی موت کا اعلان بھی ہمیں ایک سبق بنا کر دے گئے۔
اللہ تعالیٰ آپ کی تمام لغزشوں کو معاف فرمائے،
آپ کی قبر کو نور سے بھر دے،
قبر کی منزلیں آسان فرمائے،
آپ کے درجات بلند فرمائے،
اور آپ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین 🤲
اور ہم سب کے لیے ایک دعا:
یا اللہ! جب ہمارا آخری اعلان ہو، تو اس وقت ہم تجھ سے راضی ہوں اور تو ہم سے راضی ہو۔
ہمیں ایمان پر موت عطا فرما، خاتمہ بالخیر نصیب فرما، اور ہمیں اپنی ملاقات کے لیے تیار رہنے والا بندہ بنا دے۔ آمین۔
بابا جی کی آواز ختم ہوگئی…
مگر ان کا آخری سبق شاید ہم سب کو عمر بھر سنائی دیتا رہے گا:
"موت کا اعلان کبھی بھی ہو سکتا ہے…
اس لیے زندگی کو اللہ کی رضا کے مطابق گزار لو،
اس سے پہلے کہ تمہارا اعلان بھی کوئی اور کرے۔"
🕊️ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ 🤲
طالب دعا بھی اور دعا گو بھی:
نبض اکوال

اگر کوئی عریاں تصویر بنانے کے لیے AI یا فوٹو شاپ سے آپ کی تصویر میں ترمیم کرتا ہے تو آپstopncii.orgپر جائیں اور اصل تصوی...
19/08/2026

اگر کوئی عریاں تصویر بنانے کے لیے AI یا فوٹو شاپ سے آپ کی تصویر میں ترمیم کرتا ہے تو آپ
stopncii.org
پر جائیں اور اصل تصویر اور ترمیم شدہ تصویر اپلوڈ کريں پھر وہ تمام انٹرنيٹ سے تمام جگہوں سے ترمیم شدہ تصویر کو ہٹا دیں گے اس کے لیے آپ کو کسی سے براہ راست بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے آپ کی شناخت خفیہ رہے گی.
StopNCII.org ایک حقیقی اور مفید سروس ہے۔
یہ کیسے کام کرتا ہے:
اگر کوئی آپ کی تصویر کو AI یا فوٹوشاپ سے عریاں/گہری جعلی (deepfake) بنا دے، تو آپ stopncii.org پر جا کر اس عریاں/ترمیم شدہ تصویر کا ہیش (ڈیجیٹل فنگر پرنٹ) بنا سکتے ہیں۔
اصل تصویر آپ کے ڈیوائس پر ہی رہتی ہے، وہ سائٹ پر اپلوڈ نہیں ہوتی۔ صرف ہیش بھیجا جاتا ہے۔
یہ ہیش پارٹنر پلیٹ فارمز (جیسے فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک، ریڈٹ، بنگ، گوگل سرچ وغیرہ) کے ساتھ شیئر کیا جاتا ہے تاکہ وہ مل جانے والی تصاویر کو ہٹا سکیں یا بلاک کر سکیں۔
اہم باتیں:
آپ کی شناخت خفیہ رہتی ہے اور کسی سے براہ راست بات کرنے کی ضرورت نہیں۔
یہ پورے انٹرنیٹ سے خودکار طور پر نہیں ہٹاتا۔ صرف ان پلیٹ فارمز سے کام کرتا ہے جو اس کے ساتھ پارٹنر ہیں۔
گہری جعلی (AI-generated) عریاں تصاویر بھی اس میں شامل کی جا سکتی ہیں اگر وہ آپ کی ہوں اور آپ کے پاس تصویر موجود ہو۔
اگر آپ اس صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں تو stopncii.org پر جائیں اور کیس بنائیں۔ یہ مفت ہے اور پرائیویسی کو خاص طور پر محفوظ رکھتا ہے۔

StopNCII.org is operated by the Revenge P**n Helpline which is part of SWGfL, a charity that believes that all should benefit from technology, free from harm.

16/08/2026

اردو ترجمہ سورۃ آلِ عمران | آیت 193




14/08/2026

🇵🇰
79واں یومِ آزادی — جشن ہے یا ہمارے شعور کا امتحان؟
🇵🇰🇵🇰🇵🇰
14 اگست آتا ہے تو ہم سب کے اندر حب الوطنی جاگ اٹھتی ہے۔
سبز جھنڈے، ملی نغمے، چراغاں، موٹر سائیکلوں کے جلوس، باجے اور نعرے…
اور ہم فخر سے کہتے ہیں:
پاکستان زندہ باد!
لیکن اس ویڈیو کا یہ منظر ذرا غور سے دیکھیے۔
چند بچے باجے بجا بجا کر بے زبان گدھوں کو ڈرا رہے ہیں، وہ خوف سے بھاگ رہے ہیں… اور افسوسناک بات یہ ہے کہ پاس کھڑے بڑے انہیں روکنے کے بجائے مزید اکسارہے ہیں۔
یہ صرف چند بچوں کی شرارت نہیں۔
یہ ہمارے اجتماعی شعور کا آئینہ ہے۔
بچے تو بچے ہیں، انہیں شاید یہ احساس ہی نہیں کہ ان کے شور اور خوف سے ایک بے زبان جانور کس اذیت سے گزر رہا ہے۔
لیکن سوال ان بڑوں سے ہے:
آپ نے انہیں روکا کیوں نہیں؟
آپ نے یہ کیوں نہیں کہا:
"بیٹا، جشن مناؤ… مگر کسی جاندار کو تکلیف دے کر نہیں۔"
آپ نے یہ کیوں نہیں سکھایا کہ آزادی کا مطلب کسی کمزور کو خوفزدہ کرنا نہیں؟
بلکہ آپ خود تماشائی بن گئے…
اور شاید تالیاں بھی بجائیں۔
تو پھر سوال صرف نئی نسل کے شعور کا نہیں، ہماری تربیت کا بھی ہے۔
ہم اکثر کہتے ہیں:
"آج کل کی نسل میں شعور نہیں۔"
مگر نئی نسل شعور کہاں سے سیکھے گی؟
گھر سے۔
اسکول سے۔
معاشرے سے۔
اور سب سے بڑھ کر اپنے بڑوں کے کردار سے۔
اگر بچہ کسی جانور کو ڈراتا ہے اور بڑا اسے روکنے کے بجائے شاباش دیتا ہے، تو پھر قصور صرف بچے کا نہیں۔
ہم نے اسے یہی سکھایا ہے۔
یہ کیسا جشنِ آزادی ہے جہاں ہم اپنے بچوں کو یہ سکھا رہے ہیں کہ طاقتور ہو تو کمزور کو ڈراؤ، شور کرو، تماشہ بناؤ اور دوسروں کی تکلیف کو تفریح سمجھو؟
ذرا سوچیے…
اگر یہی ہمارا شعور ہے تو پھر ہماری آزادی کی منزل کہاں ہے؟
ہم نے انگریز سے آزادی تو حاصل کر لی،
مگر کیا ہم نے اپنے اندر کی جہالت، بے حسی اور غیر ذمہ داری سے بھی آزادی حاصل کی؟
79 سال بعد بھی اگر ہمیں یہ فرق سمجھ نہیں آتا کہ جشن اور اذیت میں کیا فرق ہے،
اگر ہمیں یہ شعور نہیں کہ ایک بے زبان جانور بھی خوف اور تکلیف محسوس کرتا ہے،
اگر ہم بچوں کو رحم، برداشت اور ذمہ داری کے بجائے تماشہ اور اذیت پر داد دے رہے ہیں…
تو ہمیں ایک لمحے کے لیے اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے:
ہماری اگلی نسل کا شعور کس سمت جا رہا ہے؟
پاکستان کو صرف انجینئر، ڈاکٹر، افسر اور کاروباری لوگ نہیں چاہئیں۔
پاکستان کو بااخلاق، ذمہ دار اور باشعور انسان چاہئیں۔
ایسے انسان جو کمزور کو دیکھ کر اسے روندیں نہیں، سہارا دیں۔
ایسے انسان جو جانور کو دیکھ کر پتھر نہ اٹھائیں، رحم کریں۔
ایسے والدین جو بچے کی ہر حرکت پر خوش نہ ہوں بلکہ غلط اور صحیح کا فرق سمجھائیں۔
اور ایسے شہری جو یہ سمجھیں کہ:
آزادی حق بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔
اس 14 اگست پر اپنے گھر کے بچے کو صرف سبز جھنڈا نہ دیں۔
اسے سبز جھنڈے کا مطلب بھی سمجھائیں۔
اسے بتائیں کہ پاکستان سے محبت صرف نعرہ نہیں…
کردار ہے۔
رحم ہے۔
قانون کی پابندی ہے۔
کمزور کا تحفظ ہے۔
اور اپنی غلطی کو غلط مان لینے کا حوصلہ ہے۔
آئیے اس یومِ آزادی پر ایک نیا سوال اٹھائیں:
ہم 79 سال کے پاکستان میں صرف جشن منانے والے شہری ہیں،
یا واقعی باشعور قوم بننے کی طرف بھی بڑھ رہے ہیں؟
کیونکہ قوم کا شعور اس وقت نظر نہیں آتا جب وہ جھنڈے لہرا رہی ہو…
قوم کا اصل شعور اس وقت نظر آتا ہے جب اس کے سامنے کوئی کمزور ہو۔
اور آج اس ویڈیو میں وہ کمزور ایک بے زبان جانور ہے۔
اگر ہم اسے خوفزدہ ہوتے دیکھ کر بھی مسکرا سکتے ہیں…
تو شاید جشنِ آزادی سے پہلے ہمیں اپنے شعور کی آزادی کا جشن منانے کی ضرورت ہے۔
🇵🇰 پاکستان زندہ باد۔
مگر پاکستان کو صرف زبان سے نہیں، اپنے کردار سے زندہ باد کریں۔



#شعور

14/08/2026

🇵🇰 “یہ آزادی ہمیں تحفے میں نہیں ملی؛ اس کے پیچھے شہداء کا لہو ہے۔ 14 اگست کے موقع پر کیپٹن محمد فاروق اعوان شہید سمیت تمام شہداءِ وطن کو سلام۔”
Asif Bakhsh

14/08/2026

جامع مسجد غربی اکوال میں یومِ آزادی کی پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کا آغاز شہدا کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی سے ہوا، جس کے بعد تلاوتِ کلام پاک اور نعتِ رسولِ مقبول پیش کی گئی۔ اس کے بعد مقررین نے پاکستان کے قیام کے مقاصد پر روشنی ڈالی۔ تقریب کے شرکاء نے شہدا کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی اور بچوں نے قومی ترانہ پڑھا۔ بعدازاں، شرکاء نے علاقے بھر کے شہداء اور بالخصوص بہادر شہید کیپٹن فاروق کی قبر پر حاضری دی، تمام شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی اور خصوصی خراجِ عقیدت پیش کیا۔
Muhammad Siddique Sultan Mustafai

نبضِ اکوال پیج کی طرف سے آپ سب کو جشنِ آزادی مبارک ♥️🇵🇰♥️
13/08/2026

نبضِ اکوال پیج کی طرف سے آپ سب کو جشنِ آزادی مبارک
♥️🇵🇰♥️

12/08/2026

🖤 اطلاعِ فوتگی 🖤
​اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ
​رحلتِ باہنروباوقار شخصیت
​ماسٹر امتیاز صاحب
​قضائے الٰہی سے وفات پا گئے ہیں
​(فرزندِ ارجمند: ماسٹر محمد بخش مرحوم)
(برادرِ گرامی: ماسٹر محمد عادل)
​⏰ وقتِ نمازِ جنازہ: آج شام 06:00 بجے
📍 مقام: لانے (مغربی) قبرستان
​🤲 دعائے مغفرت
​اللہ کریم مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ و ارفع مقام عطا فرمائے، ان کی سیئات کو حسنات میں بدل دے اور تمام لواحقین و پس ماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین!
​📣 اہلیانِ اکوال سے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی خصوصی اپیل ہے!
​✍️ دعا گو:
​نبضِ اکوال
نبض اکوال


نبض اکوال Akwal
12/08/2026

نبض اکوال
Akwal

Address

Dubai
0000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when نبض اکوال posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category